بلوچستان میں خواتین کی جبری گمشدگی وہلاکت افسوسناک و قابلِ مذمت ہیں:بی ایچ آر او

MUST READ

بيگواهی

بيگواهی

ایران کی جانب سے بلوچستان کے نام کی تبدیلی کی کوششوں کا پر زور الفاظ میں مذمت کرتاہوں۔ حیر بیار مری

ایران کی جانب سے بلوچستان کے نام کی تبدیلی کی کوششوں کا پر زور الفاظ میں مذمت کرتاہوں۔ حیر بیار مری

توهین، فحاشی و پرخاشگری بخشی از فرهنگ و زبان پارسی است

توهین، فحاشی و پرخاشگری بخشی از فرهنگ و زبان پارسی است

راجدوستیں بلوچاں تپاک بیگی انت

راجدوستیں بلوچاں تپاک بیگی انت

گیبن کیچءَ 13 اپریلءَ 2015 پاکستانی فوجی آپریشنءِ حقیقت

گیبن کیچءَ 13 اپریلءَ 2015 پاکستانی فوجی آپریشنءِ حقیقت

مـاتی زبانانی جھانی روچ ءُ شھدیں بلوچی

مـاتی زبانانی جھانی روچ ءُ شھدیں بلوچی

شہ مداروں کا دیش (بی ایس او کے قائدین سے ایک گزارش) کردگار بلوچ

شہ مداروں کا دیش (بی ایس او کے قائدین سے ایک گزارش) کردگار بلوچ

جنگ روانی استاندار اشغالگران در بلوچستان

جنگ روانی استاندار اشغالگران در بلوچستان

اقوام متحدہ، عالمی طاقتوں کی خاموشی بلوچ قوم کی لسانی اور ثقافتی نسل کشی کا باعث بن رہی ہے – ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ

اقوام متحدہ، عالمی طاقتوں کی خاموشی بلوچ قوم کی لسانی اور ثقافتی نسل کشی کا باعث بن رہی ہے – ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ

آزاد بلوچستان کی جنگ سب بلوچوں کو ملکر لڑنی هونگی – بی جے پی کے ترجمان انیل بالونی

آزاد بلوچستان کی جنگ سب بلوچوں کو ملکر لڑنی هونگی – بی جے پی کے ترجمان انیل بالونی

سویڈش شوشلیٹ پاڑٹی کے کریسٹوفر لونڈ بیری 10دسمبر2015 کو گوتنبرگ میں بولان کے بلوچ خواتین کی پاکستانی فورسز کی توسط سے اغواه کے خلاف مظاهرہ سے خطاب کررهے هیں

سویڈش شوشلیٹ پاڑٹی کے کریسٹوفر لونڈ بیری 10دسمبر2015 کو گوتنبرگ میں بولان کے بلوچ خواتین کی پاکستانی فورسز کی توسط سے اغواه کے خلاف مظاهرہ سے خطاب کررهے هیں

روز شهــدای بلوچستـان گرامـی باد

روز شهــدای بلوچستـان گرامـی باد

بلوچستان ءِ پلین شهیدان ءَ هزاران سلام

بلوچستان ءِ پلین شهیدان ءَ هزاران سلام

منی پت شہید ڈاکٹر منان ءِ لہتیں یات – ذیشان بلوچ

منی پت شہید ڈاکٹر منان ءِ لہتیں یات – ذیشان بلوچ

بلوچستان ءِ پُلیں شهیدان ءَ هزاراں سلام

بلوچستان ءِ پُلیں شهیدان ءَ هزاراں سلام

بلوچستان میں خواتین کی جبری گمشدگی وہلاکت افسوسناک و قابلِ مذمت ہیں:بی ایچ آر او

2020-03-25 15:25:26
Share on

کوئٹہ/ بلوچ ہیومین رائٹس آرگنائزیشن کے ترجمان نے بلوچستان کے مختلف علاقوں سے خواتین کی جبری گمشدگی اور ہلاکت کے واقعات کو افسوسناک اور قابلِ مذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق اور احترام کے برعکس بلوچستان میں فورسز کی کاروائیوں کے نتیجے میں خواتین شدید متاثر ہورہے ہیں۔فورسز کی کاروائیوں سے جہاں چاردیواری کی تقدس کی پامالی اور گھر میں موجود خواتین و بچوں پر تشدد کی واقعات رپورٹ ہورہی ہیں، وہیں بلا احتیاط فائرنگ کی وجہ سے خواتین کی ہلاکت اور زخمی ہونے کے واقعات بھی افسوسناک طور پر روز کا معمول بن رہے ہیں۔ انسانی حقوق کارکنوں اور تنظیموں کی نشاندہی کے باوجود حکومت سیکیورٹی فورسز کو پابند نہیں کررہی ہے کہ وہ نہتے خواتین و بچوں پر تشدد یا انہیں فائرنگ کا نشانہ بنانے سے گریز کرے۔ حکومت کی عدم توجہی اور عدم دلچسپی کی وجہ سے فورسز کے ہاتھوں اس طرح کی کاروائیاں بارہا رونما ہو چکے ہیں۔سترہ اگست کو پنجگور کے علاقے بالگتر میں ایک گھر پر فورسز کی فضائی شیلنگ سے شمس خاتون ولد یوسف نام کی ایک خاتون ہلاگ ہوگئی، اس کے علاوہ ہرنائی کے علاقوں میں فورسز کی فائرنگ کے نتیجے میں دو خواتین زخمی ہوئے تھے، جنہیں ان کے لواحقین نے علاج کی غرض سے ہسپتال منتقل کردیا، لیکن اطلاعات کے مطابق ان زیر علاج زخمی خواتین کو فورسز اپنے ساتھ لے گئے ہیں، تین دن گزر جانے کے باوجود ان کی کوئی خبر نہیں۔ اس پہلے بھی خواتین فورسز کی فائرنگ کا نشانہ بن کر ہلاک اور فورسز کے ہاتھوں اغواء ہو چکے ہیں، لیکن ان واقعات پر میڈیا اور حکومتی ادارے مکمل خاموش ہیں۔ اس بات کا غالب امکان موجود ہے کہ اگر فورسز کو بلوچستان میں کاروائیوں کی مزید چھوٹ دی گئی تو اس طرح کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو سکتا ہے، جو کہ انسانی حقوق اور انسانی اقدار کی سنگین خلاف ورزی ہے۔بی ایچ آر او نے مطالبہ کیا کہ فورسز کو اس طرح کی کاروائیوں سے روکنے، نہتے لوگوں کو اغواء کرنے یا فائرنگ کا نشانہ بنانے سے روکنے کے لئے انسانی حقوق کے کارکن موثر آواز اٹھائیں، تاکہ بلوچستان میں تسلسل کے ساتھ کی جانے والی انسانی حقوق کی پامالیوں کو روکھاجا سکے۔

Share on
Previous article

جنگی مجرم مشرف ءِ رسوایی

NEXT article

تجاربی خونین از مذاکرات با اشغالگران

LEAVE A REPLY