ایران کا غصہ

MUST READ

  صحبت از تقسیم و تجزیه بلوچستان بمعنی میدان دهی به دشمن است ـ محمود بلوچ

صحبت از تقسیم و تجزیه بلوچستان بمعنی میدان دهی به دشمن است ـ محمود بلوچ

بلوچ راجی مزن جهدکار واجہ عبدالصمد امیریءِ زندتاک، دیوانے گون واجہ اسماعیل امیریءَ اوّلی بهر

بلوچ راجی مزن جهدکار واجہ عبدالصمد امیریءِ زندتاک، دیوانے گون واجہ اسماعیل امیریءَ اوّلی بهر

اساتذہ و سرکاری ملازمین مردم شماری میں حصہ لینے سے گریز کریں،سخت حملے کریں گے، بی ایل ایف

اساتذہ و سرکاری ملازمین مردم شماری میں حصہ لینے سے گریز کریں،سخت حملے کریں گے، بی ایل ایف

شهید کمبر چاکر

شهید کمبر چاکر

گپ و ترانے کراچيءِ بلوچ آبادی لياری ءِ جاورانی سرا

گپ و ترانے کراچيءِ بلوچ آبادی لياری ءِ جاورانی سرا

پشتون قوم دوست روڑ ،نالی کی سیاست سے نکل کر پاکستانی قبضہ گریت کے خلاف آواز بلند کریں : حیربیار مری

پشتون قوم دوست روڑ ،نالی کی سیاست سے نکل کر پاکستانی قبضہ گریت کے خلاف آواز بلند کریں : حیربیار مری

طرح توسعه سواحل مکران –  پندلے په بلوچستـــان ءِ مدامی زوربرد کنگ ءَ

طرح توسعه سواحل مکران – پندلے په بلوچستـــان ءِ مدامی زوربرد کنگ ءَ

گپ وتران گون شہید محمد اکبر خان بگٹی ء 20060402 گون ریڈیو بلوچی ایف ایم

گپ وتران گون شہید محمد اکبر خان بگٹی ء 20060402 گون ریڈیو بلوچی ایف ایم

پاکستان پنجابیوں کے مفادات کی تحفظ کے لئے بنایا گیا ہے: حیر بیار مری

پاکستان پنجابیوں کے مفادات کی تحفظ کے لئے بنایا گیا ہے: حیر بیار مری

قومی اشتراک عمل : آزادی پسند تنظیموں سے رابطے کیلئے باقاعدہ کمیٹی تشکیل دی ہے : حیربیار مری

قومی اشتراک عمل : آزادی پسند تنظیموں سے رابطے کیلئے باقاعدہ کمیٹی تشکیل دی ہے : حیربیار مری

کراچی پر یس کلب کے سامنے بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کا احتجاجی مظاہرہ

کراچی پر یس کلب کے سامنے بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کا احتجاجی مظاہرہ

پاکستانی افواج صرف اور صرف نہتے خواتین اور بچوں کو ہی اغوا کر سکتے ہیں ان کی قابلیت یہی تک محدود ہے۔ نواب براہمدغ بگٹی

پاکستانی افواج صرف اور صرف نہتے خواتین اور بچوں کو ہی اغوا کر سکتے ہیں ان کی قابلیت یہی تک محدود ہے۔ نواب براہمدغ بگٹی

گپ و ترانے گون بیگواهین محمد اقبال بلوچءِ برات محمد انور بلوچءَ1اگست

گپ و ترانے گون بیگواهین محمد اقبال بلوچءِ برات محمد انور بلوچءَ1اگست

ایرانی بلوچستان کیلئے راہداری۔۔۔ صدیق بلوچ

ایرانی بلوچستان کیلئے راہداری۔۔۔ صدیق بلوچ

بلوچ راجءَ پا آجوئیءَ گون دُگنیاءِ دموکرٹیکین ملکان نزیکی لازم انت – نمیرانین واجہ عبدالصمد امیری

بلوچ راجءَ پا آجوئیءَ گون دُگنیاءِ دموکرٹیکین ملکان نزیکی لازم انت – نمیرانین واجہ عبدالصمد امیری

ایران کا غصہ

2020-03-27 10:15:38
Share on

روزنامہ آزادی

   مارچ 29, 2014

 ایران کا غصہ کم ہوتا نظر نہیں آرہا ہے ۔ خصوصاً اس غیر مصدقہ اطلاع کے بعد کہ ایک مغوی کو زیر حراست ہلاک کیا گیا ۔ کیوں کیا گیا ؟ باقیوں کو کیوں قتل نہیں کیا گیا؟ ان سوالات کے جواب لوگوں تک نہیں پہنچا ۔ البتہ مملکت ایران کا غصہ پاکستان پر بڑھتا جارہاہے حالانکہ حکومت پاکستان یہ اعلانیہ اقرار کرچکاہے کہ ایران کے پانچ مغوی سرحدی محافظ پاکستان کی سرزمین پر نہیں ہیں اور نہ ہی مقتول مغوی کی لاش پاکستان سے ملی ۔ اس کے باوجود حکومت پاکستان نے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ تفتیش میں ایران کی ہر ممکن مدد کریگا۔ ایران نے اپنے الزامات کو ثابت کرنے کے لیے آج تک کوئی ثبوت فراہم نہیں کیے ۔حکومت پاکستان کے ترجمان نے کئی بار یہ کہا ہے کہ یہ واقعہ ایران کی سرزمین پر ہوا اور اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ جیگی گور میں سرحدی محافظین کو یرغمال بنانے کے بعد وہ پاکستان کی سرحد کی طرف فرا ر ہوئے ہیں ۔ بہر حال جیش العدل نامی تنظیم کا پاکستان میں کوئی وجود نہیں ہے ۔ ایران کا تنازعہ اپنے ملک میں اور اپنے شہریوں سے ہے ۔ پاکستان نے اس تنازعہ میں مداخلت نہیں کی حالانکہ بلوچوں کی سب سے بڑی آبادی پاکستان میں رہتی ہے اور ان کی اپنی نمائندہ صوبائی حکومت ہے اور بعض بلوچ وزراء اور اہم ترین شخصیات کی رشتہ داریاں ایرانی بلوچوں کے ساتھ ہیں ۔ مگر سب لوگوں نے خصوصاً پاکستان میں بلوچ حکمرانوں نے ابھی تک نہ کوئی احتجاج کیا اور نہ ہی ایران کی حکومت سے کوئی رابطہ کیا کہ بلوچوں کے ساتھ ایران میں بہتر سلوک روا نہیں رکھا جارہاہے ۔ ایران میں بلوچ دوسرے درجے کے شہری ہیں ۔ بلوچ حکمرانوں نے ایران سے بہتر تاریخی برادرانہ تعلقات کا لحاظ رکھتے ہوئے مکمل خاموشی اختیار کی ۔ اس کے برعکس گزشتہ ایک سال سے ایران اور اسکے سرحدی محافظین بلوچ علاقوں میں گولہ باری کرتے رہے ہیں۔ پاکستان کی سرزمین پر کئی بار فوجی کارروائیاں کرتے رہے ہیں اور بعض کو ہلاک اور بعض کو اغواء کرکے ایران لے گئے ۔ ان پر بھی حکومت پاکستان اوربلوچ حکمرانوں نے روایتی احتجاج تک نہیں کیا ۔ یہ سب ظلم و زیادتی کو برداشت کیا اور یہ توقع رکھی کہ ایران اپنے ہی بلوچ شہریوں کے ساتھ بہتر سلوک روا رکھے گا ۔ حالیہ دنوں میں ایرانی مسلح افواج نے بغیر کسی اشتعال کے تال آپ جو تفتان سرحد سے متصل ہے عام شہریوں پر فائر کھول دیا ۔ جس میں ایک خاتون خانہ گھر کے اندر گولی لگنے سے شدید زخمی ہوئیں اور ان کو ہنگامی بنیاد پر اسپتال میں علاج کی خاطر داخل کردیا گیا ۔ اس طرح کی فائرنگ کے واقعات حالیہ دنوں میں زیادہ ہورہے ہیں ۔ اور ایران کی حکومت یہ تاثر دینا چاہتی ہے کہ سرحدی علاقوں میں بسنے والے غریب لوگ اس کے خلاف ہیں اور ہر پاکستانی شہری ایران کے خلاف سازش کررہا ہے ۔ دوسری جانب پاکستان خود دہشت گردی کے ہاتھوں زخم خوردہ ہے ۔ اس کے پچاس ہزار شہری دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہوئے ہیں۔ان میں پانچ ہزار سے زائد سیکورٹی افواج کے اہلکار تھے ۔ ظاہر ہے کہ پاکستان خود دہشت گردی سے شدید طورپر متاثر ہے اور اسی کی وجہ سے قومی معیشت کو ابھی تک 78ارب ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے ۔ ایسی صورت میں پاکستان کیوں اپنے برادر پڑوسی ملک کے خلاف دہشت گردی کی حمایت کرے گا۔ لیکن اس کے برعکس ایران یہ مسلسل دھمکی دے رہا ہے کہ ایران کے مسلح افواج کے دستے پاکستان پر حملہ آور ہونے کے لئے تیار کھڑے ہیں ۔ سرحدی علاقوں سے آمدہ اطلاعات کے مطابق ایران نے اس حملے کی تیاری کے سلسلے میں مشینی دستوں خصوصاً ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں کو سرحدی علاقوں میں تعینات کیاہے اور وہ کسی بھی وقت پاکستان پر حملہ کر سکتے ہیں ۔

Share on
Previous article

بلوچ ورنایانی کشت ءُ کوش تروریستی سپاه ءِ کارانت

NEXT article

پنجگور کے علاقے تپس ہائی اسکول کے قریب سے فورسز نے اکرم ولداسمائیل کو اِن کے گھر کے سامنے سے اغوا کرلیا

LEAVE A REPLY