شہ مداروں کا دیش (بی ایس او کے قائدین سے ایک گزارش) کردگار بلوچ

MUST READ

نژاد پرستی در ایران

نژاد پرستی در ایران

گپ وتران گون شہید محمد اکبر خان بگٹی ء 20060402 گون ریڈیو بلوچی ایف ایم

گپ وتران گون شہید محمد اکبر خان بگٹی ء 20060402 گون ریڈیو بلوچی ایف ایم

دو دانک گوں رودراتکی بلوچستان ءِ راجی رھشوناں

دو دانک گوں رودراتکی بلوچستان ءِ راجی رھشوناں

بلوچستان ءِ پُلیں شهیدان ءَ هزاراں سلام

بلوچستان ءِ پُلیں شهیدان ءَ هزاراں سلام

بی این ایم کی جانب سے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ

بی این ایم کی جانب سے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ

تجاربی خونین از مذاکرات با اشغالگران

تجاربی خونین از مذاکرات با اشغالگران

شهيد ناصر ڈگارزھي

شهيد ناصر ڈگارزھي

اُوَیس سمبل انگیزه یادگیری است

اُوَیس سمبل انگیزه یادگیری است

جماعت اسلامی اور 20 اکتوبر1914 ؁ کی قومی کانفرنس – کردگار بلوچ

جماعت اسلامی اور 20 اکتوبر1914 ؁ کی قومی کانفرنس – کردگار بلوچ

کوئٹہ میں اتنی بڑی تعداد میں وکلاء اور نہتے شہریوں کا قتل عام انتہائی افسوسناک هے – ڈاکٹر اللہ نذر

کوئٹہ میں اتنی بڑی تعداد میں وکلاء اور نہتے شہریوں کا قتل عام انتہائی افسوسناک هے – ڈاکٹر اللہ نذر

بلوچ راجی مزن جهدکار واجہ عبدالصمد امیریءِ زندتاک، دیوانے گون واجہ اسماعیل امیریءَ – سیمی بهر

بلوچ راجی مزن جهدکار واجہ عبدالصمد امیریءِ زندتاک، دیوانے گون واجہ اسماعیل امیریءَ – سیمی بهر

آج تک ٹی ويءِ گپ ترانے گون بلوچ قوم دوست رھنما واجہ حیربیار مريءً

آج تک ٹی ويءِ گپ ترانے گون بلوچ قوم دوست رھنما واجہ حیربیار مريءً

بلوج ریاستی پروپیگنڈه هانی بهر مہ بنت، بلوچ لبریشن آرمیءِ باسکانی شیهد ءُ دستگرکنگ حکومتی پروپیگنڈه ایت

بلوج ریاستی پروپیگنڈه هانی بهر مہ بنت، بلوچ لبریشن آرمیءِ باسکانی شیهد ءُ دستگرکنگ حکومتی پروپیگنڈه ایت

سویڈش شوشلیٹ پاڑٹی کے کریسٹوفر لونڈ بیری 10دسمبر2015 کو گوتنبرگ میں بولان کے بلوچ خواتین کی پاکستانی فورسز کی توسط سے اغواه کے خلاف مظاهرہ سے خطاب کررهے هیں

سویڈش شوشلیٹ پاڑٹی کے کریسٹوفر لونڈ بیری 10دسمبر2015 کو گوتنبرگ میں بولان کے بلوچ خواتین کی پاکستانی فورسز کی توسط سے اغواه کے خلاف مظاهرہ سے خطاب کررهے هیں

شاعر ءُ ارواه – نمیرانیں واجہ عبدالصمد امیری

شاعر ءُ ارواه – نمیرانیں واجہ عبدالصمد امیری

شہ مداروں کا دیش (بی ایس او کے قائدین سے ایک گزارش) کردگار بلوچ

2020-03-24 12:50:18
Share on

آئیے پہلے ڈاکٹر صفدر محمود کے ایک کالم بنام ’’ جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات‘‘ میں شامل ایک واقعہ کو پڑھ لیتے ہیں۔وہ اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ ’’۔۔۔۔۔  ۔کوئی پانچ سات نوجوان لڑکے ایک جوان (فوجی جوان نہیں۔۔راقم) کو مار رہے تھے ایک مارنے والے نے اسے زمین پر گرایا تھا اور ٹھڈے مارنے شروع کر دیے۔پوچھنے پر راز کھلا کہ مظلوم بھی اسی محلے کا تھا وہ شراب پی کر نشّے میں لڑ کھڑا تا گلی میں داخل ہوا تو محلے کے چند نوجوانون نے اسے ’’پی کر ‘‘ گلی میں آنے کی سزا دینے کے لئے مارنا شروع کر دیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے مارنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا گیا ،جو بھی آتا اس کا جرم پوچھے بغیر اسے دو چار گھونسے اور ٹھڈے مار دیتا۔میرا ایک کلاس فیلو بھی ہجوم میں شامل ہوکر گلی کے فرش پر گرے ہوئے مدھوش شخص کو ٹھڈے مارنے لگا ،میں نے اسے بازو سے پکڑ کر کھینچا اور پوچھا کہ تم اسے کیوں مار رہے تھے ،اس نے مسکرا کر جواب دیا پارٹنر سب لوگ اسے مار رہے تھے میرا جی چاہا کہ میں بھی اپنا حصہ ڈال دوں،پڑھائی کی بوریت رفع کرنے کے لئے میں نے بھی ٹھڈے مارنے شروع کر دیے ۔۔۔۔۔۔۔‘‘

آپ نے لاہور کی ایک 24,25سالہ عورت فرزانہ کی کہانی تو سنی ہوگی جو ایک ہفتے کی بات ہے اس نے اپنی پسند کی شادی کی تھی اس کے خلاف اس کے بھائی اور والد نے عدالت میں مقدمہ دایر کیا تھا اور وہ اپنی شوھر کے ساتھ اپنی دفاع کرنے اور صفائی پیش کرنے عدالت پہنچی تھی اور عدالت کے عین سامنے مختلف شعبہ کے ہزاروں لوگوں کے سامنے،انسانیت کا دم بھرتے نہ تھکنے والے بیسوں وکلاء کے سامنے اور سینکڑوں قانون نافذ کرنے والے بہادر جوانوں کے سامنے چند لوگوں نے اسے اینٹوں اور پتھروں سے اس وقت تک مارا جب تک اس نے دم توڑ دیا۔یقیناً اس کمزور عورت نے چیخا ہوگا،فریاد کی ہوگی،مدت کی درخواست کی ہوگی،لوگوں کی طرف دوڑتی رہی ہوگی مگر اس بھیڑ میں سب تماشائیوں نے اسے مار کھاتے اور ذہنی سکون حاصل کرتے دیکھا تب تک ان کی روح نکل گئی۔اس عورت کی چیخ پکار،واو فریاد نے کسی بھی ایک شخص کی دل میں کوئی رتی برابر رحم پیدا نہیں کیا،عورت تھی اس لیے دوسروں نے اس پر ہاتھ نہیں اٹھایا اور ممکن ہے کہ چھپکے چھپکے دوچار اینٹ مارنا تماشائیوں نے بھی اپنا حق جانا ہو۔ اگر یہ واقعہ شہ مداروں کے دیش کے بجائے کہیں اور ملک میں ہوتا تو اس عدلیہ کے سربراہ نے کب کا مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ہوتا۔

لاھور کے ایک سجیلے جوان حامد میر کا قصہ بھی جمعہ جمعہ آٹھ دن ہی کا ہے۔اس پر قاتلانہ حملہ کراچی میں ہوا تھا مگر قاتلانہ حملہ کرنے والے اسی دیش کے تھے جس دیش میں کمزور فرزانہ اور ڈاکٹر صفدر محمود کے کالم میں مار کھانے والے جوان کا تعلق تھا۔حامد میر پر قاتلانہ حملہ کیوں کیا گیا اسے بھی ہم آپ سب جانتے ہیں،ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ قاتلانہ حملہ کرنے والوں کی حمایت میں جلسے،جلوسوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو چکا تھا حتیٰ کہ حامد میر کے ادارے کو اس سچائی کے بیان کرنے پر معذرت کرنی پڑگئی۔۔۔جی ہاں میں نے سچ بولا تھا مجھے معاف کیجیے۔۔۔۔‘‘ یہ ہے اس دیش کے باسیوں کی عام ذہنیت۔اور پھر میرے دوست بی ایس او کے مرکزی کمیٹی کے رکن کامریڈ لطیف جوہر بلوچ اسی ذہنیت والی دیش کے مقتدرہ کے خلاف اپنی حق کی خاطر لڑ رہا ہے اس کے شراب نہیں پیا ہے بلکہ شہ مداروں سے اپنی حق کی جنگ لڑ رہا ہے۔اب ذرا سوچیے کہ جس دیش کی عام ذہنیت متذکرہ بالا نوعیت کی ہو تو اس دیش کی مقتدرہ کی ذہنیت کیا ہوگی۔آپ کو یاد ہوگا کہ لاپتہ افراد کے مسئلے پر اسی مقتدرہ کے قبیل کا ایک وزیر سردار آصف نے کراچی میں لاپتہ افراد کے لواحقین کی احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا تھا اور جھوٹ موٹ کا ایک وعدہ کیا تھا اور پھر اس طرح غائب ہوئے تھے جیسے گدھے کی سر سے سینگ۔جھوٹ،وعدہ خلافی،قسم اٹھانا اس دیش کے مقتدرہ کی ایک طریقہ واردات ہے،اس کے سوائے اور کچھ نہیں۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اپنے جائز حق کے لیے بھوک ہڑتال کرنا اور پھر تادم مرگ بھوک ہڑتال کرنا ایک موثر طریقہ کار ہے۔مگر کہاں۔۔۔؟جھان انسانیت کی کوئی اہمیت ہو،جہان اسلامیت کا کوئی اقدار ہوں جہان اخلاقیات کا رواج ہو،بد قسمتی سے بلوچ قوم جس دیش کا مقبوضہ ہے وہ دیش ان تمام خصوصیات سے پاک صاف ہے۔اس دیش میں کامریڈ لطیف جوہر کی بھوک ہڑتال اور ان کا آہستہ آہستہ موت کی طرف بڑھنے کا عمل ان شہ مداروں کے لیے باعث اطمینان ہے۔وہ بڑے خوش ہو رہے ہوں گے کہ انہوں نے بلوچ قوم کو اس قدر بے بس کر دیا ہے کہ اب وہ خود کشی کرنے پر اتر آئے ہیں۔کامریڈ لطیف جوہر کا یہ عمل اپنے ساتھی کے بچانے کے لیے یقیناً قابل تقلید ہے،قابل ستائش ہے،ان کی بہادری،ان کی محبت اور ان کا اپنے نظریہ کے ساتھ سچی وابستگی کسی شک و شبہ سے بالاتر ہے مگر اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ ان کا یہ بھوک ہڑتال کا عمل دشمن کے لیے حوصلہ افزائی بھی ہے ۔وہ یہ سوچ کر اپنی بربریت کو مذید بڑھاوا دیتے ہیں کہ مذید بلوچ بچے تادم مرگ بھوک ہڑتال کرکے ان شہ مداروں کو ذہنی سکون فراہم کرتے رہیں گے۔

جہان تک بین الاقوامی انسانی اداروں کا تعلق ہے،یا اقوام متحدہ کا سوال ہے یا امریکہ اور دوسرے انسان دوست ملکوں کی بات ہے تو اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ وہ تمام اپنے اپنے مفادات کی محور کے گرد گھومتے ہیں۔یہ ادارے یا ملک وہاں متوجہ ہوتے ہیں جہاں ان کے اپنے مفادات ہوں۔اور جہاں مفادات ہوں وہاں کیڑے کو اژدھا بنا کر دکھاتے ہیں اور جہاں مفادات نہ ہوں وہاں اژدھے کو بھی کیڑا سمجھتے ہیں۔ان سے کسی قسم کی خیر کی امید اس وقت تک نہیں رکھنی چاہیے جب تک بلوچستان کے ساتھ ان کے مفادات وابستہ نہ ہوں۔ بلوچ قوم اپنی جنگ آپ لڑ رہی ہے۔اس جنگ میں بلوچ قوم کو کامریڈ لطیف جوہر جیسے بہادر اور سچے فرزندوں کی سخت ضرورت ہے۔اس لیے میری بی ایس او کے قائدین سے دست بستہ استدعا ہے کہ وہ فیصلہ کرتے ہوئے کامریڈ لطیف جوہر کی بھوک ہڑتال کو ختم کرائیں۔مجھے پتہ ہے کہ ایسے حالات میں بی ایس او مرکزی کمیٹی یا کابینہ کی میٹنگ نہیں بلا سکتی مگر قائم مقام چےئرمین بذات خود یا دستیاب دوستوں کے مشورے سے یہ فیصلہ کر سکتی ہیں۔ کامریڈلطیف جوہر کی زندگی بچائیں اس لئے کہ وہ زندہ رہ کر ہی دشمن کے خلاف بہت کچھ کر سکتے ہیں بھوک ہڑتال کی موت مرکر دشمن کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتے۔ زیادہ سے زیادہ ایک آدھ بدنامی اس کے کھاتے میں آئی گی مگر کیا وہ پہلے کوئی کم بدنام ہے۔

Share on
Previous article

اعدام امیر دوست محمد خان بارکزائی و سر نوشت بلوچستان

NEXT article

آزادی پسند تنظیموں کی اتحاد

LEAVE A REPLY