بلوچستان میں خواتین کی جبری گمشدگی وہلاکت افسوسناک و قابلِ مذمت ہیں:بی ایچ آر او

MUST READ

Baloch geographical importance and internal complexities

Baloch geographical importance and internal complexities

گلگدارے گون قائد اعظمم یونیورسٹیءِ نودربر شهداد بلوچءَ

گلگدارے گون قائد اعظمم یونیورسٹیءِ نودربر شهداد بلوچءَ

اقراء ریزیڈنشل اسکول اینڈ کالج مری میں تشدد شدہ بلوچ طالبعلم سے گفتگو

اقراء ریزیڈنشل اسکول اینڈ کالج مری میں تشدد شدہ بلوچ طالبعلم سے گفتگو

شهید واجہ صبا دشتیاریءِ ترانے 12 مئی 2011 کوئٹہ پریس کلبءِ دیما

شهید واجہ صبا دشتیاریءِ ترانے 12 مئی 2011 کوئٹہ پریس کلبءِ دیما

هم اور نوید بلوچ جیسے هزاروں بلوچ خود پاکستانی ریاستی دهشتگری کا شکار هیں – وحید بلوچ برلن جرمنی

هم اور نوید بلوچ جیسے هزاروں بلوچ خود پاکستانی ریاستی دهشتگری کا شکار هیں – وحید بلوچ برلن جرمنی

مـاتـی زبانءِ میان اُستمانـی روچ

مـاتـی زبانءِ میان اُستمانـی روچ

جنگ عرب و عجم – محمــد کـريــم بلـــوچ

جنگ عرب و عجم – محمــد کـريــم بلـــوچ

اوجگیری جنبش استقلال طلبانه بلوچستـان و سبعیت ارتش پاکستان

اوجگیری جنبش استقلال طلبانه بلوچستـان و سبعیت ارتش پاکستان

Baloch blogger Mureed Baloch on Pakistani Elections 2013 at Tehelka Radio on May 13, 2013.

Baloch blogger Mureed Baloch on Pakistani Elections 2013 at Tehelka Radio on May 13, 2013.

شھداہءِ مرغاپءِ چھارمی شھادتءِ سالروچءِ بابتءَ بانک شھید غلام محمد بلوچءِ کلّو

شھداہءِ مرغاپءِ چھارمی شھادتءِ سالروچءِ بابتءَ بانک شھید غلام محمد بلوچءِ کلّو

بلوچ اکٹوسٹ لندنءَ بی بی سیءِ دیما احتجاجءَ گون واجہ ڈاکٹر مصطفیءَ گپ ءُ ترانے

بلوچ اکٹوسٹ لندنءَ بی بی سیءِ دیما احتجاجءَ گون واجہ ڈاکٹر مصطفیءَ گپ ءُ ترانے

پاکستانی فوج نے بلوچستان میں حوصلہ کھو دیا،سی پیک ناکام ہے ۔ ڈاکٹر اللہ نذر

پاکستانی فوج نے بلوچستان میں حوصلہ کھو دیا،سی پیک ناکام ہے ۔ ڈاکٹر اللہ نذر

مقبوضہ سندھ میں پولیس کے اختیارات رینجرزنامی آرمی کے ایک شاخ کے ہاتھوں میں ہیں – چیئرمین خلیل بلوچ

مقبوضہ سندھ میں پولیس کے اختیارات رینجرزنامی آرمی کے ایک شاخ کے ہاتھوں میں ہیں – چیئرمین خلیل بلوچ

زمیں کا الَم – نوشین قمبرانی

زمیں کا الَم – نوشین قمبرانی

جنگ روانی استاندار اشغالگران در بلوچستان

جنگ روانی استاندار اشغالگران در بلوچستان

بلوچستان میں خواتین کی جبری گمشدگی وہلاکت افسوسناک و قابلِ مذمت ہیں:بی ایچ آر او

2020-03-26 07:56:54
Share on

کوئٹہ/ بلوچ ہیومین رائٹس آرگنائزیشن کے ترجمان نے بلوچستان کے مختلف علاقوں سے خواتین کی جبری گمشدگی اور ہلاکت کے واقعات کو افسوسناک اور قابلِ مذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق اور احترام کے برعکس بلوچستان میں فورسز کی کاروائیوں کے نتیجے میں خواتین شدید متاثر ہورہے ہیں۔فورسز کی کاروائیوں سے جہاں چاردیواری کی تقدس کی پامالی اور گھر میں موجود خواتین و بچوں پر تشدد کی واقعات رپورٹ ہورہی ہیں، وہیں بلا احتیاط فائرنگ کی وجہ سے خواتین کی ہلاکت اور زخمی ہونے کے واقعات بھی افسوسناک طور پر روز کا معمول بن رہے ہیں۔ انسانی حقوق کارکنوں اور تنظیموں کی نشاندہی کے باوجود حکومت سیکیورٹی فورسز کو پابند نہیں کررہی ہے کہ وہ نہتے خواتین و بچوں پر تشدد یا انہیں فائرنگ کا نشانہ بنانے سے گریز کرے۔ حکومت کی عدم توجہی اور عدم دلچسپی کی وجہ سے فورسز کے ہاتھوں اس طرح کی کاروائیاں بارہا رونما ہو چکے ہیں۔سترہ اگست کو پنجگور کے علاقے بالگتر میں ایک گھر پر فورسز کی فضائی شیلنگ سے شمس خاتون ولد یوسف نام کی ایک خاتون ہلاگ ہوگئی، اس کے علاوہ ہرنائی کے علاقوں میں فورسز کی فائرنگ کے نتیجے میں دو خواتین زخمی ہوئے تھے، جنہیں ان کے لواحقین نے علاج کی غرض سے ہسپتال منتقل کردیا، لیکن اطلاعات کے مطابق ان زیر علاج زخمی خواتین کو فورسز اپنے ساتھ لے گئے ہیں، تین دن گزر جانے کے باوجود ان کی کوئی خبر نہیں۔ اس پہلے بھی خواتین فورسز کی فائرنگ کا نشانہ بن کر ہلاک اور فورسز کے ہاتھوں اغواء ہو چکے ہیں، لیکن ان واقعات پر میڈیا اور حکومتی ادارے مکمل خاموش ہیں۔ اس بات کا غالب امکان موجود ہے کہ اگر فورسز کو بلوچستان میں کاروائیوں کی مزید چھوٹ دی گئی تو اس طرح کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو سکتا ہے، جو کہ انسانی حقوق اور انسانی اقدار کی سنگین خلاف ورزی ہے۔بی ایچ آر او نے مطالبہ کیا کہ فورسز کو اس طرح کی کاروائیوں سے روکنے، نہتے لوگوں کو اغواء کرنے یا فائرنگ کا نشانہ بنانے سے روکنے کے لئے انسانی حقوق کے کارکن موثر آواز اٹھائیں، تاکہ بلوچستان میں تسلسل کے ساتھ کی جانے والی انسانی حقوق کی پامالیوں کو روکھاجا سکے۔

Share on
Previous article

جنگی مجرم مشرف ءِ رسوایی

NEXT article

تجاربی خونین از مذاکرات با اشغالگران

LEAVE A REPLY