سات اپریل کے آپریشن میں تنظیم کے تین جانثار ساتھی شہید ہوگئے

سات اپریل کے آپریشن میں تنظیم کے تین جانثار ساتھی شہید ہوگئے

2020-03-31 14:59:15
Share on

سات اپریل کے آپریشن میں تنظیم کے تین جانثار ساتھی شہید ہوگئے

سنگت امیر الملک عر ف جمال جان ، گزین بلوچ اور شیرا بلوچ دشمن سے دوبدو لڑائی میں جامِ شہادت نوش کی میرک بلوچ ترجمان بی ایل اے
(مقبوضہ بلوچستان، بی یو سی نیوذ)بلوچ قومی فوج بی ایل اے کے ترجمان میرک بلوچ نے کہا ہے کہ7اپریل کی صبح دشمن فوج کے طرف سے قلات کے قریب پارود کیمپ پر فضائی حملہ کیا گیا جس میں 13ہیلی کاپٹروں کے ذریعے شدید شیلنگ کی گئی اور ساتھ ہی ساتھ SOTF (اسپیشل آپریشن ٹاسک فورس) کے کمانڈوز کے ذریعے انر کارڈنInner Cordon (ہاف مون پیڑنHalf Moon Pattern ) کے تحت گھیرا تنگ کرنے کی کوششیں کی گئی ، شدید فضائی شیلنگ کے باوجود ساتھیوں نے دشمن کے گھیراو کو مستحکم ہونے نہیں دیا اور جذبہ آزادی سے سرشار مادر وطن کے تینوں فرزندوں نے دشمن کے حصار میں گھس کر اْن سے دوبدو لڑائی شروع کی جس سے دشمن کے حوصلے پست ہوئے اور انھیں بھاری جانی نقصان اْٹھانا پڑا۔ تینوں جانثار ساتھیوں کے بے مثال جنگی جرات و بہادری کے مظاہرے نے دشمن کے آپریشن کے متعلق تمام کے تمام عزائم خاک میں ملادیئے شہید ساتھیوں کے جسد خاکی کو محفوظ مقامات تک پہنچانے کی خاطر حکمت عملی کے تحت اس سے پہلے اْنکے شہادت کا اعلان نہیں کیا گیا۔ سنگت امیر الملک عرف جمال جان 2006 سے بی ایل اے کے ساتھی رہے ہیں جس نے خضدار، کوئٹہ اور بولان میں تنظیمی فرائض بخوبی انجام دیے ہیں اور وہ تنظیم میں ایک ممتاز اور نمایا حثیت کے حامل ساتھی تھے جن کی محنت قربانی اور خلوص کو بطورِ مثال ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ان کے صابرانہ اور بردبارانہ قردار کو مدنظر رکھتے ہوئے تنظیم ان کو (پھلیں ) شہید کا اعزاز دیتی ہے یاد رہے کہ اس سے پہلے یہ اعزاز حاصل کرنے والے شہداء میں شہید زبیر جان، شہید سمیع جان اور شہید خلیل جان شامل ہیں۔ شہید سنگت شیرا اور گزین کے تنظیمی خدمات کے بارے میں معلومات حکمت عملی کے تحت اس وقت شائع نہیں کیے جائیں گے مناسب وقت پے ان جانثار ساتھیوں کے قومی خدمات کے متعلق قوم کو آگاہ کیا جائے گا 7 اپریل کے حملے میں قابض دشمن نے آپریشن کے زریعے حاصل ہونے والے اپنے مذموم عزائم کو خاک میں ملتا دیکھ کر اپنے جانی نقصانات پر مشتعل ہو کر عام بلوچوں کے گدانوں ، جھگیوں اور مال مویشیوں پر بے رحمانہ بمباری شروع کی جس میں کئی خواتین اور بچے شدید زخمی ہوئے۔ جن بلوچوں کے گھروں کو نشانہ بنایا گیا ان میں محمد علی ولد محمد خان ساسولی، فقیر محمد ولد صالح محمد ساسولی، ماندہ خان ولد سبزو ساسولی، داد شاہ ولد جام ساسولی، شیر محمد ولد میر تور خان ساسولی شامل ہیں اس شدید بمباری میں صفی اللہ ولد مولوی الہی بخش سناڑی عمر 8 سال شہید ہوگئے بی بی نصرہ گل ولد نور شاہ ساوسولی عمر 6 سال زخمی ، جان محمد ولد جانشاہ عمر 25 سال زخموں میں شامل ہیں اور8اپریل کو بھی مونجرو ، ریکو اور لجے توک میں عام بلوچ آبادیوں پر بے دریغ فضائی بمباری کی گئی اور مال مویشیوں کو ہلاک کیا گیا اور کئی بلوچوں کو گرفتار کرکے ان کے گھروں کو جلایا گیا اور علاقہ تاحال فوج کے محاصرے میں ہے زخمیوں کو ہسپتالوں میں منتقل کرنے سے زبردستی روکا جارہا ہے اور پورے علاقے کی راشن بندی کی گئی ہے جس کی وجہ سے علاقے کے لوگوں کے مشکلات میں مزید اضافہ ہورہا ہے ہلاک شدگان اور زخمیوں کی تفصیلات فوجی محاصرے کی وجہ سے اس وقت حاصل کرنا ممکن نہیں ہے اور اس بات کی وضاحت ہم بلوچ عوام کے لئے ضروری سمجھتے ہیں کہ اس وقت دیگر آزادی پسند تنظیموں کے ساتھ ہمارا کوئی بھی آپریشن کورڈنیشن نہیں ہے اور 7اپریل کو بھی آپریشن کا فوکس مخصوص تھا جسکا دشمن بھی اقرار کرچکا ہے 7اپریل کو علاقے میں موجود دیگر آزادی پسند تنظیموں میں سے کسی نے بھی فوجی آپریشن کے حوالے سے ہمارے ساتھ کوئی بھی کردارادا نہیں کیا مختلف آزادی پسند مزاحمتی تنظیموں کے اخباری بیانات میں جو دعوے کیے گئے وہ ایسے پر آشوب حالات میں ہمارے لیے حیرت اور تکلیف کا باعث بنیں ابتداء سے ہم نے سیاسی تقاضوں کے تحت تمام آزادی پسند تنظیموں سے جو مثالی آپریشن کورڈنیشن رکھا تھا اس میں تعطل کی وجہ مجموعی سیاسی صورت حال کے چند بنیادی مسائل بنیں ان بنیادی مسائل کے وجوہات کو سمجھنے اور ان کے بہتر حل کرنے تک ہم نے پہلے سے ہی مشروط جدوجہد کا اعلان کیا تھا جس پر ہم قائم ہیں شروع دن سے ہماری بھرپور کوشش رہی ہے کہ سیاسی مسائل میں کسی بھی طرح سے عسکری زرائع بلاوجہ استعمال نہ ہوں ہم یہ امید کرتے ہیں کہ تمام آزادی پسند زمہ دار حلقے سیاسی حل طلب مسائل میں عسکری زرائع کو بطور بیساکی استعمال نہ کریں کیونکہ ایسا کرنے سے ان مسائل کے حل کرنے میں مزید پیچیدگیاں پیدا ہونگے جو کسی بھی صورت تحریک کے لئے نیک شگون نہیں۔

 

Share on
Previous article

سفر روحانی به بلوچستان و انتظارات مردم بلوچ – عبدالستار دوشوکی

NEXT article

جان مذاکره کنندگان در خطر است

LEAVE A REPLY

MUST READ

27 March Black Day – Baloch Nation Rejects Forceful Occupation of Balochistan

27 March Black Day – Baloch Nation Rejects Forceful Occupation of Balochistan

پاکستان بلوچ قومی آزادی کی جدوجہد اور کامیابیوں اور بلوچ نوجوانوں کی قربانیوں سے بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر اس نے اب بلوچ عورتوں اور بچوں کا اغوا شروع کر رکھا ہے – حیربیار مری

پاکستان بلوچ قومی آزادی کی جدوجہد اور کامیابیوں اور بلوچ نوجوانوں کی قربانیوں سے بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر اس نے اب بلوچ عورتوں اور بچوں کا اغوا شروع کر رکھا ہے – حیربیار مری

بلوچستان سمینار اسٹوکھولم سویڈنءَ پروفیسر ڈاکٹر مصطفےءِ تران

بلوچستان سمینار اسٹوکھولم سویڈنءَ پروفیسر ڈاکٹر مصطفےءِ تران

«تپاکی زندگیں راجءِ نشان اِنت»

«تپاکی زندگیں راجءِ نشان اِنت»

تجاربی خونین از مذاکرات با اشغالگران

تجاربی خونین از مذاکرات با اشغالگران

در اقدامی انتقامجویانه، سه زندانی سیاسی در زندان زاهدان اعدام شدند

در اقدامی انتقامجویانه، سه زندانی سیاسی در زندان زاهدان اعدام شدند

بلوچ قوم دوست رہنما حیربیار مری نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ آوارن میں بلوچ فرزندوں پر پاکستانی فورسز کی جانب سے حملہ اور اسے مذہبی رنگ دینا بلوچستان میں پاکستانی فوج کی شکست اور بوکھلاہٹ کو ظا ہر کرتا ہے ان میں اتنا غیرت بھی نہیں ہے

بلوچ قوم دوست رہنما حیربیار مری نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ آوارن میں بلوچ فرزندوں پر پاکستانی فورسز کی جانب سے حملہ اور اسے مذہبی رنگ دینا بلوچستان میں پاکستانی فوج کی شکست اور بوکھلاہٹ کو ظا ہر کرتا ہے ان میں اتنا غیرت بھی نہیں ہے

شهید فدا احمدءِ تران

شهید فدا احمدءِ تران

کسان سالیں بلوچ دُهتگان بی بی صورت ، سکینہ ءُ سمینہ انگت شکارپور سندهءَ قید انت – گپءُ ترانے گون یکے چا بیگواهیں بلوچ دُهتگانی ماتءَ

کسان سالیں بلوچ دُهتگان بی بی صورت ، سکینہ ءُ سمینہ انگت شکارپور سندهءَ قید انت – گپءُ ترانے گون یکے چا بیگواهیں بلوچ دُهتگانی ماتءَ

کھنیں دپتر— — گپ و ترانے گون شھید نواب محمد اکبر بگٹيءَ گون ریڈیو بلوچيءِ

کھنیں دپتر— — گپ و ترانے گون شھید نواب محمد اکبر بگٹيءَ گون ریڈیو بلوچيءِ

شھید الیاس نزرءِ ماتءِ کلوّہ

شھید الیاس نزرءِ ماتءِ کلوّہ

بحـران بـرق در بلوچستـان اشغالـی

بحـران بـرق در بلوچستـان اشغالـی

بلوچ کی عدم شرکت سے گوادر حوالے کوئی بھی معاہدہ خطے میں انتشار کا باعث بنے گا ۔ حیربیار مری

بلوچ کی عدم شرکت سے گوادر حوالے کوئی بھی معاہدہ خطے میں انتشار کا باعث بنے گا ۔ حیربیار مری

ہم غلام ہیں،مسخ شدہ لاشیں ملنے کے ساتھ بلوچ عورتوں پر تیزاب پھینکنے کا سلسلہ پاکستانی فوج ایجنسیوں کی بوکھلاہٹ کا ثبوت ہیں بلوچ قوم دوست رہنما حیربیار مری

ہم غلام ہیں،مسخ شدہ لاشیں ملنے کے ساتھ بلوچ عورتوں پر تیزاب پھینکنے کا سلسلہ پاکستانی فوج ایجنسیوں کی بوکھلاہٹ کا ثبوت ہیں بلوچ قوم دوست رہنما حیربیار مری

بلوچستان سمینار اسٹوکھولم سویڈنءَ بلوچ دانشور واجہ شبیر بلوچءِ تران

بلوچستان سمینار اسٹوکھولم سویڈنءَ بلوچ دانشور واجہ شبیر بلوچءِ تران