ایرانی بلوچستان کیلئے راہداری۔۔۔ صدیق بلوچ

MUST READ

چرا دولت آلمان شاهرودی را فراری داد؟

چرا دولت آلمان شاهرودی را فراری داد؟

ایرانی مزموم منصوبہ تقسیم مقبوضہ بلوچستان کے خلاف سوشل میڈیا پر کمپین چلایا جائے گا: بلوچ سوشل میڈیا ایکٹوسٹ

ایرانی مزموم منصوبہ تقسیم مقبوضہ بلوچستان کے خلاف سوشل میڈیا پر کمپین چلایا جائے گا: بلوچ سوشل میڈیا ایکٹوسٹ

ایران کا غصہ

ایران کا غصہ

ایرانءِ بلــوچ دژمنیـں واکدارانی پنـــدل

ایرانءِ بلــوچ دژمنیـں واکدارانی پنـــدل

واجہ شیرو مری، بلوچ راج ئے نمیرانین سپاھیگ

واجہ شیرو مری، بلوچ راج ئے نمیرانین سپاھیگ

بلوچستــــان گلزميـــن اجـــدادی ماســـت

بلوچستــــان گلزميـــن اجـــدادی ماســـت

گپ ءُ ترانے گون بلوچ طلبا ایکشن کمیٹیءِ سروک ڈاکٹر ابابگر بلوچءَ بولان میڈیکل کالجءِ بلوچ نودربرانی جیڑاءِ سرا

گپ ءُ ترانے گون بلوچ طلبا ایکشن کمیٹیءِ سروک ڈاکٹر ابابگر بلوچءَ بولان میڈیکل کالجءِ بلوچ نودربرانی جیڑاءِ سرا

بلوچستان ءِ پلین شهیدان ءَ هزاران سلام

بلوچستان ءِ پلین شهیدان ءَ هزاران سلام

بلوچ سرزمین پر قابض ریاستوں کا بلوچ دشمن خندقیں اور دیواریں کھڑی کرنے کا مشترکہ شازش

بلوچ سرزمین پر قابض ریاستوں کا بلوچ دشمن خندقیں اور دیواریں کھڑی کرنے کا مشترکہ شازش

گپ ءُ ترانے گون شهید غلام محمد بلوچ 28 اپریل 2008

گپ ءُ ترانے گون شهید غلام محمد بلوچ 28 اپریل 2008

بلوچستان سمینار اسٹوکھولم سویڈنءَ بلوچ قومی گواشندہ سعید بلوچءِ الھان

بلوچستان سمینار اسٹوکھولم سویڈنءَ بلوچ قومی گواشندہ سعید بلوچءِ الھان

بلـــوچ گلزميــــن ءِ انــــداز ءُ سيمســـراں

بلـــوچ گلزميــــن ءِ انــــداز ءُ سيمســـراں

سفارت کاری ، بلوچ تحریک کی اہم ضرورت – کریمہ بلوچ

سفارت کاری ، بلوچ تحریک کی اہم ضرورت – کریمہ بلوچ

اقوام متحدہ، عالمی طاقتوں کی خاموشی بلوچ قوم کی لسانی اور ثقافتی نسل کشی کا باعث بن رہی ہے – ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ

اقوام متحدہ، عالمی طاقتوں کی خاموشی بلوچ قوم کی لسانی اور ثقافتی نسل کشی کا باعث بن رہی ہے – ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ

بیگواه بوتگین دین محمد بلوچءِ دحتگ سمّی بلوچ

بیگواه بوتگین دین محمد بلوچءِ دحتگ سمّی بلوچ

ایرانی بلوچستان کیلئے راہداری۔۔۔ صدیق بلوچ

2020-03-31 15:40:13
Share on

مارچ 25, 2014

انگریز بہادر نے بلوچستان کو سیاسی اور سیکورٹی وجوہات کی بناء پر تقسیم کیا ۔ اس طرح قبائلی ‘ سب قبائل اور یہاں تک خاندان بھی تقسیم ہوئے ۔ لوگ سرحد کے اس پار رہتے ہیں مگر ان کی خاندانی زمین ایران میں واقع ہے ۔ گزشتہ ادوار میں لوگوں کے آمد ورفت پر اتنی پابندیاں نہیں تھیں ۔ حالیہ سالوں میں دونوں ممالک ایران اور پاکستان نے سفر پر پابندیاں عائد کیں ۔ سب سے بڑا مسئلہ ’’ بلوچ تنازعہ ‘‘ ہے ۔ دونوں ممالک کی پالیسی اور خیالات میں یکسانیت پائی جاتی ہے کہ سرحدی علاقوں کے لوگوں پر زیادہ سے زیادہ سختی کی جائے ان خاندانوں کی آمد ورفت کو ممکنہ حد تک محدود کیاجائے ۔ منقسم خاندانوں کو سہولیات فراہم نہ کی جائیں۔چنانچہ راہداری کے نظام کی اہمیت کو کم سے کم تر کیاجائے ۔ 1956ء میں دونوں ملکوں کے درمیان معاہدہ ہوا تھا کہ سرحدی علاقوں کے لوگوں ‘ خصوصاً منقسم خاندانوں کو سفر کی سہولیات فراہم کی جائیں اس کے لئے مقامی انتظامیہ کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ سرحدی علاقوں کے رہنے والوں کو راہداری یا (ریڈ پاس ) جاری کرے ۔ پہلے یہ اختیارات تحصیل داروں کی حد تک افسران کو حاصل تھے۔ ایران کی شکایات کے بعد راہداری کو صرف اور صرف ڈپٹی کمشنر تک محدود کردیا گیا ۔ اس طرح سے 1956کے دو طرفہ معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی ۔ سرحدی علاقے کے لوگوں کو سینکڑوں میل سفر کرکے ضلعی ہیڈ کوارٹرز آنا پڑتا ہے اور کئی دنوں بعد ان کو راہداری دی جاتی ہے پہلے تحصیل دار اور ناظم کے دفتر جو نزدیک ترین حکومتی دفتر ہوتا ہے لوگ آسانی سے راہداری حاصل کر لیتے تھے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق ایرانی حکام نے ان خاندانوں کو ایران میں داخل ہونے سے روک دیاہے حالانکہ ان کے ہر قانونی سفری دستاویزات موجود تھیں یہ راہداری ضلع کے سربراہ ڈپٹی کمشنر اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے جاری کئے تھے۔ ان لوگوں نے اعتراض کیا کہ وہ بلوچ ہیں اور ان سے امتیازی سلوک روا رکھا جارہا ہے ۔ ان کو اپنے خاندان کے افراد سے ملنے نہیں دیا جارہا ہے ۔ اس احتجاج کے باوجود خاندانوں کو ایران میں داخل نہیں ہونے دیا گیا اس امتیازی سلوک پر خاندان کے احتجاج کا کوئی اثر نہیں ہو ا۔اس قسم کے واقعات کو روکنے کیلئے رائے عامہ ہموار کرنا ضروری ہے ۔ حکومت کو چائیے کہ وہ اس امتیازی سلوک پر حکومت ایران سے بھرپور احتجاج کرے ۔ ایران کے سفیر کو وزارت خارجہ میں طلب کرے ان سے اس سلوک کی وضاحت طلب کی جائے ۔ حکومت پاکستان کی جانب سے جاری کردہ راہداری کو تسلیم نہیں کرنا دوطرفہ معاہدے کے خلاف ورزی ہے ۔دوسری جانب حکومت ایران کو چائیے کہ وہ ان سرکاری افسران کی سرزنش کرے جنہوں نے بلوچ خاندانوں کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا ہے ایران کے سرحد پر صرف اور صرف بلوچ رہتے ہیں ایرانی حکومت کو چاہیئے کہ وہ بلوچوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو برادرانہ ‘ دوستانہ رکھے تاکہ ان کو کسی قسم کی غلط فہمی نہ ہو اور نہ ہی ایرانی بلوچوں کے حقوق خصوصاً انسانی حقوق پامال نہ ہوں ۔

Share on
Previous article

مارچ1948 ؁ کا قضیہ . کردگار بلوچ

NEXT article

بلوچستان کی آذادی کے علاوہ کسی اور نقطے پر پاکستان سے کسی قسم کے مزاکرات نہیں ہوسکتے۔ نوابزادہ حیر بیار مری

LEAVE A REPLY