جیش العدل کے کمانڈر ایوب بلوچ سے هماری گفتگو کا خلاصہ

MUST READ

گپے گـوں ناشریں امینی فـرد

گپے گـوں ناشریں امینی فـرد

مکران آپریشنوں کے پیچھے اصل محرک پاکستان وچین معاہدات ہیں،حیر بیار مری

مکران آپریشنوں کے پیچھے اصل محرک پاکستان وچین معاہدات ہیں،حیر بیار مری

بلوچ دژمنیں سپاہ ڈیہ ءِ جنیں آدماں بندی کنگ اِنت

بلوچ دژمنیں سپاہ ڈیہ ءِ جنیں آدماں بندی کنگ اِنت

نژاد پرستی در ایران

نژاد پرستی در ایران

جنگریز مری وگزین مری،فکری کاروان میں شامل نہیں تھے:حیربیار مری

جنگریز مری وگزین مری،فکری کاروان میں شامل نہیں تھے:حیربیار مری

بلوچستان ءِ پُلیں شهیدان ءَ هزاراں سلام

بلوچستان ءِ پُلیں شهیدان ءَ هزاراں سلام

شکست اخلاقی اشغالگران

شکست اخلاقی اشغالگران

طرح توسعه سواحل مکران – پندلے په بلوچستـــان ءِ مدامی زوربرد کنگ ءَ – گـُـڈّی (آهری) بهر

طرح توسعه سواحل مکران – پندلے په بلوچستـــان ءِ مدامی زوربرد کنگ ءَ – گـُـڈّی (آهری) بهر

پاکستان بلوچستان میں بنگلہ دیش کی تاریخ دہرا رہا ہے : فیض بلوچ

پاکستان بلوچستان میں بنگلہ دیش کی تاریخ دہرا رہا ہے : فیض بلوچ

هجوم وحشيانه قشـون پارس و اشغال بلوچستان در سـال ۱۳۰۷ هجـری شمسـی

هجوم وحشيانه قشـون پارس و اشغال بلوچستان در سـال ۱۳۰۷ هجـری شمسـی

We Strongly Condemn Pakistan for Abducting Indian Citizen, Gulbushan Yadhu! Anil Boluni

We Strongly Condemn Pakistan for Abducting Indian Citizen, Gulbushan Yadhu! Anil Boluni

واجہ شھید پروفیسر صبا دشیاريءِ 26 اگست 2009ءَ بلوچستان لیبریش چارٹر ءُ آھيءِ رھدربريءِ بابتءَ تران

واجہ شھید پروفیسر صبا دشیاريءِ 26 اگست 2009ءَ بلوچستان لیبریش چارٹر ءُ آھيءِ رھدربريءِ بابتءَ تران

فری بلوچستان موومنٹ کی طرف سے 28 مئی کو پاکستان کے ایٹمی دھماکوں اور چین اور پنجابی کی بلوچستان میں آبادکاری کے خلاف مغربی ممالک میں احتجاج کیا جائے گا

فری بلوچستان موومنٹ کی طرف سے 28 مئی کو پاکستان کے ایٹمی دھماکوں اور چین اور پنجابی کی بلوچستان میں آبادکاری کے خلاف مغربی ممالک میں احتجاج کیا جائے گا

بلوچستان کو پاکستانی فوج نے بلوچ قوم کے لیے نوگو ایریا بنادیا ہے : حیر بیار مری

بلوچستان کو پاکستانی فوج نے بلوچ قوم کے لیے نوگو ایریا بنادیا ہے : حیر بیار مری

پاکستان جہادی کلچر ودہشت گردی کا مرکز و فیکٹری ہے : حیربیار

پاکستان جہادی کلچر ودہشت گردی کا مرکز و فیکٹری ہے : حیربیار

جیش العدل کے کمانڈر ایوب بلوچ سے هماری گفتگو کا خلاصہ

2020-03-27 13:37:25
Share on

آپ کی تنظیم پر الزام ہے کہ آپکی تنظیم کا پاکستانی ایف سی کے ساتھ روابط ہیں اور آپکو پاکستان کی جانب سے براہ راست مدد ملتی ھے، جس کے عوض آپکی تنظیم بلوچ مسلح آزادی پسندوں کے خلاف ایف سی کے شانہ بشانہ کاروائی کرتی اور ان کے ممبران کو اغواء کر کے پاکستانی خفیہ اداروں کو تحویل  ‎دیتے ہیں، اس بات میں کتنی صداقت ھے؟

سب سے پہلے آپ کا شکریہ جو آپ نے ہم سے رابطہ کرکے ہماری موقف کو جاننے کی زحمت کی
ہے جہاں تک پاکستان کا سوال ہے ہماری تنظیم نے کئی بار یہ وضاحت کی ہے کہ ہمارا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی کسی ادارے کے ساتھ ہمارے روابط ہیں ۔ہم بلوچ ہیں اپنے قوم کا درد سمجھتے ہیں ہم کبھی اپنے قوم کو ٹیس نہیں پہنچائینگے اور یہ بات بالکل جھوٹ ہے کہ ہم نے کسی آزادی پسند کو نقصان پہنچایا ہے ہماری پندرہ سالہ جدوجھد کے اندر آپ ایک مثال پیش کریں جو کسی آزادی پسند تنظیم کو کوئی زک پہنچائی ہے ؟ اگر کسی کے پاس ثبوت ہے تو بلوچ قوم اور دنیا کے سامنے پیش کرے ہم کسی بھی سزا و جزا کے لیے بلوچ قومی عدالت میں تیار ہیں بلکہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ محض ایرانی پروپیگنڈا ہے جو ہمیں پروکسی ثابت کرکے دنیا کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش کر رہی ہے یہ سب کچھ عیاں طور پر بلوچ قوم کو ایک دوسرے کے خلاف لڑاکر کمزور کرنے کی منصوبہ بندی ہے جسے بلوچ قوم کو سمجھنا ہوگا اور ہمیں ملکر اسےناکام بنانا ہوگا

س ۰ کیا آپکے رابطے ڈیتھ اسکواڈ گروپوں سے ہیں جو براہ راست بلوچ آزادی پسندوں کے ا غواء اور انکے قتل میں ملوث ہیں ۔ اور اکثر آپ کے ممبران کو انکے ہمراہ ملاقات کرتے ھوئے دیکھا گیا ھے، اس بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟

آپ کا پہلا اور دوسرا سوال دونوں ایک نوعیت کے ہیں میں نے پہلے بتایا ہماری تنظیم یا کسی فرد کا پاکستان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہےاور نہ ہی کسی پاکستانی ادارے کے ساتھ تعلقات ہیں۔ تو ڈیتھ اسکواڈ کے ساتھ کس طرح رابطہ ہوسکتا۔ ہے اگر ہمارے تنظیم کے کسی ممبر کا تعلق ہے جو ہم لا علم ہیں اور کسی اُن کے پاس ثبوت ہیں وہ ہمیں آگاہ کریں ہم تنظیمی آئین و قانون کے تحت اُنہیں سزا دیں گے

س ۰ کیا ملا عمر جو کہ پہلے کلاہو میں رھائش پزیر تھا ، آپ کے تنظیم کا ممبر ہے، جس نے ھمارے ذکری بلوچوں کا قتل عام کیا اور آجکل پاکستانی خفیہ اداروں کی سرپرستی میں پیدراک میں میران عزیز کی ڈیتھ اسکواد کی کمان کر رہا ہے؟

ملا عمر پر جب بلوچ سرمچاروں کا حملہ ہوا تھا تو اُس وقت ایک بلوچ میڈیا گروپ نے اُسے ہمارا ممبر ظاہر کیا تھا اُسی وقت ہم نے وضاحت کی تھی کہ ملا عمر کا ہمارے تنظیم سے کوئی تعلق نہیں اور زگری بلوچوں کے معتلق میں نے خود ایک بیان جاری کیا تھا اور میں نے کہا تھا کہ زگری پہلے بلوچ ہیں اور بلوچ سرزمین کے وارث ہیں کسی کو بھی یہ حق حاصل نہیں کہ کسی انسان کو اُس کا مذہب تبدیل کرنے زبردستی کا نشانہ بنائے اور کچھ قرآن پاک کی آیات بھی میں نے پیش کی تھی اور مذید میں نے کہا تھا مسئلہ مذہبی نہیں ہے بلکے اس کے پیچھے مقاصد کچھ اور ہیں پھر ایک سال بعد دوستوں کے پیغامات موصول ہوئے جس میں ۷ افراد کہ متعلق سوال کیا گیا تھا کہ یہ جیش العدل کے ممبر ہیں ؟ تو اُسی وقت تنظیم نے بیان جاری کرکے کہا تھا کہ ان تمام سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے اور اُن تمام لوگوں کو تنبیہ کیا تھا ہمارا نام استعمال نہ کریں

‎س ۰ کیا آپ کےتنظیم کا نظریہ خالصتاً داعش اور مذہبی دھشتگردوں سے مماثلت رکھتا ھے۔جبکہ آپ بلوچستان کےنام پر جدوجہد کر رہے ہیں، اور آپ کے تنظیم پر یہی الزام عائد کیا جاتا ھے، اسکے بارے میں آپکی وضاحت کیا ہوگی ؟

adl2

مذہب اسلام کی تشریع جس طرح داعش وغیرہ کر رہے ہیں اس طرح ہرگز نہیں ہے بلکے اسلام امن بھائی چارہ حق و انصاف کا درس دیتا ہے اور ہم دیکھ رہے ہیں ان تنظیموں کا مقصد کیا ہے اور سب سے پہلے ہمیں یہ جاننا ضروری ہےکہ ان تنظیموں کو پہلے کس نے بنایا تھا اور کس کےمفاد کی حاطر استعمال کیا گیا تھا اور آج بھی یہ تنظیمیں کسی خاص مقصد کے لیے کام کر رہے ہیں۔اب تو داعش اور حزب الله اتحاد بھی کرچکے ہیں جو یہ ثابت کرتا ہےکہ ایران کے داعش سے قریبی روابط ہیں اور ایران داعش کی حمایت کر رہا ہے اور اگر آپ ہماری تنظیم کو اس نظر سے دیکھیں گے تو آپ نا انصافی کر رہے ہیں۔ ہم واضع کرنا چاہتے ہیں کہ ہم کسی کی پروکسی نہیں ہیں ہم کبھی کسی دوسرے ریاست و قوم کے خلاف نہیں لڑے ہیں اور نہ ہی ہمارا آئندہ کوئی ایسا ارادہ ہے بلکہ ہم اپنے حدود کے اندر اپنے بلوچ قوم کے لیے یہ جدوجھد کر رہے ہیں ۔ہم اُس ایرانی جبری قبضہ کے خلاف برسرپیکار ہیں جو اُس نے بلوچستان پر ۱۹۲۸ میں کیا تھآور اُس دن سے آج تک بلوچ قوم کے خلاف نہ ختم ہونے والا ظلم و ستم جاری ہے

س۔ جیسا کہ آپ نے ابھی کہا کہ آپ مقبوضہ بلوچستان میں بلوچ قوم پر ایرانی استحصالی پالیسیوں اور قومی اور مذہبی جبر کے خلاف جد و جھد کر رہےہیں آپ اس جدوجہد کے خدوخال بارے مزید کیا کہنا چاہتے ہیں؟

میں نے پہلے کہا کہ ہماری جنگ مقبوضہ بلوچستان میں قابض ایران کے ساتھ ہے جہاں ایرانی رجیم آئے دن بلوچ قومی اثاثوں کو تباہ کر رہی ہے، عالم دین دانشور صحافیوں اور پڑھے لکھے نوجوانوں کومختلف بہانوں سے تختہ دار پر لٹکارہی ہے اور بلوچوں مفلوج کرنےایک منصوبے کے تحت منشیات پھیلا رہی اسی طرح روزگار کے دروازے بلوچوں پر بند کرکے اُن کا معاشی استحصال کر رہا بلوچ روایات زبان اور مذہب سب زیر عتاب ہیں۔ایران کو بلوچ قوم نہیں بلوچ زمین چاہیے اور یہ بلوچ کبھی کامیاب ہونے نہیں دیگا اور انشاءالله ایک دن فتح ہماری ہوگی جب تک ایران بلوچستان سے نہیں جائیگا تب تک جیش العدل بلوچستان کی آزادی اور بلوچ قومی بقا کے لیے یہ جنگ جاری رکھے گی

س۔ ایران دنیا کو دھشتگردی کا فریب دیکر بلوچ تحریک کو مذہبی دہشتگردی اور وہابیت کا نام دیےکر ، اُس کا چہرہ مسخ کرنے کی کوشش میں مصروف ھے تو آپ اس بارے میں عالمی دنیا کو بلوچ تحریک کے لئے کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟

دنیاکو جاننا ہوگا کہ ایران ایک دہشتگرد ریاست ہے جو پوری دنیا میں دہشتگردی پھیلا رہا ہے اور ایران خود کھلے عام یہ کہہ رہی ہے کہ میں حزب الله اور شیعہ ملیشاؤں کو اسلہ پیسہ اور افراد مہیا کر رہا ہوں اور یہ عمل جاری رکہوگا آج سوریہ عراق یمن بحرین اور کئی عرب ممالک میں برائے راست دہشتگردی کرنے میں ملوث ہے اب تو نیوکلیر بمب بنانے میں مصروف ہے اگر کل یہ کامیاب ہوجائے تو کس طرح یہ دنیا کو تباہ کریگی ۔دنیا کو اگر امن و امان قائم کرنا اور دہشتگردی کو جڑ سے ختم کرنا ہے تو بلوچ قوم کی حمایت کرنی ہوگی آزاد بلوچستان اس حطے میں امن امان کا ضامن ہوگا

آپ بلوچ قوم کو کیا پیغام دینا چاھتے ہیں ؟

آج قابض ایران چھبار پورٹ بناکر یہاں غیر بلوچوں کو آباد کرنے کا منصوبہ بندی کر رہا ہے قابض ایران بلوچ قوم کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے لیے بلوچ قوم کو ختم کرنے کے لیے کسی بھی حد جاسکتا ہے بلوچوں کو یہ سمھجنا ہوگا اگر بلوچ کسی بھی خطے میں کمزور ہوگئے تو یہ نقصان صرف ایک حصے میں نہیں ہوگا بلکے اجتماعی صورت میں ہوگا ایران سے ہماری جنگ نہ صرف آزادی کیلئےہے بلکہ بلوچ قومی بقا کے لئےہے
میں صرف بلوچ قوم کو یہ پیغام دینا چاهتا ہوں کہ وہ دشمن کے چالبازیوں کو سمجھے اور بلوچ قومی تحریک میں حصہ لیں دشمن ریاستوں نے ہمیشہ بلوچ قوم کو منتشر کرنے کی پالیسی اپنائی ہے کیوں کہ دشمن یہ جانتے ہیں کہ اگربلوچ قوم منظم ہوگئی تو اُن کے لیے موت ثابت ہوگی ہر کوئی اپنی استطاعت کے مطابق اپنے طریقے سے جدوجہد کو جاری رکھے۔ هم ضرور کامیاب هونگے اور بلوچ ایک منظم قوم کی طرح دنیا میں برابری سے اپنے جینے کا حق حاصل کرکے باوقار حیثیت سے مہذب دنیا میں مثال قائم کرسکے گی

Share on
Previous article

گپ ءُ ترانے گون بلوچ قوم دوست رھنما واجہ حیر بیار مريءَ بلوچستانءِ نوکین جاورانی بابتءَ

NEXT article

بلوچ قوم دوست رھنما حیر بیار مری 15 مئی 2013 کو بلوچ کمیونٹی اوسلو نوروے کے استقبالیہ جلسہ سے خطاب

LEAVE A REPLY