دہشت گردی کا مرکز پاکستان جیسے انتہا پسند ممالک ہیں : حیر بیار مری

MUST READ

پادآتکگیں بلوچ ورنایانی نامءَ

پادآتکگیں بلوچ ورنایانی نامءَ

گپ و ترانے گون بی ایس او آزادءِ بنجاھی باسک لطیف جوھرءَ چآ کراچيءِ پریس کلبءِ دیمے شُدکَشی احتجاجی کیمپءَ

گپ و ترانے گون بی ایس او آزادءِ بنجاھی باسک لطیف جوھرءَ چآ کراچيءِ پریس کلبءِ دیمے شُدکَشی احتجاجی کیمپءَ

بلوچ ورنایانی راجی بیداری

بلوچ ورنایانی راجی بیداری

بلوچستان سمینار اسٹوکھولم سویڈنءَ بلوچ قوم دوست رھنما حیر بیار مریءِ تران

بلوچستان سمینار اسٹوکھولم سویڈنءَ بلوچ قوم دوست رھنما حیر بیار مریءِ تران

بر دانش آموزان بلوچ چه می گذرد؟

بر دانش آموزان بلوچ چه می گذرد؟

اقوام متحده کی انسانی حقوق کونسل کے 33 ویں اجلاس میں بهارت کا بلوچستان میں انسانی حقوق کی پائیمالی پر پاکستان کو ذمه دار پر بی جے پی کے ترجمان انیل بالونی سے گفتگو

اقوام متحده کی انسانی حقوق کونسل کے 33 ویں اجلاس میں بهارت کا بلوچستان میں انسانی حقوق کی پائیمالی پر پاکستان کو ذمه دار پر بی جے پی کے ترجمان انیل بالونی سے گفتگو

بلوچ دژمنیں سپاہ ڈیہ ءِ جنیں آدماں بندی کنگ اِنت

بلوچ دژمنیں سپاہ ڈیہ ءِ جنیں آدماں بندی کنگ اِنت

رهبری خیزش کنونی غیرمتمرکز و در دست مردم بپاخاسته است

رهبری خیزش کنونی غیرمتمرکز و در دست مردم بپاخاسته است

وطن واپسی کے افواہ پاکستان کے گھڑے گئے جھوٹ ہیں – قریبی ذرائع خان قلات

وطن واپسی کے افواہ پاکستان کے گھڑے گئے جھوٹ ہیں – قریبی ذرائع خان قلات

گوادر اوسیس اسکول سیٹمءِ سرمستر واجه زاهد آسکانی تیر جنگ ءُ بیران کنگ بوت

گوادر اوسیس اسکول سیٹمءِ سرمستر واجه زاهد آسکانی تیر جنگ ءُ بیران کنگ بوت

بلوچ نوجوانوں کی تحریک میں جوق در جوق شمولیت حوصلہ افزاء عمل ہے : بشیر زیب بلوچ

بلوچ نوجوانوں کی تحریک میں جوق در جوق شمولیت حوصلہ افزاء عمل ہے : بشیر زیب بلوچ

جئے سندھ متحدہ محاذ کے کارکن شهید سرویچ پیرزادہ کے والد لطف علی سے گفتگو

جئے سندھ متحدہ محاذ کے کارکن شهید سرویچ پیرزادہ کے والد لطف علی سے گفتگو

سلگتا بلوچستان اور اقوام متحدہ کی خاموشی ؟……ڈاکٹر منان بلوچ

سلگتا بلوچستان اور اقوام متحدہ کی خاموشی ؟……ڈاکٹر منان بلوچ

پاکستانی افواج صرف اور صرف نہتے خواتین اور بچوں کو ہی اغوا کر سکتے ہیں ان کی قابلیت یہی تک محدود ہے۔ نواب براہمدغ بگٹی

پاکستانی افواج صرف اور صرف نہتے خواتین اور بچوں کو ہی اغوا کر سکتے ہیں ان کی قابلیت یہی تک محدود ہے۔ نواب براہمدغ بگٹی

بلوچستــان غربـی چگونه اشغال شـــد؟

بلوچستــان غربـی چگونه اشغال شـــد؟

دہشت گردی کا مرکز پاکستان جیسے انتہا پسند ممالک ہیں : حیر بیار مری

2020-03-26 12:34:55
Share on

لندن/  بلوچ قوم دوست رہنما حیربیار مری نے لندن میں دہشت گرد حملے میں زخمی و ہلاک ہونے والے لوگوں کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ آج پوری دنیا مذہبی جنونیت اور دہشت گردی کا شکار ہے۔ اس دہشت گردی کا مرکز پاکستان جیسے مذہبی انتہا پسند ممالک ہیں ۔ بلوچ قو م لندن میں اس دہشت گرد حملے کے متاثرین کے دکھ و درد کو خوبی سمجھتے ہیں کیونکہ بلوچ قوم خود بھی پاکستان جیسے مذہبی انتہاپسند ملک کی دہشت گردی کا شکار ہے جو کہ بلوچستان میں ایف 16 اور ٹینکوں کے زریعے بلوچ قوم کی قتل و غارت گری کر رہا ہے ۔
بلوچ رہنما نے کہا کہ پاکستان جیسے ملک دنیا کی امن کے لیے سنگین خطرہ ہیں دنیا میں جہاں جہاں بھی دہشت گردی کے واقعات ہوئے ہیں ان کے تانے بانے ہمیشہ پا کستان اور کچھ عرب ممالک سے ہی ملے ہیں عرب ممالک کے کچھ امیر خاندان انہی مذہنی انتہاپسندوں کی فنڈنگ کرتے ہے تو پاکستان انہیں ٹریننگ دیتا ہے
پھر یہی دہشت گرد یورپی ممالک میں چاقووں ، خود کش جیکٹوں اور گاڑیوں سے لیس ہوکر حملہ آور ہوتے ہیں یا لوگوں کو گاڑیوں کے ذریعے روندتے ہیں ۔ دہشت گرد وہی ہیں لیکن ان کا طریقہ ہر ملک اور قوم پر مختلف ہے۔ برطانیہ ، جرمنی اور فرانس جسیے ممالک میں یہ جب حملہ آور ہوتے ہیں تو ان کو روکنے کے لیے ان ممالک کی پوری مشنری حرکت میں لائی جاتی ہے اور متاثرہ علاقے کو سیل کرلیا جاتا ہے۔ جبکہ بلوچستان جیسے ملک میں بغیر کسی خوف و خطر کے لڑاکا طیاروں کے ذریعےوام پر بمباری کی جاتی ہے اور قصبوں کو ملیامیٹ کردیا جاتا ہے جس طرح کی مذہبی جنونیت کا آج یورپ شکار ہے بلوچ قوم اس طرح کی مذہبی جنونیت کا7 194سے شکار ہے صرف بلوچ نہیں بلکہ ،بلوچ کے ساتھ ساتھ ہندوستان ، افغانستان بھی پاکستان جیسے ناسور کی دہشت گردی کی آگ میں جل رہے ہیں
حیربیار مری نے کہا کہ عالمی برادری کو ان جہادی پیدا کرنے والے ممالک کی طرف توجہ دینا چاہیے
جہاں مذہب کے نام پر اپنے سیاسی اور عسکری مقاصد حاصل کرنے کے لیے نوجوانوں کو برین واش کرکے پھر ان کو دنیا بھر میں ہشتگردی پھیلانے کیلیے استعمال کیا جاتا ہے ۔ جس میں پاکستان سر فہرست ہے ،دہشت گردی میں پاکستانی دہرے معیارکا ثبوت اور دلیل خود سابقہ آئی ایس آئی سربراہ اسد درانی کا الجزیرہ چینل میں مہدی حسن کے ساتھ 2015 کا انٹریو ہے جس میں انہوں نے اس کا اقرار کیا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم دنیا کو بے وقوف بناتے آرہے ہیں اور دو گھوڑوں کی سواری میں کوئی برائی نہیں ہے اور بے گناہ لوگوں کا قتل اس کھیل کا حصہ ہے ۔ آئی ایس آئی کے سابقہ سربرہ کے الجزیرہ ٹی وی میں دہشت گردی کے خلاف دہری معیار کے اعتراف ہمارے اس موقف کی تائیدکرتاہے کہ پاکستان دنیا میں دہشت گردی کا مرکز ہے اور سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے مذہبی اور جہادی گروپوں کی پشت پناہی کر رہا ہے

 

Share on
Previous article

امپراتوریِ شیعیِ عجم بازندهٔ جنگ با اعراب

NEXT article

کوئٹہءَ هیلته آفیسر ڈاکٹر امیر بخش بلوچءِ بیگواهیءِ بابتءَ گپ و ترانے گون ڈاکٹر کمال هان بلوچءَ

LEAVE A REPLY