انڈیا سمینار میں حیربیار مری کا خصوصی پیغام

انڈیا سمینار میں حیربیار مری کا خصوصی پیغام

2020-03-26 10:24:28
Share on

دہلی / بھارت میں منعقد سیمینار ’’ پاکستانی مقبوضہ کشمیر ،گلگت بلتستان ،بلوچستان اور سندھ میں پاکستانی جبر ‘‘ میں بلوچ قوم دوست رہنما حیربیار مری کا پڑھا گیا پیغام
مجھے یہاں اس سیمینار میں مدعو کرنے کا میں بہت شکرگزار ہوں ، میرا نام بالاچ پردلی بلوچ ہے ، میں آزادی پسند بلوچ رہنما حیربیار مری کا پیغام پڑھوں گا ۔حیربیار مری موجودہ بلوچ قومی تحریک آزادی کے بانیوں میں سے ایک ہیں۔
سنہ 1948 میں پاکستان کا بلوچستان پر قبضے سے لیکر آج تک پاکستان بلوچستان میں تحریک آزادی کو کچلنے کیلئے پانچ وسیع پیمانے کے فوجی آپریشن کرچکا ہے۔ان فوجی جارحیتوں کے جدید دور کا آغاز سنہ 2000 میں ہواجو ہنوز جاری ہے۔ان میں سے ہر آپریشن میں سینکڑوں ہزاروں لوگوں کو انکے گھروں اور علاقوں سے بیدخل کیا گیا ، ہزاروں کو گرفتار کرکے لاپتہ کردیا گیا اور سینکڑوں کو بلا امتیاز بمباریوں میں شہید کیا گیا۔ جن میں بلوچ آبادیوں پر دور مار توپوں، لڑاکا جہازوں اور کوبرا ہیلی کاپٹروں کا استعمال کیا گیا۔
صرف گذشتہ ایک دہائی کے دوران پاکستانی فوج 19000 سے زائد بلوچ مرد و زن اور بچوں کو بلوچستان کے مختلف علاقوں سے جبری طور پر اغواء کرکے لاپتہ کرچکا ہے ۔ان میں سے ہزاروں کو حراست کے دوران تشدد کا نشانہ بناکر شہید کرکے انکی مسخ شدہ لاشیں بلوچستان کی طول و عرض، کراچی اور سندھ کے مختلف علاقوں میں پھینکی گئیں ہیں ۔یہ فوجی آپریشنیں ، مارو اور پھینکو اور بلوچ کارکنوں کے جبری اغواوں کا سلسلہ تادم اپنے مکمل شدت کے ساتھ جاری ہے۔جبری طور پر لاپتہ افراد کے لواحقین نے پاکستان میں انصاف کے ہر دروازے کو اپنے پیاروں کی خاطر کھٹکٹھایا لیکن کوئی بھی فائدہ نہیں ہوا ۔حتیٰ کے انہوں نے کوئٹہ سے لیکر اسلام آباد تک ایک پیدل مارچ کا انعقاد کیا تاکہ اپنی آواز اقوام متحدہ تک پہنچا سکیں لیکن اقوام متحدہ نے بھی انکے اس پرامن مارچ اور مدد کیلئے پکار کو یکسر نظر انداز کردیا۔
اس بربریت اور پاکستان کے غیر انسانی اعمال کے باوجود بلوچ قوم اپنا جدوجہد آزادی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ موجودہ بلوچ تحریک آزادی سنہ 1948 کے اس تحریک آزادی کا تسلسل ہے جو خودمختار و آزاد بلوچستان پر پاکستانی قبضے کے بعد شروع ہوا۔ گو کہ بلوچ قومی تحریک آزادی بلوچ قومی بقا کیلئے ہے لیکن اگر ہم اس تحریک کو وسیع تر تناظر میں دیکھیں تو ہم آسانی سے اس بات کا ادراک کرسکتے ہیں کہ بلوچ آج ایک وحشی درندے کے خلاف لڑرہا ہے۔وہ وحشی درندہ جس نے بھارت ، افغانستان اور پوری دنیا کا امن تہہ و بالا کیا ہوا ہے۔وہ درندہ جو کھلے بندوں طالبان اور دوسرے شدت پسند دہشتگرد گروہوں کیلئے اپنے حمایت کا اظہار کرتا ہے۔پاکستان کے فوجی جنرل جن میں جنرل نصیراللہ بابر ، جنرل اسلم بیگ اور دوسرے شامل ہیں ، طالبان اور دوسرے جہادی گروہوں کو پاکستان کا تزویراتی اثاثے قرار دیتے رہے ہیں۔انسانیت کے ان دشمنوں کو پاکستان فوج تربیت ، اسلحہ اور پیسہ فراہم کرکے دنیا کے کونے کونے میں بھیج کر قیامت صغریٰ برپا کرتا رہا ہے اور انہی عناصر کو بلوچستان بھیج کر انہیں آزادی پسند بلوچ سیاسی قوتوں کے خلاف بھی استعمال کرتا ہے۔
چونکہ اکثریتی بلوچ ان جہادی گروہوں کو یہ موقع مہیا نہیں کرتے کہ وہ ہمارے بچوں کو دوسری اقوام و مذاہب سے نفرت کرنے جیسی شدت پسندانہ فلسفے کی طرف مائل کرسکیں ، لہٰذا ہم بلوچ عالمی دہشگردی کے خلاف جنگ کے اگلی صفوں میں کھڑے اس میں شامل ہیں، لیکن پھر بھی ہم ہمیشہ واجب عالمی توجہ اور حمایت سے محروم رہے ہیں۔مہذب اقوام عالم فلسطین ، یوکرین ، عراق ، شام ، لیبیا اور دوسرے جگہوں پر ہونے والی انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں کا نوٹس لیتے ہیں ، لیکن انہوں نے بلوچستان میں ہونے والے قتل عام اور بلوچوں پر ہونے والی پاکستانی ریاستی بربریت پر آنکھیں موند لی ہیں ۔
اقوام متحدہ کے کچھ رکن ممالک اپنے حیثیت کو صرف اپنے ذاتی مفادات کی خاطرہی استعمال کرتے ہیں۔ ایسے ریاستیں خال ہی انسانیت کی پرواہ کرتے ہیں۔ ایسے ممالک کو صرف اس وقت انسانی حقوق یاد آتے ہیں جب ان کے اپنے ذاتی مفادات کو خطرہ ہو یا انکے لسانی گروہ مشکل میں ہوں ۔پاکستان جو کہ اقوام متحدہ کا ایک رکن ملک ہے اور انسانی حقوق کے چارٹر پر دستخط کنندہ ہے لیکن وہ پھر بھی بلوچوں کو حاصل انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کررہا ہے اور 1948 سے لیکر ابتک بلوچ نسل کشی میں ملوث ہے ۔چونکہ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے دوسرے عالمی ادارے پاکستان کے بلوچستان میں جاری ان مظالم پر خاموش ہیں اسی لیئے پاکستان اب خود کو عالمی قوانین و ضابطوں سے بالا سمجھتے ہوئے بلوچستان میں ، ماورائے عدالت اغواء ، مارو اور پھینکو اور فوجی آپریشنوں کے شدت میں اضافہ کرتا جارہا ہے۔
پاکستان نے ایک منصوبے کے تحت معاشی طور پر بھی بلوچوں کو مفلوج کیئے رکھا ہے تاکہ بلوچوں کو خط غربت سے نیچے زندگی گذارنے پر مجبور کیا جائے اور بلوچ اپنے زندگی کے بنیادی ضروریات کیلئے ہی فکر مند رہ کر اپنے قومی آزادی و قومی پہچان پر سوچ صرف ناکرے ۔تاہم عالمی فورموں پر پاکستان بلوچستا ن میں ترقی کیلئے میگا پروجیکٹس کے آغاز کا دعویٰ کرتا ہے درحقیقت یہ پروجیکٹس کچھ بھی نہیں ہیں ماسوائے بلوچستان کے وسائل کے وسیع تر لوٹ مار اور مردم نگارانہ تبدیلیاں لانے کے ، جن سے فائدہ محض پاکستانی پنجابیوں کے سوا کسی کو نہیں ہوگا ۔
حال ہی میں پاکستان نے چین کے ساتھ گٹھ جوڑ سے نام نہاد چین پاکستان معاشی راہداری کا آغاز کیا ، لیکن ایک بار پھر اسکا مقصد محض چین اور پاکستان کے مفادات کی بجاآوری ہے ۔بلوچوں کو اس سے ماسوائے تکالیف اور اپنے آبائی علاقوں سے ترقیاتی کاموں کے نام پر بیدخلی کے سوا کچھ نہیں ملے گا ۔اگر بلوچ گھروں کو تباہ کیا جارہا ہے ، بلوچوں سے بزور قوت گوادر اور تربت میں سینکڑوں ہزاروں ایکڑ اراضی خالی کیا جارہا ہے تاکہ چینیوں اور پنجابیوں کو فائدہ پہنچایا جاسکے تو پھر پاکستان کیسے یہ دعویٰ کرسکتا ہے کہ یہ راہداری بلوچوں کو فائدہ پہنچائے گی؟ یہ نام نہاد سی پی ای سی بلوچستان میں صرف مزید ہلاکتیں اور تباہی ہی لائے گی۔اسی لیئے بلوچوں کیلئے یہ ترقی کی نہیں بلکہ موت کی راہداری ہے ۔
ہم امید رکھتے ہیں کہ بھارت بلوچستان کے بارے میں ایک واضح پالیسی رکھے گی کیونکہ پاکستان کا کشمیر کے بارے میں موقف بالکل واضح ہے اور کشمیر میں پاکستانی مداخلت اب ایک کھلا راز ہے ۔اگر پاکستانی آفیشل کشمیریوں سے کھلے عام مل سکتے ہیں تو پھر بھارت بھی ایسا کیوں نہیں کرسکتا؟ اگر پاکستان کشمیر کے مسئلے پر اقوام متحدہ میں بات کرسکتی ہے تو پھر بھارت اقوام متحدہ میں بلوچستان میں ہونے والے انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں کو کیوں اجاگر نہیں کرسکتا؟دنیا کے سب سے بڑی جمہوریت ہونے اور جنوبی ایشیاء میں ایک قوت ہونے کے ناطے ہم بھارت سے یہ امید رکھتے ہیں کہ وہ بلوچ قومی تحریک آزادی کی سفارتی اور اخلاقی حمایت کریگا ۔
بھارت کو بلوچوں کی مدد نا کرنے کا اپنے تاریخی غلطی کا ازالہ کرنا چاہیئے ۔1947 اور 1948 میں بلوچوں نے بھارت سے مدد کی درخواست کی تھی لیکن اس پر بھارتی ردعمل مایوس کن تھا ، کیونکہ انکو اندازہ نہیں تھا کہ اس شیطانی ریاست پاکستان کو محض نفرت کے بنیاد پر قائم کیا جارہا ہے۔اگر اس وقت بھارتی قیادت بلوچوں کی مدد کرتا تو پھر آج بھارت ، افغانستان اور دوسرے ممالک کو پاکستانی دہشتگردی کا سامنا نہیں ہوتا ۔
عالمی ذرائع ابلاغ فرانس کے برابر خطے بلوچستان کو مکمل نظر اندا ز کیئے ہوئے ہیں ، جہاں پاکستان روزانہ کے بنیاد پر بلوچوں کو اغواء کرنے اور قتل کرنے میں مشغول ہے ۔بلوچستان میں ایک بھی عالمی صحافی موجود نہیں ہے ۔ انسانی حقوق کے عالمی اداروں جیسے کے ریڈ کراس ، جبری گمشدگیوں پر اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپس، یونیسیف اور دوسرے گروہوں کو اجازت نہیں دی جاتی کہ وہ پاکستان کے جبر کے شکار بلوچوں کی مدد کریں ۔ یہ صرف بلوچوں کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک انسانی المیہ ہے کہ دنیا لاکھوں بلوچوں کو صرف پاکستان کو خوش رکھنے کی غرض سے نظر انداز کررہا ہے ۔اس لیئے ہم امید کرتے ہیں کہ بھارتی عوام اور بھارتی ذرائع ابلاغ بلوچستان کے حقیقی حالات کے بارے میں دنیا کو آگاہ کرنے کیلئے اپنا کلیدی کردار ادا کریگی اور پاکستان کے زیر قبضہ پاکستانی مقبوضہ کشمیر ، بلوچستان ، گلگت بلتستان ، سندھ اور بختونستان کے مظلوم اقوام کی آواز بنے گی ۔
شکریہ

Share on
Previous article

بلوچ عوام پاکستان کے ساتھ رہنے کی خواہشمند نہیں ہیں- حیربیار مری

NEXT article

پشتون قوم دوست روڑ ،نالی کی سیاست سے نکل کر پاکستانی قبضہ گریت کے خلاف آواز بلند کریں : حیربیار مری

LEAVE A REPLY

MUST READ

کوردستان ءِ جنگ آزادی، دیم په دیمی گوں میان استمانی تروریسم ءُ اروپایی – امریکی سیاسی واکدارانی دوپوستی

کوردستان ءِ جنگ آزادی، دیم په دیمی گوں میان استمانی تروریسم ءُ اروپایی – امریکی سیاسی واکدارانی دوپوستی

گلزمين ءِ راجی کماش واجه خيربخش مری نميران بوت

گلزمين ءِ راجی کماش واجه خيربخش مری نميران بوت

استقلال کوردستان مبارک باد

استقلال کوردستان مبارک باد

کھنیں دپتر— — گپ و ترانے گون شھید نواب محمد اکبر بگٹيءَ گون ریڈیو بلوچيءِ

کھنیں دپتر— — گپ و ترانے گون شھید نواب محمد اکبر بگٹيءَ گون ریڈیو بلوچيءِ

حربه های ضدبشری فاشيسم تماميت خواه پارس در بلوچستان اشغالی

حربه های ضدبشری فاشيسم تماميت خواه پارس در بلوچستان اشغالی

بیست ءُ یک فروری ماتی زبانانی میان اُستمانی روچءِ بابتءَ گپ وترانے گون ملاّ مراد ءَ

بیست ءُ یک فروری ماتی زبانانی میان اُستمانی روچءِ بابتءَ گپ وترانے گون ملاّ مراد ءَ

بلوچ ورنایانی راجی بیداری

بلوچ ورنایانی راجی بیداری

گپ و ترانے گون بلوچ اسٹوڈنس ایکشن کمیٹیءِ سروک ڈاکٹر ابابگر بلوچءَ بلوچستانءِ وانگی جیڑاهانی سرا

گپ و ترانے گون بلوچ اسٹوڈنس ایکشن کمیٹیءِ سروک ڈاکٹر ابابگر بلوچءَ بلوچستانءِ وانگی جیڑاهانی سرا

بابائے بلوچ نواب خیر بخش مری کا نمازہ جنازہ نیو کاهان میں ادا کردیا گیا

بابائے بلوچ نواب خیر بخش مری کا نمازہ جنازہ نیو کاهان میں ادا کردیا گیا

بلوچستان ءِ پلین شهیدان ءَ هزاران سلام

بلوچستان ءِ پلین شهیدان ءَ هزاران سلام

ایرانی حکومت بلوچ ورنا هان سوریہ ءِ جنگءَ دیم دیگ انت – ریڈیو حال

ایرانی حکومت بلوچ ورنا هان سوریہ ءِ جنگءَ دیم دیگ انت – ریڈیو حال

بلوچستان اِشغالی در چنگال خونینِ غارتگران – قسمت چهارم

بلوچستان اِشغالی در چنگال خونینِ غارتگران – قسمت چهارم

رحمت آبادِ یزد و بیدخونِ عسلویه مایه شرم بشریت هستند

رحمت آبادِ یزد و بیدخونِ عسلویه مایه شرم بشریت هستند

پِگــری گُلامـــی – سیمی بهر

پِگــری گُلامـــی – سیمی بهر

تجاربی خونین از مذاکرات با اشغالگران

تجاربی خونین از مذاکرات با اشغالگران