بلوچستان میں ریفرینڈم نہیں چاہتے: حیر بیار مری

MUST READ

Mr. Aziz Baloch coordinator of Voice for Baloch missing persons in canada talking about mass grave in balochistan with co-op Radio

Mr. Aziz Baloch coordinator of Voice for Baloch missing persons in canada talking about mass grave in balochistan with co-op Radio

پِگــری گُلامــی – محمد کريم بلــوچ

پِگــری گُلامــی – محمد کريم بلــوچ

جامشورو یونیورسٹی کا طا لب علم ساجد سراج لاپتہ

جامشورو یونیورسٹی کا طا لب علم ساجد سراج لاپتہ

بیست ءُ یک فروری ماتی زبانانی میان اُستمانی روچءِ بابتءَ گپ وترانے گون ملاّ مراد ءَ

بیست ءُ یک فروری ماتی زبانانی میان اُستمانی روچءِ بابتءَ گپ وترانے گون ملاّ مراد ءَ

زمیں کا الَم – نوشین قمبرانی

زمیں کا الَم – نوشین قمبرانی

اقوام متحدہ، عالمی طاقتوں کی خاموشی بلوچ قوم کی لسانی اور ثقافتی نسل کشی کا باعث بن رہی ہے – ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ

اقوام متحدہ، عالمی طاقتوں کی خاموشی بلوچ قوم کی لسانی اور ثقافتی نسل کشی کا باعث بن رہی ہے – ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ

کراچی پر یس کلب کے سامنے بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کا احتجاجی مظاہرہ

کراچی پر یس کلب کے سامنے بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کا احتجاجی مظاہرہ

Attack On baloch Student In Preston University Islamabad 20410308

Attack On baloch Student In Preston University Islamabad 20410308

شہداء کا دن منا کر بلوچ قوم نے ثابت کیا کہ وہ اک زندہ قوم ہے : حیربیار مری

شہداء کا دن منا کر بلوچ قوم نے ثابت کیا کہ وہ اک زندہ قوم ہے : حیربیار مری

داغ ننگی بر پیشانیِ خامنه ایِ خون آشام

داغ ننگی بر پیشانیِ خامنه ایِ خون آشام

مـاتی زبانانی جھانی روچ ءُ شھدیں بلوچی

مـاتی زبانانی جھانی روچ ءُ شھدیں بلوچی

گلگدارے گون قائد اعظمم یونیورسٹیءِ نودربر شهداد بلوچءَ

گلگدارے گون قائد اعظمم یونیورسٹیءِ نودربر شهداد بلوچءَ

ضلع کیچ کے سابق امیر مولوی احتشام الحق اور ان کا بیٹے کے قتل

ضلع کیچ کے سابق امیر مولوی احتشام الحق اور ان کا بیٹے کے قتل

واکنش مسئولانه مردمی به درگیری بین بی۰ ال۰ اف و جیش العدل

واکنش مسئولانه مردمی به درگیری بین بی۰ ال۰ اف و جیش العدل

بر دانش آموزان بلـوچ چه می گـذرد؟ بخش پنجـم

بر دانش آموزان بلـوچ چه می گـذرد؟ بخش پنجـم

بلوچستان میں ریفرینڈم نہیں چاہتے: حیر بیار مری

2020-03-26 14:46:30
Share on

عادل شاہ زیب

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن

September 19, 2014,

سکاٹ لینڈ میں آزادی کا مطالبہ کرنے والوں کو نہ تو مارا گیا، نہ غائب کیاگیا: حیربیار

برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے کےلیے سکاٹ لینڈ میں پایہ تکمیل تک پہنچنے والے ریفرینڈم پر پوری دنیا کی نظریں مرکوز تھیں۔ ایک طرف برطانیہ کا مستقبل زیر بحث رہا تو دوسری طرف سکاٹش ریفرینڈم کا دنیا بھر میں جاری آزادی کی تحریکوں سے موازنہ کیاگیا۔

ریفرینڈم میں تو سکاٹش عوام نے آزادی کے خلاف ووٹ دے کر برطانیہ میں رہنے کو ترجیح دی لیکن تجزیہ کاروں کے خیال میں نتائج سے ہٹ کر سکاٹش ریفرینڈم یورپ سمیت دنیا بھر میں جاری آزادی کی تحریکوں پر اثر انداز ہوگا۔

بلوچستان میں جاری علیحدگی پسند تحریک کا سکاٹ لینڈ سے موازنہ صحیح ہے یا غلط یہ بحث تو اپنی جگہ لیکن کچھ کے خیال میں بلوچ علیحدگی پسند جب تک انتخابات میں آزادی کےلیے ریفرینڈم کا نعرہ لگا کر منتخب نہیں ہوتے تب تک سکاٹ لینڈ کی آزادی پسند حکمران جماعت سکاٹش نیشنلسٹ پارٹی سے ان کا موازنہ درست نہیں ہوگا۔

سکاٹش نیشنلسٹ پارٹی نے سکاٹ لینڈ کے انتخابات میں ’آزاد سکاٹ لینڈ‘ کا نعرہ لگا کر کامیابی حاصل کی تھی اور پھر اپنے انتخابی منشور  کے تحت ریفرینڈم کروانے کا وعدہ پورا کیا۔

لیکن بلوچستان کے علیحدگی پسند حلقےنہ تو انتخابات کو مانتے ہیں اور نہ ہی اس میں حصہ لیتے ہیں۔ یہی سوالات جب میں نے بلوچ علیحدگی پسند رہنما اور نواب خیر بخش مری کے صاحبزادے حیر بیار مری کے سامنے رکھے تو ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان اور سکاٹ لینڈ کا موازنہ ہی غلط ہے۔ ’ہم نے نہ تو کبھی ماضی میں بلوچستان میں ریفرنڈم کا مطالبہ کیا تھا اور نہ ہی مستقبل میں ہمارا کوئی ایسا ارادہ ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’سکاٹ لینڈ میں آزادی کا مطالبہ کرنے والوں کو نہ تو مارا گیا، نہ غائب کیا گیا اور نہ ٹارچر کیا گیا لیکن بلوچستان میں تو جو آزادی کا صرف نام لیتے ہیں ان سے تو اس دنیا میں رہنے کا حق بھی چین لیا جاتا ہے۔‘

حیر بیار مری کا کہنا تھا کہ سکاٹ لینڈ اور بلوچستان میں بنیادی فرق یہ ہے کہ سکاٹ لینڈ کے عوام صدیوں سے اپنی مرضی سے برطانوی یونین کا حصّہ ہیں اور اب اگر آزادی مانگ رہے تھے تو انہیں ان کا جمہوری حق دیا گیا لیکن بلوچستان کے عوام تو1947 سے پاکستان کے ساتھ نہ تو رہنے کے حق میں تھے اور نہ اب ہیں، تو ہم ریفرینڈم کا مطالبہ کیوں کریں؟

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارا صرف ایک ہی مطالبہ ہے کہ بلوچستان پر قبضہ ختم کیا جائے اور پھر اس کے بعد بلوچ عوام خود اپنے مستقبل کا فیصلہ جمہوری انداز میں کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔‘

تو کیا بلوچ عوام سرداروں اور نوابوں کے ماتحت زندگی گزارنا پسند کریں گے؟ اس سوال کے جواب میں حیربیار مری کا کہنا تھاکہ بلوچ عوام کا ماضی میں استحصال ضرور ہوا ہے لیکن ان کے پیش کیےگئے بلوچستان لبریشن چارٹر کے تحت سردار اگر بلوچستان نیشنل اسمبلی کا ممبر بننا چاہے گا تو اسے سرداری سے مستعفیٰ ہونا پڑے گا، آزاد بلوچستان میں سردار ہو یا کہ عام بلوچ وہ ایک ہی ووٹ استعمال کر کے اپنے نمائندے منتخب کر سکیں گے۔

Share on
Previous article

حکمت عملی ، طریقہ کار سمیت نقطہ نظر کو لیکر ہمارے جدوجہد میں اختلافات کی نوعیت نظریاتی رخ اختیار کرتے جارہے ہیں- بلوچ لبریشن آرمی کے کمانڈر بلوچ خان

NEXT article

Balochistan’s Man in Makran: Optimist, Freedom Fighter, Canary in the Coal Mine

LEAVE A REPLY