جماعت اسلامی اور 20 اکتوبر1914 ؁ کی قومی کانفرنس – کردگار بلوچ

MUST READ

بیست ءُ یک فروری ماتی زبانانی میان اُستمانی روچءِ بابتءَ گپ وترانے گون ملاّ

بیست ءُ یک فروری ماتی زبانانی میان اُستمانی روچءِ بابتءَ گپ وترانے گون ملاّ

‫عبد الرئوف ریگی ترورشد

‫عبد الرئوف ریگی ترورشد

شھید الیاس نزرءِ ماتءِ کلوّہ

شھید الیاس نزرءِ ماتءِ کلوّہ

هم اور نوید بلوچ جیسے هزاروں بلوچ خود پاکستانی ریاستی دهشتگری کا شکار هیں – وحید بلوچ برلن جرمنی

هم اور نوید بلوچ جیسے هزاروں بلوچ خود پاکستانی ریاستی دهشتگری کا شکار هیں – وحید بلوچ برلن جرمنی

جنگ عــرب و عجم

جنگ عــرب و عجم

پاکستان وایران کا بلوچ قومی جہد کے خلاف ہمیشہ سے ایک قریبی تعاون رہا ہے:حیربیارمری

پاکستان وایران کا بلوچ قومی جہد کے خلاف ہمیشہ سے ایک قریبی تعاون رہا ہے:حیربیارمری

واجہ غلام رضا حسین برءِ کلو پا بلوچ راجءَ

واجہ غلام رضا حسین برءِ کلو پا بلوچ راجءَ

سچ وہی جو جھوٹا بولے – کردگار بلوچ

سچ وہی جو جھوٹا بولے – کردگار بلوچ

گپ ءُ ترانے گون شهید غلام محمد بلوچ 28 اپریل 2008

گپ ءُ ترانے گون شهید غلام محمد بلوچ 28 اپریل 2008

بلوچ عوام دشمن کے عزائم خاک میں ملانے میں کامیاب ہوئے ، اس موقع پر بلوچ عوام کا شکر گزار ہوں۔تمام بلوچ پارٹیوں اور تنظیموں کو اپنے گروہی و انفرادی مقاصد کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے ایک اصولی یکجہتی اور ہم آہنگی کیلئے آگے بڑھنا چاہئے ۔بلوچ قوم دوست رہنما حیربیار مری

بلوچ عوام دشمن کے عزائم خاک میں ملانے میں کامیاب ہوئے ، اس موقع پر بلوچ عوام کا شکر گزار ہوں۔تمام بلوچ پارٹیوں اور تنظیموں کو اپنے گروہی و انفرادی مقاصد کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے ایک اصولی یکجہتی اور ہم آہنگی کیلئے آگے بڑھنا چاہئے ۔بلوچ قوم دوست رہنما حیربیار مری

بلوچستانءَ انسانی حقانی لگتمالی ءُ زوراکیانی آماچ بوتگین بلوچانی فریات – دُومی بهر

بلوچستانءَ انسانی حقانی لگتمالی ءُ زوراکیانی آماچ بوتگین بلوچانی فریات – دُومی بهر

حربه های ضدبشری فاشيسم تماميت خواه پارس در بلوچستان اشغالی

حربه های ضدبشری فاشيسم تماميت خواه پارس در بلوچستان اشغالی

آج تک ٹی ويءِ گپ ترانے گون بلوچ قوم دوست رھنما واجہ حیربیار مريءً

آج تک ٹی ويءِ گپ ترانے گون بلوچ قوم دوست رھنما واجہ حیربیار مريءً

Attack On baloch Student In Preston University Islamabad 20410308

Attack On baloch Student In Preston University Islamabad 20410308

مـاتـی زبانءِ میان اُستمانـی روچ

مـاتـی زبانءِ میان اُستمانـی روچ

جماعت اسلامی اور 20 اکتوبر1914 ؁ کی قومی کانفرنس – کردگار بلوچ

2020-03-31 12:01:38
Share on

اس بات کا میں نے کئی بار اعتراف کیا ہے کہ اگر میری سرشت میں قوم پرستی کے بجائے مذھب پرستی ہوتی تو میں آج جماعت اسلامی کا ہی ایک رکن ہوتا ۔آج بھی مجھے کسی بھی دوسری مذھبی سیاسی جماعتوں سے بڑھ کر جماعت اسلامی کی آئین اور منشور زیادہ بہتر لگتی ہے۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ میں نے جماعت اسلامی کا جو مطامعہ کیا ہے تو مجھے ایسا لگاہے کہ اس کی منشور کی بنیاد مولانا مودودی ؒ کے ان دو جملوں کے مطابق ہے کہ (1) اسلامی حکومت ،بنیادی نظریہ:۔۔ یہ ملک خدا کا ہے وہی اُس کا حاکم ہے کسی شخص یا خاندان یا طبقہ یا قوم کو بلکہ پوری کائینات کو بھی حاکمیت(Sovereignty)کے حقوق حاصل نہیں ہیں، حق دینے اور قانون بنانے کا حق صرف خداکے لئے خاص ہے اور (2) ’’مسلمان اور غلامی۔۔۔۔۔۔یہ دونوں چیزیں ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتی۔مسلمان کے لئے ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ غلامی کی فضا میں اپنے دین کے تقاضوں کو پورا کر سکے۔اسلام اس وقت پوری طرح عمل ہو سکتا ہے جب انسان ساری بندشوں کو توڑ کر صرف خدا کا مطیع ہوجائے ۔اسلام غلبہ اور حکمرانی کے لئے آیا ہے دوسروں کی چاکری اور باطل نظاموں کے تحت جزوی اصطلاحات کے لئے نہیں آیا۔۔۔۔۔۔‘‘(تحریک آزادی ھند اور مسلمان،حصہ اول)۔ قومی غلامی کے حوالے سے مولانا مودودیؒ کا نظریہ ھم اُن کے ان جملوں سے اخذ کر سکتے ہیں ،ملاحظہ فرمائیے۔’’۔۔۔۔۔اس بنیادی حقیقت کو ذہن نشین کرنے کے بعد غور کیجیے کہ کوئی قوم آزادی کیوں چاہتی ہے۔ اس سوال کا صرف ایک ہی جواب ممکن ہے اور وہ یہ ہے کہ اپنے نیشنل ٹائپ کو حفاظت اور اس کے نشو وارتقاء کی خواہش ہی در اصل آزادی کی طلب کا مبداء ہے جو قوم غلام ہوتی ہے وہ اپنے نیشنل ٹائپ کو یہی نہیں کہ ترقی نہیں دے سکتی بلکہ اس کے برعکس اس کا نیشنل ٹائپ مضمحل ہوجاتا ہے۔اگر کسی قوم کو اپنا نیشنل ٹائپ عزیز نہ ہو تو اس میں سرے سے آزادی کی خواہش پیدا نہ ہوگی۔اور جس قوم میں آزادی کے لئے تڑپ پائی جاتی ہے اس کی تڑپ کا کوئی سبب اس کے سوائے نہیں کہ وہ نیشنل ٹائپ کو عزیز رکھتی ہے اسے فنا ہونے نہیں دینا چاہتی اور اسے ترقی دینے کی خواہش مند ہے۔جب حقیقت یہ ہے تو وہ صرف ایک جاھل اور بیوقوف آدمی ہوگا جو آزادی حاصل کرنے کی خاطر کسی قوم کو اپنا نیشنل ٹائپ بدل دینے کے لئے کہے گا اس سے بڑھ کر کیاحماقت ہو سکتی ہے کہ جس چیز کی خاطر آزادی کی خواہش ایک قوم میں پیدا ہواکرتی ہے اسی چیز کو مٹانے کا خیال ظاہر کیا جائے۔۔۔(تحریک آزادی ھند اور مسلمان،مولانا مودودی)۔اس کے علاوہ
اس پارٹی میں کسی بھی دوسری مذھبی سیاسی جماعت سے بڑھ کر انتظام اور اصول پرستی موجود ہے اور یہ پارٹی ایک نظریاتی مذھبی پارٹی ہے۔
جب یکم اکتوبر1906 ؁ کو مسلمانوں کی ایک 17رکنی وفد نے اسماعیلیہ جماعت کے پیشوا سر سلطان محمد شاہ آغا خان سوئم کی سربراہی میں سلطنت برطانیہ کے وائسرائے (ھند) لارڈ منٹو سے ملاقات کی اور اُن کی یقین دھانی اور ھدایت پر ھندو پارٹی کانگریس کے خلاف ایک مسلم پارٹی تشکیل دینے کے فیصلے کے بعد 30دسمبر1906 ؁ میں آل انڈیا مسلم لیگ کی تشکیل ہوئی تو یہ مولانا مودودیؒ ہی تھے جنہوں نے یہ کہ کر اسے مسترد کیا کہ ’’۔۔۔۔۔۔اسلام کی رو سے مسلمانوں کی جمعیت صرف وہ ہو سکتی ہے جو غیر الٰہی حکومت کو مٹا کر الٰہی حکومت قائم کرنے اور قانونِ خدا وندی کو حکمران کرنے کے لئے جدوجہد کرتی ہے جو جماعت ایسا نہیں کرتی بلکہ غیر الٰہی نظام کے اندر ’’مسلمان‘‘ نامی ایک قوم کے دنیاوی مفاد کے لئے جدوجہد کرتی ہے وہ نہ تو اسلامی جماعت ہے اور نہ ہی اسے مسلمانوں کی جماعت ہی کہنا درست ہے۔۔۔۔‘‘ آگے چل کر لکھتے ہیں کہ’’۔۔۔۔۔۔مگر افسوس کہ لیگ کے قائد اعظم سے لے کر چھوٹے مقتدیوں تک ایک بھی ایسا نہیں جو اسلامی ذہنیت اور اسلامی طرز فکر رکھتا ہو اور معاملات کو اسلامی نقطہ نظر سے دیکھتا ہو ،یہ لوگ مسلمان کے معنی و مفہوم اور اس کی مخصوص حیثیت کو بالکل نہیں جانتے۔۔(کتاب تحریک آزادی ھند اور مسلمان ،حصہ دوئم ،مصنف مولانا مودودیؒ صفحہ 42)۔ایک اور جگہ آل انڈیا مسلم لیگ کی تشکیل پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں’’۔۔۔۔۔مسلمانوں کو خوب اچھی طرح سوچ سمجھ کر سب سے پہلے یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ آخر اُن کا مطمع نظر کیا ہے اور وہ کس غرض کے لئے اجتماع اور تنظیم چاہتے ہیں اگر آپ اصلی معنوں میں ایک ایسی مسلم جماعت کی تنظیم چاہتے ہیں جو اسلام اور اس کی تہذیب کا تحفظ کر سکتی ہو اور بلآخر اسلامی حکومت کی منزل تک پہنچ سکتی ہو تو آپ کو جان لینا چاہیے جو صورت تنظیم اس وقت بن رہی ہے وہ بالکل غلط ہے اس تنظیم میں جو لوگ سب سے آگے کے صف میں نظر آتے ہیں اسلامی جماعت میں اُن کا صحیح مقام سب سے پیچھے کی صف ہے بلکہ بعض (لوگ) تو وہاں بھی با رعایت ہی جگہ پا سکتے ہیں ۔اس قسم کے لوگوں کو پیشوا بنانا بالکل ایسا ہی ہے جیسے ریل کے سب سے پیچھے والی ڈبہ انجن کی جگہ لگا دینا۔اسلام ہر قسم کی قوم پرستی کا دشمن ہے خواہ وہ ھندوستانی قوم پرستی ہو یا نام نہاد مسلم قوم پرستی۔۔۔۔‘‘کتاب تحریک آزادی ھند اور مسلمان،مصنف مولانا مودودیؒ )
جماعت اسلامی کو تشکیل دینے کے لئے پہلی بارمورخہ25اگست1941 ؁کو مولانا ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے اپنے دفتر ترجمان القرآن لاھور میں اپنے نظریاتی اسلامی دوستوں اور مذھبی علمائے کرام کی ایک میٹنگ بلایااور اس میٹنگ میں اُن کو ایک ایسی تحریک اسلامی تشکیل دینے کے بارے میں رائے طلب کی جس سے حقیقی معنوں میں برصغیر پر اسلام کی آفاقی مذھب کے ذریعے اللہ ، رب العالمین کی حکمرانی قرآن پاک کی رو سے قائم کی جا سکے اور پھر دو دنوں کی بحث و تمحیص کے بعد غالباً27 اگست1941 ؁کو ایک اسلامی نظریاتی تحریک کی بنیاد رکھی گئی جس کا نام ’’جماعت اسلامی قرار پایا۔اور مولانا مودودیؒ کو اس تحریک اسلامی کا پہلا امیر منتخب کیا گیا،آپ نے جماعت کی پہلی امیر کے طور پر جو تقریر کی اُس میں ایک بات نمایاں تھی جو قرآن پاک کی سورۃ فرقان( 72)کی یہ آیات تھی کہ ’’۔۔۔وَالّذِینَ لا یَشھَدوُنَ الزّورَ۔۔۔ جس کا ترجمہ کچھ یوں ہے کہ مومن وہ ہیں جو جھوٹ کی گواھی نہیں دیتے۔۔۔‘‘(کتاب، ابوالاعلیٰ مودودیؒ ،از چودھری عبدالرحمن عبد)۔
جب سلطنت برطانیہ کے وزیر اعظم ونسٹن چرچل نے ھندو رھنماؤں کو ان کی سلطنت برطانیہ کے خلاف ھندوستان کی آزادی کی تحریک چلانے کی سزا کے طور پر محمد علی جناح کو سر سکندر حیات کے ذریعے پیغام بھیج کر اگسایا کہ وہ مسلمانوں کے لئے چندایک مسلمان صوبے کے بجائے ایک الگ ملک کا مطالبہ کریں تو جماعت اسلامی کے سرپرست اعلیٰ جناب مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے اپنی تحاریر اور تقاریر کے ذریعے اس کی مخالفت کی وہ اپنی مختلف کتابوں میں باقاعدہ اسلامی دلائل کے ساتھ پاکستان بننے کی مخالفت کرتے رہے ہیں جو لمبی چوڑی تحاریر پر مشتمل ہیں ہم یہاں انتہائی اختصار کے ساتھ اُن کے کچھ دلائل نوٹ کرتے ہیں۔’’۔۔۔۔پاکستانی خیال کے لوگ:۔دوسرا گروہ زیادہ تر اس طبقے پر مشتمل ہے جس نے تمام تر مغربی طرز پر ذھنی تربیت پائی ہے،یہ لوگ سیاسی فکر تو مغربی مآخذ سے لیتے ہیں مگر چونکہ موروثی طور پر اسلام کے حق میں ایک تعصب اِن کے اندر موجود ہے اور ’’مسلمان قوم‘‘ ہونے کے شعور اُن کے اندر بیدار ہو گیاہے اس لئے جو کچھ یہ کرنا چاہتے ہیں ’’مسلمان قوم‘‘ کے لئے اسلام کے نام ہی سے کرنا چاہتے ہیں نتیجہ یہ ہے کہ ان کے اقوال اور اعمال میں اسلامی اصطلاحات اور مغربی طرز فکر عجیب طریقہ سے خلط ملط ہو کر رہ گئے ہیں۔۔۔۔‘‘(کتاب تحریک آزادی ھند اور مسلمان حصہ دوئم صفحہ 137)۔اسی کتاب میں آگے چل کر لکھتے ہیں۔۔’’۔۔۔۔۔اِن کی تجویز یہ ہے کہ پہلے اسی جمہوری دستور کے مطابق جو انگریزی حکومت یہاں نافذ کرنا چاہتی ہے ،مسلم اکثریت کے صوبوں میں مسلمانوں کی اپنی حکومت قائم ہو جائے پھر کوشش کی جائے گی کہ یہ قومی حکومت اسلامی نظام حکومت میں بتدریج تبدیل ہوجائے لیکن یہ ویسی ہی غلطی ہے جیسی ’’آزادی ھند‘‘ کو مقدم رکھنے والے حضرات کر رہے ہیں۔ اُن کی تجویز پر مجھے جو اعتراضات ہیں اِن کی تجویز پر بھی ہیں ۔اِن کا خیال بالکل غلط ہے کہ مسلم اکثریت کے صوبوں میں حاکمیت جمہور کے اصولوں پر خو دمختار حکومت کا قیام آخرکار حاکمیت’’ رب العالمین‘‘ کے قیام میں مددگار ہو سکتا ہے جیسی مسلم اکثریت مجوزہ پاکستان میں ہے ویسی ہی عددی حیثیت سے بہت زیادہ زبردست اکثریت افغانستان ،ایران،عراق،ٹرکی اور مصر میں موجود ہے اور وہاں اس کو وہ پاکستان حاصل ہے جس کا یہاں مطالبہ کیا جا رہا ہے کیا وہاں مسلمانوں کی خود مختارحکومت کسی درجہ میں بھی حکومت الٰہیہ کے قیام میں مددگار ہے یا ہوتی نظر آتی ہے ۔۔۔۔۔۔‘‘ اور پھر جب انگریزوں نے پاکستان بنا دیا تو محمد علی جناح نے جناب مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کو پیغام بھیجا کہ وہ اس ملک کے لئے دعا کریں ۔اس بات کو تاریخ کی زبانی سنیے۔’’۔۔۔۔سردار شوکت حیات نے اس ضمن میں مولانا مودودی سے اپنی ملاقات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ میں محمد علی جناح کا پیغام لے کر اُن کے پاس گیا اور انہوں نے کہا سردار صاحب کیسے آنا ہوا ۔تو میں نے کہا کہ حضور، محمد علی جناح کا پیغام لے کر آیا ہوں ایک آپ کے لئے اور ایک خلیفہ قادیان (یعنی قادیانیوں کے سربراہ بشیر الدین احمد،کردگار)کے لئے ہے،اور انہوں نے بھی یہی پیغام دیا کہ محمد علی جناح نے کہا آپ دعا کریں اور دوا بھی کریں،اس پر مولانا مودودیؒ نے کہا ؒ لاحول ولاقوۃ الا باللہ جناب میں پاکستان کے لئے کس طرح دعا کر سکتا ہوں۔۔۔۔‘‘(کتاب تحریک کشمیر سے تحریک ختم نبوت تک،مصنف چودھری غلام نبی،صفحہ244)۔
لیکن نجانے پھر کیا جادو چل گیا یا پھر کوئی بہت ہی بڑی مصلحت پسندی سامنے آئی کہ جب بنگالیوں نے پاکستان کی طوق غلامی کو اپنی گردن سے اتارنے کی سعی کی تو اسی جماعت اسلامی نے اپنی کارکنوں کی ایک،دو مسلح تنظیمیں الشمس اور البدر کے نام سے بنائیں اور بنگالیوں کی نسل کشی میں مصروف ریاست کی فوجیوں کے ساتھ شامل ہوگئے جس سے کوئی تیس لاکھ معصوم بنگالی عوام شہید اور کوئی دس لاکھ معصوم بنگالی عورتوں کی آبرو ریزی کا واقعہ تاریخ کے صفحات پرچسپان ہو گئے .بنگلہ دیش کے واقعات کو بھی مولانا مودودی صاحب پاکستان کے تناظر میں یوں بیان کرتے ہیں کہ ’’۔۔۔ہندوستان کے مسلمانوں کو محض ایک قوم سمجھتے ہوئے اُن کو نیشنلزم کی بنیاد پراٹھانے کے نتائج اُس وقت تو کسی کے سمجھ میں نہیں آرہے تھے جب 1940 ؁ میں یہ تقریر کی گئی تھی مگر 1971 ؁ میں یہ بات کھل کر سب کے سامنے آگئی کہ مشرقی پاکستان میں زبان کی بنیاد پر ایک نئے نیشنلزم نے مسلمان کو مسلمان سے پھاڑ دیا اور خود مسلمانوں کے ہاتھوں مسلمانوں کا وہ قتل عام ہوا جس کی نظیر مسلمانوں کی تاریخ میں نہیں ملتی(مودودیؒ )، لیکن تب سے جماعت اسلامی کو اسٹیبلمنٹ ہی کا ایک بازو تصور کیا جانے لگا اور باخبر لوگ بتاتے ہیں کہ جب جماعت اسلامی کی مرکزی امیر جناب منور حسن صاحب تھے تو وہ چاہتے تھے کہ اسٹیبلشمنٹ کی حصار سے جماعت کو آزاد کرے،انہوں نے طالبان کی حمایت میں ایک دو ایسی بیانات بھی دیے جس سے جماعت کی اسٹیبلشمنٹ کے حصار سے نکلنے کا عندیہ بھی ملتا تھا مگر بہت جلد جماعت میں انتخابات کا انعقاد کرایا گیا اور جناب منور حسن صاحب جیسے صاف گو اور مخلص رہنما کو دودھ میں پڑی مکھی کی طرح ہٹا کر سراج الحق صاحب کو مرکزی امیر بنایا گیا جس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے انتہائی قریبی شخصیات میں سے ہیں۔
بلوچستان میں آج سے نہیں کم از کم گذشتہ بارہ سالوں سے تواتر کے ساتھ ریاست کی بربریت اپنی عروج پر ہے،لاکھوں مسلمان بلوچ اپنی گھربار چھوڑ دوسرے صوبے یا دوسرے ملکوں میں جائے پناہ کے لئے سرگردان ہیں،ہزاروں مسلمان بلوچ طالب علم،اساتذہ،ڈاکٹر،وکلاء،صحافی،انجینئر،تاجرحتیٰ کہ مزدور اور ماھیگیرتک اذیت گاہوں میں ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں مسخ شدہ لاشوں کی شکل میں مختلف سڑکوں،ویرانوں اور ندی نالوں میں پڑے ملے ہیں ۔آج پورا بلوچستان چوروں،ڈاکووں،لٹیروں،تریاق اور انسانی اسمگلروں اور قاتلوں کے سپرد کی جا چکی ہے ۔وہ تعلیم جس کی حصول کی خاطر حضور اکرمﷺ نے اس وقت جب سفر انتہائی کھٹن اور مشکل تھا تب بھی چیِن تک جانے کی ھدایت کی تھی مگر آج بلوچ بچوں اور بچیوں کے لئے تعلیم کے دروازے بند کر دیے گئے ہیں ۔بلوچ بچیوں کے چہروں پر تیزاب جیسی جلا دینے والی مائع پھینکی جارہی ہے۔
ایسے میں کاش آج مولانا مودودی صاحب زندہ ہوتے اور اپنی آنکھوں سے اسٹیبلشمنٹ کی ایک اور ایسی کارستانی دیکھتے جو پوری اسلامی تاریخ میں بنگلہ دیش کے بعد دوسری بڑی قتل و غارت گری ہے ۔یہ اس لئے بھی ضروری تھا کہ ’’۔۔۔۔۔سیّد ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے اسلاف ہرات کے مقام چِشت سے چلے تو پہلے بلوچستان تشریف لائے خطہ بلوچستان میں کئی پشتوں تک مقیم رہے ۔۔۔‘‘ (کتاب تذکرہ سیّد مودودی ،صفحہ 12)۔ اور شائد اسی مناسبت سے جب بلوچستان کے خان میر احمد یار خان پر محمد علی جناح نے پاکستان کے ساتھ الحاق پر دباؤ بڑھا دیا تو خان بلوچ نے مولانا کو خط لکھا اسے بھی تاریخ کے حوالے سے سنیے’’۔۔۔۔ریاست قلات کا پاکستان کے ساتھ الحاق کرنے سے پہلے خان قلات جناب میر احمد یار خان نے مولانا عبدالصمد سربازی کو اپنا ذاتی مکتوب دے کر مولانا مودودیؒ کے پاس اس معاملے میں مشورہ حاصل کرنے کے لئے بھیجا تھا کہ کیوں نہ وہ پاکستان سے علیحدہ رہتے ہوئے ایک آزاد اسلامی ریاست کا اعلان کردیں مولانا مودودی ؒ مرحوم نے اسی واسطے سے اُنہیں کمال حکمت کے ساتھ ایسا کرنے سے باز رکھا اور اُن کو مشورہ دیا کہ وہ علیحدگی اختیار نہ کریں(کتاب تذکرہ مولانا مودودیؒ صفحہ 39)۔گو میں اس تاریخی حوالے سے اتفاق نہیں کرتااور اسے مبنی بر حقیقت نہیں سمجھتا اس لئے کہ بلوچستان کی آزادی کا اعلان پاکستان کے مورد وجود میں آنے سے چار دنوں پہلے11اگست1947 ؁ میں کیا گیا تھا اور جس کے بعد سلطنت برطانیہ کی طرف سے وائسرائے ھند نے ،بھارت کی طرف سے مولانا ابواکلام آزاد اور پنڈت جواہر لعل نہرو نے اور پاکستان کے مورد موجود میں آنے کا چونکہ فیصلہ ہوچکا تھا اس لئے پاکستان کی طرف سے محمد علی جناح اور لیاقت علی خان نے بلوچستان کے خان بلوچ کی موجودگی میں باقاعدہ طور پر بلوچستان کی آزادی کو تسلیم کیا تھا مگر چند مہینے بعد محمد علی جناح نے خان بلوچ کو اس بات پر دباؤ دینا شروع کر دیا کہ وہ بلوچستان کی الحاق پاکستان سے کردے اور یہ بات خان بلوچ نے اپنے ملک کے دونوں ایوانوں میں بحث کے لئے رکھا اور پھر بلوچستان کے ایوان بالا اور ایوان زیرین نے بلوچستان کی پاکستان کے ساتھ الحاق کے محمد علی جناح کی دباؤ کو مسترد کر دیا(کتاب تاریخ بلوچ و خوانین قلات) تب 27  مارچ1948 ؁ کو پاکستان نے بلوچستان پر لشکر کشی کی اور قبضہ کر لیااور جس کے بعد باقاعدہ طور پر پاکستان کے خلاف ایک قومی تحریک آزادی جناب شہزادہ عبدالکریم خان جو خان بلوچ کے چھوٹے بھائی اور اس وقت مکران کے گورنر تھے کی سربرائی میں شروع کی گئی جو اب تک جاری و ساری ہے لیکن پھر بھی میری خواہش ہے کہ کاش مولانا مودودی صاحب اس تک وقت زندہ ہوتے تاکہ اُن کو اس بات کا علم ہوچکا ہوتا کہ اُن کے غلط مشورہ کیا رنگ کھلا رہی ہے۔کتنی افسوس کی بات ہے کہ ایک طرف وہ غلامی کو اسلامی تعلیمات کے تحت سخت غلط سمجھتے ہیں اور دوسری طرف خودغلامی کی تلقین کرتے ہیں اور پھر ایک ایسے ملک کے ساتھ الحاق کرنے کی جس پر خود انہوں نے لاحول پڑھا تھا)۔
اب بعد از خرابی بسیار جماعت اسلامی کے امیر نے بلوچستان کا دورہ بھی کیا اور واپسی پراسلام آباد سے ایک بیان شائع کیا جس کی رو سے جماعت  20 اکتوبر کو اسلام آباد ہی میں بلوچستان کے مسئلے پر ایک قومی کانفرنس کا انعقاد کرے گی۔۔۔اور پھر ساتھ ہی ساتھ انہوں نے اس حوالے سے جو بیان دیا کہ ’’۔۔۔۔علیحدگی کی کوئی تحریک نہیں بلوچستان میں احساس محرومی سے نوجوان پہاڑوں پر چلے گئے ۔۔۔‘‘تجزیہ کار اس بیان کو بلوچستان مسئلے کی درست تشخیص نہیں سمجھتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ اگر سراج الحق صاحب بلوچستان کے مسئلے پر مخلص ہوتے یا اس میں کوئی خفیہ اشارہ شامل نہ ہوتا تو سراج الحق صاحب پہلے اس مرض کی صحیح تشخیص کرتے اور حقیقت کو اجاکر کرنے اور سامنے رکھنے کے بعد اس کا علاج کیا جاتا تو ممکن تھا کہ مثبت نتائج سامنے آتے مگر ان کے اس بیان نے ان کی مخلصی کو گہنا دیا ہے۔اس لئے کہ اب یہ بات کوئی ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ بلوچستان کے عوام پاکستان کے ساتھ رہنا ہی نہیں چاہتے وہ باربار کی فوجی آپریشنوں ،قومی نسل کشی اور قومی اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے حربوں سے تنگ آچکے ہیں۔اگر ریاست نے بلوچ عوام کے خلاف اپنی بربریت کو چھپانے کے لئے غیر حقیقی بیانات کا سہارہ لیا بھی تھاتب بھی جناب سراج الحق صاحب کو اس غیر حقیقی شوشے کی تصدیق کرتے ہوئے خود کو قرآن پاک کے
سورۃ فرقان میں دی ہوئی واضح احکامات سے رو گردانی اور جماعت اسلامی کی قائد مولانامودودی ؒ کی درست اسلامی فکر کے خلاف ورزی نہیں کرنی چائیے تھا۔اس بیان سے جماعت اسلامی کی 20 اکتوبر والی قومی کانفرنس متنازعہ ہوگئی ہے اور لوگ اب

سے ہی اس سے لاتعلقی اور عدم دلچسپی کا اظہار کرنے لگے ہیں اس لئے کہ ایک تو وہ سمجھتے ہیں کہ بلوچستان کا مسئلہ اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں میں ہے اسٹیبلشمنٹ بظاہر اس مسئلے میں کوئی دلچسپی کا اظہار نہیں کر رہی ہے اسی طرح بلوچ قومی آزادی کی خاطر مسلح جدوجھد کرنے والی تنظیمیں بھی اس بارے میں اپنی آمادگی یا اس قومی کانفرنس میں اپنی شمولیت کی یقین دھانی نہیں کر رہی ہیں اور پھر پاکستان کے سیاسی پارٹیوں میں بلوچ قوم کے ساتھ نہ تو کوئی ایسی ہمدردی ہے اور نہ ہی ایسی دم خم موجود ہے کہ وہ بلوچ عوام کی قومی آزادی جیسی مسئلے کی خاطر اسٹیبلشمنٹ سے پھنگالے کر اپنی سیاسی عاقبت کو خطرے میں ڈال دیں اور دوسری طرف جناب سراج الحق صاحب کی ذھنی اپروچ کو اس بیان نے کھول کے رکھ دیا ہےاس لئے یہ نام نہاد قومی کانفرنس کا نتیجہ اردو زبان کی اس مقولے کے عین مطابق ’’ ڈھاک کے تین پات ‘‘ یا فارسی کے مقولے ۔۔’’پی مشورت محفل آراستند۔ نشستند،گفتند وبرخاستند‘‘ ،یا پھر بلوچی زبان کے مقولہ’’ سرکن،پِرکن ،ھُپ کن ءُ ھِچ‘‘ ہی نکلے گا۔

اس لئے یہ نام نہاد قومی کانفرنس کا نتیجہ اردو زبان کی اس مقولے کے عین مطابق ’’ ڈھاک کے تین پات ‘‘ یا فارسی کے مقولے ۔۔’’پی مشورت محفل آراستند۔ نشستند،گفتند وبرخاستند‘‘ ،یا پھر بلوچی زبان کے مقولہ’’ سرکن،پِرکن ،ھُپ کن ءُ ھِچ‘‘ ہی نکلے گا۔

 سراج الحق صاحب

Share on
Previous article

En Interview with Kurdish political activist Mr. Dovan about situation of Kobani Kurdistan

NEXT article

گپ و ترانے چا مغربی بلوچستانءَ گون جیش العدلءِ ترجمان محمد سعید ترکمن زهیءَ

LEAVE A REPLY