سلگتا بلوچستان اور اقوام متحدہ کی خاموشی ؟……ڈاکٹر منان بلوچ

MUST READ

پنجابی چین کے ساتھ ملکر اپنے مفادات کے تحت بلوچ نسل کشی میں تیزی لا رہا ہیں .حیربیار مری

پنجابی چین کے ساتھ ملکر اپنے مفادات کے تحت بلوچ نسل کشی میں تیزی لا رہا ہیں .حیربیار مری

بیست ءُ یک فروری ماتی زبانانی میان اُستمانی روچءِ بابتءَ گپ وترانے گون ملاّ مراد ءَ

بیست ءُ یک فروری ماتی زبانانی میان اُستمانی روچءِ بابتءَ گپ وترانے گون ملاّ مراد ءَ

بر دانش آموزان بلـوچ چه می گـذرد؟ – بخش پنجـم

بر دانش آموزان بلـوچ چه می گـذرد؟ – بخش پنجـم

Baloch National poet Qazi Mubarak visits Voice for Baloch Missing Persons protest camp

Baloch National poet Qazi Mubarak visits Voice for Baloch Missing Persons protest camp

پاکستانی ایٹمی سلاحانی چکاسءِ تباه کاریانی ریڈیو رپورٹ

پاکستانی ایٹمی سلاحانی چکاسءِ تباه کاریانی ریڈیو رپورٹ

پاکستانی زوراکین فوجءَ بلوچستانءِ تیاپ دپ پسنيءَ 70 بلوچ ورنا بیگواہ کت

پاکستانی زوراکین فوجءَ بلوچستانءِ تیاپ دپ پسنيءَ 70 بلوچ ورنا بیگواہ کت

ﺑﻠﻮﭼﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﺀِ ﻧﺎﻣﺪﺍﺭﯾﮟ ﺷﺎﺋﺮ ﺀُ ﮐﻮﺍﺱ ﺟﯽ۔ ﺁﺭ۔ ﻣُﻼ ﺑﯿﺮﺍﻥ ﺑﯿﺘﮓ

ﺑﻠﻮﭼﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﺀِ ﻧﺎﻣﺪﺍﺭﯾﮟ ﺷﺎﺋﺮ ﺀُ ﮐﻮﺍﺱ ﺟﯽ۔ ﺁﺭ۔ ﻣُﻼ ﺑﯿﺮﺍﻥ ﺑﯿﺘﮓ

سات اپریل کے آپریشن میں تنظیم کے تین جانثار ساتھی شہید ہوگئے

سات اپریل کے آپریشن میں تنظیم کے تین جانثار ساتھی شہید ہوگئے

بلوچ دژمنیں سپاہ ڈیہ ءِ جنیں آدماں بندی کنگ اِنت

بلوچ دژمنیں سپاہ ڈیہ ءِ جنیں آدماں بندی کنگ اِنت

ویروس کرونا اسلحہ علی خامنئی ای علیہ میلون ھا انسان!

ویروس کرونا اسلحہ علی خامنئی ای علیہ میلون ھا انسان!

شهيد ناصر ڈگارزھي

شهيد ناصر ڈگارزھي

نواب بگٹیءُ بلوچی شان

نواب بگٹیءُ بلوچی شان

سچ وہی جو جھوٹا بولے – کردگار بلوچ

سچ وہی جو جھوٹا بولے – کردگار بلوچ

تجاربی خونین از مذاکرات با اشغالگران

تجاربی خونین از مذاکرات با اشغالگران

نوکترين حال

نوکترين حال

سلگتا بلوچستان اور اقوام متحدہ کی خاموشی ؟……ڈاکٹر منان بلوچ

2020-03-26 10:15:48
Share on

جب سے انسان کا وجود عمل میں آیا ہے،جانوروں سے لیکر خاندانوں تک قبائلیوں سے لیکر قابض تک دنیا میں انسان اپنے وجود کے ساتھ قتل و غار ت گری کی طویل دورسے گزرتا گیا،جب تمدنی ترقی عمل پذیر ہوئی انسانوں نے اپنی فلاح و سہولیات کیلئے جہاں خوبصورت چیزیں بنانے میں اپنی ذہنی صلاحیتوں کو بروئے کارلایا وہیں اپنی تباہی کیلئے جدید سے جدید تر ہتھیار بنا کر اپنی تباہی کو نئی شکل اور ترتیب دیدی۔ دنیا کے کئی خطوں پر چرچ سلطنت عثمانیہ کی حکمران کیساتھ ساتھ برطانیہ، پرتگالی، روس، فرانس، جرمنی ڈچ مختلف علاقوں کو قبضہ کر نے کیلئے ایک دوسرے کو جدید ہتھیاروں کے بل بوتے پر گاجر مولی کی طرح کاٹتے رہے ۔بے قاعدہ جنگوں نے 1914 سے 1919 تک جنگ عظیم اول 1939 سے 1945 تک جنگ عظیم ددئم کی شکل میں باقاعدہ جنگی کیفیت دھار کر دنیا کے لاکھوں انسانوں کو لقمہ اجل بنا ڈالا۔ اس تباہی کے بعد ایک طرف برطانیہ، جرمنی، روس ،امریکہ ،فرانس وغیرہ ،جہاں اپنی مقبوضہ علاقوں کو بلاواسطہ اپنے قبضے میں رکھنے کیلئے طاقت کھو بیٹھے وہیں 1945 کو ان ممالک نے اقوام متحدہ کی شکل میں بظاہر ایک طاقتور اور با اختیار عالمی ادارہ کی داغ بیل ڈالی اور یہ فیصلہ ہوا کہ آئندہ کسی طاقت ور ملک یا قوم کو کسی ملک یا قوم کو محکوم یا غلام بنانے کا اختیار نہیں ہوگا،اسی طرح ماحولیات کو پاک کرنے کیلئے ہتھیاروں کی عدم پھیلاؤ پر اتفاق ہوا۔صحت تعلیم اور انسانی فلاح کے متعلق کئی خوبصورت الفاظ کاغذوں کی زینت بن گئے اور جنگ سے تباہ حال انسانوں نے سُکھ کا سانس لیا۔اور 1945 کے بعد بہت سارے اقوام ان طاقتور ممالک کی براہ راست قبضہ سے آزادی حاصل کرتے گئے ۔جن میں برصغیر بھی شامل ہے لیکن اتفاق دیکھے کہ جنگ عظیم دوئم کے بعد امریکہ کو جو طاقت حاصل ہوچکی تھی اس نے برطانیہ کیساتھ ملکرروس کیخلاف مستقبل کیلئے بلواسطہ طور پر بر صغیر کوآزادی کے بدلے تقسیم کرکے پاکستان جیسے با جگزار کی داغ بیل ڈالی ۔پاکستان کا قیام جہاں عظیم تر ہندوستان کے خواب کو چکنا چور کر دیا وہیں ایک اور عظیم خط بلوچستان کی آزادی و خود مختیاری پر کاری ضرب ثابت ہوئی ۔گیارہ اگست 1947 کو باقاعدہ ایک آزاد وطن پر 27 مارچ 1948کو اقوام متحدہ کی خوبصورت فیصلوں کے چشم زدن میں بلوچ وطن پاکستانی جارحیت کا شکار بن گیا۔چونکہ اقوام متحدہ کا قیام ہی برطانیہ امریکہ ،روس،فرانس،وغیرہ کی پالیسیوں کا حصہ تھا،امریکہ اور برطانیہ کی خواہش پر ہی پاکستانی اقدام اقوام متحدہ کے چارٹر میں بڑے خوبصورت الفاظ کے ساتھ یہ کیا گیا ہے کہ ہر قوم کو اپنی تاریخ زبان جغرافیہ کے مطابق اپنی مرضی سے زندہ رہنے کا حق ہے لیکن 3 یا4 سال بعد ہی بلوچ قوم کی اس خواہش کو بلواسطہ حکمرانی کی حوس نے روند ڈالا لیکن بلوچ قوم اس غیر انسانی اقدام کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا۔امریکہ جو سائیکلون آپریشن کی پالیسیوں کے تحت بر صغیر میں پہلے سے ہی مذہبی انتہا پسندی کی حوصلہ افزائی کر رہا تھا۔پاکستان نے سینٹو یا سیٹو معاہدات کے ذریعے اس آپریشن کیلئے بہتر خدمت انجام بجالانے کا اظہار کرکے جو بے پناہ معاشی و عسکری طاقت حاصل کرلی، اس طاقت کا بھر پور استعمال کیا۔اور بلوچ قوم کی جہد آزادی کے خلاف کسی قانون کو خاطر میں لائے بغیر ہزاروں بلوچ فرزندوں کو شہید کردیا۔1949 کو آزادی حاصل کرنے والے چین نے 1999 کو اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کا فیصلہ کیا، سعودی عرب اور امریکہ کی امداد کے ساتھ چین کی اس نئی پالیسی نے پاکستان کو ایک خطرناک طاقت فراہم کردی ۔گوادر کو ہتھیانے وہاں پر اپنی بحری بیڑہ بنانے اور اس اہم آبی گزرگاہ کو اپنے قبضہ میں لا کر بلوچ وطن کی زمین کو استعمال کرتے ہوئے کا شغر تک ریل اور سڑک کے ذریعے بلوچ وطن وسائل جوکہ ریکوڈک اور سیندک کی شکل میں پہلے ہی چین کے قبضہ میں ہیں ۔ان کے علاوہ باقی ماندہ معدنی و آبی و سائل اور دنیا کے مختلف کونوں سے حاصل کردہ وسائل سے رسائی کی خاطر چین پاکستان اکنامک کوریڈور کے تحت بلوچ قوم کی نسل کشی میں براہ راست شریک ہوگئی اور آج تک چین پاکستان کی اِس خطرناک طاقت نے ہزاروں بلوچ فرزندوں کو شہادت کے رتبے تک پہنچایا ہے۔ہزاروں فرزند پاکستانی عقوبت خانوں میں موت وزیت کی کشمکش سے دوچار ہیں، لاکھوں گھرانے ملیامیٹ ہوچکے ہیں۔اور بلوچ قوم کی 80 فیصد کی زیادہ آبادی آسمان تلے بے سروسامانی کے عالم میں کرب ناک حالت سے دوچار ہیں۔مگر اقوام متحدہ نے آج تک تمام تر حقائق کو جانتے ہوئے بھی خاموشی اختیار کی ہے۔یقیناًمیں بحیثیت بلوچ چین کی سامراجی عزائم کے ذریعے پاکستانی فوج کی کاروائیوں سے درد و کرب میں بلک رہا ہوں تومیرے لیے اب یہ ایک سوالیہ نشان بن چکی ہے کہ ایسے عالمی اداروں کا قیام چہ معنی دارد۔ جب وہ اپنے ہی پالیسیوں پر عمل کرنے میں ناکام ہوں۔ میں دنیا کے تمام مظلوم عوام سے یہ امید کرتا ہوں کہ وہ ایسے اداروں کے قیام اور بے عمل حیثیت کے بارے میں ضرور سوچیں کیونکہ یہ ادارے لوگوں کی ٹیکسوں سے چلتے ہیں،اگر یونان کے عوام اپنی قوم وجود و بقاء کی خاطر عالمی بینک اور I.M.F کے خلاف اپنی رائے دے سکتے ہیں،یا ہنگری دنیا کے مختلف ممالک سے آئے ہوئے معیشت زدہ لوگوں کیلئے اپنی ہی مستقبل کو سامنے رکھ کر یورپی یونین کے ٖفیصلہ کے برعکس اپنی سرحدوں کو بند کر سکتا ہے،یا جرمنی کے عوام ان مہاجرین کے سلسلے میں اپنی حکومتی فیصلہ کے خلاف تحفظات کے اظہار کر سکتے یا برطانیہ عظمی کے عوام حالیہ الیکشن میں یورپی یونین کے اندر اپنی وجود کھو جانے کی خوف سے برطانیہ کی آزاد حیثیت کیلئے ووٹ ڈال سکتے ہیں تو پھر مجھے بھی بحیثیت انسان یہ حق حاصل ہے کہ میں گولی و بارودکے فضاء میں ایسے عالمی اداروں کیلئے اپنی تحفظات کا اظہار کر سکوں۔

Share on
Previous article

بولانءِ دمگ لکڑ ءُ پل کڑیءَ پاکستانی هوائی فوجءِ بمب گواری – نوکترین ریڈیو حال

NEXT article

کسان سالیں بلوچ دُهتگان بی بی صورت ، سکینہ ءُ سمینہ انگت شکارپور سندهءَ قید انت – گپءُ ترانے گون یکے چا بیگواهیں بلوچ دُهتگانی ماتءَ

LEAVE A REPLY