سات اپریل کے آپریشن میں تنظیم کے تین جانثار ساتھی شہید ہوگئے

MUST READ

بیست ءُ یک فروری ماتی زبانانی میان اُستمانی روچءِ بابتءَ گپ وترانے گون پروفیسرعبدالواحد بزدارءَ

بیست ءُ یک فروری ماتی زبانانی میان اُستمانی روچءِ بابتءَ گپ وترانے گون پروفیسرعبدالواحد بزدارءَ

ماتی زبان – گوس بھاربلوچ

ماتی زبان – گوس بھاربلوچ

شھید پروفیسر صبا دشتیاری

شھید پروفیسر صبا دشتیاری

Attack On baloch Student In Preston University Islamabad 20410308

Attack On baloch Student In Preston University Islamabad 20410308

سفارت کاری ، بلوچ تحریک کی اہم ضرورت – کریمہ بلوچ

سفارت کاری ، بلوچ تحریک کی اہم ضرورت – کریمہ بلوچ

مانداشتــگ اِت ڈیه ءَ مئے آســے تئـے هَنـکیں کپـات

مانداشتــگ اِت ڈیه ءَ مئے آســے تئـے هَنـکیں کپـات

انھیں فخر ہے کہ وہ ایک ایسے باپ کے بیٹے ہیں جنھوں نے ساری زندگی غلامی کے سامنے سر جھکانے سے انکار کیا – حیربیار مری

انھیں فخر ہے کہ وہ ایک ایسے باپ کے بیٹے ہیں جنھوں نے ساری زندگی غلامی کے سامنے سر جھکانے سے انکار کیا – حیربیار مری

شرکت مزدوران خارجی سپاه قدس در سرکوب مردم بپاخاسته

شرکت مزدوران خارجی سپاه قدس در سرکوب مردم بپاخاسته

یو این کو دنیا بھر میں کہیں بھی ناانصافی کے خلاف خاموش نہیں ہونا چاہیے۔ حیربیار مری

یو این کو دنیا بھر میں کہیں بھی ناانصافی کے خلاف خاموش نہیں ہونا چاہیے۔ حیربیار مری

بلــــوچ گلزميــــن ءِ انــــداز ءُ سيمســـــراں

بلــــوچ گلزميــــن ءِ انــــداز ءُ سيمســـــراں

گلزمیـن ءِ هَنــد ءُ دمَگانــی هالَه ئیــں نـام

گلزمیـن ءِ هَنــد ءُ دمَگانــی هالَه ئیــں نـام

پاکستان کشمیر کیلئے حق خود ارادیت کا مطالبہ کرتا ہے لیکن خود بلوچستان پر قابض ہے : حیربیار مری

پاکستان کشمیر کیلئے حق خود ارادیت کا مطالبہ کرتا ہے لیکن خود بلوچستان پر قابض ہے : حیربیار مری

شھید الیاس نزرءِ ماتءِ کلوّہ

شھید الیاس نزرءِ ماتءِ کلوّہ

من ءُ تو همراہ نہ ایں – حفیظ روف

من ءُ تو همراہ نہ ایں – حفیظ روف

روز شهــدای بلوچستـان گرامـی باد

روز شهــدای بلوچستـان گرامـی باد

سات اپریل کے آپریشن میں تنظیم کے تین جانثار ساتھی شہید ہوگئے

2020-03-31 14:59:15
Share on

سات اپریل کے آپریشن میں تنظیم کے تین جانثار ساتھی شہید ہوگئے

سنگت امیر الملک عر ف جمال جان ، گزین بلوچ اور شیرا بلوچ دشمن سے دوبدو لڑائی میں جامِ شہادت نوش کی میرک بلوچ ترجمان بی ایل اے
(مقبوضہ بلوچستان، بی یو سی نیوذ)بلوچ قومی فوج بی ایل اے کے ترجمان میرک بلوچ نے کہا ہے کہ7اپریل کی صبح دشمن فوج کے طرف سے قلات کے قریب پارود کیمپ پر فضائی حملہ کیا گیا جس میں 13ہیلی کاپٹروں کے ذریعے شدید شیلنگ کی گئی اور ساتھ ہی ساتھ SOTF (اسپیشل آپریشن ٹاسک فورس) کے کمانڈوز کے ذریعے انر کارڈنInner Cordon (ہاف مون پیڑنHalf Moon Pattern ) کے تحت گھیرا تنگ کرنے کی کوششیں کی گئی ، شدید فضائی شیلنگ کے باوجود ساتھیوں نے دشمن کے گھیراو کو مستحکم ہونے نہیں دیا اور جذبہ آزادی سے سرشار مادر وطن کے تینوں فرزندوں نے دشمن کے حصار میں گھس کر اْن سے دوبدو لڑائی شروع کی جس سے دشمن کے حوصلے پست ہوئے اور انھیں بھاری جانی نقصان اْٹھانا پڑا۔ تینوں جانثار ساتھیوں کے بے مثال جنگی جرات و بہادری کے مظاہرے نے دشمن کے آپریشن کے متعلق تمام کے تمام عزائم خاک میں ملادیئے شہید ساتھیوں کے جسد خاکی کو محفوظ مقامات تک پہنچانے کی خاطر حکمت عملی کے تحت اس سے پہلے اْنکے شہادت کا اعلان نہیں کیا گیا۔ سنگت امیر الملک عرف جمال جان 2006 سے بی ایل اے کے ساتھی رہے ہیں جس نے خضدار، کوئٹہ اور بولان میں تنظیمی فرائض بخوبی انجام دیے ہیں اور وہ تنظیم میں ایک ممتاز اور نمایا حثیت کے حامل ساتھی تھے جن کی محنت قربانی اور خلوص کو بطورِ مثال ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ان کے صابرانہ اور بردبارانہ قردار کو مدنظر رکھتے ہوئے تنظیم ان کو (پھلیں ) شہید کا اعزاز دیتی ہے یاد رہے کہ اس سے پہلے یہ اعزاز حاصل کرنے والے شہداء میں شہید زبیر جان، شہید سمیع جان اور شہید خلیل جان شامل ہیں۔ شہید سنگت شیرا اور گزین کے تنظیمی خدمات کے بارے میں معلومات حکمت عملی کے تحت اس وقت شائع نہیں کیے جائیں گے مناسب وقت پے ان جانثار ساتھیوں کے قومی خدمات کے متعلق قوم کو آگاہ کیا جائے گا 7 اپریل کے حملے میں قابض دشمن نے آپریشن کے زریعے حاصل ہونے والے اپنے مذموم عزائم کو خاک میں ملتا دیکھ کر اپنے جانی نقصانات پر مشتعل ہو کر عام بلوچوں کے گدانوں ، جھگیوں اور مال مویشیوں پر بے رحمانہ بمباری شروع کی جس میں کئی خواتین اور بچے شدید زخمی ہوئے۔ جن بلوچوں کے گھروں کو نشانہ بنایا گیا ان میں محمد علی ولد محمد خان ساسولی، فقیر محمد ولد صالح محمد ساسولی، ماندہ خان ولد سبزو ساسولی، داد شاہ ولد جام ساسولی، شیر محمد ولد میر تور خان ساسولی شامل ہیں اس شدید بمباری میں صفی اللہ ولد مولوی الہی بخش سناڑی عمر 8 سال شہید ہوگئے بی بی نصرہ گل ولد نور شاہ ساوسولی عمر 6 سال زخمی ، جان محمد ولد جانشاہ عمر 25 سال زخموں میں شامل ہیں اور8اپریل کو بھی مونجرو ، ریکو اور لجے توک میں عام بلوچ آبادیوں پر بے دریغ فضائی بمباری کی گئی اور مال مویشیوں کو ہلاک کیا گیا اور کئی بلوچوں کو گرفتار کرکے ان کے گھروں کو جلایا گیا اور علاقہ تاحال فوج کے محاصرے میں ہے زخمیوں کو ہسپتالوں میں منتقل کرنے سے زبردستی روکا جارہا ہے اور پورے علاقے کی راشن بندی کی گئی ہے جس کی وجہ سے علاقے کے لوگوں کے مشکلات میں مزید اضافہ ہورہا ہے ہلاک شدگان اور زخمیوں کی تفصیلات فوجی محاصرے کی وجہ سے اس وقت حاصل کرنا ممکن نہیں ہے اور اس بات کی وضاحت ہم بلوچ عوام کے لئے ضروری سمجھتے ہیں کہ اس وقت دیگر آزادی پسند تنظیموں کے ساتھ ہمارا کوئی بھی آپریشن کورڈنیشن نہیں ہے اور 7اپریل کو بھی آپریشن کا فوکس مخصوص تھا جسکا دشمن بھی اقرار کرچکا ہے 7اپریل کو علاقے میں موجود دیگر آزادی پسند تنظیموں میں سے کسی نے بھی فوجی آپریشن کے حوالے سے ہمارے ساتھ کوئی بھی کردارادا نہیں کیا مختلف آزادی پسند مزاحمتی تنظیموں کے اخباری بیانات میں جو دعوے کیے گئے وہ ایسے پر آشوب حالات میں ہمارے لیے حیرت اور تکلیف کا باعث بنیں ابتداء سے ہم نے سیاسی تقاضوں کے تحت تمام آزادی پسند تنظیموں سے جو مثالی آپریشن کورڈنیشن رکھا تھا اس میں تعطل کی وجہ مجموعی سیاسی صورت حال کے چند بنیادی مسائل بنیں ان بنیادی مسائل کے وجوہات کو سمجھنے اور ان کے بہتر حل کرنے تک ہم نے پہلے سے ہی مشروط جدوجہد کا اعلان کیا تھا جس پر ہم قائم ہیں شروع دن سے ہماری بھرپور کوشش رہی ہے کہ سیاسی مسائل میں کسی بھی طرح سے عسکری زرائع بلاوجہ استعمال نہ ہوں ہم یہ امید کرتے ہیں کہ تمام آزادی پسند زمہ دار حلقے سیاسی حل طلب مسائل میں عسکری زرائع کو بطور بیساکی استعمال نہ کریں کیونکہ ایسا کرنے سے ان مسائل کے حل کرنے میں مزید پیچیدگیاں پیدا ہونگے جو کسی بھی صورت تحریک کے لئے نیک شگون نہیں۔

 

Share on
Previous article

سفر روحانی به بلوچستان و انتظارات مردم بلوچ – عبدالستار دوشوکی

NEXT article

جان مذاکره کنندگان در خطر است

LEAVE A REPLY