الوطن نیوز عربی کا جیش العدل کے رہنما صلاح دین فاروقی بلوچ سے خصوصی انٹرویو

الوطن نیوز عربی کا جیش العدل کے رہنما صلاح دین فاروقی بلوچ سے خصوصی انٹرویو

2020-03-27 09:17:42
Share on

 

 (سوال : الوطن نیوز ) آپ لوگ ایران کے خلاف کیوں مزاحمت کررہے ہیں آپ بلوچ قوم چاہتے کیا ہیں ایران سے ؟
( جواب : صلاح دین فاروقی بلوچ ) ہمارے سرزمین بلوچستان کو ایران نے 1928 میں بلوچ قوم کے خواہش برخلاف جبرا قبضہ کیا ہے ھم یہی چاہتے ہیں کہ ایران اپنی فوج کو بلوچستان سے نکالے اور بلوچستان کو بلوچ قوم کے حوالے کردے
( سوال ) جیش العدل کب وجود میں آیا اور کب آپ لوگوں نے مسلح جدجہد شروع کی اور آپ لوگوں کی تعداد کتنی ہے ؟
(جواب ) بلوچ قوم کی تحریک تو بہت پرانی ہے مگر جنداللہ کے سربراه عبدلمالک ریگی بلوچ کی گرفتاری کے بعد 2012 میں جیش العدل کی بنیاد رکھی گئی اور جہاں تک ہمارے جہدکاروں کی تعداد کی بات ہے تو ھم یہ تعداد تنظیمی پالیسی کی بنیاد پر نہیں بتاسکتے مگر ایک وضاحت کرتا چلوں کہ ہمارے پاس جہدکاروں کی کمی نہیں بلکہ وسائل کی بہت کمی ہے
( سوال ) آپ لوگ سیاسی جدجہد کیوں نہیں کرتے مسلح جدجہد پر کیوں یقین رکهتے ہو؟
(جواب ) سیاسی جدجہد بھی ھم نے اور ھمارے بلوچ قوم نے کیا ہے مگر ایرانی ریاست ہمیں بحیثیت ایک قوم تسلیم کرنے کے لیے تیار ہی نہیں ہے 35 سال ہوئے ہیں خمینی حکومت کو آئے اب تک سینکڑوں بلوچ فرزند شھید ہوچکے ہیں جو بھی حق کی بات کرتا ہے اسے یا تو غائب کردیا جاتا ہے یا تو براہ راست تختہ دار پر لٹکادیا جاتا ہے یا تو راستے میں گاڑی اکسیڈنٹ کے نام پر کُچلا جاتا ہے اب تک کتنے بلوچ شھید ہوئے ہیں نہ ہمارے علماء کو بخشا جاتا ہے نہ دانشور نہ ادیبوں کو جو بھی حق کی بات کرتے ہیں وہ شھید کئے جاتے ہیں تو ھم کس طرح پُرامن جدجہد کریں یہ ریاست صرف بندوق کی زبان سمجھتی ہے ہم اس لیے مسلح جدجہد پر یقین رکتے ہیں
(سوال ) آپ لوگوں کے پاس کون سے بڑے ہتیار ہیں اور کیا آپ لوگوں کو کوئی ملک سپورٹ کرتا ہے ایران کا دعوی ہے کہ جیش العدل کو دوسرے ملک سپورٹ کرر ہے ہیں آپ اس کے باریں میں کیا کہیں گے ؟
(جواب ) ھمارے پاس جو بھی اسلحہ ہے ھم نے ایرانی ریاست کے فوج سے چینے ہیں کچھ بڑے نوعیت کے اسلحے ہمیں میسر نہیں ہیں اگر ہوتا تو ھم اپنی کاروائیوں میں ضرور اسعتمال کرتے اور پوری دنیا دیکھتا جہاں تک کسی ملک کی سپورٹ کا سوال ہے تو کوئی بھی ملک ھمیں سپورٹ نہیں کررہاہے اگر کرتے تو ھماری جنگ بہت آگے جاتی اور اب تک بیشتر علاقے ہمارے کنٹرول میں ہوتے مگر بدقسمتی سے ھمیں کسی ملک کی سپورٹ حاصل نہیں ہے ھم اپنی مدد آپ اور بلوچ قوم کی حمایت سے یہ جنگ لڑرہے ہیں لہذا ھم دنیا کے تمام مہذب ممالک سے امید رکهتے هیں کہ وه ہماری اس جائز جنگ میں ہماری مدد کرے ھم اس مدد کو خوش آمد کرتے ہیں
(سوال ) ایرانی ریاست کا جیش العدل پر یہی الزام ہے کہ وہ القاعدہ اور داعش سے تعلق رکهتاہے اور انہی تنظیموں کے نظریہ پر چل رہا ہے تو اس کے باریں میں آپ کچھ وضاحت کرسکتے ہیں ؟
(جواب ) ھم نہ ہی القاعدہ کے نظریہ پر چل رہے ہیں اور نہ ہی داعش کے اور نہ ہی ھمارا ان تنظیموں سے کوئی تعلق ہے بلکہ ھم ان تنظیموں کو انتہا پسند سمجھتے ہیں ایران دنیا کو گمراہ کرنا چاہتا ہے ھم صرف بلوچ قوم کے لیے جدجہد کررہے ہیں ھماری منزل صرف بلوچستان ہے
( سوال ) کیا ایرانی پارلیمنٹ میں بلوچ قوم کے نمائندے موجود ہیں جو بلوچ قوم کی نمائندگی کرر ہے ہیں؟
(جواب ) جی نہیں کچھ لوگ ہیں مگر وہ بلوچ قوم کے نمائندے نہیں ہیں وہ صرف کچھ مراعات کی خاطر اپنا ایمان بیچ رہےہیں پہلے کچھ مخلص لوگ موجود تھے جو بلوچ قوم کیلئے کچھ کرنا چاہتے تهے مگر جلد ایرانی رجیم نے ان لوگوں کو راستے سے ہٹا دیا کچھ کو غائب کردیا اور کچھ کو شہید کردیا. ( سوال ) بلوچوں کی تعداد کتنی ہے اور کیا آپ لوگ ہر وقت جنگ کے لیے فکر میں ہو ؟
(جواب ) بلوچستان کے تمام قبائلوں کے حوالے بتاؤں تو 24 ملین بلوچ ہیں مگر بلوچستان کو 3 حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے ایران ، پاکستان ، افغانستان یہ جو مردم شماری ہے یہ دراصل ریاست کی تعداد ہے بلوچ قوم کی تعداد اس سے زیادہ ہیں بلوچوں کی تعداد مغربی بلوچستان جو ایران کا مقبوضہ ہے اس حصے میں 5.5 ملین بلوچ ہیں اور ایران اس تعداد کو بھی کم ظاہر کررہا ہے اور بلوچستان کی زمین کو بھی تقسیم در تقسیم کررہا ہے یہ ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت ہورہاہے بلوچ قوم کو کمزور کرنے کے لیے تقسیم در تقسیم مثال کے طور پر شاہ کے زمانے میں بلوچستان جنوب کے حصے کو خراسان میں شامل کرنا اور ایک بڑا حصہ مشرقی کا کرمان کو الگ حصہ کرنا اور ھورمز احواز میں شامل کرنا یہ ایک منصوبہ بندی کے تحت ایران نے کیئے ہیں کہ بلوچ قوم کمزور ہوں شاید کل بلوچ قوم آزادی کے لیے جدجہد کرے تو ناکام ہو اور آپ کا دوسرا سوال تو ضرور ھم ہر وقت جنگ کے لیے تیار ہیں ھمارے سرمچاروں نے پچھلے ماہ 5 عسکری کاروائیاں ایران کے خلاف کیئے ہیں اور اس ماہ ھم نے 2 کاروائیاں کیے ہیں یعنی کل 7 کاروائیاں اور ان عسکری کاروائیوں کا ایرانی رجیم نے خود اعتراف کیا ہے اور ان شاءاللہ ھماری کاروائیوں میں مزید اضافہ هوگا.

Share on
Previous article

واجه پُردلی بلوچ ءُ واجه سرمچارءِ بلوچ گپ و تران گون کابل ٹی ویءَ بلوچ شهمیرانیءِ روچءِ بابتَءَ

NEXT article

بیگواه بوتگین کسان سالین بلوچ ورناه عبدالحقءِ کهولءَ گون ترانے

LEAVE A REPLY

MUST READ

نوکترین ریڈیو حال

نوکترین ریڈیو حال

گلگدارے گون قائد اعظمم یونیورسٹیءِ نودربر شهداد بلوچءَ

گلگدارے گون قائد اعظمم یونیورسٹیءِ نودربر شهداد بلوچءَ

فری بلوچستان موومنٹ مہم ,تمام آزادی پسند شرکت کرسکتے ہیں :حیربیار مری

فری بلوچستان موومنٹ مہم ,تمام آزادی پسند شرکت کرسکتے ہیں :حیربیار مری

مند میں پاکستانی آرمی کا شہید غلام محمد کے گھر پرحملہ

مند میں پاکستانی آرمی کا شہید غلام محمد کے گھر پرحملہ

ایران پر اقتصادی و فوجی پابندیاں اٹھانا امن کیلئے نہایت خطر ناک عمل ہے ۔ حیر بیار مری

ایران پر اقتصادی و فوجی پابندیاں اٹھانا امن کیلئے نہایت خطر ناک عمل ہے ۔ حیر بیار مری

واجہ شھید غلام محمد بلوچءِ آخرین تران گون گوانکءَ, واجہ ءِ اے تران 1 اپریل 2009 گرگ بوتگ

واجہ شھید غلام محمد بلوچءِ آخرین تران گون گوانکءَ, واجہ ءِ اے تران 1 اپریل 2009 گرگ بوتگ

بلوچ نسل کشی میں تیزی لائی گئی ہے ، خلیل بلوچ

بلوچ نسل کشی میں تیزی لائی گئی ہے ، خلیل بلوچ

مال ءُ مڈّی

مال ءُ مڈّی

بيست و هفتم مارس روزی سياه در تاريــخ بلوچستــــان

بيست و هفتم مارس روزی سياه در تاريــخ بلوچستــــان

دیـزل ( گازوئیـل ) ءِ مافیـایی سوداگِـری

دیـزل ( گازوئیـل ) ءِ مافیـایی سوداگِـری

بهارت کا بلوچ سیاسی کارکنوں کو سیاسی پناه دینا زیر غور هے – بی جے پی رهنما انیل بالونی

بهارت کا بلوچ سیاسی کارکنوں کو سیاسی پناه دینا زیر غور هے – بی جے پی رهنما انیل بالونی

اپوزیسیون مرکزگرای پارس چه در سر دارد؟

اپوزیسیون مرکزگرای پارس چه در سر دارد؟

بلوچ کی عدم شرکت سے گوادر حوالے کوئی بھی معاہدہ خطے میں انتشار کا باعث بنے گا ۔ حیربیار مری

بلوچ کی عدم شرکت سے گوادر حوالے کوئی بھی معاہدہ خطے میں انتشار کا باعث بنے گا ۔ حیربیار مری

دَرآمدیں گُشتاسبی کئے اِنت؟

دَرآمدیں گُشتاسبی کئے اِنت؟

بر دانش آموزان بلـوچ چه می گـذرد؟ بخش آخـر

بر دانش آموزان بلـوچ چه می گـذرد؟ بخش آخـر