اسکاٹ لینڈ اور بلوچستان – کردگار بلوچ

اسکاٹ لینڈ اور بلوچستان – کردگار بلوچ

2020-03-24 12:29:25
Share on

اسکاٹ لینڈ کے عوام نے اپنے ملک کی آزادی کے خلاف اور قابض ملک برطانیہ کے حق میں فیصلہ دے کر ایسی تاریخ رقم کردی دی ہے کہ جس سے دیگر تمام قابض ملکوں کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے بیالیس لاکھ ترپّن ہزار تین سو تئیس اسکاٹش عوام نے اپنے ملک کی آزادی اور غلامی کے حوالے سے ووٹ ڈالے اور سولہ لاکھ ووٹ کے مقابلے میں بیس لاکھ سے کچھ اوپر لوگوں نے اپنے مادر وطن اسکاٹ لینڈکو زندگی بھر کے لئے سلطنت برطانیہ کا حصہ بنادیا۔اس رائے شماری میں برطانیہ کی جیت کو ’’جمہوریت‘‘ کی جیت قرار دی جا رہی ہے یعنی یہ کہا جا رہا ہے کہ جمہوریت ایک ایسی قوت ہے جو عوام کو اپنی زندگی کے وہ تمام سہولیات اس حد تک مہیا کر دیتی ہے کہ عوام اپنے ملک کے خلاف دوسری جمہوری ملک کو ترجیح دے دیتی ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ جمہوریت اب تک کی تمام طرز حکمرانی میں سب سے بہترین ہے لیکن اسکاٹش عوام کی اپنے مادر وطن کے خلاف اور برطانوی سلطنت کے حق میں فیصلہ دینے کی وجوہات صرف یہی ایک جمہوریت نہیں ہے، تین سو سال (برطانوی یونین میں شامل ہونے کے بعد)سے قابض برطانیہ کو اسکاٹ عوام متواتر دیکھ رہی تھی،برطانیہ کی سب سے پرانی پارٹی جو اسکاٹ لینڈ کی سب سے بڑی پارٹی ہے نے بھی برطانیہ کے حق میں Campaignچلایااور پھر یورپی یونین نے بھی کسی طور اپنی اقتصادی اور معاشی اتحادی کے اتحاد کو برقرار رکھنے کے لئے اپنا کردار ادا کیا۔اس کے علاوہ برطانوی قوم ایک مہذب قوم ہے اور نہ صرف وہ رموز مملکت سے واقف ہے بلکہ وہ کسی بھی طرح کی تعصب سے بالاتر ہے۔ میں دوسری برطانوی شہری زندگی کی دیگر سہولیات جیسے تعلیم ،صحت،معاشی و اقتصادی ترقی وغیرہ کی طرف نہیں جاتا بلکہ صرف یہ لکھتا ہوں کہ۔ اگر ریاست برطانیہ پاکستان کی طرح اسکاٹش عوام پر ہر دس بارہ سالوں بعد فوجی آپریشن کرتا رہتا اور ہر نئی نسل کو از سرنو غلامی کا احساس دلاتا رہتا اور لاکھوں اسکاٹش عوام کو اسکاٹ لینڈ چھوڑ کر کسی دوسرے ملک یا صوبے میں جاکر آباد ہونے پر مجبور کرتا،اگر سلطنت برطانیہ پاکستان کی طرح اسکاٹش عوام کی قومی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے لئے دوسرے ممالک کے مہاجرین اور دوسرے صوبوں کے لوگوں کو بڑی تعداد میں اسکاٹ لینڈ لاکر آباد کر دیتا،اگر سلطنت برطانیہ پاکستان کی طرح اسکاٹ لینڈ کے علاقوں کو غیر محسوسانہ انداز میں اپنی اکثریتی اور مرکزی صوبے میں شامل کرتا،اگر سلطنت برطانیہ اس تین سوسالہ رفاقت میں دو ہزار سے زیادہ اسکاٹش عوام کی مسخ شدہ لاشیں مختلف ویرانوں میں گدھ اور کوؤں کی خوراک بنانے کی غرض سے پھینک دیتا،اگر سلطنت برطانیہ انیس ہزار سیاسی شعور رکھنے والے طالبعلموں، ڈاکٹروں،وکلا،صحافیوں،تاجروں،اساتذہ کرام اور دیگر معزز پیشے کے لوگوں کو اپنی اذیت گاہوں میں رکھتا تو کیا اس ’’رائے شماری‘‘ میں اسکاٹ عوام سلطنت برطانیہ کی غلامی کو اپنی مادر وطن کی آزادی پر ترجیح دیتے ۔۔۔۔؟
ایک عالمی نشریاتی ادارہ بی بی سی (لندن) نے اسکاٹ لینڈ کے حوالے سے بلوچستان بارے کم از کم دو نشستیں کی ہیں،ایک نشست میں تو صرف بلوچستان ہی زیر بحث رہا جبکہ دوسری نشست میں برصغیر کے دیگر آزادی پسند تنظیموں کے بارے میں بھی گفت گو رہی ہے۔اس عالمی نشریاتی ادارے کی پہلی نشست میں دو شخصیات کو تجزیہ کرنے کے لئے کہا گیا ایک پاکستان مسلم لیگ کے رہنماانوارالحق کاکڑ صاحب تھے اور دوسرا معروف صحافی اور بلوچستان کے ایک مقبول روزنامہ’’انتخاب کے چیف ایڈیٹر اور مالک جناب انور ساجدی صاحب تھے۔جناب کاکڑ صاحب نے بلوچ قوم اور بلوچستان کے بارے میں جس انداز میں گفتگو کی تھی اس سے اس بات کا اندازہ لگانا چندان مشکل نہ تھا کہ ایک تو یہ شخص بلوچ اور بلوچستان کے بارے میں کوئی تاریخی واقفیت ہی نہیں رکھتا ہے اور دوسری بات یہ کہ وہ ایک متعصب اورمسلم لیگ کی پالیسیوں کا پابند شخصیت ہے ایک تجزیہ کار نہیں ہے۔جبکہ انور ساجدی صاحب نے بڑے مدّبر انداز میں نہ صرف اسکاٹ لینڈ کے عوام کی اس رائے شماری کو سراہا بلکہ پاکستانی حکمرانوں کو بھی بلوچستان میں اسی قسم کی رائے شماری کرنے کا مشورہ بھی دیا البتہ انہوں نے اپنے محسوسات بھی بیان کئے کہ پاکستانی حکمران چونکہ غیر جمہوری لوگ ہیں اس لئے بلوچستان کی آزادی کے حوالے سے جو رائے شماری ہوگی وہ اقوام متحدہ کی زیر نگرانی میں ہو۔وہ کہتے ہیں’’۔۔۔۔۔مقام افسوس ہے کہ جب انگریز ہندوستان کو چھوڑ کر جا رہے تھے تو انہوں نے بلوچستان میں ایک نام نہاد ریفرنڈم کروایا تھا اور وہ بھی’’برٹش بلوچستان‘‘ میں اور اُس میں صرف دو ہی Optionرکھا گیا تھا ایک Optionیہ تھا کہ آپ پاکستان میں شامل ہوں گے یا ہندوستان میں(در اصل یہ ایک ہی Optionتھا ساجدی صاحب نے اسے دو بیان کیے۔۔۔کردگار)شامل ہوں گے۔اور انہوں نے آزادی کا کوئی آپشن رکھا ہی نہیں تھا۔اب دیکھیں وہ اپنے ملک میں چونکہ وہاں جمہوریت ہے اور لوگوں کو جبر سے غلام نہیں رکھا جاسکتا اس لیے وہ مہذب طریقہ اختیار کر رہے ہیں۔بہرحال یہ جو جنگ و جدل ہے،تنازعہ ہے اس کا ایک بہترین حل یہی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ وہ آزادی کے حامی زیادہ ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ بالکل نہیں ہیں اس کا پیمانہ یہی ہے کہ حکمران دل بڑا کرکے اپنے اوپر اعتماد رکھ کے عالمی اداروں کی نگرانی میں ایک ریفرنڈم کرجائیں لیکن اس کا شرط یہ ہوگی کہ یہ 1970 ؁کے بعد جو لوگ آکرآباد ہوئے اُن کو منہا کر دیا جائے تو،اور پھر سوال کلئیر ہو۔۔۔۔۔۔۔‘‘

اس عالمی نشریاتی ادارے کی دوسرے پروگرام میں اسی سوال کو کچھ الفاظ کی تبدیلی کے ساتھ بلوچ قومی رہنما واجہ ھیر بیار مری سے پوچھا توانہوں نے اسکاٹ لینڈ میں برطانیہ کے حق میں عوام کے فیصلے کو جمہوریت کی فتح قرار دیا مگر ساتھ ہی ساتھ انہوں نے بلوچستان میں ریفرنڈم کو یکسر مسترد کرتے ہوئے جواب دیا’’۔۔۔۔۔۔۔۔اسکاٹ لینڈ اور بلوچستان کا موازنہ میرے لئے کافی مشکل ہے وہ اس لئے کہ اسکاٹ لینڈ کے عوام صدیوں سے اپنی مرضی سے برطانوی یونین کے حصہ ہیں اور اب اگر آزادی مانگ رہے تھے تو انہیں اُن کا حق دیا گیا لیکن بلوچستان کے عوام تو1947 ؁ سے پاکستان کے ساتھ نہ تو رہنے کے حق میں تھے اور نہ ہی اب ہیں تو ہم ریفرنڈم کا مطالبہ کیوں کریں ۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان پر پاکستان کا قبضہ ختم ہو اور بلوچ عوام اپنے مستقبل کا فیصلہ جمہوری انداز میں کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔۔۔۔‘‘یہاں پر واجہ ھیربیار مری صاحب نے اس طرف اشارہ کیا تھا جب بلوچستان پر پاکستان کے قبضہ کرنے سے پہلے محمد علی جناح نے خان قلات پر بلوچستان کو پاکستان میں شامل کرنے کے لئے زور دیا تھا مگر جب خان قلات نے اس مسئلے کو بلوچستان کے دونوں ایوان(دارالعوام اور دارالخواص)میں فیصلہ کرنے کے لئے رکھا تو بلوچستان کے دونوں ایوانوں نے بلوچستان کو پاکستان میں شامل کرنے کے محمد علی جناح کے مطالبے کو ظالمانہ قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔
لیکن پھر بھی ایک طرف ایک سینئر صحافی ،دانشور اور تجربہ کار شخصیت انور ساجدی کی رائے ہے،جبکہ ایک اور قومی رہنما واجہ براھندگ بگٹی صاحب کے بھی یہی رائے سامنے آئی کہ بلوچستان میں آزادی کے مسئلے پر اقوام متحدہ کی زیر نگرانی رائے شماری ہو تاکہ پتہ چل سکے کہ بلوچ عوام پاکستان میں شامل رہنا چاہتے ہیں یا پاکستان سے جدا ہونا چاہتے ہیں یقیناًاُن کے اس طرح کے مطالبے میں ان کا یہ یقین شامل ہے کہ بلوچ عوام پاکستان کے ساتھ رہنے کا فیصلہ نہیں کریں گے۔لیکن پھر بھی دوسری طرف واجہ ھیر بیارمری صاحب کی یہ دلیل کہ چونکہ بلوچ عوام نے اپنی مرضی سے پاکستان کے ساتھ رہنے کا فیصلہ سرے سے ہی مسترد کیا تھا اس لئے اب مذید ریفرنڈم کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔آج ہم اس پر اختصار کے ساتھ بات کریں گے کہ کیوں بلوچستان میں ریفرنڈم کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور اگر ریفرنڈم ناگزیر ہو تو کن شرائط پر ممکن ہو سکتا ہے۔
ہم بھی اس مسئلے پر جناب ھیر بیار مری صاحب سے اتفاق کرتے ہیں ایک تو اس لئے کہ جیسے اوپر ذکر کیا جا چکا ہے کہ بلوچستان کے دونوں قانون ساز اسبلیوں نے پاکستان کے ساتھ الحاق کو سرے سے ہی مسترد کیا تھا جبھی تو پاکستان کو بلوچستان پر فوج کشی کی ضرورت پڑ گئی تھی لیکن بات صرف یہاں تک نہیں ہے بلکہ پاکستان نے کئی اور ایسے مسائل بلوچستان کے لئے پیدا کئے ہیں کہ اگر بلوچستان کو کسی وقت اقوام متحدہ کی طرف سے اس کی آزادی پر رائے شماری کی ضرورت پیش آئے ہو تو کئی پیچیدگیاں سامنے ہوں ۔مثال کے طور پر افغانستان کا ایک حصہ جو پہلے ڈھائی اضلاع پر مشتمل تھا اور اب کوئی چار یا پانچ اضلاع پر مشتمل ہے اور جہان کی آبادی پختون قوم کی ہے اور جسے سلطنت برطانیہ نے بلوچ اور پختون قومی وطنوں کو بٹوارہ کرنے اور ان کی قومی طاقت کو تقسیم کرنے کی خاطرشامل کیا تھا لیکن جب1970 ؁میں جنرل یحیٰ خان نے پاکستانی ون یونٹ کا ڈھانچہ توڑا اور نئے سرے سے صوبے بنائے تو چائیے تھا کہ پختون علاقوں کوان کی خواہشات کے مطابق یا تو الگ صوبے دیتے یا پھر اُن کو پشاور کے ساتھ شامل کرتے اور ان علاقوں کی جگہ خالصتاً وہ بلوچ علاقے جو پنجاب میں تھے اور اُن علاقوں ڈیرہ غازی خان، کشمور،کوہ سلیمان کے عوام کے مطالبے پر ان کو بلوچستان میں شامل کرتے،لیکن چونکہ ریاست پاکستان کی نیّت شروع دن سے یہاں کے قوموں کو باھم لڑانے اور جھگڑانے کی تھی اس لئے صوبوں کی تشکیل قومی لحاظ سے نہیں کی گئی اور آج بلوچستان میں آزادی کے حوالے سے اگر ’’رائے شماری ‘‘ ہو تو لاکھوں ووٹ ایسے ہیں جو سرے سے بلوچستان کے نہیں ہیں اور یہ ووٹ رائے شماری پر اثر انداز ہوں گی اورپھر لاکھوں ووٹ ایسے ہیں جو بلوچستان کے ہیں مگر اُن کو بلوچستان سے الگ رکھا گیا ہے۔
اس کے علاوہ پاکستان نے ہر دس سالوں بعد بلوچستان پر فوجی آپریشن کیا ہے جس سے ہزاروں بلوچ جان بحق ہونے کے ساتھ ساتھ لاکھوں بلوچوں نے ان آپریشنزکی وجہ سے بلوچستان چھوڑ دیا ہے اورکراچی، اندرون سندھ یا پنجاب کے بلوچ علاقوں،ایران اور افغانستان میں جا بسے ہیں ایک اندازے کے مطابق ایسے جبری مہاجرت کرنے والے بلوچوں کی تعداد پچیس لاکھ کے قریب ہے۔اور اس کے برعکس ریاست نے 1970 ؁ سے دوسرے ملکوں اور صوبوں سے بڑے پیمانے پر( اور خاص کر افغان مہاجرین) مہاجرین کو لاکر بلوچستان میں آبادکاری کی تاکہ یہاں کی بلوچ اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کی جا سکے اور ان لوگوں کو بلوچ عوام سے کئی بڑھ کر شہری حقوق حاصل بھی
ہیں اور اِن مہاجرین کی تعداد قریباً اٹھارہ لاکھ بتائی جاتی ہے اس لئے اِن لوگوں کی ’’رائے ‘‘ بھی بلوچ قوم کی رائے پر اثر انداز ہوگی۔
ہاں اگر اقوام متحدہ اس بات پر مصر ہو کہ وہ بلوچستان کی آزادی کے حوالے سے یہاں کے عوام سے اسکاٹ لینڈ کی طرز کاکوئی ’’رائے شماری کرے گی جو ناگزیر ہے تو اقوام متحدہ کو چاہیے کہ
1:۔۔سب سے پہلے بلوچستان میں غیر بلوچ علاقوں کو بلوچستان سے الگ کردے تاکہ اُن کے ووٹ اس رائے شماری پر اثر انداز نہ ہوں۔
2:۔۔1970 ؁ کے بعد آنے والے تمام آبادی کو یا تو بلوچستان سے نکال دیا جائے یا پھر کوئی ایسی محفوظ اور مستحکم طریقہ کار وضع کیا جائے کہ ان لوگوں کو ’’رائے شماری‘‘ سے دور رکھا جا سکے۔
3:۔۔ریاست پاکستان کی فوجی آپریشنوں کی وجہ سے وہ تمام بلوچ جن کو اپنی مادر وطن چھوڑنا پڑا اور دوسرے علاقوں میں مجبوراً بسنا پڑا ہے اقوام متحدہ اپنی نگرانی میں اُن تمام بلوچ لوگوں کی بلوچستان میں دوبارہ آبادکاری کو ممکن بنائے۔
4:۔۔رائے شماری سے مہینوں پہلے بلوچستان سے پاکستان کے ریگولر آرمی،نیم فوجی اور خفیہ اداروں کے تمام اہلکاروں کو نکال دیا جائے تاکہ وہ کسی بھی صورت ’’رائے شماری‘‘ پر اثر انداز نہ ہوں۔
5:۔۔اس وقت تمام بیورو کریسی ریاست کی ہے جس سے پورے بلوچستان پر کنٹرول حاصل ہے اور یقیناً ان کی مرضی اور منشا ’’رائے شماری پر اثر انداز ہوگی اس لئے رائے شماری سے پہلے اقوام متحدہ ایسے تمام بیورو کریٹس کو ’’رائے شماری‘‘ اور انتظامی امور سے باہر رکھ دینے کا اہتمام کرے۔اور ساتھ ہی ساتھ رائے شماری میں خدمات دینے والے اہلکار اور آفیسراں(Chief Officers and Counting Officers) کو پاکستان،ایران،چین،ترکی اورسعودیہ عرب کے علاوہ کسی اور ممالک سے لی جائے تاکہ رائے شماری صاف اور شفاف ہو سکے۔
6:۔۔اس وقت تمام میڈیا (پرنٹ اور الیکٹرنک) ریاست کے ہیں اور ان کی غیر جانب داری کلیتاً مشکوک ہے لہذا رائے شماری سے پہلے تمام پاکستانی میڈیا جو بلوچستان کے بارے میں اور خاص کر رائے شماری کے بارے میں کوئی پروگرام دینے سے سختی کے ساتھ منع کی جائے۔
ایسے تمام یقینی اقدامات کے بعد ہی بلوچستان میں رائے شماری ممکن ہو سکے گی ورنہ اِن تمام خرافات کے ساتھ رائے شماری کو بلوچ عوام کے ساتھ ایک مزاق ہی سمجھا جائے گا۔
آخر میں میں بی بی سی لندن کے دوسرے پروگرام میں شامل جناب ڈاکٹر ملک صاحب سے یہ گزارش کروں گا کہ ایک تو اُن کو پاکستان کے حکمرانوں کی مزاج کے بارے میں علم ہی نہیں ہے اگر اُ ن کو اس بات کا علم ہوتا کہ اِن لوگوں نے قرآن پاک سر پر اٹھا کر بھی اپنے وعدہ کی پاسداری نہیں کی ہے تو وہ کسی تیسری قوت کی مداخلت کو مسترد نہیں کرتے اور دوسری بات ان کے حضور میں یہ کہنا ہے کہ اس وقت کراچی میں بلوچوں کی آبادی پنتالیس لاکھ کے قریب ہے اور بلوچستان کی آبادی(اگر درست اور صحیح مردم شماری ہو) ایک کروڑ بیس لاکھ کے قریب ہے(اِن میں اٹھارہ لاکھ مہاجرین شامل نہیں ) جن میں اسّی لاکھ کے قریب بلوچوں کی آبادی ہے مگر انہوں نے بڑی بے
اعتناہی کے ساتھ بلوچستان کے بلوچوں کی آبادی کو کراچی کے لیاری کے بلوچوں کی آبادی سے بھی کم بتایا جو ان کی کم علمی کی دلیل ہے۔

Share on
Previous article

بالاچ” مبارک قاضی “

NEXT article

گپ وتران گون شہید محمد اکبر خان بگٹی ء 20060402 گون ریڈیو بلوچی ایف ایم

LEAVE A REPLY

MUST READ

شکست اخلاقی اشغالگران

شکست اخلاقی اشغالگران

ماتی زبان – گوس بھاربلوچ

ماتی زبان – گوس بھاربلوچ

We Strongly Condemn Pakistan for Abducting Indian Citizen, Gulbushan Yadhu! Anil Boluni

We Strongly Condemn Pakistan for Abducting Indian Citizen, Gulbushan Yadhu! Anil Boluni

پاکستان دہشت گردی وسیاسی مفادات کے لیے مذہب کا استعمال کرکے مسلمانوں پہ ظلم کررہا ہے: حیر بیار مری

پاکستان دہشت گردی وسیاسی مفادات کے لیے مذہب کا استعمال کرکے مسلمانوں پہ ظلم کررہا ہے: حیر بیار مری

گلگدارے گون کامڑید واحد بلوچءِ زهگ بانک حانیءَ آئیءِ بیگواهیءِ بابتءَ

گلگدارے گون کامڑید واحد بلوچءِ زهگ بانک حانیءَ آئیءِ بیگواهیءِ بابتءَ

راجدوستیں بلوچاں تپاک بیگی انت

راجدوستیں بلوچاں تپاک بیگی انت

رهبری خیزش کنونی غیرمتمرکز و در دست مردم بپاخاسته است

رهبری خیزش کنونی غیرمتمرکز و در دست مردم بپاخاسته است

بلوچستــان غربـی چگونه اشغال شـــد؟

بلوچستــان غربـی چگونه اشغال شـــد؟

شاپک کیچءِ ڈرانڈیں بوتگینان گون گپ و ترانے ءُ بی ایچ آر او سروک بی بی گلءِ رپورٹ

شاپک کیچءِ ڈرانڈیں بوتگینان گون گپ و ترانے ءُ بی ایچ آر او سروک بی بی گلءِ رپورٹ

بلوچستان میں خواتین کی جبری گمشدگی وہلاکت افسوسناک و قابلِ مذمت ہیں:بی ایچ آر او

بلوچستان میں خواتین کی جبری گمشدگی وہلاکت افسوسناک و قابلِ مذمت ہیں:بی ایچ آر او

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے مرکزی چیئرمین زاہد بلوچ(بلوچ خان) اغواء

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے مرکزی چیئرمین زاہد بلوچ(بلوچ خان) اغواء

بولانءِ دمگ لکڑ ءُ پل کڑیءَ پاکستانی هوائی فوجءِ بمب گواری – نوکترین ریڈیو حال

بولانءِ دمگ لکڑ ءُ پل کڑیءَ پاکستانی هوائی فوجءِ بمب گواری – نوکترین ریڈیو حال

بلوچستـان ءِ پليـں شهيـدان ءَ هـــزاراں ســـلام

بلوچستـان ءِ پليـں شهيـدان ءَ هـــزاراں ســـلام

راجدوستیں بلوچاں تپاک بیگی انت

راجدوستیں بلوچاں تپاک بیگی انت

پادآتکگیں بلوچ ورنایانی نامءَ

پادآتکگیں بلوچ ورنایانی نامءَ