ایران کا غصہ

MUST READ

پاکستان دہشت گردی وسیاسی مفادات کے لیے مذہب کا استعمال کرکے مسلمانوں پہ ظلم کررہا ہے: حیر بیار مری

پاکستان دہشت گردی وسیاسی مفادات کے لیے مذہب کا استعمال کرکے مسلمانوں پہ ظلم کررہا ہے: حیر بیار مری

بلوچستانءِ نوکترین – ریڈیو حال

بلوچستانءِ نوکترین – ریڈیو حال

بلوچستان میں پاکستان انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کررها هے ۔ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج

بلوچستان میں پاکستان انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کررها هے ۔ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج

حامد بھائی تینوں رب دیاں رکھاں (یہ عنوان میں نے جناب ڈاکٹر صفدر محمودصاحب کے کالم سے مستعار لی ہے) کردگار بلوچ

حامد بھائی تینوں رب دیاں رکھاں (یہ عنوان میں نے جناب ڈاکٹر صفدر محمودصاحب کے کالم سے مستعار لی ہے) کردگار بلوچ

کانسارها ومعادن مس در بلوچستـان اشغالی

کانسارها ومعادن مس در بلوچستـان اشغالی

اگربلوچ قیادت منتشر رہی توقومی تحریک آزادی دنیاکے توجہ سے محروم رہے گی:عبدالستار پُردلی

اگربلوچ قیادت منتشر رہی توقومی تحریک آزادی دنیاکے توجہ سے محروم رہے گی:عبدالستار پُردلی

زبان

زبان

مشکے میں فوجی آپریشن

مشکے میں فوجی آپریشن

بلــوچ ءِ راجی سرمایہ ءُ مالانی پُل ءُ پانـچ

بلــوچ ءِ راجی سرمایہ ءُ مالانی پُل ءُ پانـچ

سفارت کاری ، بلوچ تحریک کی اہم ضرورت – کریمہ بلوچ

سفارت کاری ، بلوچ تحریک کی اہم ضرورت – کریمہ بلوچ

مستاگـــے په ایردستیـــں راجـــاں

مستاگـــے په ایردستیـــں راجـــاں

جنگریز مری وگزین مری،فکری کاروان میں شامل نہیں تھے:حیربیار مری

جنگریز مری وگزین مری،فکری کاروان میں شامل نہیں تھے:حیربیار مری

گوادر اوسیس اسکول سیٹمءِ سرمستر واجه زاهد آسکانی تیر جنگ ءُ بیران کنگ بوت

گوادر اوسیس اسکول سیٹمءِ سرمستر واجه زاهد آسکانی تیر جنگ ءُ بیران کنگ بوت

مقبوضہ سندھ میں پولیس کے اختیارات رینجرزنامی آرمی کے ایک شاخ کے ہاتھوں میں ہیں – چیئرمین خلیل بلوچ

مقبوضہ سندھ میں پولیس کے اختیارات رینجرزنامی آرمی کے ایک شاخ کے ہاتھوں میں ہیں – چیئرمین خلیل بلوچ

بلوچ ءِ هون هم سُهر اِنت ، مولوی صاحب

بلوچ ءِ هون هم سُهر اِنت ، مولوی صاحب

ایران کا غصہ

2020-03-24 13:21:51
Share on

روزنامہ آزادی

   مارچ 29, 2014

 ایران کا غصہ کم ہوتا نظر نہیں آرہا ہے ۔ خصوصاً اس غیر مصدقہ اطلاع کے بعد کہ ایک مغوی کو زیر حراست ہلاک کیا گیا ۔ کیوں کیا گیا ؟ باقیوں کو کیوں قتل نہیں کیا گیا؟ ان سوالات کے جواب لوگوں تک نہیں پہنچا ۔ البتہ مملکت ایران کا غصہ پاکستان پر بڑھتا جارہاہے حالانکہ حکومت پاکستان یہ اعلانیہ اقرار کرچکاہے کہ ایران کے پانچ مغوی سرحدی محافظ پاکستان کی سرزمین پر نہیں ہیں اور نہ ہی مقتول مغوی کی لاش پاکستان سے ملی ۔ اس کے باوجود حکومت پاکستان نے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ تفتیش میں ایران کی ہر ممکن مدد کریگا۔ ایران نے اپنے الزامات کو ثابت کرنے کے لیے آج تک کوئی ثبوت فراہم نہیں کیے ۔حکومت پاکستان کے ترجمان نے کئی بار یہ کہا ہے کہ یہ واقعہ ایران کی سرزمین پر ہوا اور اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ جیگی گور میں سرحدی محافظین کو یرغمال بنانے کے بعد وہ پاکستان کی سرحد کی طرف فرا ر ہوئے ہیں ۔ بہر حال جیش العدل نامی تنظیم کا پاکستان میں کوئی وجود نہیں ہے ۔ ایران کا تنازعہ اپنے ملک میں اور اپنے شہریوں سے ہے ۔ پاکستان نے اس تنازعہ میں مداخلت نہیں کی حالانکہ بلوچوں کی سب سے بڑی آبادی پاکستان میں رہتی ہے اور ان کی اپنی نمائندہ صوبائی حکومت ہے اور بعض بلوچ وزراء اور اہم ترین شخصیات کی رشتہ داریاں ایرانی بلوچوں کے ساتھ ہیں ۔ مگر سب لوگوں نے خصوصاً پاکستان میں بلوچ حکمرانوں نے ابھی تک نہ کوئی احتجاج کیا اور نہ ہی ایران کی حکومت سے کوئی رابطہ کیا کہ بلوچوں کے ساتھ ایران میں بہتر سلوک روا نہیں رکھا جارہاہے ۔ ایران میں بلوچ دوسرے درجے کے شہری ہیں ۔ بلوچ حکمرانوں نے ایران سے بہتر تاریخی برادرانہ تعلقات کا لحاظ رکھتے ہوئے مکمل خاموشی اختیار کی ۔ اس کے برعکس گزشتہ ایک سال سے ایران اور اسکے سرحدی محافظین بلوچ علاقوں میں گولہ باری کرتے رہے ہیں۔ پاکستان کی سرزمین پر کئی بار فوجی کارروائیاں کرتے رہے ہیں اور بعض کو ہلاک اور بعض کو اغواء کرکے ایران لے گئے ۔ ان پر بھی حکومت پاکستان اوربلوچ حکمرانوں نے روایتی احتجاج تک نہیں کیا ۔ یہ سب ظلم و زیادتی کو برداشت کیا اور یہ توقع رکھی کہ ایران اپنے ہی بلوچ شہریوں کے ساتھ بہتر سلوک روا رکھے گا ۔ حالیہ دنوں میں ایرانی مسلح افواج نے بغیر کسی اشتعال کے تال آپ جو تفتان سرحد سے متصل ہے عام شہریوں پر فائر کھول دیا ۔ جس میں ایک خاتون خانہ گھر کے اندر گولی لگنے سے شدید زخمی ہوئیں اور ان کو ہنگامی بنیاد پر اسپتال میں علاج کی خاطر داخل کردیا گیا ۔ اس طرح کی فائرنگ کے واقعات حالیہ دنوں میں زیادہ ہورہے ہیں ۔ اور ایران کی حکومت یہ تاثر دینا چاہتی ہے کہ سرحدی علاقوں میں بسنے والے غریب لوگ اس کے خلاف ہیں اور ہر پاکستانی شہری ایران کے خلاف سازش کررہا ہے ۔ دوسری جانب پاکستان خود دہشت گردی کے ہاتھوں زخم خوردہ ہے ۔ اس کے پچاس ہزار شہری دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہوئے ہیں۔ان میں پانچ ہزار سے زائد سیکورٹی افواج کے اہلکار تھے ۔ ظاہر ہے کہ پاکستان خود دہشت گردی سے شدید طورپر متاثر ہے اور اسی کی وجہ سے قومی معیشت کو ابھی تک 78ارب ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے ۔ ایسی صورت میں پاکستان کیوں اپنے برادر پڑوسی ملک کے خلاف دہشت گردی کی حمایت کرے گا۔ لیکن اس کے برعکس ایران یہ مسلسل دھمکی دے رہا ہے کہ ایران کے مسلح افواج کے دستے پاکستان پر حملہ آور ہونے کے لئے تیار کھڑے ہیں ۔ سرحدی علاقوں سے آمدہ اطلاعات کے مطابق ایران نے اس حملے کی تیاری کے سلسلے میں مشینی دستوں خصوصاً ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں کو سرحدی علاقوں میں تعینات کیاہے اور وہ کسی بھی وقت پاکستان پر حملہ کر سکتے ہیں ۔

Share on
Previous article

نمیرانی ءِ کشک شھید نور محمد ءِ نام ءَ

NEXT article

بيست و هفتم مارس روزی سياه در تاريخ بلوچستــان

LEAVE A REPLY