سچ وہی جو جھوٹا بولے – کردگار بلوچ

سچ وہی جو جھوٹا بولے – کردگار بلوچ

2020-03-26 18:01:54
Share on

 قارئین کرام !ہم نے گذشتہ کئی مہینوں سے لکھنا ترک کردیا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ ہماری سوچ اور فکر کے مطابق آج جیسے نا مساعد حالات میں سب سے بڑھ کر اتحاد و اتفاق کی اہمیت ہوتی ہے اور ہم ایسے حالات میں انتشار کو زھر ھلاھل سمجھتے ہیں۔ایک طرف پاکستان کے شاطر حکمران نہ صرف خود بربریت کا مظاہرہ کر رہی ہے بلکہ انہوں نے مختلف اسلامی ناموں سے ایران کے بارڈر سیکیوڑٹی فورسز اور سپاہ کے خلاف کارروائیاں کرتے اور اسے بلوچ جنگجووں کے نام کرتے ہوئے اسے بھی بلوچ قوم کے خلاف اپنی جنگ میں شامل ہونے پر مجبور کر دیا ہے جبکہ دوسری طرف ہماری پارٹیوں اور تنظیموں میں باھمی انتشار اور ایک دوسرے کے خلاف بیان بازیوں پر اپنی توانائیاں صرف کئے جارہی تھی۔ہم نے ایسے میں اپنے کالموں میں اپنی پارٹیوں اور تنظیموں سے اتحاد اور یگانگت کی استدعا کی تھی لیکن ہماری یہ استدعا کو کوئی اھمیت نہیں دی گئی اس لئے ہم نے خاموش رہنے کو ہی بہتر سمجھا۔اس لئے کہ ہمارے خیال میں جس بات کی کوئی اہمیت نہ ہو ایسے فضول باتیں کہنے یا لکھنے سے خاموشی کہیں بہتر ہے۔ لیکن جب تربت سے کچھ کلومیٹر دو ر تربت گوادر روڈ پر کام کرنے والے لوگوں پر حملہ ہوا اور کوئی بیس کے قریب لوگ مار گئے تو ہم نے دیکھا کہ ایک کہرام سا مچ گیا۔ھر طرف سے ’’ھائے ھائے مزدور وں کا قتل ہو رہا ہے۔۔ھائے ھائے بربریت ہو رہی ہے۔۔۔‘‘ کا ایک ختم نہ ہونے والا سلسلہ شروع ہوا۔انسانی حقوق کے علمبرداروں کی نیندیں اچکھ گئیں،اسلامی اور مذھبی سیاسی پارٹیوں کے قائدین کو ایسے جیسے ’’صور‘‘ پھونک کر جگایا گیا ہو،حافظین قرآن بھی’’ اپنی زبان میں کچھ کہنے‘‘ لگے۔دوسری طرف ورکرز گروپ کو بھی ورکرز یاد آنے لگے،سیاسی و سماجی پارٹیاں بھی اپنی’’لقوہ‘‘ زدہ منہ کھولنے لگے۔الیکٹرونک و پریس میڈیا بھی اپنی زندگی کی گواہی دینے لگے۔حالانکہ بلوچستان میں اسی ایک روز سے تو یہ بربریت نہیں ہو رہی تھی۔ بلوچستان میں ایسا کوئی گھر نہیں ہے جو ریاست کی تباہ کاریوں سے محفوظ رہی ہے۔یہاں پر تو ماسوائے ماتم کرانے والوں کے گھروں کی، باقی سب گھروں میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے لیکن اس دن سے پہلے سب کی منہ کو ’’لقوہ ‘‘لگی ہوئی تھی۔کیا وہ چوبیس ھزار بچے جو ریاستی اداروں کی اذیت گاہوں میں ہیں وہ انسان کے بچے نہیں ہیں،کیا وہ مسلمان بچے نہیں ہیں۔کیا وہ مظلوم بچے نہیں ہیں ،کیا وہ محکوم بچے نہیں ہیں اور کیا وہ مزدور بچے نہیں ہیں اور پھر یہ وہ چار ھزار تعلیم یافتہ بچے جن کی مسخ شدہ لاشیں سڑکوں،ویرانوں میں ملتی رہی ہیں کیا وہ مسلمان یا انسان بچے نہیں تھے۔اگر تھے تو یہ انسانی حقوق کے علمبردار،یہ اسلامی مساوات کے چمپیئن،یہ واویلا کرنے والے سیاسی سماجی پارٹیاں کیوں’’صمم بکمم تھے یا اب تک ہیں۔اُن کو یہ انسانیت،اسلامیت،اخلاقیت اب کیوں یاد آگئی۔ ہمیں واقعی کسی بھی انسان کی بہیمانہ قتل پر افسوس ہوتا ہے خواہ وہ انسان کسی بھی مذھب،فرقہ،طبقہ، علاقہ،نسل و قوم سے تعلق رکھے،اور ہم نے پہلی بار جب یہ بات سنی کہ تربت میں ’’مزدوروں‘‘ پر حملہ کیا گیا اور بیس مزدور ھلاک کیے گئے تو ہمیں بھی بہت دکھ ہوا اور ہم بھی سوچنے لگے کہ یہ کیا ہو رہا ہے ۔اگر دوسرے دن پاکستان کے صاحب اقتداران اس واقعات کی مذمت نہ کرتے اور اپنی سابق روش برقرار رکھتے،وزیر اعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ بلوچستان فوری رد عمل کا اظہار نہ کرتے اور اپنی پہلی بے حسی کو برقرار رکھتے ۔اسی طرح ریاست کی طرف سے فوری طور پر رد عمل کا اظہار نہ کیا جاتا تو ہم بھی سمجھتے کہ یہ واقعی مزدور تھے اور جس کسی نے ان پر قاتلانہ حملہ کیا ہے وہ واقعی جابر اور ظالم لوگ تھے مگر ان بے حس اور قاھر آوازوں نے ہمیں سوچنے پر مجبور کر دیا۔ دوسرے روز ایک آزادی پسند تنظیم بی ایل ایف کی طرف سے یہ دعویٰ سامنے آیا کہ انہوں نے ایف ڈبلیو او (Frontier Works Organisationکے کیمپ پر حملہ کیا اور بیس کے قریب اہلکار ھلاک کیے۔ جبکہ ڈاکٹر مالک بلوچ کا بیان سامنے آیا کہ یہ ایک سول ٹھیکیدار (لیکن سول ٹھیکیدار کا نام نہیں لیا گیا تھا)کے مزدور تھے جن پر دھشت گردوں نے حملہ کیا۔اِن دو متضاد بیانات نے ہمیں سوچنے پر مجبور کیا اور اس بات کی حقیقت جاننے پر اکسایاکہ اصل واقعہ کیا ہے۔ بلوچستان گذشتہ بارہ تیرہ سالوں سے حالت جنگ میں ہے۔ ایک طرف محکوم،مظلوم،مجبور،مقہور لوگ ہیں تو دوسری طرف حاکم،ظالم،جابر اور قہار قوتوں کے درمیان جنگ ہو رہی ہے اور پھر نجانے کس نے کہا تھا کہ ’’جنگ اور محبت ‘‘ میں سب کچھ جائز ہے۔اس لئے ہم دیکھتے ہیں کہ حاکم،ظالم،جابر اور قہار قوت اس جنگ میں ھر قسم کا حربہ آزما رہی ہے جبکہ دوسری طرف محکوم،مظلوم،مجبور اور مقہور بین الاقوامی ادارہوں کی تعیّن کردہ جنگی اصولوں کے تحت جنگ کے دعویدار ہیں، اس لئے یہ بات امکانات میں نہیں ہے کہ وہ کسی سول ٹھیکیدار کے مزدوروں پر بلا وجہ حملہ کریں یہ سوچنے کی بات تھی سو ہم نے سوچنا شروع کیا۔ بلوچستان وہ خطہ ہے جھان تعصب نام کی کوئی شئے موجود نہیں ہے۔ بلوچ عوام کسی بھی دوسری قوم کے ساتھ تعصب نہیں رکھتی ہے اس لئے بلوچستان کے شہر اپنی جگہ بلکہ دور دراز کے دیھاتوں میں بھی غیر بلوچ قوم کے لوگ بے خوف و خطر پھرا کرتے ہیں ۔اسی طرح بلوچستان کے شہروں میں تو ھر قوم کے لوگ موجود تھے لیکن جب بلوچستان میں حجام،نائی،دھوبیوں کی حد سے بڑھ کر بہتات ہونے لگی حتیٰ کہ پنجابی پاگلوں کی آمد حد سے تجاوز کرنے لگی اور پھر یہ بات کا سامنے آئی کہ یہ لوگ اصل میں حجام،نائی ،دھوبی یا پاگل نہیں ہیں بلکہ یہ اداروں کے لوگ ہیں جو مختلف شکلوں میں اپنی اپنی ڈیوٹیاں دے رہے ہیں کئی بلوچ فرزندوں کو ان ہی حجاموں،دھوبیوں ،نائیوں اور پاگلوں نے اغواء کروائے تب بلوچ آزادی پسند تنظیموں نے ان کو ٹارگٹ بنانا شروع کیا۔ حسب دستور پہلے بلوچستان میں ایک واویلا سا مچایا گیا اور پھر بلوچستان میں جھان کہیں غیر بلوچ اور خاص کر پنجابی لوگ تھے وہ بلوچستان سے نکلوا کر کر کہیں اور لے جائے گئے ماسوائے اں پنجابیوں کے جو کسی نہ کسی ادارے میں ملازمت کررہے ہیں۔اب ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ کوئی سول پنجابی بلوچستان کے کسی دیھات یا جنگل میں کوئی مزدوری یا حجامی،نائی گری یا دھوبی گری کر رہا ہو ماسوائے اداروں کے ملازمین کے۔ دوسری طرف آج کے حالات میں کوئی پاگل ٹھیکیدار ہی ہوگا جس نے کسی دیھات میں سڑک بنانے کا ٹھیکہ لیا ہوا ہو اور اپنی کام کے لئے بلوچ مزدوروں کو چھوڑ کر پنجاب سے پنجابی مزدور لے آئے اور اُن کی زندگی کی ضمانت بھی لے اور نہ ہی پنجابی مزدور ایسے بے وقوف ہیں کہ وہ چند ٹکے کے عوض اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر کسی سول ٹھیکیدار کے لئے کسی دیھات میں مزدوری کرنے آئیں۔ تیسری بات ان لوگوں میں سندھی قوم کے چار پانچ لوگ بھی شامل تھے۔سندھ بلوچ قوم کا دوسرا گھر ہے بلکہ بعض بلوچوں کے منہ سے اس حد تک ہم نے سنا ہے کہ بلوچستان ان کی ماں ہے اور سندھ ان کی ’’ ماسی‘‘ ہے۔ سندھی قوم کے لوگ بلوچوں کے بھائیوں کی طرح ہیں ۔اور آج بلوچستان میں ھزاروں سندھی بلوچستان کے چپے چپے میں محنت مزدوری کر رہے ہیں لیکن کسی ایک بھی مزدور کو کسی بلوچ سے کوئی شکوہ یا شکایت نہیں ہے۔اور نہ ہی کسی بلوچ کے ہاتھوں سے کسی سندھی بھائی کو کوئی زک پہنچی ہو۔ چوتھی جب سے ڈاکٹر مالک بلوچ کی حکومت آئی ہے بلوچستان میں حالات زیادہ ابتر ہو گئے ہیں ۔اجتماعی قبریں تک ملنے لگی ہیں ۔یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے مگر ہم دیکھتے ہیں کہ کسی بھی واقعہ پر ڈاکٹر مالک بلوچ کی ضمیر جاگ نہیں اٹھی مگر اس واقعہ نے گویا اس کی مردہ ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور انہوں نے فوراً ھلاک شدگان کے لئے دس دس لاکھ روپے اور زخمی شدگاں کے لئے پانچ پانچ لاکھ روپے فی کس دینے کا اعلان کر دیا ۔ پانچویں یہ بات کہ جب پشاور میں ایک فوجی اسکول پر طالبان نے حملہ کیا تھا تو ریاست نے اس حملے کی فوری اور سخت رد عمل کا اظہار کیا تھا بالکل اسی طرح کا فوری اور سخت رد عمل کا اظہار ریاست کی طرف سے تربت واقعہ کے بعد دیکھنے میں آیا ۔ اسی لئے ہم سمجھتے ہیں کہ بی ایل ایف اپنے دعوے میں سچا ہے مگر اس ملک میں’’ سچ وہی جو جھوٹا بولے‘‘ اس لئے تمام تر جھوٹ کے ساتھی اسے سچ ثابت کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔

Share on
Previous article

شهید حیات بیوسءِ شعرے آئی وتی توارءَ

NEXT article

گپ و ترانے چا گیبنءَ گون شهید حیات بیوسءِ گهارءَ

LEAVE A REPLY

MUST READ

پِگــری گُلامـــی – دومی بهر

پِگــری گُلامـــی – دومی بهر

سویڈن میں 1998 کو بلوچستان میں چاغی کے پہاڑوں میں جوہری ہتھیاروں کا تجربہ کے خلاف آگاہی مہم

سویڈن میں 1998 کو بلوچستان میں چاغی کے پہاڑوں میں جوہری ہتھیاروں کا تجربہ کے خلاف آگاہی مہم

بلوچستانءَ انسانی حقانی لگتمالی ءُ زوراکیانی آماچ بوتگین بلوچانی فریات – دُومی بهر

بلوچستانءَ انسانی حقانی لگتمالی ءُ زوراکیانی آماچ بوتگین بلوچانی فریات – دُومی بهر

واھگ منی جِندے نہ انت ، تو مُرواریدین ارسان مگوار

واھگ منی جِندے نہ انت ، تو مُرواریدین ارسان مگوار

وه جو روشنی کی کوشان میں تاریک راتوں میں مارے گئے – ک ب فراق

وه جو روشنی کی کوشان میں تاریک راتوں میں مارے گئے – ک ب فراق

بلوچستــــان گلزميـــن اجـــدادی ماســـت

بلوچستــــان گلزميـــن اجـــدادی ماســـت

کوئٹہءَ هیلته آفیسر ڈاکٹر امیر بخش بلوچءِ بیگواهیءِ بابتءَ گپ و ترانے گون ڈاکٹر کمال هان بلوچءَ

کوئٹہءَ هیلته آفیسر ڈاکٹر امیر بخش بلوچءِ بیگواهیءِ بابتءَ گپ و ترانے گون ڈاکٹر کمال هان بلوچءَ

گلزمیـن ءِ هَنــد ءُ دمَگانــی هالَه ئیــں نـام

گلزمیـن ءِ هَنــد ءُ دمَگانــی هالَه ئیــں نـام

شاپک کیچءِ ڈرانڈیں بوتگینان گون گپ و ترانے ءُ بی ایچ آر او سروک بی بی گلءِ رپورٹ

شاپک کیچءِ ڈرانڈیں بوتگینان گون گپ و ترانے ءُ بی ایچ آر او سروک بی بی گلءِ رپورٹ

فارغ التحصيـلان بلــوچ در خارج متشـــکل شويــد

فارغ التحصيـلان بلــوچ در خارج متشـــکل شويــد

گپے گـوں ناشریں امینی فـرد

گپے گـوں ناشریں امینی فـرد

چرا کمبود آب “مسئله امنیتی” شــد؟

چرا کمبود آب “مسئله امنیتی” شــد؟

جنگ روانی استاندار اشغالگران در بلوچستان

جنگ روانی استاندار اشغالگران در بلوچستان

سویڈش شوشلیٹ پاڑٹی کے کریسٹوفر لونڈ بیری 10دسمبر2015 کو گوتنبرگ میں بولان کے بلوچ خواتین کی پاکستانی فورسز کی توسط سے اغواه کے خلاف مظاهرہ سے خطاب کررهے هیں

سویڈش شوشلیٹ پاڑٹی کے کریسٹوفر لونڈ بیری 10دسمبر2015 کو گوتنبرگ میں بولان کے بلوچ خواتین کی پاکستانی فورسز کی توسط سے اغواه کے خلاف مظاهرہ سے خطاب کررهے هیں

واجہ شھید غلام محمد بلوچءِ آخرین تران گون گوانکءَ, واجہ ءِ اے تران 1 اپریل 2009 گرگ بوتگ

واجہ شھید غلام محمد بلوچءِ آخرین تران گون گوانکءَ, واجہ ءِ اے تران 1 اپریل 2009 گرگ بوتگ