جیش العدل کے کمانڈر ایوب بلوچ سے گفتگو

MUST READ

آوارجتگیں بلوچستان ءِ نگیگیں جاوراں ماں گوستگیں سال

آوارجتگیں بلوچستان ءِ نگیگیں جاوراں ماں گوستگیں سال

گپ و ترانے گون بلوچ جهدکار واجه عبدالستار پُردلیءِ چا اوغانستانءَ بلوچ جیڑاهانی سرا

گپ و ترانے گون بلوچ جهدکار واجه عبدالستار پُردلیءِ چا اوغانستانءَ بلوچ جیڑاهانی سرا

بیگواه بوتگین دین محمد بلوچءِ دحتگ سمّی بلوچ

بیگواه بوتگین دین محمد بلوچءِ دحتگ سمّی بلوچ

کانسارها ومعادن مس در بلوچستـان اشغالی

کانسارها ومعادن مس در بلوچستـان اشغالی

پاکستانی الیکشن بلوچ سرزمینءِ سرا

پاکستانی الیکشن بلوچ سرزمینءِ سرا

سچ وہی جو جھوٹا بولے – کردگار بلوچ

سچ وہی جو جھوٹا بولے – کردگار بلوچ

پاکستانی افواج صرف اور صرف نہتے خواتین اور بچوں کو ہی اغوا کر سکتے ہیں ان کی قابلیت یہی تک محدود ہے۔ نواب براہمدغ بگٹی

پاکستانی افواج صرف اور صرف نہتے خواتین اور بچوں کو ہی اغوا کر سکتے ہیں ان کی قابلیت یہی تک محدود ہے۔ نواب براہمدغ بگٹی

پاکستانی فوج نے بلوچستان میں حوصلہ کھو دیا،سی پیک ناکام ہے ۔ ڈاکٹر اللہ نذر

پاکستانی فوج نے بلوچستان میں حوصلہ کھو دیا،سی پیک ناکام ہے ۔ ڈاکٹر اللہ نذر

ستقــلالِ بلوچستــان حتمــی اســت – بخش اول

ستقــلالِ بلوچستــان حتمــی اســت – بخش اول

کانسارها ومعادن مس در بلوچستـان اشغالی

کانسارها ومعادن مس در بلوچستـان اشغالی

شهید واجہ صبا دشتیاریءِ ترانے 12 مئی 2011 کوئٹہ پریس کلبءِ دیما

شهید واجہ صبا دشتیاریءِ ترانے 12 مئی 2011 کوئٹہ پریس کلبءِ دیما

آزادی پسند قوتوں کے سا تھ دو بنیادی شرائط پر اصولی اشتراک عمل کیلئے ہمہ وقت تیار ہو ں ۔ حیربیار مری

آزادی پسند قوتوں کے سا تھ دو بنیادی شرائط پر اصولی اشتراک عمل کیلئے ہمہ وقت تیار ہو ں ۔ حیربیار مری

حادثے میں لانگ مارچ میں شریک دو افراد زخمی

حادثے میں لانگ مارچ میں شریک دو افراد زخمی

حسیـن معروفـی کیست؟

حسیـن معروفـی کیست؟

گپ و ترانے گون بلوچ جرنلیسٹ واجہ صدیق بلوچ

گپ و ترانے گون بلوچ جرنلیسٹ واجہ صدیق بلوچ

جیش العدل کے کمانڈر ایوب بلوچ سے گفتگو

2020-03-27 13:40:15
Share on

گوانک نیوز​​ / ​بلوچستان کی قومی تحریک آزادی طویل سفرکے بعد اب اپنی منزل کی طرف رواں دواں خطے اور عالمی طاقتوں کو باور کرانے کسی حد تک کامیاب ہوچکی ہے کہ بلوچ قومی تحریک آزادی دنیا میں امن کا پیغام هوگا اور خاص کر پاکستان اور ایران کی چالبازیوں اور بلیک میلنگ سےمہذب د نیا کو نجات دلاسکتی کیونکہ آنے والا بلوچستان ایک سیکولر اور جمهوری ریاست هوگا اور وهاں تمام عقائد اور مذهب سے تعلق رکهنے والوں کو مساوی حقوق کی  ضمانت دی جائیگی اور مذهب اور ریاست کے سیاسی امور الگ رکھیں جائیں گے۔ بلوچوں کی تاریخ اور اسکے روایات میں انتہا پسندی کی کوئی مثال نہیں ملتی اور آئندہ اس کی گنجائش ہے۔
بلوچ سرزمن پر قابض ریاستوں نے اپنا تسلط  برقرار رکهنے کے لئے اُنھیں متحد نہیں هونے دیا تاکہ کہ وه اپنی سرزمین کو قبضے سے آزاد کرکے ایک آزاد و خودمختاڑیاست بناسکیں۔اسی غرض سےاُنھیں معاشی طور پر بدحال اور کسمپرسی کی زندگی گذارنے کے ساتھ اُنھیں مذہبی فرقہ وارانہ، لسانی اور قبائلی مسائل میں الجھا کرایک دوسرے کے مدمقابل کھڑا کیا تاکہ وہ داخلی مسائل سے آزاد ہوکراپنی تحریک آزادی کو منظم نہ کرسکیں۔
ایران اور پاکستان کی پالیسی بلوچوں کا استحصال کرنے میں یکساں رهی هے۰ قتل اور غارت ،معاشی بدحالی اور عدم ترقی کے باعث بلوچ مفلوج هوکر ره گئے ہیں جبکہ سویت یونین کے بکهرنے بعد دنیا میں غلام قوموں پر یہ حقیقت بھی واضع ہو گئی کہ نہ کوئی سوشلزم اُن کے دکھوں کا مداوا ہے اور نہ ہی کوئی اور اُن کی مدد کو آنے والا ہے بلکہ ایک قومی و ملی جدوجهد هی قابض ریاستوں کے چنگل سے چٹهکارا دلا سکتی ہے۔
 همارا اداره گوانک نیوز اس قومی تحریک سے خود کو جدا نہیں سمجهتا اور هماری کوشش رهی ہے کہ بلوچ پر هونے والے ستم اور قبضہ گیری کے خلاف بلوچ تحریک کا حصہ بنکر ان کی آواز کو دنیا تک پهیلائیں ۔همارے کم امکانات کے باوجود خود بلوچ عوام کے آواز اپنے توان کے ساته آگے بڑھایا۰هماری پالیسی ہے کہ ایران اور پاکستان کے بلوچوں پر مظالم اور نسل کشی کے خلاف میڈیا کے زریعے موثرآواز اُٹھائیں اور عالمی اداروں تک اُن کی فریاد پہنچائیں ، هم بلوچوں کے قابضیں کے بلوچ قوم کے خلاف مذموم عزائم کو تشت ازبام کریں۔
اسی قومی فریضہ کے تحت گذشتہ مہینے مغربی اور مشرقی بلوچستان میں حق آباد اور زامران کے درمیانی علاقے میں بلوچ مسلح تنظموں کے درمیان ہونے والے جهڑ پوں سے بلوچ قوم میں تشویش سے تمام ہمدردوں کو باخبر کیا اور اس سانحہ میں حملہ آور اور جن پر حملہ کیا گیاتھا دونوں بلوچ تهے اورخوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں هوا اور انهوں نے ایک دوسرے کو پاکستان اور ایران کا پروکسی و سہولت کار قرار دیا تو هم نے اسی نقطہ کے پیش نظر بلوچ  مسلح تنظیموں کے درمیان خدشات دور اور ایک ڈیالوگ اور مفاهمت کی راہ هموار کرنے لئے اس سلسلے میں ہم نے جیش العدل کے کمانڈر ایوب بلوچ سے گفتگو کی جو کہ جلد گوانک نیوز کے توسط سے پبلش کی جارهی هے
گوانک نیوز

Share on
Previous article

بلوچ قوم دوست رھنما حیر بیار مری 15 مئی 2013 کو بلوچ کمیونٹی اوسلو نوروے کے استقبالیہ جلسہ سے خطاب

NEXT article

Baloch blogger Mureed Baloch on Pakistani Elections 2013 at Tehelka Radio on May 13, 2013.

LEAVE A REPLY