ایران کا غصہ

ایران کا غصہ

2020-03-24 13:21:51
Share on

روزنامہ آزادی

   مارچ 29, 2014

 ایران کا غصہ کم ہوتا نظر نہیں آرہا ہے ۔ خصوصاً اس غیر مصدقہ اطلاع کے بعد کہ ایک مغوی کو زیر حراست ہلاک کیا گیا ۔ کیوں کیا گیا ؟ باقیوں کو کیوں قتل نہیں کیا گیا؟ ان سوالات کے جواب لوگوں تک نہیں پہنچا ۔ البتہ مملکت ایران کا غصہ پاکستان پر بڑھتا جارہاہے حالانکہ حکومت پاکستان یہ اعلانیہ اقرار کرچکاہے کہ ایران کے پانچ مغوی سرحدی محافظ پاکستان کی سرزمین پر نہیں ہیں اور نہ ہی مقتول مغوی کی لاش پاکستان سے ملی ۔ اس کے باوجود حکومت پاکستان نے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ تفتیش میں ایران کی ہر ممکن مدد کریگا۔ ایران نے اپنے الزامات کو ثابت کرنے کے لیے آج تک کوئی ثبوت فراہم نہیں کیے ۔حکومت پاکستان کے ترجمان نے کئی بار یہ کہا ہے کہ یہ واقعہ ایران کی سرزمین پر ہوا اور اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ جیگی گور میں سرحدی محافظین کو یرغمال بنانے کے بعد وہ پاکستان کی سرحد کی طرف فرا ر ہوئے ہیں ۔ بہر حال جیش العدل نامی تنظیم کا پاکستان میں کوئی وجود نہیں ہے ۔ ایران کا تنازعہ اپنے ملک میں اور اپنے شہریوں سے ہے ۔ پاکستان نے اس تنازعہ میں مداخلت نہیں کی حالانکہ بلوچوں کی سب سے بڑی آبادی پاکستان میں رہتی ہے اور ان کی اپنی نمائندہ صوبائی حکومت ہے اور بعض بلوچ وزراء اور اہم ترین شخصیات کی رشتہ داریاں ایرانی بلوچوں کے ساتھ ہیں ۔ مگر سب لوگوں نے خصوصاً پاکستان میں بلوچ حکمرانوں نے ابھی تک نہ کوئی احتجاج کیا اور نہ ہی ایران کی حکومت سے کوئی رابطہ کیا کہ بلوچوں کے ساتھ ایران میں بہتر سلوک روا نہیں رکھا جارہاہے ۔ ایران میں بلوچ دوسرے درجے کے شہری ہیں ۔ بلوچ حکمرانوں نے ایران سے بہتر تاریخی برادرانہ تعلقات کا لحاظ رکھتے ہوئے مکمل خاموشی اختیار کی ۔ اس کے برعکس گزشتہ ایک سال سے ایران اور اسکے سرحدی محافظین بلوچ علاقوں میں گولہ باری کرتے رہے ہیں۔ پاکستان کی سرزمین پر کئی بار فوجی کارروائیاں کرتے رہے ہیں اور بعض کو ہلاک اور بعض کو اغواء کرکے ایران لے گئے ۔ ان پر بھی حکومت پاکستان اوربلوچ حکمرانوں نے روایتی احتجاج تک نہیں کیا ۔ یہ سب ظلم و زیادتی کو برداشت کیا اور یہ توقع رکھی کہ ایران اپنے ہی بلوچ شہریوں کے ساتھ بہتر سلوک روا رکھے گا ۔ حالیہ دنوں میں ایرانی مسلح افواج نے بغیر کسی اشتعال کے تال آپ جو تفتان سرحد سے متصل ہے عام شہریوں پر فائر کھول دیا ۔ جس میں ایک خاتون خانہ گھر کے اندر گولی لگنے سے شدید زخمی ہوئیں اور ان کو ہنگامی بنیاد پر اسپتال میں علاج کی خاطر داخل کردیا گیا ۔ اس طرح کی فائرنگ کے واقعات حالیہ دنوں میں زیادہ ہورہے ہیں ۔ اور ایران کی حکومت یہ تاثر دینا چاہتی ہے کہ سرحدی علاقوں میں بسنے والے غریب لوگ اس کے خلاف ہیں اور ہر پاکستانی شہری ایران کے خلاف سازش کررہا ہے ۔ دوسری جانب پاکستان خود دہشت گردی کے ہاتھوں زخم خوردہ ہے ۔ اس کے پچاس ہزار شہری دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہوئے ہیں۔ان میں پانچ ہزار سے زائد سیکورٹی افواج کے اہلکار تھے ۔ ظاہر ہے کہ پاکستان خود دہشت گردی سے شدید طورپر متاثر ہے اور اسی کی وجہ سے قومی معیشت کو ابھی تک 78ارب ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے ۔ ایسی صورت میں پاکستان کیوں اپنے برادر پڑوسی ملک کے خلاف دہشت گردی کی حمایت کرے گا۔ لیکن اس کے برعکس ایران یہ مسلسل دھمکی دے رہا ہے کہ ایران کے مسلح افواج کے دستے پاکستان پر حملہ آور ہونے کے لئے تیار کھڑے ہیں ۔ سرحدی علاقوں سے آمدہ اطلاعات کے مطابق ایران نے اس حملے کی تیاری کے سلسلے میں مشینی دستوں خصوصاً ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں کو سرحدی علاقوں میں تعینات کیاہے اور وہ کسی بھی وقت پاکستان پر حملہ کر سکتے ہیں ۔

Share on
Previous article

نمیرانی ءِ کشک شھید نور محمد ءِ نام ءَ

NEXT article

بيست و هفتم مارس روزی سياه در تاريخ بلوچستــان

LEAVE A REPLY

MUST READ

شکست ایران بعنوان یک واحد سیاسی – جغرافیایی

شکست ایران بعنوان یک واحد سیاسی – جغرافیایی

هجوم لشکر تمدن ستیز خامنه ای و العبادی به کوردستان مستقل

هجوم لشکر تمدن ستیز خامنه ای و العبادی به کوردستان مستقل

نوکترین ریڈیو حال

نوکترین ریڈیو حال

اعلامیه سازمان جیش العدل

اعلامیه سازمان جیش العدل

بلوچستـان ءِ پليـں شهيـدان ءَ هـــزاراں ســـلام

بلوچستـان ءِ پليـں شهيـدان ءَ هـــزاراں ســـلام

دود ءُ ربیدگ

دود ءُ ربیدگ

مروچی زرینہ مری ءُ مراد مریءَ پرین 3138 روچ انت کہ بیگواہ انت

مروچی زرینہ مری ءُ مراد مریءَ پرین 3138 روچ انت کہ بیگواہ انت

بلوچ ءِ هون هم سُهر اِنت ، مولوی صاحب

بلوچ ءِ هون هم سُهر اِنت ، مولوی صاحب

مروچی تربتءِ ریلیءَ من چہ دیست

مروچی تربتءِ ریلیءَ من چہ دیست

گپ و ترانے گون وائس فار بلوچ میسنگ پرسانی سروک واجہ قدیر بلوچءَ

گپ و ترانے گون وائس فار بلوچ میسنگ پرسانی سروک واجہ قدیر بلوچءَ

بمناسبت بیست و یکم فوریه روز جهانی زبان مادری

بمناسبت بیست و یکم فوریه روز جهانی زبان مادری

بلوچ عوام دشمن کے عزائم خاک میں ملانے میں کامیاب ہوئے ، اس موقع پر بلوچ عوام کا شکر گزار ہوں۔تمام بلوچ پارٹیوں اور تنظیموں کو اپنے گروہی و انفرادی مقاصد کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے ایک اصولی یکجہتی اور ہم آہنگی کیلئے آگے بڑھنا چاہئے ۔بلوچ قوم دوست رہنما حیربیار مری

بلوچ عوام دشمن کے عزائم خاک میں ملانے میں کامیاب ہوئے ، اس موقع پر بلوچ عوام کا شکر گزار ہوں۔تمام بلوچ پارٹیوں اور تنظیموں کو اپنے گروہی و انفرادی مقاصد کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے ایک اصولی یکجہتی اور ہم آہنگی کیلئے آگے بڑھنا چاہئے ۔بلوچ قوم دوست رہنما حیربیار مری

طرح توسعه سواحل مکران –  پندلے په بلوچستـــان ءِ مدامی زوربرد کنگ ءَ

طرح توسعه سواحل مکران – پندلے په بلوچستـــان ءِ مدامی زوربرد کنگ ءَ

کئے لــڈینگ ءُ بلوچستـــــان ءَ آرگ بنــت ؟

کئے لــڈینگ ءُ بلوچستـــــان ءَ آرگ بنــت ؟

بر دانش آموزان بلـوچ چه می گـذرد؟ بخش آخـر

بر دانش آموزان بلـوچ چه می گـذرد؟ بخش آخـر