لاپتہ بلوچ اسیران ،شہدا کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1543ءدن گذر گئے

لاپتہ بلوچ اسیران ،شہدا کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1543ءدن گذر گئے

2020-03-27 10:11:55
Share on

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز
31-03-2014

لاپتہ بلوچ اسیران ،شہدا کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1543ءدن گذر گئے۔بھوک ہڑتالی کیمپ میں اظہار یکجہتی کرنے والوں میں جسقم اور جسمم کا ایک وفد لاپتہ بلوچ ،مسخ شدہ لاشوں کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کی اور بھر پور تعاون کااظہار کیا اور اُنہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کے داعی حلقے حکمرانوں کے دعووں پر یقین کرتے ہوئے نظر نہیں آتے۔بلوچستان اور سندھ میں سیاسی رہنماﺅں کو کارکنوں سمیت مختلف شعبہ ہانے زندگی سے تعلق رکھنے والے بلوچوں اور سندھیوں کے اغواءگمشدگیوں اور قتل کر کے جلا دیتے ہیں ۔یا ویرانوں میں پھینکنے کا مسئلہ اب دنیا بھر کی نظروں میں آچکا ہے ۔اور بین الاقوامی سطح پر امریکہ کی جانب سے اپنی جاری کردہ سالانہ رپورٹ میں بھی بلوچستان اور سندھ میں انسانی حقوق کی پامالی کا تذکرہ کرتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا گیا ہے ۔وفد سے ماما قدیر بلوچ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ عالم شاہد ہے کہ طاقت کے زور پر آج تک کوئی سیاسی ،اقتصادی مسئلہ حل نہیں ہوا ہے اس لئے بلوچستان میں طاقت کا استحال جلتی پر تیل چھڑکنے کے مترادف ثابت ہورہا ہے ۔حکمران بھی اس ٹھوس حقیقت سے کلی طور پر آگاہ ہیں ۔مگر چونکہ وہ بلوچ مسئلہ کے حل کو بلوچستان میں پیوست اپنے مفادات کے لئے زہر قاتل سمجھتے ہیں ۔اس لئے انہیں یہ پالیسی اختیار کرنی پڑتی ہے۔پاکستان میں جموریت ہو یا آمیریت اس کے بلوچستان پر اثرات کیساں رہے ہیں۔اگر چہ انتخابی جمہوری ادوار میں بلوچ سیاسی رہنماوں و کارکنوں کی گرفتاریوں اغواءاور مبینہ ماورائے عدالت قتل اور فورسز کی کاروائیوں کے واقعات کو قرار دیا جاتا ہے ۔جبکہ یہ تاثر عام ہے کہ آمریت سے ذیادہ پی پی پی کے پہلے جمہوری دور میں کئے گئے وسیع فوجی آپریشن اور بڑے پیمانے پر بلوچوں کے جانی زیاں میں دیکھا جا سکتا ہے کہا جا تا ہے اس طرح مشرف کی آمریت میں بلوچستان میں فوجی آپریشن اور اغواء،گمشدگیوں کا آغاز ہوا لیکن پی پی پی کی جمہوری حکومت میں جبرو استبداد کی انسانیت سوز مثالیں سابقہ آمرانہ دور سے بھی بڑھتی ہوئی نظر آتی ہیں۔پہلے مشرف دور میں سیاسی رہنماﺅں و کارکنوں کو اغواءکر کے صرف لاپتہ کیا جاتا تھا ۔اب ان کی تشدد زدہ اور گولیوں سے چھلنی مسخ شدہ لاشیں ویرانوں میں پڑی ملتی ہیں ۔جبکہ اغواءاور گمشدگیوں میں بھی اضافہ ہو گیا ہے ۔یہ کیفیت ظاہر کرتی ہے کہ بلوچستان کے بارے میں آمراور جمہوریت کے داعی حکمرانوں کے رویے میں کوئی تفاد نہیں ہے ۔اس رویے کا آج کے بلوچستان میں نمایاں اظہار مختلف واقعات ،سانحات کی صورت میں دیکھا جاسکتا ہے ۔خاص طور پر لاپتہ بلوچوں کی مسخ شدہ لاشوں کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا۔پر اغواءلاش اور کاروئی کے بعد بلوچ قوم میں حکمرانوں کے خلاف نفرت ،انتقام کی فصل مزید بلند ہو رہی ہے ۔لاپتہ افراد کا مسئلہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید طوالت اور سنگینی اختیار کرتا جا رہا ہے ۔جس سے متاثرہ لواحقین کے کرب اور غم میں بے پناہ اضافہ ہوگیا ہے ۔خاص طور پراغواءکر کے لاپتہ کیئے جانے والے مسخ شدہ لاشوں کی صورت میں بازیابی نے لواحقین کر مزید سکون اور وسوسوں کا شکار کر دیا ہے۔
ما ما قدیر بلوچ وائس چیئر مین مسنگ پرسنز

Share on
Previous article

مانداشتــگ اِت ڈیه ءَ مئے آســے تئـے هَنـکیں کپـات

NEXT article

طرح تقسيـم بلوچستـان محکوم به شکست است

LEAVE A REPLY

MUST READ

پاکستانی قبضے کے خلاف یورپ سمیت دیگر ممالک میں آگاہی مہم چلائیں گے : حیربیارمری

پاکستانی قبضے کے خلاف یورپ سمیت دیگر ممالک میں آگاہی مہم چلائیں گے : حیربیارمری

آزادی پسند قوتوں کے سا تھ دو بنیادی شرائط پر اصولی اشتراک عمل کیلئے ہمہ وقت تیار ہو ں ۔ حیربیار مری

آزادی پسند قوتوں کے سا تھ دو بنیادی شرائط پر اصولی اشتراک عمل کیلئے ہمہ وقت تیار ہو ں ۔ حیربیار مری

«تپاکی زندگیں راجءِ نشان اِنت»

«تپاکی زندگیں راجءِ نشان اِنت»

در اقدامی انتقامجویانه، سه زندانی سیاسی در زندان زاهدان اعدام شدند

در اقدامی انتقامجویانه، سه زندانی سیاسی در زندان زاهدان اعدام شدند

پدا مئے بچ بالاچ انت – طلاءُ سنجگءُ ساچین – بشیربیدار

پدا مئے بچ بالاچ انت – طلاءُ سنجگءُ ساچین – بشیربیدار

انھیں فخر ہے کہ وہ ایک ایسے باپ کے بیٹے ہیں جنھوں نے ساری زندگی غلامی کے سامنے سر جھکانے سے انکار کیا – حیربیار مری

انھیں فخر ہے کہ وہ ایک ایسے باپ کے بیٹے ہیں جنھوں نے ساری زندگی غلامی کے سامنے سر جھکانے سے انکار کیا – حیربیار مری

شرکت مزدوران خارجی سپاه قدس در سرکوب مردم بپاخاسته

شرکت مزدوران خارجی سپاه قدس در سرکوب مردم بپاخاسته

ترانے ڈاکتر اللہ نذر ءَ 3 جانوری 2016 کُتگ

ترانے ڈاکتر اللہ نذر ءَ 3 جانوری 2016 کُتگ

سویڈش شوشلیٹ پاڑٹی کے کریسٹوفر لونڈ بیری 10دسمبر2015 کو گوتنبرگ میں بولان کے بلوچ خواتین کی پاکستانی فورسز کی توسط سے اغواه کے خلاف مظاهرہ سے خطاب کررهے هیں

سویڈش شوشلیٹ پاڑٹی کے کریسٹوفر لونڈ بیری 10دسمبر2015 کو گوتنبرگ میں بولان کے بلوچ خواتین کی پاکستانی فورسز کی توسط سے اغواه کے خلاف مظاهرہ سے خطاب کررهے هیں

بلــوچ هُـــژّار

بلــوچ هُـــژّار

فری بلوچستان موومنٹ کی طرف سے 28 مئی کو پاکستان کے ایٹمی دھماکوں اور چین اور پنجابی کی بلوچستان میں آبادکاری کے خلاف مغربی ممالک میں احتجاج کیا جائے گا

فری بلوچستان موومنٹ کی طرف سے 28 مئی کو پاکستان کے ایٹمی دھماکوں اور چین اور پنجابی کی بلوچستان میں آبادکاری کے خلاف مغربی ممالک میں احتجاج کیا جائے گا

آج تک ٹی ويءِ گپ ترانے گون بلوچ قوم دوست رھنما واجہ حیربیار مريءً

آج تک ٹی ويءِ گپ ترانے گون بلوچ قوم دوست رھنما واجہ حیربیار مريءً

بلوچ نوجوانوں سے اپیل ھے کہ وہ بلوچ رائٹس کے تحت وہ اس ریاستی جرم کے خلاف آواز بلند کریں

بلوچ نوجوانوں سے اپیل ھے کہ وہ بلوچ رائٹس کے تحت وہ اس ریاستی جرم کے خلاف آواز بلند کریں

محمود خان اچکزئی خود محکوم قوم کا فرد ہے اس کے ساتھ کیا ڈیل ہو سکتی ہے: حیربیار مری

محمود خان اچکزئی خود محکوم قوم کا فرد ہے اس کے ساتھ کیا ڈیل ہو سکتی ہے: حیربیار مری

جمعیت علماء اسلام ءُ جماعت اسلامی مئے جَنگ ءُ تشدد کنگءِ ذمہ واراں انت ۰ پنجاب یونیورسٹیءِ بلوچ نودربر

جمعیت علماء اسلام ءُ جماعت اسلامی مئے جَنگ ءُ تشدد کنگءِ ذمہ واراں انت ۰ پنجاب یونیورسٹیءِ بلوچ نودربر