زگری پہلے بلوچ ہیں اور سرزمین بلوچستان کے وارث ہیں – حاجی ایوب سربازی

MUST READ

مئی 2 شھید فدا احمدءِ شھادتءِ سالروچ

مئی 2 شھید فدا احمدءِ شھادتءِ سالروچ

شگرد انتخاباتی روحانی و اهداف پشت پرده آن

شگرد انتخاباتی روحانی و اهداف پشت پرده آن

پاکستان نے سی پیک کی کامیابی کےلئے بلوچستان میں ظلم و بربریت کا بازار گرم کیا ہوا- حیربیارمری

پاکستان نے سی پیک کی کامیابی کےلئے بلوچستان میں ظلم و بربریت کا بازار گرم کیا ہوا- حیربیارمری

انڈیا میں بلوچستان پر سیمینار بلوچ رہنما حیربیار مری کا پیغام

انڈیا میں بلوچستان پر سیمینار بلوچ رہنما حیربیار مری کا پیغام

کوئٹہءَ هیلته آفیسر ڈاکٹر امیر بخش بلوچءِ بیگواهیءِ بابتءَ گپ و ترانے گون ڈاکٹر کمال هان بلوچءَ

کوئٹہءَ هیلته آفیسر ڈاکٹر امیر بخش بلوچءِ بیگواهیءِ بابتءَ گپ و ترانے گون ڈاکٹر کمال هان بلوچءَ

پاکستان نے سی پیک کی کامیابی کےلئے بلوچستان میں ظلم و بربریت کا بازار گرم کیا ہوا- حیربیارمری

پاکستان نے سی پیک کی کامیابی کےلئے بلوچستان میں ظلم و بربریت کا بازار گرم کیا ہوا- حیربیارمری

تکانسـریـں خامنه ای: ایران ٹُکُّــرٹُـکُّــربیـت

تکانسـریـں خامنه ای: ایران ٹُکُّــرٹُـکُّــربیـت

بلوچستانءِ نوکترین – ریڈیو حال

بلوچستانءِ نوکترین – ریڈیو حال

کمبر چاکر- گوانک ٹیم

کمبر چاکر- گوانک ٹیم

ڈاکٹر منان بلوچ 5 ساتھیوں سمیت شہید

ڈاکٹر منان بلوچ 5 ساتھیوں سمیت شہید

Mr. Aziz Baloch coordinator of Voice for Baloch missing persons in canada talking about mass grave in balochistan with co-op Radio

Mr. Aziz Baloch coordinator of Voice for Baloch missing persons in canada talking about mass grave in balochistan with co-op Radio

استقلال کوردستان مبارک باد

استقلال کوردستان مبارک باد

جئے سندھ متحدہ محاذ کے کارکن شهید سرویچ پیرزادہ کے والد لطف علی سے گفتگو

جئے سندھ متحدہ محاذ کے کارکن شهید سرویچ پیرزادہ کے والد لطف علی سے گفتگو

دہشت گردی کا مرکز پاکستان جیسے انتہا پسند ممالک ہیں : حیر بیار مری

دہشت گردی کا مرکز پاکستان جیسے انتہا پسند ممالک ہیں : حیر بیار مری

مـاتی زبانانی جھانی روچ ءُ شھدیں بلوچی

مـاتی زبانانی جھانی روچ ءُ شھدیں بلوچی

زگری پہلے بلوچ ہیں اور سرزمین بلوچستان کے وارث ہیں – حاجی ایوب سربازی

2020-03-26 15:16:55
Share on

کچھ ضروری وضاحت ملا عمر سے جیش العدل کا کوئی تعلق نہیں ہے

 میں بلوچ سرزمین كى آزادی کا ایک حمایتی ہو اور میرا اخلاقی تعلق جیش العدل سے ہے ایک بلوچ ہونے کے ناطے میں کسی بھی آزادی پسند تنظیم اور آزادی کے جہد کاروں سے رابطہ رکنے کا خواہش مند ہو ۔۔
جب ملا عمر کے  پر بلوچ سرمچاورں کا حملہ ہوا تو ہم نے دیکھا کے کچھ دوست بغیر تحقیق ملا عمر کو جیش العدل اور جنداللە سے منسلک کررہے ہیں تو میں نے جیش العدل کے ایک جہد کار سے رابطہ کیا کہ یہ درست ہے کہ ملا عمر آپ لوگوں کا بندہ ہے ؟ تو دوست نے جواب دیا نہیں بلکل نہیں ہم بلکہ ایسے عناصروں کی سکت الفاظ میں مُزمت کرتے ہیں جو مقدس دین اسلام کو اپنے غیر فطری مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں ۔
دین اسلام میں ایسے غلیز حرکات کی کوئی گنجاہش نہیں ہے
دین اسلام انسايت بھائی چارے محبت اور امن کا درس دیتا ہے ایسے عوامل بلوچ قوم اور دنیا کو گمراہ کرنے کے مترادف ہیں ۔
ہمارا ملا عمر سےنہیں گایسے کسی بھی لوگوں سے تعلق نہیں ہے جو اسلام دین کو اپنے نہ جاہز مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہے۔
،
آج جو صورت حال مشرقى بلوچستان میں پيدا ہورے ہیں تو اس سے پہلےمغربی بلوچستان میں ایسے مساحل موجود ہیں جو ہر روز ایرانی سامراج بلوچستان کے طویل و عرض علاقوں میں ہمارے بلوچ بُزرگ نوجوان دانشور علماؤ کو مذهب کے نام پر تختائے دار پر لٹکاتےآرہے ہیں مگر ہمیں یہ بہ خوبی اندازه ہے اور معلوم ہے کہ مقاصد کیا ہیں اور کس لیے بلوچ نسل کشی کا یہ نہ بند ہونے والا سلسلہ شروع ہوا ہے ۔ تو مشرقى بلوچستان میں بھی اب یہ سلسلہ شروع ہوا ہے ریاست اپنے قبضے کو دوم بخشنے کے لیے۔۔
آج تمام انکلابی جہد کار سیاسی کارکن دانشور سياست دان اس حقیقت کو سمجےاور اپنا ایک مثبت رول ادا کرے اور ایک گلہ اپنے لکھارى دوستوں سے جب ہم آج اپنے دوستوں کی تحریرے دیکھتے ہیں تو یقین مانے ہمیں بہت افسوس ہوتا ہے كه ہمارے لكهـارى دوست بغیر تحقیق بغیر زمینی حکاحق کو دیکھ کر سمج کر ہمیں ہر روز کسی نئےتنظیم سے منسلک کرتے ہیں
بلکل یہ حق سب بلوچ عوام اور زانتکاروں کو حاصل ہے کے تعمیری تنقید کرے مگر تحقیق اور زمینی حکاحق کو مدنظر رک کر اپنے تعمیری تحریر لکھے تو یہ ایک مثبت عمل ضرور ہوگا
ایک اور ضروری بات یہ ہے کہ جنداللہ کا اب کوئی وجود نہیں ہے اب جیش العدل ہے اور جہاں تک زگریوں کا سوال ہے تو زگری پہلے بلوچ ہیں اور سرزمین بلوچستان کے وارث ہیں دین اسلام کسی کو یہ اجازت نہیں دیتا کے وہ زبردستی کسی کو اسلام میں لائے اللہ تعالٰی نے انسان کو اختیار دیا ہے کے وہ کس راہ پر چلے اس کا فیصلہ اللہ رب عزت آخرت میں کريگا ۔
کسی انسان پر کوئی زور نہیں مگر ہم یہ بہ خوبی جانتے ہیں کے یہاں سُنی اور زگری کا کوئی مسلہ نہیں ہے , زگری آج نہیں بلکے ہزاروں سال سے بلوچستان میں رہ رہے ہیں پہلے تو کوئی مشکل نہیں تھا تو آج کہاں سے پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے کے زگری اس حد تک خطرناک ہوگئے ہیں کہ ان کا قتل عام کیا جارہا ہے ہم یہ نہیں سمجھتے ہیں کہ زگریوں کا قتل عام ہورہا ہے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ بلوچوں کا قتل عام ہورہا ہے انسانیت کا قتل عام ہورہا ہے قتل عام تو وہی ہیں اب بس سامراج کی فالیسی ہیں جو تبدیل ہوچکے ہیں پہلے بھی ہورہے تھے اور آج بھی ہورہے ہیں ۔۔
تو لہذا آج بلوچ قوم کو اس امر كى ضرورت ہے کہ یک جاہ ہوکر اس صورت حال كو باریک بینی سے دیکھے اور اس سے مقابلہ کرے.
( آزاد بلوچستان زندگ بات )

Share on
Previous article

’چھ ہزار بلوچ جنگجو پاکستانی فوج کیخلاف مزاحمت کر رہے ہیں‘ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ

NEXT article

نواب اکبر خان بگٹی کے قتل کا معمہ اورانصاف کی تاخیر ۔۔۔۔۔ ارشاد مستوئی

LEAVE A REPLY