لاپتہ بلوچ اسیران ،شہدا کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1543ءدن گذر گئے

MUST READ

خاطره شهدای دِزَّک و هُشَّک جاودان خواهد ماند

خاطره شهدای دِزَّک و هُشَّک جاودان خواهد ماند

گیبن کیچءَ 13 اپریلءَ 2015 پاکستانی فوجی آپریشنءِ حقیقت

گیبن کیچءَ 13 اپریلءَ 2015 پاکستانی فوجی آپریشنءِ حقیقت

اوجگیری جنبش استقلال طلبانه بلوچستـان و سبعیت ارتش پاکستان

اوجگیری جنبش استقلال طلبانه بلوچستـان و سبعیت ارتش پاکستان

گپ و ترانے گون بلوچ جرنلیسٹ واجہ صدیق بلوچ

گپ و ترانے گون بلوچ جرنلیسٹ واجہ صدیق بلوچ

جئے سندھ متحدہ محاذ کے کارکن شهید سرویچ پیرزادہ کے والد لطف علی سے گفتگو

جئے سندھ متحدہ محاذ کے کارکن شهید سرویچ پیرزادہ کے والد لطف علی سے گفتگو

روز شهــدای بلوچستـان گرامـی باد

روز شهــدای بلوچستـان گرامـی باد

مساحــت بلوچستــــان اشغالــــی

مساحــت بلوچستــــان اشغالــــی

خصومتِ دولتِ ایران با زبان بلوچـی و دلایلِ آن

خصومتِ دولتِ ایران با زبان بلوچـی و دلایلِ آن

مروچی زرینہ مری ءُ مراد مریءَ پرین 3798 روچ انت کہ بیگواہ انت

مروچی زرینہ مری ءُ مراد مریءَ پرین 3798 روچ انت کہ بیگواہ انت

بلوچ نوجوانوں سے اپیل ھے کہ وہ بلوچ رائٹس کے تحت وہ اس ریاستی جرم کے خلاف آواز بلند کریں

بلوچ نوجوانوں سے اپیل ھے کہ وہ بلوچ رائٹس کے تحت وہ اس ریاستی جرم کے خلاف آواز بلند کریں

واجہ شھید پروفیسر صبا دشیاريءِ 26 اگست 2009ءَ بلوچستان لیبریش چارٹر ءُ آھيءِ رھدربريءِ بابتءَ تران

واجہ شھید پروفیسر صبا دشیاريءِ 26 اگست 2009ءَ بلوچستان لیبریش چارٹر ءُ آھيءِ رھدربريءِ بابتءَ تران

پاکستان نے دہشت گردی کا ابتدا بلوچستان پر قبضے سے کیا:حیربیارمری

پاکستان نے دہشت گردی کا ابتدا بلوچستان پر قبضے سے کیا:حیربیارمری

سچ وہی جو جھوٹا بولے – کردگار بلوچ

سچ وہی جو جھوٹا بولے – کردگار بلوچ

نوکین حال Saturday, April 20, 2013

نوکین حال Saturday, April 20, 2013

نوکین حال

نوکین حال

لاپتہ بلوچ اسیران ،شہدا کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1543ءدن گذر گئے

2020-03-27 10:11:55
Share on

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز
31-03-2014

لاپتہ بلوچ اسیران ،شہدا کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1543ءدن گذر گئے۔بھوک ہڑتالی کیمپ میں اظہار یکجہتی کرنے والوں میں جسقم اور جسمم کا ایک وفد لاپتہ بلوچ ،مسخ شدہ لاشوں کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کی اور بھر پور تعاون کااظہار کیا اور اُنہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کے داعی حلقے حکمرانوں کے دعووں پر یقین کرتے ہوئے نظر نہیں آتے۔بلوچستان اور سندھ میں سیاسی رہنماﺅں کو کارکنوں سمیت مختلف شعبہ ہانے زندگی سے تعلق رکھنے والے بلوچوں اور سندھیوں کے اغواءگمشدگیوں اور قتل کر کے جلا دیتے ہیں ۔یا ویرانوں میں پھینکنے کا مسئلہ اب دنیا بھر کی نظروں میں آچکا ہے ۔اور بین الاقوامی سطح پر امریکہ کی جانب سے اپنی جاری کردہ سالانہ رپورٹ میں بھی بلوچستان اور سندھ میں انسانی حقوق کی پامالی کا تذکرہ کرتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا گیا ہے ۔وفد سے ماما قدیر بلوچ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ عالم شاہد ہے کہ طاقت کے زور پر آج تک کوئی سیاسی ،اقتصادی مسئلہ حل نہیں ہوا ہے اس لئے بلوچستان میں طاقت کا استحال جلتی پر تیل چھڑکنے کے مترادف ثابت ہورہا ہے ۔حکمران بھی اس ٹھوس حقیقت سے کلی طور پر آگاہ ہیں ۔مگر چونکہ وہ بلوچ مسئلہ کے حل کو بلوچستان میں پیوست اپنے مفادات کے لئے زہر قاتل سمجھتے ہیں ۔اس لئے انہیں یہ پالیسی اختیار کرنی پڑتی ہے۔پاکستان میں جموریت ہو یا آمیریت اس کے بلوچستان پر اثرات کیساں رہے ہیں۔اگر چہ انتخابی جمہوری ادوار میں بلوچ سیاسی رہنماوں و کارکنوں کی گرفتاریوں اغواءاور مبینہ ماورائے عدالت قتل اور فورسز کی کاروائیوں کے واقعات کو قرار دیا جاتا ہے ۔جبکہ یہ تاثر عام ہے کہ آمریت سے ذیادہ پی پی پی کے پہلے جمہوری دور میں کئے گئے وسیع فوجی آپریشن اور بڑے پیمانے پر بلوچوں کے جانی زیاں میں دیکھا جا سکتا ہے کہا جا تا ہے اس طرح مشرف کی آمریت میں بلوچستان میں فوجی آپریشن اور اغواء،گمشدگیوں کا آغاز ہوا لیکن پی پی پی کی جمہوری حکومت میں جبرو استبداد کی انسانیت سوز مثالیں سابقہ آمرانہ دور سے بھی بڑھتی ہوئی نظر آتی ہیں۔پہلے مشرف دور میں سیاسی رہنماﺅں و کارکنوں کو اغواءکر کے صرف لاپتہ کیا جاتا تھا ۔اب ان کی تشدد زدہ اور گولیوں سے چھلنی مسخ شدہ لاشیں ویرانوں میں پڑی ملتی ہیں ۔جبکہ اغواءاور گمشدگیوں میں بھی اضافہ ہو گیا ہے ۔یہ کیفیت ظاہر کرتی ہے کہ بلوچستان کے بارے میں آمراور جمہوریت کے داعی حکمرانوں کے رویے میں کوئی تفاد نہیں ہے ۔اس رویے کا آج کے بلوچستان میں نمایاں اظہار مختلف واقعات ،سانحات کی صورت میں دیکھا جاسکتا ہے ۔خاص طور پر لاپتہ بلوچوں کی مسخ شدہ لاشوں کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا۔پر اغواءلاش اور کاروئی کے بعد بلوچ قوم میں حکمرانوں کے خلاف نفرت ،انتقام کی فصل مزید بلند ہو رہی ہے ۔لاپتہ افراد کا مسئلہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید طوالت اور سنگینی اختیار کرتا جا رہا ہے ۔جس سے متاثرہ لواحقین کے کرب اور غم میں بے پناہ اضافہ ہوگیا ہے ۔خاص طور پراغواءکر کے لاپتہ کیئے جانے والے مسخ شدہ لاشوں کی صورت میں بازیابی نے لواحقین کر مزید سکون اور وسوسوں کا شکار کر دیا ہے۔
ما ما قدیر بلوچ وائس چیئر مین مسنگ پرسنز

Share on
Previous article

مانداشتــگ اِت ڈیه ءَ مئے آســے تئـے هَنـکیں کپـات

NEXT article

طرح تقسيـم بلوچستـان محکوم به شکست است

LEAVE A REPLY