سات اپریل کے آپریشن میں تنظیم کے تین جانثار ساتھی شہید ہوگئے

MUST READ

شاپک کیچءِ ڈرانڈیں بوتگینان گون گپ و ترانے ءُ بی ایچ آر او سروک بی بی گلءِ رپورٹ

شاپک کیچءِ ڈرانڈیں بوتگینان گون گپ و ترانے ءُ بی ایچ آر او سروک بی بی گلءِ رپورٹ

بلوچ دژمنیں “سپاه قدس” بلوچ جُهدکاراں میڑینگ انت

بلوچ دژمنیں “سپاه قدس” بلوچ جُهدکاراں میڑینگ انت

روز شهــدای بلوچستـان گرامـی باد

روز شهــدای بلوچستـان گرامـی باد

کچھ کو ترجیج دینا اور دوسروں کو نظر انداز کرنا یو ین کے مقصد پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ حیربیار مری

کچھ کو ترجیج دینا اور دوسروں کو نظر انداز کرنا یو ین کے مقصد پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ حیربیار مری

من اگت در ملکءَ روان منی جان رکھیت ، بلہ اے ھزارانی بزگین مھلوک ءُ وتی زمینءَ ھلاس بہ کناں پا من انگت گرانترین مرگءِ بیت – قمبر چاکر 2010

من اگت در ملکءَ روان منی جان رکھیت ، بلہ اے ھزارانی بزگین مھلوک ءُ وتی زمینءَ ھلاس بہ کناں پا من انگت گرانترین مرگءِ بیت – قمبر چاکر 2010

شهيد ناصر ڈگارزھي

شهيد ناصر ڈگارزھي

طرح توسعه سواحل مکران – پندلے په بلوچستـــان ءِ مدامی زوربرد کنگ ءَ – اولی بهـر

طرح توسعه سواحل مکران – پندلے په بلوچستـــان ءِ مدامی زوربرد کنگ ءَ – اولی بهـر

فری بلوچستان موومنٹ کی طرف سے 28 مئی کو پاکستان کے ایٹمی دھماکوں اور چین اور پنجابی کی بلوچستان میں آبادکاری کے خلاف مغربی ممالک میں احتجاج کیا جائے گا

فری بلوچستان موومنٹ کی طرف سے 28 مئی کو پاکستان کے ایٹمی دھماکوں اور چین اور پنجابی کی بلوچستان میں آبادکاری کے خلاف مغربی ممالک میں احتجاج کیا جائے گا

بالاچ” مبارک قاضی “

بالاچ” مبارک قاضی “

زبان

زبان

گرامی باد خاطرهٔ قربانیان مذاکره با حکام مرکزی ایران

گرامی باد خاطرهٔ قربانیان مذاکره با حکام مرکزی ایران

بلوچستان لبریشن چارٹرءِ بنگیجی دیوانءَ واجہ حیر بیار مريءِ تران لندن 1 مارچ 2014

بلوچستان لبریشن چارٹرءِ بنگیجی دیوانءَ واجہ حیر بیار مريءِ تران لندن 1 مارچ 2014

گپ وتران گون شہید محمد اکبر خان بگٹی ء 20060402 گون ریڈیو بلوچی ایف ایم

گپ وتران گون شہید محمد اکبر خان بگٹی ء 20060402 گون ریڈیو بلوچی ایف ایم

نمیرانی ءِ کشک شھید نور محمد ءِ نام ءَ

نمیرانی ءِ کشک شھید نور محمد ءِ نام ءَ

بالاچ راجءِ دپتران مدام زندگ انت

بالاچ راجءِ دپتران مدام زندگ انت

سات اپریل کے آپریشن میں تنظیم کے تین جانثار ساتھی شہید ہوگئے

2020-03-31 14:59:15
Share on

سات اپریل کے آپریشن میں تنظیم کے تین جانثار ساتھی شہید ہوگئے

سنگت امیر الملک عر ف جمال جان ، گزین بلوچ اور شیرا بلوچ دشمن سے دوبدو لڑائی میں جامِ شہادت نوش کی میرک بلوچ ترجمان بی ایل اے
(مقبوضہ بلوچستان، بی یو سی نیوذ)بلوچ قومی فوج بی ایل اے کے ترجمان میرک بلوچ نے کہا ہے کہ7اپریل کی صبح دشمن فوج کے طرف سے قلات کے قریب پارود کیمپ پر فضائی حملہ کیا گیا جس میں 13ہیلی کاپٹروں کے ذریعے شدید شیلنگ کی گئی اور ساتھ ہی ساتھ SOTF (اسپیشل آپریشن ٹاسک فورس) کے کمانڈوز کے ذریعے انر کارڈنInner Cordon (ہاف مون پیڑنHalf Moon Pattern ) کے تحت گھیرا تنگ کرنے کی کوششیں کی گئی ، شدید فضائی شیلنگ کے باوجود ساتھیوں نے دشمن کے گھیراو کو مستحکم ہونے نہیں دیا اور جذبہ آزادی سے سرشار مادر وطن کے تینوں فرزندوں نے دشمن کے حصار میں گھس کر اْن سے دوبدو لڑائی شروع کی جس سے دشمن کے حوصلے پست ہوئے اور انھیں بھاری جانی نقصان اْٹھانا پڑا۔ تینوں جانثار ساتھیوں کے بے مثال جنگی جرات و بہادری کے مظاہرے نے دشمن کے آپریشن کے متعلق تمام کے تمام عزائم خاک میں ملادیئے شہید ساتھیوں کے جسد خاکی کو محفوظ مقامات تک پہنچانے کی خاطر حکمت عملی کے تحت اس سے پہلے اْنکے شہادت کا اعلان نہیں کیا گیا۔ سنگت امیر الملک عرف جمال جان 2006 سے بی ایل اے کے ساتھی رہے ہیں جس نے خضدار، کوئٹہ اور بولان میں تنظیمی فرائض بخوبی انجام دیے ہیں اور وہ تنظیم میں ایک ممتاز اور نمایا حثیت کے حامل ساتھی تھے جن کی محنت قربانی اور خلوص کو بطورِ مثال ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ان کے صابرانہ اور بردبارانہ قردار کو مدنظر رکھتے ہوئے تنظیم ان کو (پھلیں ) شہید کا اعزاز دیتی ہے یاد رہے کہ اس سے پہلے یہ اعزاز حاصل کرنے والے شہداء میں شہید زبیر جان، شہید سمیع جان اور شہید خلیل جان شامل ہیں۔ شہید سنگت شیرا اور گزین کے تنظیمی خدمات کے بارے میں معلومات حکمت عملی کے تحت اس وقت شائع نہیں کیے جائیں گے مناسب وقت پے ان جانثار ساتھیوں کے قومی خدمات کے متعلق قوم کو آگاہ کیا جائے گا 7 اپریل کے حملے میں قابض دشمن نے آپریشن کے زریعے حاصل ہونے والے اپنے مذموم عزائم کو خاک میں ملتا دیکھ کر اپنے جانی نقصانات پر مشتعل ہو کر عام بلوچوں کے گدانوں ، جھگیوں اور مال مویشیوں پر بے رحمانہ بمباری شروع کی جس میں کئی خواتین اور بچے شدید زخمی ہوئے۔ جن بلوچوں کے گھروں کو نشانہ بنایا گیا ان میں محمد علی ولد محمد خان ساسولی، فقیر محمد ولد صالح محمد ساسولی، ماندہ خان ولد سبزو ساسولی، داد شاہ ولد جام ساسولی، شیر محمد ولد میر تور خان ساسولی شامل ہیں اس شدید بمباری میں صفی اللہ ولد مولوی الہی بخش سناڑی عمر 8 سال شہید ہوگئے بی بی نصرہ گل ولد نور شاہ ساوسولی عمر 6 سال زخمی ، جان محمد ولد جانشاہ عمر 25 سال زخموں میں شامل ہیں اور8اپریل کو بھی مونجرو ، ریکو اور لجے توک میں عام بلوچ آبادیوں پر بے دریغ فضائی بمباری کی گئی اور مال مویشیوں کو ہلاک کیا گیا اور کئی بلوچوں کو گرفتار کرکے ان کے گھروں کو جلایا گیا اور علاقہ تاحال فوج کے محاصرے میں ہے زخمیوں کو ہسپتالوں میں منتقل کرنے سے زبردستی روکا جارہا ہے اور پورے علاقے کی راشن بندی کی گئی ہے جس کی وجہ سے علاقے کے لوگوں کے مشکلات میں مزید اضافہ ہورہا ہے ہلاک شدگان اور زخمیوں کی تفصیلات فوجی محاصرے کی وجہ سے اس وقت حاصل کرنا ممکن نہیں ہے اور اس بات کی وضاحت ہم بلوچ عوام کے لئے ضروری سمجھتے ہیں کہ اس وقت دیگر آزادی پسند تنظیموں کے ساتھ ہمارا کوئی بھی آپریشن کورڈنیشن نہیں ہے اور 7اپریل کو بھی آپریشن کا فوکس مخصوص تھا جسکا دشمن بھی اقرار کرچکا ہے 7اپریل کو علاقے میں موجود دیگر آزادی پسند تنظیموں میں سے کسی نے بھی فوجی آپریشن کے حوالے سے ہمارے ساتھ کوئی بھی کردارادا نہیں کیا مختلف آزادی پسند مزاحمتی تنظیموں کے اخباری بیانات میں جو دعوے کیے گئے وہ ایسے پر آشوب حالات میں ہمارے لیے حیرت اور تکلیف کا باعث بنیں ابتداء سے ہم نے سیاسی تقاضوں کے تحت تمام آزادی پسند تنظیموں سے جو مثالی آپریشن کورڈنیشن رکھا تھا اس میں تعطل کی وجہ مجموعی سیاسی صورت حال کے چند بنیادی مسائل بنیں ان بنیادی مسائل کے وجوہات کو سمجھنے اور ان کے بہتر حل کرنے تک ہم نے پہلے سے ہی مشروط جدوجہد کا اعلان کیا تھا جس پر ہم قائم ہیں شروع دن سے ہماری بھرپور کوشش رہی ہے کہ سیاسی مسائل میں کسی بھی طرح سے عسکری زرائع بلاوجہ استعمال نہ ہوں ہم یہ امید کرتے ہیں کہ تمام آزادی پسند زمہ دار حلقے سیاسی حل طلب مسائل میں عسکری زرائع کو بطور بیساکی استعمال نہ کریں کیونکہ ایسا کرنے سے ان مسائل کے حل کرنے میں مزید پیچیدگیاں پیدا ہونگے جو کسی بھی صورت تحریک کے لئے نیک شگون نہیں۔

 

Share on
Previous article

سفر روحانی به بلوچستان و انتظارات مردم بلوچ – عبدالستار دوشوکی

NEXT article

جان مذاکره کنندگان در خطر است

LEAVE A REPLY