آزادی پسند تنظیموں کی اتحاد

MUST READ

چرا قاتلانِ مردم بلوچ مجازات نمی شوند؟

چرا قاتلانِ مردم بلوچ مجازات نمی شوند؟

لَدیگی سپاہ قدس ماں اسکاندیناوی ءَ

لَدیگی سپاہ قدس ماں اسکاندیناوی ءَ

بلوچ راجی مزن جهدکار واجہ عبدالصمد امیریءِ زندتاک، دیوانے گون واجہ اسماعیل امیریءَ – دومی بهر

بلوچ راجی مزن جهدکار واجہ عبدالصمد امیریءِ زندتاک، دیوانے گون واجہ اسماعیل امیریءَ – دومی بهر

پدا مئے بچ بالاچ انت – طلاءُ سنجگءُ ساچین – بشیربیدار

پدا مئے بچ بالاچ انت – طلاءُ سنجگءُ ساچین – بشیربیدار

راجدوستیں بلوچاں تپاک بیگی انت

راجدوستیں بلوچاں تپاک بیگی انت

بهارت کا بلوچ سیاسی کارکنوں کو سیاسی پناه دینا زیر غور هے – بی جے پی رهنما انیل بالونی

بهارت کا بلوچ سیاسی کارکنوں کو سیاسی پناه دینا زیر غور هے – بی جے پی رهنما انیل بالونی

اسکاٹ لینڈ اور بلوچستان – کردگار بلوچ

اسکاٹ لینڈ اور بلوچستان – کردگار بلوچ

بيست و هفتم مارس روزی سياه در تاريــخ بلوچستــــان

بيست و هفتم مارس روزی سياه در تاريــخ بلوچستــــان

بلوچستانءَ انسانی حقانی لگتمالی ءُ زوراکیانی آماچ بوتگین بلوچانی فریات – اولُی بهر

بلوچستانءَ انسانی حقانی لگتمالی ءُ زوراکیانی آماچ بوتگین بلوچانی فریات – اولُی بهر

ملت پارس به آفت نژاد پرستی مبتلاست

ملت پارس به آفت نژاد پرستی مبتلاست

قومی اشتراک عمل : آزادی پسند تنظیموں سے رابطے کیلئے باقاعدہ کمیٹی تشکیل دی ہے : حیربیار مری

قومی اشتراک عمل : آزادی پسند تنظیموں سے رابطے کیلئے باقاعدہ کمیٹی تشکیل دی ہے : حیربیار مری

انساندوستیں بلوچانی کمک کاری ءُ بلوچ دژمنیں سپاہ ءِ تکانسری

انساندوستیں بلوچانی کمک کاری ءُ بلوچ دژمنیں سپاہ ءِ تکانسری

مروچی ساؤتھ کوریاءِ بلوچ کمونیٹيءِ نیمگءَ چا بلوچستانءَ انسانی حقانی پادماليءِ خلافءَ یک زھرشانیءِ برجا دارگ بوت.

مروچی ساؤتھ کوریاءِ بلوچ کمونیٹيءِ نیمگءَ چا بلوچستانءَ انسانی حقانی پادماليءِ خلافءَ یک زھرشانیءِ برجا دارگ بوت.

بر دانش آموزان بلــوچ چه می گـذرد؟ بخش دوم

بر دانش آموزان بلــوچ چه می گـذرد؟ بخش دوم

بلوچستان میں اسلامی ایٹمی تجربات کے اثرات نے چاغی میں 200 سے زائد اونٹوں کی جان لی

بلوچستان میں اسلامی ایٹمی تجربات کے اثرات نے چاغی میں 200 سے زائد اونٹوں کی جان لی

آزادی پسند تنظیموں کی اتحاد

2020-03-24 12:52:26
Share on

گذشتہ دنوں بلوچستان لیبریشن فرنٹ نے اپنے ایک پالیسی بیان میں جو ایک معروف روزنامہ توار مستونگ میں شائع ہوا تھا ،بلوچستان پر قابض ریاست کی بلوچ عوام کے خلاف ریاستی مشینری کی جارحانہ انداز میں استعمال کرنے کی مذمت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ بلوچ آزادی پسند تنظیمیں اور پارٹیاں اپنی اندرونی اختلافات کو ختم کرکے متحد ہوجائیں تاکہ بہتر اور موثر انداز میں ریاستی جارحیت کا مقابلہ کیا جا سکے۔ میں نہیں جانتا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ اپنی اس پالیسی بیان کے ساتھ خود کتنا مخلص ہے مگر اُن کے بیان میں سو فیصد سچائی ہے جسے خوش آمدید کہنا ہی حقیقت پسندی ہے۔اسی طرح آج سے چند مہینے پہلے جناب ھیربیار مری کی طرف سے بلوچستان لبریشن چارٹرڈ کے نام سے ایک لائحہ عمل پیش کیا گیا تھا جس کی بنیادی مقصد بھی یہی تھا کہ اسی لائحہ عمل کے تحت تمام بلوچ آزادی پسند تنظیمیں اور پارٹیاں باھم متحد ہوجائیں۔گو اس چارٹرڈ میں کئی خامیاں تھیں،کئی تضادات تھے مگر ایسا نہیں تھا کہ اسے بِنا دیکھے ،بِنا پڑھے یا بنا غور کیے مسترد کیا جا تا ،اگر ہماری آزادی پسند تنظیمیں اور پارٹیاں صرف اور صرف باھم متحد ہونے کی ضرورت کو پیش نظر رکھتیں اور جیسا کہ خود ھیربیار مری نے اس میں تغییر و تبدل لانے کے لئے کہا تھا ، اس کی کمزوریاں اور تضادات کو نکال لیتیں تو اس چارٹرڈ کو قابل قبول بنایا جا سکتا تھا۔مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ابھی تک ھم میں وقت،حالات اور دشمن کی قوت کو سمجھنے کی صلاحیت میں کمی ہے۔ یہ بات کہ ریاست کتنی جارحیت کا مظاہرہ کر رہی ہے اس لئے کوئی معنی نہیں رکھتا ہے کہ جنگ اور محبت میں سب حربے جائز قرار دیے جاتے ہیں اور پھر جب دشمن بزدل ہو تو اس سے خیر کی کوئی امید رکھنا عبث ہے۔جبکہ ہمیں اس ریاست نے بڑی واضح انداز میں آج سے کئی دھائی پہلے جنرل ٹکا خان کے ذریعے یہ پیغام دیا تھا کہ We want only Balochistan ,not Baloch.اور پھر ایک مہینے پہلے وزیر ریلوے سعد رفیق نے بھی اپنی ایک بیان میں بلوچ قوم پر واضح کر دیا تھا کہ ’’۔۔۔۔ بنگلہ دیش ہم سے ایک ہزار کلومیٹر سے زیادہ دوری پر33 تھا جبکہ بلوچستان چند قدموں ہی کے فاصلے پر ہے۔۔۔‘‘اس بیان کا صاف لفظوں میں یہ معنی اخذ کیا جا تا ہے کہ بنگلہ دیش میں ھم نے جو بربریت کی وہ چونکہ دور تھا اس لئے کم کی مگر بلوچستان چونکہ نزدیک ہے ہم اس سے کئی زیادہ بربریت کا ارتکاب کرسکیں گے۔ اس لئے ہم دیکھتے ہیں کہ جو کچھ جارحیت امکانات میں موجود ہے وہ سب کچھ بلوچ قوم کے ساتھ ہو رہی ہے۔ایک طرف بنگلہ دیش کی تحریک آزادی کو ختم کرنے کے لیے جو الشمس اور البدر جیسی قاتل تنظیمیں بنائی گئی تھی ایسی ہی کئی تنظیمیں مختلف ناموں سے بلوچ قومی تحریک کے خلاف متحرک ہیں،آج نہ صرف فوج اور نیم فوجی ادارے بلوچوں کی نسل کشی کر رہی ہیں بلکہ ریاستی میڈیا،عدلیہ،انتظامیہ حتیٰ کہ پارلیمنٹ نے بھی Pakistan Protection Ordinenceبناکر اپنی اداروں کو بلوچ عوام کے ساتھ سب کچھ کرنے کی چھوٹ دے رکھی ہے۔اس کے علاوہ بلوچستان کے مقامی چور،ڈاکو اور اسمگلروں کو صرف اور صرف اس لئے ہر بُرائی کرنے کی چھوٹ دی گئی ہے کہ وہ بلوچ قومی تحریک کے خلاف ریاست کے اد اروں کے ساتھ تعاون کریں۔اور تو اور ایران جس کا خود یہ ریاست ازلی دشمن ہے اور سعودی عربیہ کے ایماء پرایران کو اقتصادی طور پر کمزور کرنے کے کئی طرح طرح کے منصوبے بنا رہی ہے اور سازشیں کر رہی ہے۔گوادر پورٹ،گیس پائپ لائن کی منسوخی،اور بے گناہ ،معصوم اور پرُ امن ہزارہ برادری کی صرف اس لئے نسل کشی کہ اس کا مسلکی تعلق ایران کے ساتھ ہے صرف ایران کو پریشانی میں مبتلاء رکھنے کے لئے کی گئی ہے صرف یہی نہیں بلکہ اپنے ہی کارندوں کے ذریعے ایران کے سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرکے ان کو قتل کرنا اور ان کی اغواء کاری سب ڈرامے ایران دشمنی میں کی گئی ہیں مگر بلوچ قومی تحریک کے خلاف اسی دشمن ریاست نے ایران کو اپنے ساتھ ملانے کے لئے حالیہ دنوں میں نواز شریف نے ایران کا دورہ کیا اور ایران کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ 1973.74کی طرح ایک بار پھربلوچ قومی تحریک کو ختم کرنے میں اس کی معاونت کرے۔اسی لئے کہ دشمن کا دشمن اپنا دوست ہی ہوتا ہے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ دشمن ریاست سے کسی قسم کی خیر کی امید رکھنا یا اس بات کی توقع رکھنا کہ یہ ریاست دشمنی میں بھی انسانیت،اسلامیت،اخلاقیت یا بین الاقوامی قوانین کی پابندی کرے گی خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔اس لئے بجائے اس بات کے کہ بلوچ تنظیمیں دشمن ریاست کا رونا روئیں وہ بی ایل ایف کی پالیسی بیان کے عین مطابق اپنی صلاحیتوں کو باھمی اتحاد اور انضمام پر صرف کریں ۔بد قسمتی سے آج ھم دیکھ رہے ہیں کہ بلوچ قومی آزادی کے لئے برسرِ پیکار تنظیمیں اور ان سے متعلقہ لکھاری حضرات ایک دوسرے پر کھیچڑ3 اچھال رہے ہیں۔ایک دوسرے کے خلاف کالمز ،مضامین اور بیانات داغ رہے ہیں جو کسی بھی حوالے سے اس آزادی کی تحریک کے لئے نیک شگون نہیں ہے بلکہ اس کے برعکس ایک خوف ہی فضا ذہنوں میں پیدا کر کے تحریک سے ھمدردی رکھنے والے لوگوں کو پریشان کیے ہوئے ہے۔اس لئے کہ آج سے کئی سال پہلے جب بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کو3شکست و ریخت کا سامنا ہوا تب بھی اس کی ابتداء آج کی طرح کے بیانات،کالمز اور مضامین سے ہوئی تھی اور پھر باھمی برادر کشی تک نوبت آئی تھی، بیسوں بلوچ فرزند اس باھمی چپقلش کی بھینٹ چڑھے، ہزاروں بلوچ فرزند تعلیم سے محروم ہوئے تھے ۔لیکن چونکہ اس وقت آزادی کی تحریک آج کے مرحلے میں داخل نہیں تھی اس لیے تحریک پر کوئی آنچ نہیں آئی تھی لیکن آج بلوچ قوم اور اس کی تحریک ایک ایسی نہج پر پہنچ چکی ہے کہ اس کی بحیثیت قوم موت اور زیست کا مسئلہ بن چکی ہے ایسے میں وہ تنظیمیں جو باھم دست وگریبان ہونے کو جا رہی ہیں وہ در اصل بلوچ قومی تحریک کے ساتھ ساتھ بلوچ قومی تشخص کو دانستہ یا نادانستہ طور پرختم کرنے جا رہی ہیں۔ لہذا ہماری تمام قومی آزادی کی تنظیموں اور پارٹیوں سے دست بستہ التماس ہے کہ خدارا وہ باھم متحد اور منظم ہوجائیں ورنہ وہ وقت دور نہیں جب نہ رہے گی بانس اورنہ بجے گی بانسری۔

 کردگار بلوچ
Share on
Previous article

شہ مداروں کا دیش (بی ایس او کے قائدین سے ایک گزارش) کردگار بلوچ

NEXT article

فارغ التحصيـلان بلــوچ در خارج متشـــکل شويــد

LEAVE A REPLY