غیر فطری اتحادوں سے بکھرتی شیرازہ – اداریہ

MUST READ

بر دانش آموزان بلــوچ چه می گـذرد؟ بخش دوم

بر دانش آموزان بلــوچ چه می گـذرد؟ بخش دوم

پاکستانی ایٹمی سلاحانی چکاسءِ تباه کاریانی ریڈیو رپورٹ

پاکستانی ایٹمی سلاحانی چکاسءِ تباه کاریانی ریڈیو رپورٹ

پاکستان پنجابیوں کے مفادات کی تحفظ کے لئے بنایا گیا ہے: حیر بیار مری

پاکستان پنجابیوں کے مفادات کی تحفظ کے لئے بنایا گیا ہے: حیر بیار مری

بلوچستان ءِ راجی جنزءِ دیمپان چے اَنت؟ پنچمی بهر

بلوچستان ءِ راجی جنزءِ دیمپان چے اَنت؟ پنچمی بهر

بیست ءُ یک فروری ماتی زبانانی میان اُستمانی روچءِ بابتءَ گپ وترانے گون پروفیسرصبوربلوچءَ

بیست ءُ یک فروری ماتی زبانانی میان اُستمانی روچءِ بابتءَ گپ وترانے گون پروفیسرصبوربلوچءَ

گلزمیـن ءِ هَنــد ءُ دمَگانــی هالَه ئیــں نـام

گلزمیـن ءِ هَنــد ءُ دمَگانــی هالَه ئیــں نـام

پاکستانی فوج نے بلوچستان میں حوصلہ کھو دیا،سی پیک ناکام ہے ۔ ڈاکٹر اللہ نذر

پاکستانی فوج نے بلوچستان میں حوصلہ کھو دیا،سی پیک ناکام ہے ۔ ڈاکٹر اللہ نذر

پشتون قوم دوست روڑ ،نالی کی سیاست سے نکل کر پاکستانی قبضہ گریت کے خلاف آواز بلند کریں : حیربیار مری

پشتون قوم دوست روڑ ،نالی کی سیاست سے نکل کر پاکستانی قبضہ گریت کے خلاف آواز بلند کریں : حیربیار مری

دس 10 ہزار سے زاہد بگٹی پناہ گزین افغانستان میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ نواب براہمدغ بگٹی

دس 10 ہزار سے زاہد بگٹی پناہ گزین افغانستان میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ نواب براہمدغ بگٹی

چا شالءَ 28 مئی 2009 ءَ شهید کمبر چاکرءِ بلوچستانءَ پاکستانی ایمٹی چکاسءِ خلاف زهرشانیءِ رپورٹ

چا شالءَ 28 مئی 2009 ءَ شهید کمبر چاکرءِ بلوچستانءَ پاکستانی ایمٹی چکاسءِ خلاف زهرشانیءِ رپورٹ

وه جو روشنی کی کوشان میں تاریک راتوں میں مارے گئے – ک ب فراق

وه جو روشنی کی کوشان میں تاریک راتوں میں مارے گئے – ک ب فراق

پاکستانی جرنسلٹ اور بقول بلوچ جھدوجھد کا حامی حامد میر کے نام

پاکستانی جرنسلٹ اور بقول بلوچ جھدوجھد کا حامی حامد میر کے نام

دنیا کو بلوچستان میں قتل عام و جبری گمشدگیوں پر خاموشی توڑنی چاہیے – ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ

دنیا کو بلوچستان میں قتل عام و جبری گمشدگیوں پر خاموشی توڑنی چاہیے – ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ

بلوچستــــان ءِ پُلّيــں شهيــدان ءَ هــزاراں ســــلام

بلوچستــــان ءِ پُلّيــں شهيــدان ءَ هــزاراں ســــلام

مروچی زرینہ مری ءُ مراد مریءَ پرین 3798 روچ انت کہ بیگواہ انت

مروچی زرینہ مری ءُ مراد مریءَ پرین 3798 روچ انت کہ بیگواہ انت

غیر فطری اتحادوں سے بکھرتی شیرازہ – اداریہ

2020-03-24 11:48:35
Share on

گوانگ اداریہ – 2012  کے آغاز کے ساتھ ہی ہمارے سیاسی سوشلسٹ اور قبائلی دوستوں کے ظاھری و باطنی اتحادوں کا جوسلسلہ شروع ہوا وہ 2014 میں ہاتھوں کے زنجیر پر منتج ہوا لیکن قوم نے اتحاد کو کبھی عملی طور پر محسوس کرپائی اور نا ہی بلوچ حالت زار پر اسکے کوئ بھی نمایاں مثبت اثرات ظاھر ہوئے ۔ ان اتحادوں نے قومی یکجہتی کے نام پر خاص کر بیروبی مما لک بلوچ قومی اداروں کا شیرازہ بکھیرنے کا ایک ایسا بھیانک آغاز کردیا جو ہنوز جاری ہے ۔ وہ بلوچ تارکین وطن جو منظم ہوکر جنرل مشرف جیسے ڈکٹیٹر تک کے دورے کو ناکام کرنے میں کامیاب ہوئے ، اور عالمی اداروں میں بلوچوں کی انسانی حقوق اور قومی آزادی کی جدوجہد کو قانونی حیثیت و پذیرائی دینے میں شب و روز کوشاں تھے حیرت انگیز طور پر یہ اتحاد کے نعروں کے بعد ایسے مفلوج ہوگئے کہ ذہن یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ جہاں پوری دنیا میں اتحاد قوت کا مظہر ہوتا ہے وہیں آخر بلوچ کیلئے یہی اتحاد کیوں کمزوری و انتشار کی طرف دلالت کرتا ہے ، پھر یہ یقیناً قیاسات کا رخ اسکے غیر فطری ہونے اور اسکا مطمع نظر ذاتی و گروہی ہونے کی طرف ہوگا۔

ہم آج تمام ثبوتوں کے باوجود 19000 مرد ، بچے اور خواتین بلوچوں کی پاکستانی فوج کے توسط سے جبری اغواء 3000 ہزار سے زائد بلوچ نوجوانوں کا بہیمانہ قتل 1600 سے زائد مسخ شدہ لاشوں 5 سے زائد اجتماعی قبروں کے ذمہ داروں کے خلاف کوئ قانونی چارہ جوئی کرنا درکنار ان جائز اعداد و شمار کو کہیں منوا تک نہیں سکے اور ان سب کے بنیادی ذمہ داروں قاتلوں میں سے ایک جنرل راحیل جب لندن پہنچتے ہیں تو ہم اسکے خلاف لندن ڈاوننگ اسٹریٹ میں اپنا احتجاج تک ریکارڈ نہیں کرسکے اور نا ہی ہم نے اس بات کو ضروری سمجھا یا یہ اہلیت نہیں پائ کے ہم اس قتال کے خلاف عالمی عدالت میں ایک مقدمہ تک درج کراسکیں ۔ ان درجنوں لیڈروں اور مقدس جماعتوں و اتحادوں کے باوجود بھی ہم اپنے ارگرد پھیلے کئی سو لاشوں کی اجتماعی قبروں کے بارے کی طرف عالمی برادری اور عدالتوں کا توجہ مبذول کرانے میں بھی سراسر ناکام نظر آتے ہیں۔ جب اس ناکامی کا تجزیہ کرو گے تو گنگا الٹی بہتی نظر آئیگی یعنی ہماری نا اہلی کے پیچھے تعداد کا کم ہونا نہیں بلکہ یہ حالت یورپ میں تعداد زیادہ ہونے کے بعد ہوا ، اسکے پیچھے منتشر و بغیر جماعتی کام کا ہاتھ نہیں بلکہ اس دگرگوں حالت کا آغاز اسوقت ہوا جب باہر ملک تنظیمیں بننے لگے اتحادیں جڑنے لگیں ۔ان ناکامیوں کا آغاز در حقیت اس 2012 والے اتحادی سلسلوں کے آغاز کے طفیل ہی منظر عام پر آیا ، جس نے چار یکجاں تارکین وطین بلوچوں کو اس غیر فطری اتحاد کا بھینٹ چڑھا کر دس جگہوں میں تقسیم کرکے منتشر کردیا ۔

اس دوران سارا حقیقی کام پس پشت ڈال کر بس ہر کوئ اپنی بڑی بڑی تصویریں چند بلوچ درخواست دہندہ پناہ گزینوں کے بدولت کھینچ کر شائع کرتے ہیں اور بلوچ عوام کو سراسر دھوکہ دیکر فیس بک میں اپنے متحرک پن و استقلال کو ایک جھوٹے اور بھونڈے طریقے سے ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سب ایک دوسرے سے فوٹو سیشنوں کے مقابلے میں سبقت لیجانے کی دوڑ میں مصروف ہیں ۔ بلوچ قومی اداروں اور ان تمام دوستوں کو جو اس اتحاد سے پہلے ایک دوسرے کا جز لاینفک ہوتے تھے ہر کام میں یکجا ہوتے تھے انھیں دیوار سے لگا کے اپنے دکانوں کو چمکانے کیلئے بھرپور زور آزمائی کی جارہی ہے ۔

ایسے غیر فطری و گروہی مفادات کے بننے والے نقصانات کو دیکھ کر ذہن میں کئی سوالات ابھرتے ہیں ، کیا واقعی یہ اتحاد حقیقی ہیں ؟ گر حقیقی ہیں تو پھر نتائج پختگی کے بجائے انتشار کیوں ؟ کیا یہ اتحاد قومی تحریک کے کشتی کو کنارے لگا سکیں گے ؟ یا یہ قومی کشتی کو بپھرتے بھنور سے نکال سکے گی ؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ مفادات کے سجے اسٹیج ڈرامے میں ہمیں محض تالیاں بجانے والا تماشائی بنا دیا گیا ہے ؟۔ لیکن مجھے یہ یقین ہے اس غیر فطری اتحاد کا صدمہ کسی نا کسی دن ہمیں اور آپکو کسی المیے کی صورت میں ضرور برداشت کرنا پڑیگا۔ ایسے صورت میں کیا اس نقصان کا ازالہ وقت گذرنے کے بعد ہم میں سے کوئی کرسکے گا؟ کیا ابتک بلوچ قوم اس اتحاد کے نتائج سے مطمئن ہے یا پھر بس ہمیشہ کی طرح خشک گلو ہوکر اسکے مشکوک وناممکن سے دور رس ثمرات کا انتظار کریں ؟ اس اتحاد نے قوم کے باسیوں کو یکجاہ کرنے کے بجائے منتشر کردیا ، کیا اس انتشار پر قابو پانے کا وقت گزرچکا ہے ؟ کیا ہم اسکے ذمہ داروں ،اسباب اور عوامل کی چھان بین کرنے کی صلاحیت کھوچکے ہیں ؟ اگر ہم باصلاحیت ہیں تو نئ اور عملی حکمت عملی کے تحت ان تمام عوامل کا سدباب کرکے قومی مفادات کے خاطر ہمیں حالات کے تقاضوں کے مطابق ایک فطری اور حقیقی اتحاد کی جانب ضرور قدم بڑھانا ہوگا ورنہ یہ وقت بھی ہاتھوں سے نکل جائیگا اور ہم اس \”جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات \” کی صورت میں بھگتتے رہیں گے۔

Share on
Previous article

ماتی زبان – گوس بھاربلوچ

NEXT article

سلمان میایی را بی گناه پرپر کردند – علی میایی جدگال

LEAVE A REPLY