آزادی پسند تنظیموں کی اتحاد

MUST READ

وقت کا بھی یہی تقاضا ہے کہ ہم قابضین کی مسلط کردہ نظام کو مضبوط بنانے کے بجائے قومی سوچ کو وسعت دیں

وقت کا بھی یہی تقاضا ہے کہ ہم قابضین کی مسلط کردہ نظام کو مضبوط بنانے کے بجائے قومی سوچ کو وسعت دیں

بلـــوچ گلزميــــن ءِ انــــداز ءُ سيمســـراں

بلـــوچ گلزميــــن ءِ انــــداز ءُ سيمســـراں

گپ و ترانے چا گیبنءَ گون شهید حیات بیوسءِ گهارءَ

گپ و ترانے چا گیبنءَ گون شهید حیات بیوسءِ گهارءَ

بر دانش آموزان بلـوچ چه می گـذرد؟ بخش آخـر

بر دانش آموزان بلـوچ چه می گـذرد؟ بخش آخـر

نواب اکبرخانِءِ سالروچءِ درگتءَ تران

نواب اکبرخانِءِ سالروچءِ درگتءَ تران

آزادی سرزمينهاى اِشغالى حتمی است

آزادی سرزمينهاى اِشغالى حتمی است

نوک نوکترین حال آوارانءِ زمین چنڈءِ رپورٹ

نوک نوکترین حال آوارانءِ زمین چنڈءِ رپورٹ

دس 10 ہزار سے زاہد بگٹی پناہ گزین افغانستان میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ نواب براہمدغ بگٹی ریڈیو

دس 10 ہزار سے زاہد بگٹی پناہ گزین افغانستان میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ نواب براہمدغ بگٹی ریڈیو

گپے گـوں ناشریں امینی فـرد

گپے گـوں ناشریں امینی فـرد

میر دوست مھمد ھان ءَ چو میر مھراب ھان ءِ وڑا سر جَھل نہ کرتگ اَت ءُ ایرانی بادشاہانی گُلامی نہ منّ اتگ اَت ۔ ھیر بیار

میر دوست مھمد ھان ءَ چو میر مھراب ھان ءِ وڑا سر جَھل نہ کرتگ اَت ءُ ایرانی بادشاہانی گُلامی نہ منّ اتگ اَت ۔ ھیر بیار

گروہی سوچ اور منتشر بلوچ قوت – اداریہ

گروہی سوچ اور منتشر بلوچ قوت – اداریہ

طرح توسعه سواحل مکران – پندلے په بلوچستـــان ءِ مدامی زوربرد کنگ ءَ – اولی بهـر

طرح توسعه سواحل مکران – پندلے په بلوچستـــان ءِ مدامی زوربرد کنگ ءَ – اولی بهـر

چرا امپرطوری ایران فروخواهد پاشید؟

چرا امپرطوری ایران فروخواهد پاشید؟

گوانک خضدارءِ ھندی حالکار شھید فرید دلاوری (ملوّک جان)ءِ شهادتءِ دومّی سالروچءَ گوانگءِ ٹیم آئيءِ جُھدا پا بلوچستانءِ آجوئی کاروانءَ ستا دنت

گوانک خضدارءِ ھندی حالکار شھید فرید دلاوری (ملوّک جان)ءِ شهادتءِ دومّی سالروچءَ گوانگءِ ٹیم آئيءِ جُھدا پا بلوچستانءِ آجوئی کاروانءَ ستا دنت

حادثے میں لانگ مارچ میں شریک دو افراد زخمی

حادثے میں لانگ مارچ میں شریک دو افراد زخمی

آزادی پسند تنظیموں کی اتحاد

2020-03-26 16:48:14
Share on

گذشتہ دنوں بلوچستان لیبریشن فرنٹ نے اپنے ایک پالیسی بیان میں جو ایک معروف روزنامہ توار مستونگ میں شائع ہوا تھا ،بلوچستان پر قابض ریاست کی بلوچ عوام کے خلاف ریاستی مشینری کی جارحانہ انداز میں استعمال کرنے کی مذمت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ بلوچ آزادی پسند تنظیمیں اور پارٹیاں اپنی اندرونی اختلافات کو ختم کرکے متحد ہوجائیں تاکہ بہتر اور موثر انداز میں ریاستی جارحیت کا مقابلہ کیا جا سکے۔ میں نہیں جانتا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ اپنی اس پالیسی بیان کے ساتھ خود کتنا مخلص ہے مگر اُن کے بیان میں سو فیصد سچائی ہے جسے خوش آمدید کہنا ہی حقیقت پسندی ہے۔اسی طرح آج سے چند مہینے پہلے جناب ھیربیار مری کی طرف سے بلوچستان لبریشن چارٹرڈ کے نام سے ایک لائحہ عمل پیش کیا گیا تھا جس کی بنیادی مقصد بھی یہی تھا کہ اسی لائحہ عمل کے تحت تمام بلوچ آزادی پسند تنظیمیں اور پارٹیاں باھم متحد ہوجائیں۔گو اس چارٹرڈ میں کئی خامیاں تھیں،کئی تضادات تھے مگر ایسا نہیں تھا کہ اسے بِنا دیکھے ،بِنا پڑھے یا بنا غور کیے مسترد کیا جا تا ،اگر ہماری آزادی پسند تنظیمیں اور پارٹیاں صرف اور صرف باھم متحد ہونے کی ضرورت کو پیش نظر رکھتیں اور جیسا کہ خود ھیربیار مری نے اس میں تغییر و تبدل لانے کے لئے کہا تھا ، اس کی کمزوریاں اور تضادات کو نکال لیتیں تو اس چارٹرڈ کو قابل قبول بنایا جا سکتا تھا۔مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ابھی تک ھم میں وقت،حالات اور دشمن کی قوت کو سمجھنے کی صلاحیت میں کمی ہے۔ یہ بات کہ ریاست کتنی جارحیت کا مظاہرہ کر رہی ہے اس لئے کوئی معنی نہیں رکھتا ہے کہ جنگ اور محبت میں سب حربے جائز قرار دیے جاتے ہیں اور پھر جب دشمن بزدل ہو تو اس سے خیر کی کوئی امید رکھنا عبث ہے۔جبکہ ہمیں اس ریاست نے بڑی واضح انداز میں آج سے کئی دھائی پہلے جنرل ٹکا خان کے ذریعے یہ پیغام دیا تھا کہ We want only Balochistan ,not Baloch.اور پھر ایک مہینے پہلے وزیر ریلوے سعد رفیق نے بھی اپنی ایک بیان میں بلوچ قوم پر واضح کر دیا تھا کہ ’’۔۔۔۔ بنگلہ دیش ہم سے ایک ہزار کلومیٹر سے زیادہ دوری پر33 تھا جبکہ بلوچستان چند قدموں ہی کے فاصلے پر ہے۔۔۔‘‘اس بیان کا صاف لفظوں میں یہ معنی اخذ کیا جا تا ہے کہ بنگلہ دیش میں ھم نے جو بربریت کی وہ چونکہ دور تھا اس لئے کم کی مگر بلوچستان چونکہ نزدیک ہے ہم اس سے کئی زیادہ بربریت کا ارتکاب کرسکیں گے۔ اس لئے ہم دیکھتے ہیں کہ جو کچھ جارحیت امکانات میں موجود ہے وہ سب کچھ بلوچ قوم کے ساتھ ہو رہی ہے۔ایک طرف بنگلہ دیش کی تحریک آزادی کو ختم کرنے کے لیے جو الشمس اور البدر جیسی قاتل تنظیمیں بنائی گئی تھی ایسی ہی کئی تنظیمیں مختلف ناموں سے بلوچ قومی تحریک کے خلاف متحرک ہیں،آج نہ صرف فوج اور نیم فوجی ادارے بلوچوں کی نسل کشی کر رہی ہیں بلکہ ریاستی میڈیا،عدلیہ،انتظامیہ حتیٰ کہ پارلیمنٹ نے بھی Pakistan Protection Ordinenceبناکر اپنی اداروں کو بلوچ عوام کے ساتھ سب کچھ کرنے کی چھوٹ دے رکھی ہے۔اس کے علاوہ بلوچستان کے مقامی چور،ڈاکو اور اسمگلروں کو صرف اور صرف اس لئے ہر بُرائی کرنے کی چھوٹ دی گئی ہے کہ وہ بلوچ قومی تحریک کے خلاف ریاست کے اد اروں کے ساتھ تعاون کریں۔اور تو اور ایران جس کا خود یہ ریاست ازلی دشمن ہے اور سعودی عربیہ کے ایماء پرایران کو اقتصادی طور پر کمزور کرنے کے کئی طرح طرح کے منصوبے بنا رہی ہے اور سازشیں کر رہی ہے۔گوادر پورٹ،گیس پائپ لائن کی منسوخی،اور بے گناہ ،معصوم اور پرُ امن ہزارہ برادری کی صرف اس لئے نسل کشی کہ اس کا مسلکی تعلق ایران کے ساتھ ہے صرف ایران کو پریشانی میں مبتلاء رکھنے کے لئے کی گئی ہے صرف یہی نہیں بلکہ اپنے ہی کارندوں کے ذریعے ایران کے سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرکے ان کو قتل کرنا اور ان کی اغواء کاری سب ڈرامے ایران دشمنی میں کی گئی ہیں مگر بلوچ قومی تحریک کے خلاف اسی دشمن ریاست نے ایران کو اپنے ساتھ ملانے کے لئے حالیہ دنوں میں نواز شریف نے ایران کا دورہ کیا اور ایران کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ 1973.74کی طرح ایک بار پھربلوچ قومی تحریک کو ختم کرنے میں اس کی معاونت کرے۔اسی لئے کہ دشمن کا دشمن اپنا دوست ہی ہوتا ہے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ دشمن ریاست سے کسی قسم کی خیر کی امید رکھنا یا اس بات کی توقع رکھنا کہ یہ ریاست دشمنی میں بھی انسانیت،اسلامیت،اخلاقیت یا بین الاقوامی قوانین کی پابندی کرے گی خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔اس لئے بجائے اس بات کے کہ بلوچ تنظیمیں دشمن ریاست کا رونا روئیں وہ بی ایل ایف کی پالیسی بیان کے عین مطابق اپنی صلاحیتوں کو باھمی اتحاد اور انضمام پر صرف کریں ۔بد قسمتی سے آج ھم دیکھ رہے ہیں کہ بلوچ قومی آزادی کے لئے برسرِ پیکار تنظیمیں اور ان سے متعلقہ لکھاری حضرات ایک دوسرے پر کھیچڑ3 اچھال رہے ہیں۔ایک دوسرے کے خلاف کالمز ،مضامین اور بیانات داغ رہے ہیں جو کسی بھی حوالے سے اس آزادی کی تحریک کے لئے نیک شگون نہیں ہے بلکہ اس کے برعکس ایک خوف ہی فضا ذہنوں میں پیدا کر کے تحریک سے ھمدردی رکھنے والے لوگوں کو پریشان کیے ہوئے ہے۔اس لئے کہ آج سے کئی سال پہلے جب بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کو3شکست و ریخت کا سامنا ہوا تب بھی اس کی ابتداء آج کی طرح کے بیانات،کالمز اور مضامین سے ہوئی تھی اور پھر باھمی برادر کشی تک نوبت آئی تھی، بیسوں بلوچ فرزند اس باھمی چپقلش کی بھینٹ چڑھے، ہزاروں بلوچ فرزند تعلیم سے محروم ہوئے تھے ۔لیکن چونکہ اس وقت آزادی کی تحریک آج کے مرحلے میں داخل نہیں تھی اس لیے تحریک پر کوئی آنچ نہیں آئی تھی لیکن آج بلوچ قوم اور اس کی تحریک ایک ایسی نہج پر پہنچ چکی ہے کہ اس کی بحیثیت قوم موت اور زیست کا مسئلہ بن چکی ہے ایسے میں وہ تنظیمیں جو باھم دست وگریبان ہونے کو جا رہی ہیں وہ در اصل بلوچ قومی تحریک کے ساتھ ساتھ بلوچ قومی تشخص کو دانستہ یا نادانستہ طور پرختم کرنے جا رہی ہیں۔ لہذا ہماری تمام قومی آزادی کی تنظیموں اور پارٹیوں سے دست بستہ التماس ہے کہ خدارا وہ باھم متحد اور منظم ہوجائیں ورنہ وہ وقت دور نہیں جب نہ رہے گی بانس اورنہ بجے گی بانسری۔

 کردگار بلوچ

 

Share on
Previous article

تلاش غربی ها برای جلوگیری از فروپاشی ایران

NEXT article

انساندوستیں بلوچانی کمک کاری ءُ بلوچ دژمنیں سپاہ ءِ تکانسری

LEAVE A REPLY