جیش العدل کے کمانڈر ایوب بلوچ سے گفتگو

MUST READ

ماہِ اپریل میں آپریشن دوران 120 سے زائد افراد لاپتہ، 24قتل کئے گئے، بی بی گل بلوچ

ماہِ اپریل میں آپریشن دوران 120 سے زائد افراد لاپتہ، 24قتل کئے گئے، بی بی گل بلوچ

طرح تقسیم بلوچستان خیانتی است بزرگ به ملت بلوچ

طرح تقسیم بلوچستان خیانتی است بزرگ به ملت بلوچ

حسیـن معروفـی کیست؟

حسیـن معروفـی کیست؟

ایرانءِ بلــوچ دژمنیـں واکدارانی پنـــدل

ایرانءِ بلــوچ دژمنیـں واکدارانی پنـــدل

ماہِ اپریل میں آپریشن دوران 120 سے زائد افراد لاپتہ، 24قتل کئے گئے، بی بی گل بلوچ

ماہِ اپریل میں آپریشن دوران 120 سے زائد افراد لاپتہ، 24قتل کئے گئے، بی بی گل بلوچ

مساحــت بلوچستــــان اشغالــــی

مساحــت بلوچستــــان اشغالــــی

نیوکاہان کوئٹہ پاکستانی قابض فورسز کی دہشتگردانہ کاروائیاں جاری150کے قریب افراد اغوا

نیوکاہان کوئٹہ پاکستانی قابض فورسز کی دہشتگردانہ کاروائیاں جاری150کے قریب افراد اغوا

خصومتِ دولتِ ایران با زبان بلوچـی و دلایلِ آن

خصومتِ دولتِ ایران با زبان بلوچـی و دلایلِ آن

سچ وہی جو جھوٹا بولے – کردگار بلوچ

سچ وہی جو جھوٹا بولے – کردگار بلوچ

بولانءِ دمگ لکڑ ءُ پل کڑیءَ پاکستانی هوائی فوجءِ بمب گواری – نوکترین ریڈیو حال

بولانءِ دمگ لکڑ ءُ پل کڑیءَ پاکستانی هوائی فوجءِ بمب گواری – نوکترین ریڈیو حال

غیر فطری اتحادوں سے بکھرتی شیرازہ – اداریہ

غیر فطری اتحادوں سے بکھرتی شیرازہ – اداریہ

بلوچستان کی آزادی سے ہمسایہ ممالک میں پاکستانی دخل اندازی کم ہوگا: حیربیار مری

بلوچستان کی آزادی سے ہمسایہ ممالک میں پاکستانی دخل اندازی کم ہوگا: حیربیار مری

بلوچ ری پبلکن پارٹی کی جانب سے شاہ شہیداں نواب اکبر بگٹی کی دسویں برسی کی مناسبت سے 26 اگست کو بلوچستان بھر میں شٹر ڈاون اور پہیہ جام ہڑتال کی کال

بلوچ ری پبلکن پارٹی کی جانب سے شاہ شہیداں نواب اکبر بگٹی کی دسویں برسی کی مناسبت سے 26 اگست کو بلوچستان بھر میں شٹر ڈاون اور پہیہ جام ہڑتال کی کال

بلوچستــــان گلزميـــن اجـــدادی ماســـت

بلوچستــــان گلزميـــن اجـــدادی ماســـت

انڈیا سمینار میں حیربیار مری کا خصوصی پیغام

انڈیا سمینار میں حیربیار مری کا خصوصی پیغام

جیش العدل کے کمانڈر ایوب بلوچ سے گفتگو

2020-03-25 14:08:37
Share on

گوانک نیوز​​ / ​بلوچستان کی قومی تحریک آزادی طویل سفرکے بعد اب اپنی منزل کی طرف رواں دواں خطے اور عالمی طاقتوں کو باور کرانے کسی حد تک کامیاب ہوچکی ہے کہ بلوچ قومی تحریک آزادی دنیا میں امن کا پیغام هوگا اور خاص کر پاکستان اور ایران کی چالبازیوں اور بلیک میلنگ سےمہذب د نیا کو نجات دلاسکتی کیونکہ آنے والا بلوچستان ایک سیکولر اور جمهوری ریاست هوگا اور وهاں تمام عقائد اور مذهب سے تعلق رکهنے والوں کو مساوی حقوق کی  ضمانت دی جائیگی اور مذهب اور ریاست کے سیاسی امور الگ رکھیں جائیں گے۔ بلوچوں کی تاریخ اور اسکے روایات میں انتہا پسندی کی کوئی مثال نہیں ملتی اور آئندہ اس کی گنجائش ہے۔
بلوچ سرزمن پر قابض ریاستوں نے اپنا تسلط  برقرار رکهنے کے لئے اُنھیں متحد نہیں هونے دیا تاکہ کہ وه اپنی سرزمین کو قبضے سے آزاد کرکے ایک آزاد و خودمختاڑیاست بناسکیں۔اسی غرض سےاُنھیں معاشی طور پر بدحال اور کسمپرسی کی زندگی گذارنے کے ساتھ اُنھیں مذہبی فرقہ وارانہ، لسانی اور قبائلی مسائل میں الجھا کرایک دوسرے کے مدمقابل کھڑا کیا تاکہ وہ داخلی مسائل سے آزاد ہوکراپنی تحریک آزادی کو منظم نہ کرسکیں۔
ایران اور پاکستان کی پالیسی بلوچوں کا استحصال کرنے میں یکساں رهی هے۰ قتل اور غارت ،معاشی بدحالی اور عدم ترقی کے باعث بلوچ مفلوج هوکر ره گئے ہیں جبکہ سویت یونین کے بکهرنے بعد دنیا میں غلام قوموں پر یہ حقیقت بھی واضع ہو گئی کہ نہ کوئی سوشلزم اُن کے دکھوں کا مداوا ہے اور نہ ہی کوئی اور اُن کی مدد کو آنے والا ہے بلکہ ایک قومی و ملی جدوجهد هی قابض ریاستوں کے چنگل سے چٹهکارا دلا سکتی ہے۔
 همارا اداره گوانک نیوز اس قومی تحریک سے خود کو جدا نہیں سمجهتا اور هماری کوشش رهی ہے کہ بلوچ پر هونے والے ستم اور قبضہ گیری کے خلاف بلوچ تحریک کا حصہ بنکر ان کی آواز کو دنیا تک پهیلائیں ۔همارے کم امکانات کے باوجود خود بلوچ عوام کے آواز اپنے توان کے ساته آگے بڑھایا۰هماری پالیسی ہے کہ ایران اور پاکستان کے بلوچوں پر مظالم اور نسل کشی کے خلاف میڈیا کے زریعے موثرآواز اُٹھائیں اور عالمی اداروں تک اُن کی فریاد پہنچائیں ، هم بلوچوں کے قابضیں کے بلوچ قوم کے خلاف مذموم عزائم کو تشت ازبام کریں۔
اسی قومی فریضہ کے تحت گذشتہ مہینے مغربی اور مشرقی بلوچستان میں حق آباد اور زامران کے درمیانی علاقے میں بلوچ مسلح تنظموں کے درمیان ہونے والے جهڑ پوں سے بلوچ قوم میں تشویش سے تمام ہمدردوں کو باخبر کیا اور اس سانحہ میں حملہ آور اور جن پر حملہ کیا گیاتھا دونوں بلوچ تهے اورخوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں هوا اور انهوں نے ایک دوسرے کو پاکستان اور ایران کا پروکسی و سہولت کار قرار دیا تو هم نے اسی نقطہ کے پیش نظر بلوچ  مسلح تنظیموں کے درمیان خدشات دور اور ایک ڈیالوگ اور مفاهمت کی راہ هموار کرنے لئے اس سلسلے میں ہم نے جیش العدل کے کمانڈر ایوب بلوچ سے گفتگو کی جو کہ جلد گوانک نیوز کے توسط سے پبلش کی جارهی هے
گوانک نیوز

Share on
Previous article

جیش العدل کے کمانڈر ایوب بلوچ سے هماری گفتگو کا خلاصہ

NEXT article

از تفرقه افکنی و جنگ داخلی بین نیروهای بلوچ باید جلوگیری کنیم – آقای حیربیار مری رهبر استقلال طلب بلوچستان

LEAVE A REPLY