زگری پہلے بلوچ ہیں اور سرزمین بلوچستان کے وارث ہیں – حاجی ایوب سربازی

MUST READ

پرچے ناشریں ڈنّی یاں مئے مَچکَدَگاں ماندارَگ اَنت؟

پرچے ناشریں ڈنّی یاں مئے مَچکَدَگاں ماندارَگ اَنت؟

ضرورت تشکیل جبهه مردمی در بلوچستان اشغالی

ضرورت تشکیل جبهه مردمی در بلوچستان اشغالی

گلزمیـن ءِ هَنــد ءُ دمَگانــی هالَه ئیــں نـام

گلزمیـن ءِ هَنــد ءُ دمَگانــی هالَه ئیــں نـام

ڈاکٹر منان بلوچ 5 ساتھیوں سمیت شہید

ڈاکٹر منان بلوچ 5 ساتھیوں سمیت شہید

پیدا شدن جسد ساجد حسین در رودخانه شهر آپسالا

پیدا شدن جسد ساجد حسین در رودخانه شهر آپسالا

اقوام متحده کی انسانی حقوق کونسل کے 33 ویں اجلاس میں بهارت کا بلوچستان میں انسانی حقوق کی پائیمالی پر پاکستان کو ذمه دار پر بی جے پی کے ترجمان انیل بالونی سے گفتگو

اقوام متحده کی انسانی حقوق کونسل کے 33 ویں اجلاس میں بهارت کا بلوچستان میں انسانی حقوق کی پائیمالی پر پاکستان کو ذمه دار پر بی جے پی کے ترجمان انیل بالونی سے گفتگو

Two Baloch killed in Mastung as FC given free hand to conduct operations in Balochistan

Two Baloch killed in Mastung as FC given free hand to conduct operations in Balochistan

اعتراض کارشناسان سازمان ملل به اعدام بلوچ‌ها در ایران؛ درخواست اقدام فوری جهانی برای آزادی فعالان کرد ـ  بی بی سی

اعتراض کارشناسان سازمان ملل به اعدام بلوچ‌ها در ایران؛ درخواست اقدام فوری جهانی برای آزادی فعالان کرد ـ بی بی سی

بلوچستان اِشغالی در چنگال خونینِ غارتگران

بلوچستان اِشغالی در چنگال خونینِ غارتگران

 زبانهای اصیل کوردی، تورکی، تورکمنی، عربی و بلوچی زنده هستند

زبانهای اصیل کوردی، تورکی، تورکمنی، عربی و بلوچی زنده هستند

جیش العدل کے کمانڈر ایوب بلوچ سے هماری گفتگو کا خلاصہ

جیش العدل کے کمانڈر ایوب بلوچ سے هماری گفتگو کا خلاصہ

بلوچستان سمینار اسٹوکھولم سویڈنءَ پروفیسر ڈاکٹر مصطفےءِ تران

بلوچستان سمینار اسٹوکھولم سویڈنءَ پروفیسر ڈاکٹر مصطفےءِ تران

گپ و ترانے گون واجہ قدیر بلوچءَ اسلام آبادءِ لانگ مارچءِ اوّلی روچءَ

گپ و ترانے گون واجہ قدیر بلوچءَ اسلام آبادءِ لانگ مارچءِ اوّلی روچءَ

گپ و ترانے کراچيءِ بلوچ آبادی لياری ءِ جاورانی سرا

گپ و ترانے کراچيءِ بلوچ آبادی لياری ءِ جاورانی سرا

پاکستان وایران کا بلوچ قومی جہد کے خلاف ہمیشہ سے ایک قریبی تعاون رہا ہے:حیربیارمری

پاکستان وایران کا بلوچ قومی جہد کے خلاف ہمیشہ سے ایک قریبی تعاون رہا ہے:حیربیارمری

زگری پہلے بلوچ ہیں اور سرزمین بلوچستان کے وارث ہیں – حاجی ایوب سربازی

2020-03-31 12:44:52
Share on

کچھ ضروری وضاحت ملا عمر سے جیش العدل کا کوئی تعلق نہیں ہے

 میں بلوچ سرزمین كى آزادی کا ایک حمایتی ہو اور میرا اخلاقی تعلق جیش العدل سے ہے ایک بلوچ ہونے کے ناطے میں کسی بھی آزادی پسند تنظیم اور آزادی کے جہد کاروں سے رابطہ رکنے کا خواہش مند ہو ۔۔
جب ملا عمر کے  پر بلوچ سرمچاورں کا حملہ ہوا تو ہم نے دیکھا کے کچھ دوست بغیر تحقیق ملا عمر کو جیش العدل اور جنداللە سے منسلک کررہے ہیں تو میں نے جیش العدل کے ایک جہد کار سے رابطہ کیا کہ یہ درست ہے کہ ملا عمر آپ لوگوں کا بندہ ہے ؟ تو دوست نے جواب دیا نہیں بلکل نہیں ہم بلکہ ایسے عناصروں کی سکت الفاظ میں مُزمت کرتے ہیں جو مقدس دین اسلام کو اپنے غیر فطری مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں ۔
دین اسلام میں ایسے غلیز حرکات کی کوئی گنجاہش نہیں ہے
دین اسلام انسايت بھائی چارے محبت اور امن کا درس دیتا ہے ایسے عوامل بلوچ قوم اور دنیا کو گمراہ کرنے کے مترادف ہیں ۔
ہمارا ملا عمر سےنہیں گایسے کسی بھی لوگوں سے تعلق نہیں ہے جو اسلام دین کو اپنے نہ جاہز مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہے۔
،
آج جو صورت حال مشرقى بلوچستان میں پيدا ہورے ہیں تو اس سے پہلےمغربی بلوچستان میں ایسے مساحل موجود ہیں جو ہر روز ایرانی سامراج بلوچستان کے طویل و عرض علاقوں میں ہمارے بلوچ بُزرگ نوجوان دانشور علماؤ کو مذهب کے نام پر تختائے دار پر لٹکاتےآرہے ہیں مگر ہمیں یہ بہ خوبی اندازه ہے اور معلوم ہے کہ مقاصد کیا ہیں اور کس لیے بلوچ نسل کشی کا یہ نہ بند ہونے والا سلسلہ شروع ہوا ہے ۔ تو مشرقى بلوچستان میں بھی اب یہ سلسلہ شروع ہوا ہے ریاست اپنے قبضے کو دوم بخشنے کے لیے۔۔
آج تمام انکلابی جہد کار سیاسی کارکن دانشور سياست دان اس حقیقت کو سمجےاور اپنا ایک مثبت رول ادا کرے اور ایک گلہ اپنے لکھارى دوستوں سے جب ہم آج اپنے دوستوں کی تحریرے دیکھتے ہیں تو یقین مانے ہمیں بہت افسوس ہوتا ہے كه ہمارے لكهـارى دوست بغیر تحقیق بغیر زمینی حکاحق کو دیکھ کر سمج کر ہمیں ہر روز کسی نئےتنظیم سے منسلک کرتے ہیں
بلکل یہ حق سب بلوچ عوام اور زانتکاروں کو حاصل ہے کے تعمیری تنقید کرے مگر تحقیق اور زمینی حکاحق کو مدنظر رک کر اپنے تعمیری تحریر لکھے تو یہ ایک مثبت عمل ضرور ہوگا
ایک اور ضروری بات یہ ہے کہ جنداللہ کا اب کوئی وجود نہیں ہے اب جیش العدل ہے اور جہاں تک زگریوں کا سوال ہے تو زگری پہلے بلوچ ہیں اور سرزمین بلوچستان کے وارث ہیں دین اسلام کسی کو یہ اجازت نہیں دیتا کے وہ زبردستی کسی کو اسلام میں لائے اللہ تعالٰی نے انسان کو اختیار دیا ہے کے وہ کس راہ پر چلے اس کا فیصلہ اللہ رب عزت آخرت میں کريگا ۔
کسی انسان پر کوئی زور نہیں مگر ہم یہ بہ خوبی جانتے ہیں کے یہاں سُنی اور زگری کا کوئی مسلہ نہیں ہے , زگری آج نہیں بلکے ہزاروں سال سے بلوچستان میں رہ رہے ہیں پہلے تو کوئی مشکل نہیں تھا تو آج کہاں سے پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے کے زگری اس حد تک خطرناک ہوگئے ہیں کہ ان کا قتل عام کیا جارہا ہے ہم یہ نہیں سمجھتے ہیں کہ زگریوں کا قتل عام ہورہا ہے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ بلوچوں کا قتل عام ہورہا ہے انسانیت کا قتل عام ہورہا ہے قتل عام تو وہی ہیں اب بس سامراج کی فالیسی ہیں جو تبدیل ہوچکے ہیں پہلے بھی ہورہے تھے اور آج بھی ہورہے ہیں ۔۔
تو لہذا آج بلوچ قوم کو اس امر كى ضرورت ہے کہ یک جاہ ہوکر اس صورت حال كو باریک بینی سے دیکھے اور اس سے مقابلہ کرے.
( آزاد بلوچستان زندگ بات )

mulaa

Share on
Previous article

’چھ ہزار بلوچ جنگجو پاکستانی فوج کیخلاف مزاحمت کر رہے ہیں‘ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ

NEXT article

نواب اکبر خان بگٹی کے قتل کا معمہ اورانصاف کی تاخیر ۔۔۔۔۔ ارشاد مستوئی

LEAVE A REPLY