ایرانی بلوچستان کیلئے راہداری۔۔۔ صدیق بلوچ

ایرانی بلوچستان کیلئے راہداری۔۔۔ صدیق بلوچ

2020-03-24 13:33:42
Share on

مارچ 25, 2014

انگریز بہادر نے بلوچستان کو سیاسی اور سیکورٹی وجوہات کی بناء پر تقسیم کیا ۔ اس طرح قبائلی ‘ سب قبائل اور یہاں تک خاندان بھی تقسیم ہوئے ۔ لوگ سرحد کے اس پار رہتے ہیں مگر ان کی خاندانی زمین ایران میں واقع ہے ۔ گزشتہ ادوار میں لوگوں کے آمد ورفت پر اتنی پابندیاں نہیں تھیں ۔ حالیہ سالوں میں دونوں ممالک ایران اور پاکستان نے سفر پر پابندیاں عائد کیں ۔ سب سے بڑا مسئلہ ’’ بلوچ تنازعہ ‘‘ ہے ۔ دونوں ممالک کی پالیسی اور خیالات میں یکسانیت پائی جاتی ہے کہ سرحدی علاقوں کے لوگوں پر زیادہ سے زیادہ سختی کی جائے ان خاندانوں کی آمد ورفت کو ممکنہ حد تک محدود کیاجائے ۔ منقسم خاندانوں کو سہولیات فراہم نہ کی جائیں۔چنانچہ راہداری کے نظام کی اہمیت کو کم سے کم تر کیاجائے ۔ 1956ء میں دونوں ملکوں کے درمیان معاہدہ ہوا تھا کہ سرحدی علاقوں کے لوگوں ‘ خصوصاً منقسم خاندانوں کو سفر کی سہولیات فراہم کی جائیں اس کے لئے مقامی انتظامیہ کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ سرحدی علاقوں کے رہنے والوں کو راہداری یا (ریڈ پاس ) جاری کرے ۔ پہلے یہ اختیارات تحصیل داروں کی حد تک افسران کو حاصل تھے۔ ایران کی شکایات کے بعد راہداری کو صرف اور صرف ڈپٹی کمشنر تک محدود کردیا گیا ۔ اس طرح سے 1956کے دو طرفہ معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی ۔ سرحدی علاقے کے لوگوں کو سینکڑوں میل سفر کرکے ضلعی ہیڈ کوارٹرز آنا پڑتا ہے اور کئی دنوں بعد ان کو راہداری دی جاتی ہے پہلے تحصیل دار اور ناظم کے دفتر جو نزدیک ترین حکومتی دفتر ہوتا ہے لوگ آسانی سے راہداری حاصل کر لیتے تھے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق ایرانی حکام نے ان خاندانوں کو ایران میں داخل ہونے سے روک دیاہے حالانکہ ان کے ہر قانونی سفری دستاویزات موجود تھیں یہ راہداری ضلع کے سربراہ ڈپٹی کمشنر اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے جاری کئے تھے۔ ان لوگوں نے اعتراض کیا کہ وہ بلوچ ہیں اور ان سے امتیازی سلوک روا رکھا جارہا ہے ۔ ان کو اپنے خاندان کے افراد سے ملنے نہیں دیا جارہا ہے ۔ اس احتجاج کے باوجود خاندانوں کو ایران میں داخل نہیں ہونے دیا گیا اس امتیازی سلوک پر خاندان کے احتجاج کا کوئی اثر نہیں ہو ا۔اس قسم کے واقعات کو روکنے کیلئے رائے عامہ ہموار کرنا ضروری ہے ۔ حکومت کو چائیے کہ وہ اس امتیازی سلوک پر حکومت ایران سے بھرپور احتجاج کرے ۔ ایران کے سفیر کو وزارت خارجہ میں طلب کرے ان سے اس سلوک کی وضاحت طلب کی جائے ۔ حکومت پاکستان کی جانب سے جاری کردہ راہداری کو تسلیم نہیں کرنا دوطرفہ معاہدے کے خلاف ورزی ہے ۔دوسری جانب حکومت ایران کو چائیے کہ وہ ان سرکاری افسران کی سرزنش کرے جنہوں نے بلوچ خاندانوں کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا ہے ایران کے سرحد پر صرف اور صرف بلوچ رہتے ہیں ایرانی حکومت کو چاہیئے کہ وہ بلوچوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو برادرانہ ‘ دوستانہ رکھے تاکہ ان کو کسی قسم کی غلط فہمی نہ ہو اور نہ ہی ایرانی بلوچوں کے حقوق خصوصاً انسانی حقوق پامال نہ ہوں ۔

Share on
Previous article

مارچ1948 ؁ کا قضیہ . کردگار بلوچ

NEXT article

هجوم وحشيانه قشـون پارس و اشغال بلوچستان در سـال ۱۳۰۷ هجـری شمسـی

LEAVE A REPLY

MUST READ

ترانے ڈاکتر اللہ نذر ءَ 3 جانوری 2016 کُتگ

ترانے ڈاکتر اللہ نذر ءَ 3 جانوری 2016 کُتگ

بلوچ اکٹوسٹ لندنءَ بی بی سیءِ دیما احتجاجءَ گون واجہ ڈاکٹر مصطفیءَ گپ ءُ ترانے

بلوچ اکٹوسٹ لندنءَ بی بی سیءِ دیما احتجاجءَ گون واجہ ڈاکٹر مصطفیءَ گپ ءُ ترانے

گپ و ترانے گون بیگواهین محمد اقبال بلوچءِ برات محمد انور بلوچءَ1اگست 2008 شالءَ

گپ و ترانے گون بیگواهین محمد اقبال بلوچءِ برات محمد انور بلوچءَ1اگست 2008 شالءَ

بلوچستان اِشغالی در چنگال خونینِ غارتگران – قسمت چهارم

بلوچستان اِشغالی در چنگال خونینِ غارتگران – قسمت چهارم

واجه عبدالصمد امیریءِ تپاکیءِ پیغام پا بلوچ راجءَ

واجه عبدالصمد امیریءِ تپاکیءِ پیغام پا بلوچ راجءَ

بلــوچ هُـــژّار

بلــوچ هُـــژّار

پگری گلامی – گُڈی بهر

پگری گلامی – گُڈی بهر

پاکستان عالمی قوانین کی خلاف ورزیوں کا مرتکب ہورہا ہے

پاکستان عالمی قوانین کی خلاف ورزیوں کا مرتکب ہورہا ہے

شهید ڈاکٹر منانءَ سلح بندین جهدءِ کمانڈر گواشگ سرفراز بگثیءِ نازانتی انت – حمل حیدر

شهید ڈاکٹر منانءَ سلح بندین جهدءِ کمانڈر گواشگ سرفراز بگثیءِ نازانتی انت – حمل حیدر

بلـــوچ گلزميــــن ءِ انــــداز ءُ سيمســـراں

بلـــوچ گلزميــــن ءِ انــــداز ءُ سيمســـراں

قندیل بلوچ واجہ شهید صبا دشتیاری

قندیل بلوچ واجہ شهید صبا دشتیاری

پاکستان بلوچ قومی آزادی کی جدوجہد اور کامیابیوں اور بلوچ نوجوانوں کی قربانیوں سے بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر اس نے اب بلوچ عورتوں اور بچوں کا اغوا شروع کر رکھا ہے – حیربیار مری

پاکستان بلوچ قومی آزادی کی جدوجہد اور کامیابیوں اور بلوچ نوجوانوں کی قربانیوں سے بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر اس نے اب بلوچ عورتوں اور بچوں کا اغوا شروع کر رکھا ہے – حیربیار مری

En Interview with Kurdish political activist Mr. Dovan about situation of Kobani Kurdistan

En Interview with Kurdish political activist Mr. Dovan about situation of Kobani Kurdistan

ہم غلام ہیں،مسخ شدہ لاشیں ملنے کے ساتھ بلوچ عورتوں پر تیزاب پھینکنے کا سلسلہ پاکستانی فوج ایجنسیوں کی بوکھلاہٹ کا ثبوت ہیں بلوچ قوم دوست رہنما حیربیار مری

ہم غلام ہیں،مسخ شدہ لاشیں ملنے کے ساتھ بلوچ عورتوں پر تیزاب پھینکنے کا سلسلہ پاکستانی فوج ایجنسیوں کی بوکھلاہٹ کا ثبوت ہیں بلوچ قوم دوست رہنما حیربیار مری

حامد بھائی تینوں رب دیاں رکھاں (یہ عنوان میں نے جناب ڈاکٹر صفدر محمودصاحب کے کالم سے مستعار لی ہے) کردگار بلوچ

حامد بھائی تینوں رب دیاں رکھاں (یہ عنوان میں نے جناب ڈاکٹر صفدر محمودصاحب کے کالم سے مستعار لی ہے) کردگار بلوچ