بلوچستان میں خواتین کی جبری گمشدگی وہلاکت افسوسناک و قابلِ مذمت ہیں:بی ایچ آر او

بلوچستان میں خواتین کی جبری گمشدگی وہلاکت افسوسناک و قابلِ مذمت ہیں:بی ایچ آر او

2020-03-25 15:25:26
Share on

کوئٹہ/ بلوچ ہیومین رائٹس آرگنائزیشن کے ترجمان نے بلوچستان کے مختلف علاقوں سے خواتین کی جبری گمشدگی اور ہلاکت کے واقعات کو افسوسناک اور قابلِ مذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق اور احترام کے برعکس بلوچستان میں فورسز کی کاروائیوں کے نتیجے میں خواتین شدید متاثر ہورہے ہیں۔فورسز کی کاروائیوں سے جہاں چاردیواری کی تقدس کی پامالی اور گھر میں موجود خواتین و بچوں پر تشدد کی واقعات رپورٹ ہورہی ہیں، وہیں بلا احتیاط فائرنگ کی وجہ سے خواتین کی ہلاکت اور زخمی ہونے کے واقعات بھی افسوسناک طور پر روز کا معمول بن رہے ہیں۔ انسانی حقوق کارکنوں اور تنظیموں کی نشاندہی کے باوجود حکومت سیکیورٹی فورسز کو پابند نہیں کررہی ہے کہ وہ نہتے خواتین و بچوں پر تشدد یا انہیں فائرنگ کا نشانہ بنانے سے گریز کرے۔ حکومت کی عدم توجہی اور عدم دلچسپی کی وجہ سے فورسز کے ہاتھوں اس طرح کی کاروائیاں بارہا رونما ہو چکے ہیں۔سترہ اگست کو پنجگور کے علاقے بالگتر میں ایک گھر پر فورسز کی فضائی شیلنگ سے شمس خاتون ولد یوسف نام کی ایک خاتون ہلاگ ہوگئی، اس کے علاوہ ہرنائی کے علاقوں میں فورسز کی فائرنگ کے نتیجے میں دو خواتین زخمی ہوئے تھے، جنہیں ان کے لواحقین نے علاج کی غرض سے ہسپتال منتقل کردیا، لیکن اطلاعات کے مطابق ان زیر علاج زخمی خواتین کو فورسز اپنے ساتھ لے گئے ہیں، تین دن گزر جانے کے باوجود ان کی کوئی خبر نہیں۔ اس پہلے بھی خواتین فورسز کی فائرنگ کا نشانہ بن کر ہلاک اور فورسز کے ہاتھوں اغواء ہو چکے ہیں، لیکن ان واقعات پر میڈیا اور حکومتی ادارے مکمل خاموش ہیں۔ اس بات کا غالب امکان موجود ہے کہ اگر فورسز کو بلوچستان میں کاروائیوں کی مزید چھوٹ دی گئی تو اس طرح کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو سکتا ہے، جو کہ انسانی حقوق اور انسانی اقدار کی سنگین خلاف ورزی ہے۔بی ایچ آر او نے مطالبہ کیا کہ فورسز کو اس طرح کی کاروائیوں سے روکنے، نہتے لوگوں کو اغواء کرنے یا فائرنگ کا نشانہ بنانے سے روکنے کے لئے انسانی حقوق کے کارکن موثر آواز اٹھائیں، تاکہ بلوچستان میں تسلسل کے ساتھ کی جانے والی انسانی حقوق کی پامالیوں کو روکھاجا سکے۔

Share on
Previous article

جنگی مجرم مشرف ءِ رسوایی

NEXT article

تجاربی خونین از مذاکرات با اشغالگران

LEAVE A REPLY

MUST READ

دُزّآپ ءِ بُلـوارِ (زاهدانِءِ چوک) بلوچستـــان

دُزّآپ ءِ بُلـوارِ (زاهدانِءِ چوک) بلوچستـــان

شکست ایران بعنوان یک واحد سیاسی – جغرافیایی

شکست ایران بعنوان یک واحد سیاسی – جغرافیایی

بلوچ نسل کشی میں تیزی لائی گئی ہے ، خلیل بلوچ

بلوچ نسل کشی میں تیزی لائی گئی ہے ، خلیل بلوچ

جئے سندھ متحدہ محاذ کے کارکن شهید سرویچ پیرزادہ کے والد لطف علی سے گفتگو

جئے سندھ متحدہ محاذ کے کارکن شهید سرویچ پیرزادہ کے والد لطف علی سے گفتگو

پاکستان چین کی مفادات کی خاطر بلوچوں کا بے رحمی سے قتل عام کررہا ہے: حیر بیار مری

پاکستان چین کی مفادات کی خاطر بلوچوں کا بے رحمی سے قتل عام کررہا ہے: حیر بیار مری

مروچی 30 اگست 2013ءَ بیگواہ بوتگین مردومانی میان استمانی روچءِ درگتءَ وائس فار بلوچ میسنگ پرسنانی سروک واجہ قدیر بلوچءِکلوه پا بلوچ راجءَ

مروچی 30 اگست 2013ءَ بیگواہ بوتگین مردومانی میان استمانی روچءِ درگتءَ وائس فار بلوچ میسنگ پرسنانی سروک واجہ قدیر بلوچءِکلوه پا بلوچ راجءَ

هجوم لشکر تمدن ستیز خامنه ای و العبادی به کوردستان مستقل

هجوم لشکر تمدن ستیز خامنه ای و العبادی به کوردستان مستقل

برطانیہ خان قلات کے ساتھ اپنے76 18 کی توسیع شدہ معاہدے کی پابندی کریں ۔ حیر بیار مری

برطانیہ خان قلات کے ساتھ اپنے76 18 کی توسیع شدہ معاہدے کی پابندی کریں ۔ حیر بیار مری

’چھ ہزار بلوچ جنگجو پاکستانی فوج کیخلاف مزاحمت کر رہے ہیں‘ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ

’چھ ہزار بلوچ جنگجو پاکستانی فوج کیخلاف مزاحمت کر رہے ہیں‘ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ

کوردستان ءِ جنگ آزادی، دیم په دیمی گوں میان استمانی تروریسم ءُ اروپایی – امریکی سیاسی واکدارانی دوپوستی

کوردستان ءِ جنگ آزادی، دیم په دیمی گوں میان استمانی تروریسم ءُ اروپایی – امریکی سیاسی واکدارانی دوپوستی

ڈھاکہ سے شاہ باغ مومنٹ کے کارکن شکیل سے گفتگو

ڈھاکہ سے شاہ باغ مومنٹ کے کارکن شکیل سے گفتگو

ڈاکٹرحنیف شریف

ڈاکٹرحنیف شریف

دیـزل ( گازوئیـل ) ءِ مافیـایی سوداگِـری

دیـزل ( گازوئیـل ) ءِ مافیـایی سوداگِـری

جنگریز مری وگزین مری،فکری کاروان میں شامل نہیں تھے:حیربیار مری

جنگریز مری وگزین مری،فکری کاروان میں شامل نہیں تھے:حیربیار مری

یو این کو دنیا بھر میں کہیں بھی ناانصافی کے خلاف خاموش نہیں ہونا چاہیے۔ حیربیار مری

یو این کو دنیا بھر میں کہیں بھی ناانصافی کے خلاف خاموش نہیں ہونا چاہیے۔ حیربیار مری