بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے مرکزی چیئرمین زاہد بلوچ(بلوچ خان) اغواء

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے مرکزی چیئرمین زاہد بلوچ(بلوچ خان) اغواء

2020-03-26 17:00:12
Share on

مارچ 2014کو بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے مرکزی چیئرمین زاہد بلوچ(بلوچ خان) کو پاکستانی خفیہ اداروں نے ایف سی کے ہمراہ شام پانچ بجے چھاپہ مار کر انہیں جبری طور پر اغواء کرکے لاپتہ کردیا۔ سینیئر وائس چےئرپر سن کر یمہ بلو چ
( مقبوضہ بلوچستان ، بی یوسی نیو ز )بلو چ اسٹوڈنٹس آرگنا ئز یشن (آزاد) کے سینیئر وائس چےئرپر سن کر یمہ بلو چ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم اس اُمید کے سا تھ یہاں آپ لو گو ں کے سامنے ایک اہم سیاسی مسئلے کے با رے میں ذکر کر نے جا رہے ہیں ،کیونکہ دنیا کی تا ریخ لکھنے میں معاون آپ صحافی طبقہ ہر وقت مظلوم و محکوم ا قوام اور پسے ہوئے طبقات کے ظلم و ناانصافی کے خلاف جدوجہد میں انکی آوازبنتا چلاآرہا ہے۔ ہم اس وجہ سے اس اہم مسئلے کو آپ لو گو ں کے سامنے پیش کر رہے ہیں تا کہ آپ ہماری سیاسی آواز کو اقوامِ عالم اوردنیا کے مختلف انسان دوست اداروں تک پہنچایا جا سکیں ۔ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (آزا د)پر امن جمہوری جدوجہد پر یقین رکھنے والی ترقی پسند طلباء تنظیم ہے ، جو بلوچ قومی حقوق بشمولِ بنیادی حق آزادی کیلئے پر امن طریقے سے جدو جہد کر رہی ہے ۔اس کی بنیادی اساس ہی یہ فلسفہ ہے کہ بلوچ قوم کی بنیادی حق آزادی کیلئے پر امن طریقوں کو بروئے کار لاکر ایک روشن بلوچ مستقبل کی داغ بیل ڈالی جائے اور بلوچ قوم کو دنیا کے دوسرے ترقی یافتہ اقوام کے ہمسر بنایا جائے ۔اپنے مقاصد کے حصول کیلئے بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کا طریقہ کار بھی شروع دن سے ہی واضح اور کھلی رہی ہے ۔ ہم جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں اور پر امن جمہوری جدوجہد کی نا صرف وکالت کرتے ہیں بلکہ اس پر عملی طور پر گامزن بھی ہیں ۔ اپنے نظریات کو معروضی حالات سے ہم آہنگ کرنے اور بلوچ سماج کے بنیادی اقدار برداشت ، رواداری اور مستقل مزاجی کو اپنے اندر ڈھال کر مقصد کیلئے کوشاں رہنے کیلئے ہم بلوچ طلباء کی سیاسی تربیت ، ان کے تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور بلوچ سماج کے اندر ایک پر امن طریقے سے متحرک رہنے کے فلسفہ پر عمل پیر اہیں ۔عدم تشدد اور پر امن طریقے سے سیاست کا یہ راستہ روز اوّل سے ہی بی ایس او آزاد کیلئے ایک وادی پرُ خار ثابت ہوا ہے، لیکن قدم قدم پر صعوبتوں اور مصائب کا سامنا کرنے کے باوجود بلوچ طلباء بی ایس او( آزاد) کے پلیٹ فارم سے اپنا کردار خندہ پیشانی اور مو ثر طریقے سے نبھاتے رہے ہیں ۔ کوئی بھی ملک جو جمہوریت پر یقینی رکھتی ہو اس کو چاہیئے کہ وہ جمہوریت کے ان بنیادی ا قدار آزادی اظہارِ رائے اور تنظیم کاری کی آزادی کے مسلمہ اور آفاقی اصولوں کو بھی اپنا شعار بناکر ان پر عمل کرے ۔ ایک جمہوری معاشرے میں آپ کوئی بھی سیاسی نظریہ رکھتے ہوں ، جب تک کہ آپ پر امن طریقے سے اس پر گامزن ہیں آپ کو اس پر عمل پیرا رہنے کی اجازت ہوتی ہے ، اس کی واضح مثال امریکہ کے کئی ریاستوں کا اپنے آزادی کیلئے مطالبے پیش کرنا ہے ، جہاں مطالبہ آزادی پیش کرنے کے باوجود ان کو غدار اور واجب القتل قرار دینے کے بجائے ان کی رائے کا احترام کیا جاتا ہے اور یہی جمہوریت اور کسی جمہوری معاشرے کا حسن ہوتا ہے ۔ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (آزاد) بھی اپنا یہ بنیادی حق استعمال کرکے بلوچ قومی آزادی کے فکر و فلسفے پر ایک پر امن طریقے سے گامزن ہے ۔ گو کہ بی ایس او آزاد اپنے بنیادی جمہوری حق کو استعمال کرکے پر امن جمہوری جدوجہد کر رہی ہے لیکن پاکستان میں کچھ قوتیں جو ہمیشہ جمہوریت مخالف رجحانات رکھتے آئے ہیں انہیں بی ایس او( آزاد) کا یہ جمہوری جدوجہد بھی کسی طور ہضم نہیں ہو پارہا اسی لیئے گذشتہ 5 سال سے بی ایس او( آزاد) کے خلاف ایک غیر اعلانیہ کریک ڈاؤن مکمل زور شور سے جاری ہے ۔اس دوران نا صرف بی ایس او آزاد جیسی ترقی پسند پر امن سیاسی طلباء جماعت کو کالعدم قرار دیا گیا بلکہ پوری ریاستی مشینر ی استعمال کرکے ہمارے سینکڑوں کارکنوں کو لاپتہ اور درجنوں کو شہید کیا جاچکا ہے ، لیکن ان تمام مصائب اور خطرات کے باوجود بی ایس او( آزاد) اپنے بنیادی فلسفے ’’ پر امن جمہوری جد و جہد ‘‘سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹا اور اسکے کارکنا اور رہنماء نیلسن منڈیلہ اورمارٹن لوتھر کنگ کی طرح لاٹھیاں اور گولیاں سینے پر برداشت کرتے چلے آرہے ہیں ۔بی ایس او (آزاد) آج جو جدوجہد کر رہی ہے ، اس کی اجازت اسے نہ صرف جمہوریت کے درخشاں اصول دیتے ہیں بلکہ یہ عالمی ضابطوں کے عین مطابق بھی ہے ، لیکن ہمارے لئے مصائب کے دروازے بند ہونے کے بجائے روز بروز بڑھتے جارہے ہیں ۔ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (آزاد) مسلسل ریاستی بربریت کا سامنا کر رہا ہے ۔ ریاستی فورسز کے ایک بڑے کریک ڈاؤن کا سامنا بی ایس او( آزاد) کو گذشتہ ماہ یعنی مارچ کی 18 تاریخ کوکرنا پڑا۔ آج آپ سب صحافی حضرات کے سامنے میں اسی واقعے کی تفصیلات اور اس کے متعلق اپنی حکمت عملی بیان کرنے کیلئے حاضر ہوئی ہوں ۔ مارچ 2014کو بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے مرکزی چیئرمین زاہد بلوچ(بلوچ خان) تنظیمی کاموں کے سلسلے میں کوئٹہ میں موجود تھے اور بلوچ طلباء سے رابطے میں رہ کر ان کی سیاسی و فکری تربیت میں مصروفِ عمل تھے لیکن ان کے اس جمہوری اور پر امن جدوجہد سے خائف پاکستانی خفیہ اداروں نے ایف سی کے ہمراہ شام پانچ بجے چھاپہ مار کر انہیں جبری طور پر اغواء کرکے لاپتہ کردیا ۔اس واقعے کے چشم دید گواہان مجھ سمیت بی ایس او(آزاد) کے دیگر تین ذمہ دار افراد ہیں۔جسکی گواہی دینے کیلئے ہم عالمی عدالتِ انصاف سمیت دنیا کی کسی بھی عدالت کے سامنے پیش ہونے کو تیار ہیں۔اسکے علاوہ جائے وقوعہ پر عام افراد کی بھی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ ایک طویل عرصے تک ہم یہ انتظار کرتے رہے کہ ہمارے چیئرمین کو منظر عام پر لایا جائے گا۔مگرہمارا انتظار صرف انتظار ہی رہا۔ ان نا مصائب حالات میں بھی ہم نے اپنے مرکزی کمیٹی کا اجلاس بلاکر کئی دن اس مسئلے پر بحث کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ بی ایس او(آزاد) ایک پُر امن جمہوری تنظیم ہے اور اپنے چیئر مین کی رہائی کیلئے پر امن احتجاج کی آخری حد تک تمام راہیں اپنائیں گے۔
بی ایس او آزاد ایک پرامن سیاسی و جمہوری طلبا تنظیم ہے مگر اس کے باوجود مسلسل ظلم و جبرکا شکار ہوتا چلا آرہا ہے۔ اس لیئے یہ نا صرف آپ جیسے سچائی کے علمبردار صحافی حضرات بلکہ تمام قوم دوست ، انسان دوست اور عالمی جمہوری تنظیموں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ہمارے خلاف ہونے والے اس کریک ڈاؤن کیخلاف آواز بلند کریں اور ہمارے پر امن احتجاج میں ہمارا بھر پور ساتھ دیکر اپنا اخلاقی فریضہ سرانجام دیں۔ بلوچستان میں روز بلوچوں کے لاپتہ ہونے اور بعد ازاں ان کی مسخ شدہ لاشوں کی تواتر کے ساتھ برآمدگی کے بعد ہمیں بی ایس او (آزاد) کے مرکزی چیئرمین زاہد بلوچ(بلوچ خان) کی زندگی کے حوالے سے سنگین خدشات لاحق ہیں لہٰذا ہم تمام انسان دوست اور جمہوری تنظیموں ، انسانی حقوق کے علمبردار عالمی اداروں، سول سوسائٹی اور سچ کے پرچار کرنے والے صحافی برادری سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بی ایس او (آزاد) کے مرکزی چیئرمین زاہد بلوچ (بلوچ خان ) سمیت بی ایس او( آزاد) کے تمام لاپتہ کارکنوں کی بحفاظت بازیابی میں اپنا کردار ادا کریں اور ہمارے پر امن احتجاج میں ہمارا بھر پور ساتھ دیں۔
مرکزی کمیٹی میں کئی دن کے بحث و مباحثے کے بعد کیے گئے فیصلے کی روشنی میں ہم اپنے مرکزی رہنماؤں کی بازیابی کیلئے تادم مرگ بھوک ہڑتال کا اعلان کرتے ہیں ۔اس ضمن میں ہمارے مرکزی کمیٹی کا ایک ممبر تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھ جائے گا اور جب تک ہمارے مرکزی چیئرمین کو منظر عام پر نہیں لایا جاتا تب تک ہمارا یہ تادم مرگ بھوک ہڑتا ل جاری رہے گا۔ہم نے اقوام متحد ہ کو بھی درخو است دی ہے کہ وہ ہما رے اس پرامن جمہوری احتجا ج کیلئے ہمیں سیکورٹی فراہم کرے ۔کیو نکہ ہم یہا ں عدم تحفظ کا شکا ر ہیں اورہما رے اس جمہوری احتجاج کا مقصد صر ف اور صر ف اپنے چیئرمین کی با زیا بی ہے۔اس لئے ہم اقوام متحدہ، انسان حقوق کے اداروں سمیت دنیا کے تمام جمہوری قوتوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بی ایس او(آزاد) کے چیئرمین کی بازیابی کیلئے حکومت پاکستان اور پاکستان کے عسکری اداروں پر دباؤ ڈالیں۔

Share on
Previous article

نامه جمعی از علمای اهل سنت که خواستار اعزام هئیت تحقیق در مورد ترورعلمای اهل سنت درایران هستند

NEXT article

بلوچستــــانءِ هیروشیمـــا

LEAVE A REPLY

MUST READ

بلوج ریاستی پروپیگنڈه هانی بهر مہ بنت، بلوچ لبریشن آرمیءِ باسکانی شیهد ءُ دستگرکنگ حکومتی پروپیگنڈه ایت

بلوج ریاستی پروپیگنڈه هانی بهر مہ بنت، بلوچ لبریشن آرمیءِ باسکانی شیهد ءُ دستگرکنگ حکومتی پروپیگنڈه ایت

پِگــری گُلامـــی – چارمــی بهـــر

پِگــری گُلامـــی – چارمــی بهـــر

غارت گستردهٔ معادنِ بلوچستان اِشغالی

غارت گستردهٔ معادنِ بلوچستان اِشغالی

تجاربی خونین از مذاکرات با اشغالگران

تجاربی خونین از مذاکرات با اشغالگران

جنگریز مری وگزین مری،فکری کاروان میں شامل نہیں تھے:حیربیار مری

جنگریز مری وگزین مری،فکری کاروان میں شامل نہیں تھے:حیربیار مری

مارچ1948 ؁ کا قضیہ . کردگار بلوچ

مارچ1948 ؁ کا قضیہ . کردگار بلوچ

پاکستان چین کی مفادات کی خاطر بلوچوں کا بے رحمی سے قتل عام کررہا ہے: حیر بیار مری

پاکستان چین کی مفادات کی خاطر بلوچوں کا بے رحمی سے قتل عام کررہا ہے: حیر بیار مری

بلوچ عوام پاکستان کے ساتھ رہنے کی خواہشمند نہیں ہیں- حیربیار مری

بلوچ عوام پاکستان کے ساتھ رہنے کی خواہشمند نہیں ہیں- حیربیار مری

میر دوست مھمد ھان ءَ چو میر مھراب ھان ءِ وڑا سر جَھل نہ کرتگ اَت ءُ ایرانی بادشاہانی گُلامی نہ منّ اتگ اَت ۔ ھیر بیار

میر دوست مھمد ھان ءَ چو میر مھراب ھان ءِ وڑا سر جَھل نہ کرتگ اَت ءُ ایرانی بادشاہانی گُلامی نہ منّ اتگ اَت ۔ ھیر بیار

بلوچ راجی مزن جهدکار واجہ عبدالصمد امیریءِ زندتاک، دیوانے گون واجہ اسماعیل امیریءَ – دومی بهر

بلوچ راجی مزن جهدکار واجہ عبدالصمد امیریءِ زندتاک، دیوانے گون واجہ اسماعیل امیریءَ – دومی بهر

ریڈیو گوانکءِ گپ و ترانے گون شهید غلام محمد بلوچءَ چا تربتءِ تهانہءَ 25 ستمبر 2007 ءَ رند چا آئیءِ بیگواهیءَ تربتءَ تهانہءِ یآرگ بوت هما درگت ما آئیءِ بیگواهیءِ حال چا آئیءَ جست کت

ریڈیو گوانکءِ گپ و ترانے گون شهید غلام محمد بلوچءَ چا تربتءِ تهانہءَ 25 ستمبر 2007 ءَ رند چا آئیءِ بیگواهیءَ تربتءَ تهانہءِ یآرگ بوت هما درگت ما آئیءِ بیگواهیءِ حال چا آئیءَ جست کت

نوکترين حال

نوکترين حال

پگری گلامی – گُڈی بهر

پگری گلامی – گُڈی بهر

واکنش مسئولانه مردمی به درگیری بین بی۰ ال۰ اف و جیش العدل

واکنش مسئولانه مردمی به درگیری بین بی۰ ال۰ اف و جیش العدل

مسعود بارزانی کی طرف سے کردستان کی آزادی کی ریفرنڈم پر سمجھوتہ نہ کرنا خوش آئند ہے: حیربیار مری

مسعود بارزانی کی طرف سے کردستان کی آزادی کی ریفرنڈم پر سمجھوتہ نہ کرنا خوش آئند ہے: حیربیار مری