حامد بھائی تینوں رب دیاں رکھاں (یہ عنوان میں نے جناب ڈاکٹر صفدر محمودصاحب کے کالم سے مستعار لی ہے) کردگار بلوچ

MUST READ

مغربی بلوچستان میں بلوچ مسلح دستوں کے ھاتھوں ایرانی ڈرون طیارہ نشانہ بنایا گیا۔ دوسری جانب ایرانی فورسسز مشرقی بلوچستان میں داخل ھونے کے لئے پاکستانی حکام سے رابطے میں ھیں۔

مغربی بلوچستان میں بلوچ مسلح دستوں کے ھاتھوں ایرانی ڈرون طیارہ نشانہ بنایا گیا۔ دوسری جانب ایرانی فورسسز مشرقی بلوچستان میں داخل ھونے کے لئے پاکستانی حکام سے رابطے میں ھیں۔

برطانیہ خان قلات کے ساتھ اپنے76 18 کی توسیع شدہ معاہدے کی پابندی کریں ۔ حیر بیار مری

برطانیہ خان قلات کے ساتھ اپنے76 18 کی توسیع شدہ معاہدے کی پابندی کریں ۔ حیر بیار مری

بلــوچ هُـــژّار

بلــوچ هُـــژّار

تلاش غربی ها برای جلوگیری از فروپاشی ایران

تلاش غربی ها برای جلوگیری از فروپاشی ایران

کوششوں کے باوجود قومی اتحاد اور اصولی اشتراک عمل کے حوالے سے نہ کوئی پیش رفت ہو رہی ہے نہ ہی کسی قسم کے مزاکرات ہو رہے ہیں۔ مزاکراتی کمیٹی کا بیان

کوششوں کے باوجود قومی اتحاد اور اصولی اشتراک عمل کے حوالے سے نہ کوئی پیش رفت ہو رہی ہے نہ ہی کسی قسم کے مزاکرات ہو رہے ہیں۔ مزاکراتی کمیٹی کا بیان

بر دانش آموزان بلـوچ چه می گـذرد؟ – بخش پنجـم

بر دانش آموزان بلـوچ چه می گـذرد؟ – بخش پنجـم

شهید ڈاکٹر منانءَ سلح بندین جهدءِ کمانڈر گواشگ سرفراز بگثیءِ نازانتی انت – حمل حیدر

شهید ڈاکٹر منانءَ سلح بندین جهدءِ کمانڈر گواشگ سرفراز بگثیءِ نازانتی انت – حمل حیدر

تمپ و گومازیء پاکستانی فوجی آپریشنء بابتء بلوچ ہیومن راٹس آرگنائزیشن ء سروک بی بی گل بلوچء گو ن گپ تران

تمپ و گومازیء پاکستانی فوجی آپریشنء بابتء بلوچ ہیومن راٹس آرگنائزیشن ء سروک بی بی گل بلوچء گو ن گپ تران

جالک ءُ کلَّگاں ڈیہ ءِ پَھرءُ شان اَنت

جالک ءُ کلَّگاں ڈیہ ءِ پَھرءُ شان اَنت

اُوَیس سمبل انگیزه یادگیری است

اُوَیس سمبل انگیزه یادگیری است

بولان سے بلوچ خواتین کی اغواء ، پاکستان بنگلہ دیش کی تاریخ دہرا رہا ہے: فرزانہ مجید بلوچ

بولان سے بلوچ خواتین کی اغواء ، پاکستان بنگلہ دیش کی تاریخ دہرا رہا ہے: فرزانہ مجید بلوچ

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے کمانڈر ڈاکٹر اللہ نذر سے خصوصی انٹرویو

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے کمانڈر ڈاکٹر اللہ نذر سے خصوصی انٹرویو

بلوچستانءِ نوکترین – ریڈیو حال

بلوچستانءِ نوکترین – ریڈیو حال

بلوچ نوجوانوں کی تحریک میں جوق در جوق شمولیت حوصلہ افزاء عمل ہے : بشیر زیب بلوچ

بلوچ نوجوانوں کی تحریک میں جوق در جوق شمولیت حوصلہ افزاء عمل ہے : بشیر زیب بلوچ

آزاد بلوچستان کی جنگ سب بلوچوں کو ملکر لڑنی هونگی – بی جے پی کے ترجمان انیل بالونی

آزاد بلوچستان کی جنگ سب بلوچوں کو ملکر لڑنی هونگی – بی جے پی کے ترجمان انیل بالونی

حامد بھائی تینوں رب دیاں رکھاں (یہ عنوان میں نے جناب ڈاکٹر صفدر محمودصاحب کے کالم سے مستعار لی ہے) کردگار بلوچ

2020-03-31 14:51:16
Share on

حامد بھائی تینوں رب دیاں رکھاں (یہ عنوان میں نے جناب ڈاکٹر صفدر محمودصاحب کے کالم سے مستعار لی ہے) کردگار بلوچ اگر پاکستانی صحافت سے چندصحافیوں ناموں کو نکالا جائے تو پاکستان میں صحافت خود صحافت کی توہین بن جائے اس لئے کہ پاکستان میں ان چندے ناموں کے علاوہ صحافت صحافت ہی باقی نہیں رہتا صرف زردی مائل رہ جاتی ہے۔یہ تمام روزنامے،یہ تمام ٹی وی چینلز،یہ تمام بڑے بڑے دانشوروں کی اسمائے گرامی سب کے سب کمرشلائزڈ ہیں جسے زبان زد عام میں اشتہاری کہتے ہیں لیکن پاکستانی صحافت کو جو تھوڑی بہت عزت و احترام حاصل ہے وہ ان ہی چندے شخصیات کی وجہ سے ہے جن میں حامد میر صاحب کا نام سر فہرست ہے ۔ مجھے یاد ہے کہ کوئی تین چار سال پہلے میں نے اپنا ایک کالم جس میں اُن کا اسم گرامی بلوچستان کے حوالے سے آیا تھا ،اُن کو دیکھنے کے لئے بھیجا تھا تو انہوں نے میرے کالم کے چند ایک جملے کی وضاحت چاہی اور پھر یہی’’ وضاحت ‘‘نے ایک ایسا رشتہ قائم کیا کہ بن دیکھے اور ملے بغیر بھی ایسا لگتا تھا کہ کم از کم میں اُن کو قریب سے اور عرصے سے جانتا ہوں ۔ا و ر جب اُن کو اس بات کا علم ہوا کہ میں ایک صحافی ہوں اور اپنی صحافتی فرائض کو بخوبی نبھانے کی پاداش میں ملک بدرکی ٹھوکریں کھا رہا ہوں تو انہوں نے اپنے ایک Mailمیں لکھا کہ ’’خدا آپ کو بربروں کی بربریت سے اپنے امان میں رکھے(آمین)اپنا خیال رکھیے گا۔۔۔‘‘ اور جب اُن پر پہلی بار قاتلانہ حملہ کی غرض سے ان کی گاڑی کے نیچھے بم باندھی گئی اور اللہ تبارک تعالیٰ نے بربروں کی بربری امیدوں پر پانی پھیر دیا اور اپنے نیک بندوں کو یہ بتا دیا کہ بے خوف ہوجاؤ کہ میں رب العالمین ان ظالموں اور بربروں سے کئی زیادہ طاقت ور ہوں تو اس وقت میں نے اپنے ایک میل میں اُن کی دعاؤں اور نیک خواہشات کو واپس اُن کی طرف لوٹا دیں۔لیکن مجھے اس بات کا قوی یقین تھا کہ حامد میر صاحب کے خلاف یہ اقدام بربروں کی طرف سے پہلا ہے اور یہ سلسلہ آگے بڑھے گا۔اس لئے کہ اس ملک میں صرف اُن لوگوں کو زندہ رہنے کا حق حاصل ہے جو Yes Sirاور جی حضور کے رٹے رٹائے جملوں کو اپنے دل میں سمائے ہوئے ہیں اور حامد میر صاحب کا نہ کوئی Sirتھا کہ اسے Yesکہتے اور نہ ہی کوئی حضور تھا کہ کہ اسے جی کہ کر مخاطب کرتے لہذا اس ملک میں اس کو زندہ رہنے کا کوئی حق نہ تھا اور وہ ایک غیر قانونی شہریت کا حامل شخص کے مانندتھا جو کسی بھی وقت دھر لیا جاتا تھا۔ حامد بھائی پر قاتلانہ حملے والی شام کو ایک SMS آیا کہ کراچی میں معروف صحافی حامد میر صاحب پر قاتلانہ حملہ ہوا ہے اور وہ ہسپتال میں ہے اور پھراس کے بعدیکے بعددیگرے کئی SMSملے جن میں اُن پر قاتلانہ حملہ ہونے اور اُن کی صحت یابی کے لئے دعائیں کرنے کا ذکر تھا۔ اور جب میں نے ایک دوست کو اس واقعہ کی اطلاع دینے کی غرض سے فون کیا تو اس نے بتایا’’۔۔۔کروڑوں کی آبادی والے پنجاب میں ہم بلوچوں کے حصے میں صرف ایک انسان آیا ہے مگر مقتدرہ کو یہ بھی گوارہ نہیں ہے اس بات سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کتنی نفرت ہے پاکستانی مقتدرہ کو بلوچوں کے ساتھ۔۔۔۔‘‘ حامد میر پر قاتلانہ حملے کا الزام جناب حامد میر صاحب کے بھائی جناب عامر میر صاحب نے پاکستان کے سب سے موثر اور سب سے طاقت ور ادارہ آئی ایس آئی پر لگایا ہے۔اور اس الزام کی دو بڑی وجوہات بیان کی گئی ہے جن میں پہلا وجہ بلوچستان اور خاص کر بلوچ سیاسی و سماجی کارکنوں کی ماورائے قانون و عدالت اغواء کرنا اور اُنکا مسخ شدہ لاشیں پھینکنے کے حوالے سے ہے اور دوسری وجہ ایک سابقہ فوجی آمر پرویز مشرف کی مقدمات کے حوالے سے ہے۔اور اس کی تیسری وجہ جو میری سمجھ میں آ رہی ہے کہ یہ ہے کہ نواز شریف حکومت اور آرمی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان سابقہ فوجی آمر کے حوالے سے جو خفیہ معایدہ ہوا ہے جس کے تحت اسے علاج کے بہانے بیرون پاکستان بھیجنا ہے مگر چونکہ اس وقت پورے پاکستان کی نظریں مشرف کے مقدمے پر لگی ہوئی ہیں ان نظروں کو مشرف سے ہٹا کر کسی ایک دوسرے زاویہ پر مرکوز کرنا تھا اس لئے وہ زاویہ جناب حامد میر پر قاتلانہ حملہ کا قرار پایا اور دشمنوں کو یقین تھا کہ اُن کی مرادیں بھر آئیں گی اور یوں ایک مقررہ وقت تک پاکستانی عوام کی نظریں حامد میر کے قتل(خدا نخواستہ) پر مرکوز رہیں گی اور اس دوران مشرف کراچی سے کسی عرب ملک کو پرواز کر چکا ہوگا مگر واقعی مارنے والے سے بچانے والا بڑا ہے اور اس بڑے نے مارنے والوں کی مرادیں خاک میں ملادیں۔ حامد میر صاحب پر اس قاتلانہ حملے سے ظالموں اور بربروں کی مرادیں بھر آئی ہوں کہ نہ آئی ہوں مگر اس واقعہ نے پاکستان کے اس زرد صحافت کو مذید آشکار کر دیا۔ جس سے نہ صرف دنیا میں پاکستانی صحافت کو مذید بدنامی ملی بلکہ پاکستان میں صحافی بھائیوں کی اتحاد اور انصرام کو بھی فاش فاش کر دیا۔ایک طرف حامد میر صاحب کا ادارہ جنگ اور جیو گروپ ہیں تو دوسری طرف پاکستان کے کئی بڑے بڑے نام نہاد صحافتی ادارے ہیں اور بظاہر وہ حامد میر کے بھائی عامر میر کی طرف سے پاکستانی خفیہ ادارہ آئی ایس آئی کو دوشی قرار دینے کے خلاف ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ بغیر کسی ثبوت کے عامرمیر اور ان کے ادارے کو پاکستان کے اس انتہائی اہم ادارے پر الزام نہیں لگانا چاہیے تھا۔اور اگر لگایا تو اب ثبوت پیش کرے۔ جہاں تک خفیہ اداروں کے کسی بھی فعل سے متعلق ثبوت کی بات ہے تو یہ تقریباً ناممکن ہے دنیا میں کسی بھی خفیہ ادارے کے کسی کردار کا کوئی ثبوت نہیں ہوتا اگر ہو بھی جائے تو وہ کسی دوسرے خفیہ ادارے ہی کے پاس مل سکتی ہے اسی طرح پاکستانی آئی ایس آئی جیسے تجربہ کار اور تربیت یافتہ ادارے کی کسی کارروائی کا ثبوت دینا امکانات میں اس لئے بھی نہیں ہے کہ پہلے تو وہ کوئی بھی کارروائی اپنے تئیں نہیں کرتے بلکہ اپنے دلالوں اور داشتاؤں کے ذریعے کرواتے ہیں جو عموماً کرایہ کے قاتل،ڈاکو،سمگلر ،چور اور دوسرا اخلاق بافتہ عمل میں ملوث لوگ ہوتے ہیں اس لئے کسی بھی کارروائی کے نشانات براہ راست ان اداروں کی طرف جاتا نہیں ملتا ۔خود بلوچستان میں بلوچ سیاسی و سماجی کارکنوں کی ماورائے قانون و عدالت اغواء اور مسخ شدہ لاشوں کے الزامات پاکستان کے عدالت عظمیٰ تک کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری جو اس ملک کے سب سے زیادہ دلیر اور با اختیار شخصیت نے بھی اپنے ریمارکس میں ان ہی اداروں کا نام لیا ہے مگر اب تک کسی قسم کی کوئی ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے مقدمات زیر التواء ہیں اس لئے کہ اِن تمام کارروائیوں میں کرایہ کے قاتل،ڈاکو، سمگلر اور چوروں کو جو بلوچستان میں مسلح دفاعی تنظیم اور بلوچستان امن تنظیم کے نام سے جانے جاتے ہیں جو ان وفاقی اداروں کے ساتھ مل کر کارروائیاں کرتے ہیں اور اس کے عوض اُن کو چھوٹ مل چکی ہے کہ وہ جس قدر چاہیں چوری،ڈاکے اورڈرگ سمگلنگ حتیٰ کہ انسانوں اور اُن کے معصوم بچوں کی سمگلنگ کا کام جس قدرکرسکتے ہیں کریں اُن کا کوئی نام لینے والا نہیں ہیپولیس،لیویز اور دوسرے کمزور ادارے ان ڈاکووں،قاتلوں اور سمگلروں کے سامنے بھیگی بھلی بنے ہوئے ہیں۔اور پھر دوسری اہم بات یہ ہے کہ وزیراعظم پاکستان نے جو انکواری کمیشن بنانے کا اعلان کیا ہے وہ بھی ڈھونگ سی لگتی ہے ۔یہ وزیر اعظم ان ہی سکیورٹی اداروں کی گرفت میں سسک رہی ہے اس نے تحفظ پاکستان آرڈیننس نامی قرون وسطیٰ کی بربریت والی قوانین ان ہی اداروں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے نافذ کی وہ بھلا کیا آزاد کمیشن بنائیں گے اور پھرسوال اٹھتا ہے کہ جو لوگ انکواری کے لیے مقرر ہوتے ہیں کیا اُن کو اس ملک میں رہنا نہیں ہوتا کیا وہ اس دریا میں رہ کر حامد میر کی خاطر مگر مچھوں کے ساتھ بیر لے کر اپنی اور بچوں کی زندگیاں داؤ پر لگا سکتے ہیں۔ لہذا اگر حامد میر صاحب اور حقیقی صحافت کو انصاف دلانا مقصود ہے یا پھر واقعی اگر خفیہ ادارے ملوث نہیں ہیں تو بہترین راستہ یہ ہے کہ اقوام متحدہ سے درخواست کی جائے کہ وہ اس قاتلانہ حملے کی انکواری اپنے ہی لوگوں کے ذریعے کر دے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے۔بہرحال ہماری دعا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ حامد میر صاحب کو جلد شفایابی دے کر مظلوم دوست شخصیتوں کی حوصلے کو برقرار رکھ دے۔(آمین)

 

Share on
Previous article

هجوم وحشيانه قشـون پارس و اشغال بلوچستان در سـال ۱۳۰۷ هجـری شمسـی

NEXT article

نامه جمعی از علمای اهل سنت که خواستار اعزام هئیت تحقیق در مورد ترورعلمای اهل سنت درایران هستند

LEAVE A REPLY