بلوچ گلزمین ءِ جارچین
 
 وش آتکے
|
|
گوانک ٹیوب
|
لبزانک
|
نبشتانک
|
سرتاک
|
London 4/12/2013
 

 

لندن میں کامن ویلتھ جرنلسٹس ایسوسیشن کے دفتر کے سامنے ایک مظاہرہ ہواجس کا انعقاد بلوچ کمیونٹی لندن کے جانب سے کیا گیا تھا مظاہرے میں برطانیہ میں مقیم بلوچوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی

لندن میں کامن ویلتھ جرنلسٹس ایسوسیشن کے دفتر کے سامنے ایک مظاہرہ ہواجس کا انعقاد بلوچ کمیونٹی لندن کے جانب سے کیا گیا تھا مظاہرے میں برطانیہ میں مقیم بلوچوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی جنہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حرارت اور روشنی کے وہ مرکز جہا ٰں سے محکوم ستم زدہ بلوچ اپنی آواز دنیا تک پہنچا رہے ہیں یعنی روزنامہ توار جس نے غیر جانبدارانہ میڈیا کا کردار ادا کیا اور سچائی حق اور صداقت کا ساتھ دیتے ہوئے بلوچ قوم کی آواز بن گئی توار اخبار نے بلوچ قوم کی آواز سنگلاخ چٹانوں سے نکال کر بین الاقوامی دنیا تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا اور ساتھ ساتھ بلوچ قومی تحریک اور ثقافت کی بو باس بھی باقی جگہوں میں پہنچایا جو پاکستانی استحصالی طبقہ کو ہضم نہیں ہوا اور اسنے اپنے گماشتوں کی حکم سے یلغار کرتے ہوئے توار اخبار پر حملہ کیا اور توار کے دفتر کو جلایا اور اسطرح سے اظہار خیال کی آزادی پر قدغن لگایا حالانکہ پاکستان اقوام متحدہ اور یورپی یونین سمیت تمام لبرل جمہوری ممالک کے آئین اور چارٹر میں لوگوں کو اظہار خیال کی آزادی کا حق دیا گیا ہے لیکن پاکستان نے اپنے باجگزار پارلیمانی بلوچ پارٹیوں کی فرمائش پر اظہار خیال کی آزادی پر قدغن لگاتے ہوئے بلوچ قومی آواز کو دبانے کی کوشش کی کہ کیونکہ بی این پی وغیرہ جنہوں نے اپنے فیصلوں کا رخ جی ایچ کیو اور اسلام آباد کی طرف کیا ہے انہیں یہ خوف لاحق تھا کہ انکی حقیقت توار اخبار کے زریعہ لوگوں میں طشت از بام نہ ہو جائے تو انہوں نے اپنے آقاوں سے فرمائش کرتے ہوئے توار پر حملہ کیا ۔ مظاہرین نے اقوام متحدہ یورپی یونین اور دنیا میں اظہار خیال کی آزادی کے حق میں مہم چلانے والی تنظیوں سے اپیل کی کہ وہ پاکستان کی اس بربیت ،ننگی جارحیت اور ظلم جبر کے خلاف آواز اٹھا کر بلوچ قوم کے خلاف ہونے والے مظالم پر یورپی یونین اور مہذب دنیا پر دباو ڈالیں کہ وہ پاکستان میں مداخلت کرتے ہوئے بلوچ قوم پر ڈھائے جانے والے مظالم کی فوری روک تھام کریں کیونکہ پاکستان نے ظلم جبر بربریت میں نازی جرمن روس یوگو سلاویہ کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں بلوچستان مین کئی بلوچ صحافی شہید کیے گئے اور آج پاکستان کی درندگی بڑھتے ہوئے توار اخبارکے دفتر کو جلانے تک پہنچ گئی ہے اسلئے دنیا اسکے خلاف ایکشن لے تاکہ بلوچ مزید ظلم جبر اور استحصال کے زیر عتاب نہ رہیں۔