بلوچ کی عدم شرکت سے گوادر حوالے کوئی بھی معاہدہ خطے میں انتشار کا باعث بنے گا ۔ حیربیار مری

MUST READ

آزمونی سرنوشت ساز برای ملت بلـوچ

آزمونی سرنوشت ساز برای ملت بلـوچ

نوکترین حال

نوکترین حال

بلوچستان سمینار اسٹوکھولم سویڈنءَ بلوچ دانشور واجہ شبیر بلوچءِ تران

بلوچستان سمینار اسٹوکھولم سویڈنءَ بلوچ دانشور واجہ شبیر بلوچءِ تران

هجوم لشکر تمدن ستیز خامنه ای و العبادی به کوردستان مستقل

هجوم لشکر تمدن ستیز خامنه ای و العبادی به کوردستان مستقل

ﺑﻠﻮﭼﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﺀِ ﻧﺎﻣﺪﺍﺭﯾﮟ ﺷﺎﺋﺮ ﺀُ ﮐﻮﺍﺱ ﺟﯽ۔ ﺁﺭ۔ ﻣُﻼ ﺑﯿﺮﺍﻥ ﺑﯿﺘﮓ

ﺑﻠﻮﭼﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﺀِ ﻧﺎﻣﺪﺍﺭﯾﮟ ﺷﺎﺋﺮ ﺀُ ﮐﻮﺍﺱ ﺟﯽ۔ ﺁﺭ۔ ﻣُﻼ ﺑﯿﺮﺍﻥ ﺑﯿﺘﮓ

شهید فدا احمد پارلیمانی سیاست کنوکانی شازش هانی آماچ بوت – گپ و ترانے گون بلوچ سیاسی جهدکاران شهید فدا احمدءِ بابتءَ

شهید فدا احمد پارلیمانی سیاست کنوکانی شازش هانی آماچ بوت – گپ و ترانے گون بلوچ سیاسی جهدکاران شهید فدا احمدءِ بابتءَ

بیست ءُ یک فروری ماتی زبانانی میان اُستمانی روچءِ بابتءَ گپ وترانے گون بانک کارینا جهانیءَ

بیست ءُ یک فروری ماتی زبانانی میان اُستمانی روچءِ بابتءَ گپ وترانے گون بانک کارینا جهانیءَ

بولان میڈیکل کالجءَ 30 بلوچ اسٹوڈنٹس کوئٹہ پولیسءَ دستگر کت

بولان میڈیکل کالجءَ 30 بلوچ اسٹوڈنٹس کوئٹہ پولیسءَ دستگر کت

شھید الیاس نزرءِ ماتءِ کلوّہ

شھید الیاس نزرءِ ماتءِ کلوّہ

گپ و ترانے گون بلوچ جهدکار واجه عبدالستار پُردلیءِ چا اوغانستانءَ بلوچ جیڑاهانی سرا

گپ و ترانے گون بلوچ جهدکار واجه عبدالستار پُردلیءِ چا اوغانستانءَ بلوچ جیڑاهانی سرا

نیوکاہان کوئٹہ پاکستانی قابض فورسز کی دہشتگردانہ کاروائیاں جاری150کے قریب افراد اغوا

نیوکاہان کوئٹہ پاکستانی قابض فورسز کی دہشتگردانہ کاروائیاں جاری150کے قریب افراد اغوا

تربتءَ ڈاکٹر کالونیءِ بلوچ چک ءُ جنیانی محاصرهءِ بابتءَ گلگدارے گون ایچ آر سی پی کیچءِ واجہ غنی پروازءَ

تربتءَ ڈاکٹر کالونیءِ بلوچ چک ءُ جنیانی محاصرهءِ بابتءَ گلگدارے گون ایچ آر سی پی کیچءِ واجہ غنی پروازءَ

گروہی سوچ اور منتشر بلوچ قوت – اداریہ

گروہی سوچ اور منتشر بلوچ قوت – اداریہ

Gwank.org now available for Andorid Mobile

Gwank.org now available for Andorid Mobile

کچھ کو ترجیج دینا اور دوسروں کو نظر انداز کرنا یو ین کے مقصد پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ حیربیار مری

کچھ کو ترجیج دینا اور دوسروں کو نظر انداز کرنا یو ین کے مقصد پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ حیربیار مری

بلوچ کی عدم شرکت سے گوادر حوالے کوئی بھی معاہدہ خطے میں انتشار کا باعث بنے گا ۔ حیربیار مری

2020-03-26 12:48:21
Share on

لندن / بلوچ قوم دوست رہنما حیربیار مری نے 148گوادر میں سرمایہ کاری147 کے موضوع پہ دبئی میں منعقدہ کانفرنس کے حوالے سے کہا ہے کہ اقوام عالم بالخصوص امریکہ کو پاکستان کی دوغلی پالیسیوں ،مذ ہبی دہشت گردی کو فروغ دیتے ہوئے خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کے عمل و کردار اور بلوچ قوم و بلوچ سرزمین پہ اس کی جبری قبضہ گیریت کو پیش نظر رکھ کر ہی پاکستان سے کسی قسم کا تعلق مرتب کرنا چاہئے ، کیونکہ اگر دنیا کی مقتدرہ قوتوں نے چین کی توسیع پسندانہ عزائم ، روس ، چین و پاکستان کی مفاد پرستانہ قربت ، پاکستان کی ماضی و حال میں افغانستان میں دہشت گردانہ کردار اور ہندوستان کو مذہبی دہشت گردی کے ذریعے غیرمستحکم کرنے کے عمل کو نظر انداز کرتے ہوئے بلوچ قومی آزاد ریاست کی بحالی کے بغیر 146گودار147 کے حوالے سے کوئی بھی منصوبہ یا معاہدہ کرلیا تو یہ عمل خطے میں مزید عدم استحکام و انتشار کا باعث بنے گا ، حیربیار مری نے مزید کہا ہے کہ بلوچ قومی ملکیت گوادر سنٹرل ایشاء،جنوبی ایشیاء، خلیج اور بحر بلوچ کے سنگم پہ واقع ہونے اور آبنائے ہرمز کے قریب تر ہونے کی وجہ سے معاشی ، دفاعی اور تجارتی اہمیت کا حامل ہے،گوادر کی اسی اہمیت کے پیش نظر پاکستان نے من مانی کرتے ہوئے چین سے اس کا سودا کرلیا ہے ، جو بلوچ قوم کےلئے ہرگزقابل قبول نہیں ،کیونکہ چین و پاکستان اپنے مفادات کےلئے نہ صرف بلوچ آزادی پسندوں کے وجود کو ختم کرنے کے در پے ہیں بلکہ پاکستان سیکولر بلوچ سماج میں مذہبی رجحانات کو تیزی سے فروغ دے رہا ہے، پاکستان ایک طرف تو بلوچ قومی وسائل کو بلوچوں کے منشاءو مرضی کے خلاف جبراً چین کے حوالے کررہا ہے دوسری طرف چین کیلئے ایک مضبوط و محفوظ تجارتی و معاشی راہداری کیلئے بلوچستان کے طول و عرض میں چین کے عسکری و مالی معاونت سے بلوچوں کے خلاف آپریشنوں میں تیزی لاتے ہوئے بلوچ نسل کشی کے شدت میں اضافہ کردیا ہے ، چین و پاکستان اس سعی لاحاصل میں مشغول ہیں کہ کسی طور بلوچوں کو دیوار سے لگاکر گوادر پروجیکٹ کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے کیونکہ اس وقت بلوچ آزادی پسند قوتیں ہی اس منصوبے کے سامنے رکاوٹ ہیں اگر چین پاکستان کے اشتراک سے گوادر پورٹ اور گوادر تا کاشغر شاہراہ کو تکمیل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو اس سے خطے میں بڑی تبدیلیاں آئیں گے جو نا صرف بلوچ سماج میں منفی مردم نگارانہ تبدیلیاں لاکر بلوچوں کو اقلیت میں تبدیل کردیں گی بلکہ اس اہم ترین اسٹرٹیجک بندرگاہ پر قابو پانے کے بعد چین اس خطے میں اپنی تسلط مظبو ط کرکے تبت کے لوگوں کی طرح باقی اقوام کی زندگی بھی اجیرن کرنے کے ساتھ ساتھ ا س خطے میں طاقت کے توازن کو متاثر کرتے ہوئے مزید بد امنی کا باعث بن جائے گا ۔ یہ عمل عالمی امن کو مزید انتشار و مشکلات سے دوچار کرنے کا موجب بن سکتا ہے، بلوچ قوم کےلئے تشویشناک صورتحال یہ ہے کہ پاکستان کی دوغلی پالیسی کو دیکھنے اور سمجھنے کے باوجود امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے ایک ارب ڈالر کے فوجی سازوسامان کی فروخت کی منظوری دی گئی ہے، اب یہ لازمی امر ہے کہ بارک اوبامہ انتظامیہ اور کانگریس کو اس کی منظوری کی توثیق سے قبل اس صورتحال کو پیش نظر رکھنا چاہیے کہ یہ فوجی سازو سامان خطے میں دہشت گردی کے خاتمے کے بجائے ایک جانب بلوچ آزادی پسندوں کے خلاف استعمال ہونگے وہیں پاکستان اپنی مذہبی شدت پسندانہ پالیسی کی وسعت و مفادات کی خاطر ان عسکری سازوسامان کو افغانستان اور ہندوستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کیلئے اپنے اثاثے مذہبی دہشت گردوں کے ہاتھوں تھما دے گا ، بلوچ قوم دوست رہنما نے مزید کہا ہے کہ اوباما انتظامیہ کو ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ کرنے پر بھی نظر ثانی کرنا چاہیے، کیونکہ پاکستان کی طرح ایران بھی گولڈ سمڈ لائن کے تحت بلوچستان کے مغربی حصے پہ قابض ہے، پاکستان کی طرح بلوچ آزادی پسندوں سیاسی کارکنوں کی جبری اغواءاور انھیں سرعام پھانسی دینے جیسے جرائم میں ملوث ہے، اور جس طرح آج پاکستان کے ایٹمی اثاثے مذہبی دہشت گردوں کی وجہ سے دنیا کےلئے خطرے کا باعث بنے ہوئے ہیں، اسی طرح ایران کی ایٹمی اثاثے بھی دنیا کو مزید خطرات سے دوچار کریں گے ، ایران اس وقت خطے میں مظلوم قوموں بشمولِ بلوچ ، آزربائیجان کے ترک ، الاحواض کے عرب ، کرد اور دیگر اقوام کیلئے خطرہ بنا ہوا اور انکے حقوق غصب کررہا ہے دوسری طرف امن عالم کیلئے ہمیشہ ایک دہشت کی علامت بنا ہوا ہے ، اس طرز کے دہشت گردانہ ریاست ہمیشہ سے امن عالم کوتہہ و بالا کرنے کا موجب بنتے رہے ہیں ، اب دنیا کو اس جانب متوجہ ہونا چاہیے کہ بلوچ ایک آزاد و خود مختار قوم تھا ، اس کی اپنی آزاد و خود مختار ریاست تھی، لہذا جس طرح دنیا کے مقتدرہ قوتوں نے عراقی قبضے کے خلاف کویت کی مدد کی اسی طرح ان عالمی طاقتوں کو پہل کرکے آزاد بلوچ ریاست کے قیام کےلئے کردار ادا کرنا چاہیے، کیونکہ ایک آزاد بلوچ ریاست ہی خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے۔


Share on
Previous article

سیاسی کارکن سلیمان بلوچ اور دوسرے شہدا کے کاروان کو آگے لے جانے کی بھر پور صلاحیت رکھتے ہیں۔ خلیل بلوچ

NEXT article

دُزّآپ ءِ بُلـوارِ (زاهدانِءِ چوک) بلوچستـــان

LEAVE A REPLY