بلوچ کمانڈر کیساتھ انٹرویو: بلوچستان میں چین کی موجودگی بھارت کو غیر مستحکم کرے گا انٹرویو: وکی ننجپّا

بلوچ کمانڈر کیساتھ انٹرویو: بلوچستان میں چین کی موجودگی بھارت کو غیر مستحکم کرے گا انٹرویو: وکی ننجپّا

2020-03-31 10:16:21
Share on

ان کا گروہ بلوچستان میں پاکستانی جہادیوں کیخلاف لڑرہا ہے۔ 2004 میں بلوچستان لبریشن فرنٹ یا ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کی زیر قیادت بی ایل ایف نے گوادر میں چینی انجینئروں پر حملوں کی ذمہ داری قبول کی۔
ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ ایک طلائی تمغہ یافتہ ڈاکٹر سے گوریلا رہنما بنے جو بلوچستان میں سب سے زیادہ طاقتور بلوچ مزاحمتی گروہوں میں سے ایک بلوچستان لبریشن فرنٹ یا بی ایل ایف کی قیادت کررہے ہیں۔
بلوچ قوم پرستی ایک تحریک ہے جسکا دعویٰ ہے کہ بلوچ عوام بنیادی طور پر پاکستان، ایران اور افغانستان میں بسنے والا ایک نسلی و لسانی گروہ ہے جو کہ ایک علیحدہ قوم ہیں۔
تحریک اس نقطہ نظر کا پرچار کرتا ہے کہ مسلمان کوئی قوم نہیں ہیں اور یہ کہ نسلی و ثقافتی وفاداریاں مذہبی وفاداریوں سے بالاتر ہیں اگرچہ یہ نقطہ نظر دونوں لحاظ سے چیلنج ہوا ہے، اول 1971 میں مشرقی پاکستان کی آزادی سے اور دوم بہت سے مہاجروں کو تاریخی طورپر پاکستان کے اندر امتیازی سلوک کا سامنا کرنے سے۔ (وکیپیڈیا)
ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کہتے ہیں بدمعاش آئی ایس آئی بلوچ تحریک آزادی کو کچل رہی ہے۔ ون انڈیا کے ساتھ اس خصوصی انٹرویو میں ڈاکٹر اﷲ نذر نے، چینیوں کی پاکستانیوں کی مدد سے بلوچستان میں داخل ہونے کی کوششوں سے لیکر بھارت بلوچستان میں جو کردار ادا کر سکتا ہے، تفصیل کیساتھ کئی مسائل پر بات کی ہے ۔

ون انڈیا: کیا پاکستان کی آئی ایس آئی بلوچ عوام پر اپنا جبر جاری رکھا ہوا ہے؟
ڈاکٹر اﷲنذر: اس میں کوئی شک نہیں۔ بدمعاش آئی ایس آئی بے دردی سے بلوچ تحریک آزادی کو کچل رہا ہے اور بلوچستان میں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ ہزاروں بلوچوں کوقتل اور ہزاروں کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے۔
ہزاروں مکانات فوجی کارروائیوں میں جلائے گئے ہیں۔ دنیا کی انسانی حقوق کی تنظیمیں بمشکل ہی اس مسئلے کی نشاندہی کرتے ہیں اور حتیٰ کہ بلوچستان ان کی فہرستوں میں جگہ تک نہیں بنا پاتا۔ 14 فروری 2015 کو ڈاکٹر ثناء اللہ بلوچ کو ان کے زیر حراست لاپتہ بیٹے صدام، جوکہ ایک پولیس اہلکار ہے، کی رہائی کیلئے آواران میں فوجی کیمپ آنے کیلئے کہا گیا۔ 18 فروری کو ڈاکٹر ثناء اللہ کی مسخ شدہ لاش سڑک کے کنارے پائی گئی۔ سینکڑوں دیہاتی انہی کیمپوں میں اسی فوج کی تحویل میں ہیں۔ یہ آئی ایس آئی کے جبر کی ایک سادہ سی مثال ہے۔ لیکن بین الاقوامی برادری اور میڈیا مجرمانہ طور پر خاموش ہیں۔
ون انڈیا: حال ہی میں پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے صوبوں پر زور دیا ہے کہ وہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت ہونے والے فیصلوں پر عملدرآمد کریں۔ اس پر آپکے خیالات کیا ہیں؟
ڈاکٹر اﷲنذر: جی ہاں۔ طالبان، لشکر جھنگوی اور لشکر طیبہ پاکستان کے اسٹراٹیجک اثاثے ہیں۔ پاکستان کا نیشنل ایکشن پلان اور فوجی عدالتیں بلوچ کیخلاف بنائے گئے ہیں۔ اب تک بلوچستان سے 152 مقدمات فوجی عدالتوں میں بھیجے گئے ہیں۔ اس کا انحصار دنیا پر ہے کہ وہ اسے کس طرح سے دیکھتے ہیں۔
ون انڈیا: بلوچستان میں چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کی اطلاعات ہیں۔ آپ ہمیں اس بارے میں مزید بتا سکتے ہیں؟
ڈاکٹر اﷲنذر: ظاہر ہے کہ بلوچستان میں چین کا کردار سامراجی ہے۔ یہ بلوچ تحریک آزادی کو کچلنے کیلئے پاکستان کی فوجی اور مالی لحاظ سے مدد کررہا ہے۔ اسوقت چینی فوج کا ایک بڑا یونٹ گوادر میں موجود ہے۔ پاکستان نے گوادر میں چین کو تین ہزار ایکڑ زمین الاٹ کی ہے۔ لہٰذا بلوچ قوم چین کو قابض کا ایک حصہ دار سمجھتا ہے۔ بلوچ قوم دونوں کیخلاف مزاحمت کریں گے۔
ون انڈیا: کیا بلوچستان میں ایران پاکستان کے ساتھ ملکر کام کرنا جاری رکھا ہوا ہے؟
ڈاکٹر اﷲنذر: ایران پاکستان کی طرح ایک مذہبی ریاست ہے۔ دونوں اسلام کے مختلف فرقوں کی قیادت کر رہے ہیں۔ لیکن بلوچ کے حوالے سے ان کا رویہ یکساں ہے۔
ون انڈیا: آپ بلوچستان میں کس کی موجودگی کو زیادہ خطرناک سمجھتے ہیں؟ چین کی یا ایران کی؟
ڈاکٹر اﷲنذر: چینی فوج کے اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد کیساتھ چین بلوچستان میں موجود ہے جوکہ بلوچ نسل کشی میں براہ راست ملوث ہیں۔ یہ نہ صرف بلوچ کیلئے بلکہ پورے خطے اور اس کے ساتھ ساتھ بھارت کیلئے بھی ایک خطرہ ہے۔ اب چین پاکستان سے نئی قانون سازی کا مطالبہ کررہا ہے۔ پاکستان اپنے اس غلیظ کھیل کے حصے کے طور پر چین کو یہ سب کچھ آئینی تحفظ کیساتھ دینے کیلئے تیار ہے۔
بلوچ کیلئے یہ قابل قبول نہیں ہے۔ میں اس بات کی بھی وضاحت کرتا چلوں کہ چین گوادر پورٹ کو ایک بحری اڈے کے طور پر بھی استعمال کر رہا ہے۔ چونکہ گوادر آبنائے ہرمز کے بہت قریب ہے۔ امریکہ اور بھارت اس کے بعد آنیوالے بھیانک نتائج کا سوچ بھی نہیں سکتے۔
ون انڈیا: بھارت بلوچ عوام کی جدوجہد کیلئے کس طرح سے مددگار رہا ہے؟
ڈاکٹر اﷲنذر: بھارت مددگار ہوسکتا ہے لیکن بھارت اور باقی دنیا پاکستان کے ہاتھوں بلیک میل ہو رہے ہیں۔ لہٰذا بلوچ دہشت گردی اور نسل کشی کا شکار ہیں اور دنیا خاموش ہے۔ بلوچ کے ہمسایہ ملک کے طور پر یہ بھارت کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ بلوچ کی حمایت کرے۔
ون انڈیا: کیا آپ کو لگتا ہے کہ گزشتہ حکومت کے مقابلے میں وزیر اعظم نریندر مودی کے تحت بھارت کی نئی حکومت بلوچستان کے عوام کیلئے کچھ کرے گی؟
ڈاکٹر اﷲنذر: دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے طور پر بھارت اور مہذب دنیا کو ایک آزاد بلوچستان کی اہمیت کا احساس ہونا چاہئے۔ بھارت ایک آزاد بلوچ ریاست کے بغیر بحری برتری حاصل نہیں کر سکتا۔
ون انڈیا: حالیہ رپورٹوں کے مطابق داعش پاکستان کے کئی حصوں میں ڈیرے جمارہی ہے۔ کیا داعش بلوچستان میں بھی مسئلہ پیدا کررہی ہے؟
ڈاکٹر اﷲنذر: داعش بلوچستان میں لشکر جھنگوی، لشکر خراسان، لشکر طیبہ، انصار الاسلام کے نام پر موجود ہے۔ ان تمام انتہا پسند مذہبی تنظیموں کو بدمعاش پاکستانی آئی ایس آئی کی سرپرستی حاصل ہے۔ ان عناصر کی بلوچ تحریک کا مقابلہ کرنے اور تحریک آزادی سے توجہ ہٹانے کیلئے پرورش کی جارہی ہے اور انہیں پروان چڑھایا جارہا ہے۔ لیکن بلوچ ان انتہا پسندوں کو قوم پرستی کے نظریے کے ذریعے شکست دینے کیلئے پر عزم ہیں۔
ون انڈیا: بین الاقوامی برادری بلوچستان کے عوام کی کس حد تک حامی رہی ہے؟
ڈاکٹر اﷲنذر: بین الاقوامی برادری اپنا کردار ادا نہیں کر رہی ہے۔ لیکن بین الاقوامی برادری بلوچ قوم کو نظر انداز نہیں کرسکتی۔ ایک آزاد بلوچستان پوری مہذب دنیا کے مفاد میں ہے۔
ون انڈیا: کیا چیکوسلوواکیا طرز کا ایک حل آپ کی جدوجہد کیلئے مدد گار ہوگا؟
ڈاکٹر اﷲنذر: حل چاہے جو بھی ہو بلوچ ایک آزاد ملک چاہتے ہیں، خواہ یہ حل چیکوسلوواکیا طرز کا ہو یا بنگلہ دیش کی طرح کا۔ ہم تمام ریاستی مظالم اور اسکے پٹھوؤں کا سامنا کرنے کیلئے بالکل پرعزم ہیں، خواہ وہ اس کے جہادی ہوں یا قاتل دستے۔

بشکریہ: ون انڈیا ڈاٹ کام
تاریخ اشاعت : پیر، 23 فروری، 2015

Share on
Previous article

27 March Black Day – Baloch Nation Rejects Forceful Occupation of Balochistan

NEXT article

ماتی زبان – گوس بھاربلوچ

LEAVE A REPLY

MUST READ

جیش العدل کے کمانڈر ایوب بلوچ سے هماری گفتگو کا خلاصہ

جیش العدل کے کمانڈر ایوب بلوچ سے هماری گفتگو کا خلاصہ

مـاتـی زبانءِ میان اُستمانـی روچ

مـاتـی زبانءِ میان اُستمانـی روچ

پاکستانی الیکشن بلوچ سرزمینءِ سرا

پاکستانی الیکشن بلوچ سرزمینءِ سرا

تربت: فورسز نے محاصرہ شدہ مکان سے خاتون کو دو بچوں سمیت نامعلوم مقام پہ منتقل کر دیا

تربت: فورسز نے محاصرہ شدہ مکان سے خاتون کو دو بچوں سمیت نامعلوم مقام پہ منتقل کر دیا

واھگ منی جِندے نہ انت ، تو مُرواریدین ارسان مگوار

واھگ منی جِندے نہ انت ، تو مُرواریدین ارسان مگوار

بلـوچ ءِ هـوں هم سُهـر اِنت

بلـوچ ءِ هـوں هم سُهـر اِنت

بلوچستانءِ نوکترین – ریڈیو حال

بلوچستانءِ نوکترین – ریڈیو حال

Baloch Women Organization Protest

Baloch Women Organization Protest

شهید ڈاکٹر منانءَ سلح بندین جهدءِ کمانڈر گواشگ سرفراز بگثیءِ نازانتی انت – حمل حیدر

شهید ڈاکٹر منانءَ سلح بندین جهدءِ کمانڈر گواشگ سرفراز بگثیءِ نازانتی انت – حمل حیدر

شاهرودی مسئول اعدام صدها بلوچ است

شاهرودی مسئول اعدام صدها بلوچ است

اسکاٹ لینڈ اور بلوچستان – کردگار بلوچ

اسکاٹ لینڈ اور بلوچستان – کردگار بلوچ

بلوچستان سمینار اسٹوکھولم سویڈنءَ بلوچ قوم دوست رھنما حیر بیار مریءِ تران

بلوچستان سمینار اسٹوکھولم سویڈنءَ بلوچ قوم دوست رھنما حیر بیار مریءِ تران

کوششوں کے باوجود قومی اتحاد اور اصولی اشتراک عمل کے حوالے سے نہ کوئی پیش رفت ہو رہی ہے نہ ہی کسی قسم کے مزاکرات ہو رہے ہیں۔ مزاکراتی کمیٹی کا بیان

کوششوں کے باوجود قومی اتحاد اور اصولی اشتراک عمل کے حوالے سے نہ کوئی پیش رفت ہو رہی ہے نہ ہی کسی قسم کے مزاکرات ہو رہے ہیں۔ مزاکراتی کمیٹی کا بیان

جنگی مجرم مشرف ءِ رسوایی

جنگی مجرم مشرف ءِ رسوایی

شکست ایران بعنوان یک واحد سیاسی – جغرافیایی بخش دوم

شکست ایران بعنوان یک واحد سیاسی – جغرافیایی بخش دوم