بلوچستان میں خواتین کی جبری گمشدگی وہلاکت افسوسناک و قابلِ مذمت ہیں:بی ایچ آر او

بلوچستان میں خواتین کی جبری گمشدگی وہلاکت افسوسناک و قابلِ مذمت ہیں:بی ایچ آر او

2020-03-27 14:43:10
Share on

کوئٹہ/ بلوچ ہیومین رائٹس آرگنائزیشن کے ترجمان نے بلوچستان کے مختلف علاقوں سے خواتین کی جبری گمشدگی اور ہلاکت کے واقعات کو افسوسناک اور قابلِ مذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق اور احترام کے برعکس بلوچستان میں فورسز کی کاروائیوں کے نتیجے میں خواتین شدید متاثر ہورہے ہیں۔فورسز کی کاروائیوں سے جہاں چاردیواری کی تقدس کی پامالی اور گھر میں موجود خواتین و بچوں پر تشدد کی واقعات رپورٹ ہورہی ہیں، وہیں بلا احتیاط فائرنگ کی وجہ سے خواتین کی ہلاکت اور زخمی ہونے کے واقعات بھی افسوسناک طور پر روز کا معمول بن رہے ہیں۔ انسانی حقوق کارکنوں اور تنظیموں کی نشاندہی کے باوجود حکومت سیکیورٹی فورسز کو پابند نہیں کررہی ہے کہ وہ نہتے خواتین و بچوں پر تشدد یا انہیں فائرنگ کا نشانہ بنانے سے گریز کرے۔ حکومت کی عدم توجہی اور عدم دلچسپی کی وجہ سے فورسز کے ہاتھوں اس طرح کی کاروائیاں بارہا رونما ہو چکے ہیں۔سترہ اگست کو پنجگور کے علاقے بالگتر میں ایک گھر پر فورسز کی فضائی شیلنگ سے شمس خاتون ولد یوسف نام کی ایک خاتون ہلاگ ہوگئی، اس کے علاوہ ہرنائی کے علاقوں میں فورسز کی فائرنگ کے نتیجے میں دو خواتین زخمی ہوئے تھے، جنہیں ان کے لواحقین نے علاج کی غرض سے ہسپتال منتقل کردیا، لیکن اطلاعات کے مطابق ان زیر علاج زخمی خواتین کو فورسز اپنے ساتھ لے گئے ہیں، تین دن گزر جانے کے باوجود ان کی کوئی خبر نہیں۔ اس پہلے بھی خواتین فورسز کی فائرنگ کا نشانہ بن کر ہلاک اور فورسز کے ہاتھوں اغواء ہو چکے ہیں، لیکن ان واقعات پر میڈیا اور حکومتی ادارے مکمل خاموش ہیں۔ اس بات کا غالب امکان موجود ہے کہ اگر فورسز کو بلوچستان میں کاروائیوں کی مزید چھوٹ دی گئی تو اس طرح کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو سکتا ہے، جو کہ انسانی حقوق اور انسانی اقدار کی سنگین خلاف ورزی ہے۔بی ایچ آر او نے مطالبہ کیا کہ فورسز کو اس طرح کی کاروائیوں سے روکنے، نہتے لوگوں کو اغواء کرنے یا فائرنگ کا نشانہ بنانے سے روکنے کے لئے انسانی حقوق کے کارکن موثر آواز اٹھائیں، تاکہ بلوچستان میں تسلسل کے ساتھ کی جانے والی انسانی حقوق کی پامالیوں کو روکھاجا سکے۔

Share on
Previous article

جنگی مجرم مشرف ءِ رسوایی

NEXT article

تجاربی خونین از مذاکرات با اشغالگران

LEAVE A REPLY

MUST READ

بلوچستان: مختلف علاقوں سے آٹھ لاشیں برآمد

بلوچستان: مختلف علاقوں سے آٹھ لاشیں برآمد

آزات ءُ آباد بات گنجيــں بلوچستــان

آزات ءُ آباد بات گنجيــں بلوچستــان

ماہِ اپریل میں آپریشن دوران 120 سے زائد افراد لاپتہ، 24قتل کئے گئے، بی بی گل بلوچ

ماہِ اپریل میں آپریشن دوران 120 سے زائد افراد لاپتہ، 24قتل کئے گئے، بی بی گل بلوچ

انساندوستیں بلوچانی کمک کاری ءُ بلوچ دژمنیں سپاہ ءِ تکانسری

انساندوستیں بلوچانی کمک کاری ءُ بلوچ دژمنیں سپاہ ءِ تکانسری

زمیں کا الَم – نوشین قمبرانی

زمیں کا الَم – نوشین قمبرانی

انڈیا سمینار میں حیربیار مری کا خصوصی پیغام

انڈیا سمینار میں حیربیار مری کا خصوصی پیغام

کانسارها ومعادن مس در بلوچستـان اشغالی

کانسارها ومعادن مس در بلوچستـان اشغالی

حمايـت از بزرگمـرد بلوچستــان آقای قديـربلـوچ وکاروان آزادی

حمايـت از بزرگمـرد بلوچستــان آقای قديـربلـوچ وکاروان آزادی

بلوچ آزادی پسندوں کا پاکستان کے خلاف دنیا بھر میں مظاہرے

بلوچ آزادی پسندوں کا پاکستان کے خلاف دنیا بھر میں مظاہرے

پاکستانی الیکشن بلوچ سرزمینءِ سرا

پاکستانی الیکشن بلوچ سرزمینءِ سرا

شرکت مزدوران خارجی سپاه قدس در سرکوب مردم بپاخاسته

شرکت مزدوران خارجی سپاه قدس در سرکوب مردم بپاخاسته

گپ و ترانے کراچيءِ بلوچ آبادی لياری ءِ جاورانی سرا

گپ و ترانے کراچيءِ بلوچ آبادی لياری ءِ جاورانی سرا

بابائے بلوچ نواب خیر بخش مری کا نمازہ جنازہ نیو کاهان میں ادا کردیا گیا

بابائے بلوچ نواب خیر بخش مری کا نمازہ جنازہ نیو کاهان میں ادا کردیا گیا

حادثے میں لانگ مارچ میں شریک دو افراد زخمی

حادثے میں لانگ مارچ میں شریک دو افراد زخمی

نمیرانی ءِ کشک شھید نور محمد ءِ نام ءَ

نمیرانی ءِ کشک شھید نور محمد ءِ نام ءَ