لاپتہ بلوچ اسیران ،شہدا کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1543ءدن گذر گئے

MUST READ

ملت پارس به آفت نژاد پرستی مبتلاست

ملت پارس به آفت نژاد پرستی مبتلاست

اقوام متحده کی انسانی حقوق کونسل کے 33 ویں اجلاس میں بهارت کا بلوچستان میں انسانی حقوق کی پائیمالی پر پاکستان کو ذمه دار پر بی جے پی کے ترجمان انیل بالونی سے گفتگو

اقوام متحده کی انسانی حقوق کونسل کے 33 ویں اجلاس میں بهارت کا بلوچستان میں انسانی حقوق کی پائیمالی پر پاکستان کو ذمه دار پر بی جے پی کے ترجمان انیل بالونی سے گفتگو

بولانءِ دمگ لکڑ ءُ پل کڑیءَ پاکستانی هوائی فوجءِ بمب گواری – نوکترین ریڈیو حال

بولانءِ دمگ لکڑ ءُ پل کڑیءَ پاکستانی هوائی فوجءِ بمب گواری – نوکترین ریڈیو حال

شھید الیاس نزرءِ ماتءِ کلوّہ

شھید الیاس نزرءِ ماتءِ کلوّہ

انڈیا سمینار میں حیربیار مری کا خصوصی پیغام

انڈیا سمینار میں حیربیار مری کا خصوصی پیغام

سید ھاشمی ریفرس کتابجاہ لس دیوانءِ نوکین گچین کاری 20 جنوريءَ بنت

سید ھاشمی ریفرس کتابجاہ لس دیوانءِ نوکین گچین کاری 20 جنوريءَ بنت

پاکستان پنجابیوں کے مفادات کی تحفظ کے لئے بنایا گیا ہے: حیر بیار مری

پاکستان پنجابیوں کے مفادات کی تحفظ کے لئے بنایا گیا ہے: حیر بیار مری

جیش العدل کے کمانڈر ایوب بلوچ سے گفتگو

جیش العدل کے کمانڈر ایوب بلوچ سے گفتگو

نامه جمعی از علمای اهل سنت که خواستار اعزام هئیت تحقیق در مورد ترورعلمای اهل سنت درایران هستند

نامه جمعی از علمای اهل سنت که خواستار اعزام هئیت تحقیق در مورد ترورعلمای اهل سنت درایران هستند

پاکستانی جرنسلٹ اور بقول بلوچ جھدوجھد کا حامی حامد میر کے نام

پاکستانی جرنسلٹ اور بقول بلوچ جھدوجھد کا حامی حامد میر کے نام

تربتءَ ڈاکٹر کالونیءِ بلوچ چک ءُ جنیانی محاصرهءِ بابتءَ گلگدارے گون ایچ آر سی پی کیچءِ واجہ غنی پروازءَ

تربتءَ ڈاکٹر کالونیءِ بلوچ چک ءُ جنیانی محاصرهءِ بابتءَ گلگدارے گون ایچ آر سی پی کیچءِ واجہ غنی پروازءَ

درماندگی فاشیسم تمامیت خواه پارس

درماندگی فاشیسم تمامیت خواه پارس

 ایرانءِ بلـوچ دژمنیں “استراتجی” ماں رودراتکی بلوچستانءَ

 ایرانءِ بلـوچ دژمنیں “استراتجی” ماں رودراتکی بلوچستانءَ

بلوچ نسل کشی میں تیزی لائی گئی ہے ، خلیل بلوچ

بلوچ نسل کشی میں تیزی لائی گئی ہے ، خلیل بلوچ

پگری گلامی – گُڈی بهر

پگری گلامی – گُڈی بهر

لاپتہ بلوچ اسیران ،شہدا کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1543ءدن گذر گئے

2020-03-31 15:26:24
Share on

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز
31-03-2014

لاپتہ بلوچ اسیران ،شہدا کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1543ءدن گذر گئے۔بھوک ہڑتالی کیمپ میں اظہار یکجہتی کرنے والوں میں جسقم اور جسمم کا ایک وفد لاپتہ بلوچ ،مسخ شدہ لاشوں کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کی اور بھر پور تعاون کااظہار کیا اور اُنہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کے داعی حلقے حکمرانوں کے دعووں پر یقین کرتے ہوئے نظر نہیں آتے۔بلوچستان اور سندھ میں سیاسی رہنماﺅں کو کارکنوں سمیت مختلف شعبہ ہانے زندگی سے تعلق رکھنے والے بلوچوں اور سندھیوں کے اغواءگمشدگیوں اور قتل کر کے جلا دیتے ہیں ۔یا ویرانوں میں پھینکنے کا مسئلہ اب دنیا بھر کی نظروں میں آچکا ہے ۔اور بین الاقوامی سطح پر امریکہ کی جانب سے اپنی جاری کردہ سالانہ رپورٹ میں بھی بلوچستان اور سندھ میں انسانی حقوق کی پامالی کا تذکرہ کرتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا گیا ہے ۔وفد سے ماما قدیر بلوچ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ عالم شاہد ہے کہ طاقت کے زور پر آج تک کوئی سیاسی ،اقتصادی مسئلہ حل نہیں ہوا ہے اس لئے بلوچستان میں طاقت کا استحال جلتی پر تیل چھڑکنے کے مترادف ثابت ہورہا ہے ۔حکمران بھی اس ٹھوس حقیقت سے کلی طور پر آگاہ ہیں ۔مگر چونکہ وہ بلوچ مسئلہ کے حل کو بلوچستان میں پیوست اپنے مفادات کے لئے زہر قاتل سمجھتے ہیں ۔اس لئے انہیں یہ پالیسی اختیار کرنی پڑتی ہے۔پاکستان میں جموریت ہو یا آمیریت اس کے بلوچستان پر اثرات کیساں رہے ہیں۔اگر چہ انتخابی جمہوری ادوار میں بلوچ سیاسی رہنماوں و کارکنوں کی گرفتاریوں اغواءاور مبینہ ماورائے عدالت قتل اور فورسز کی کاروائیوں کے واقعات کو قرار دیا جاتا ہے ۔جبکہ یہ تاثر عام ہے کہ آمریت سے ذیادہ پی پی پی کے پہلے جمہوری دور میں کئے گئے وسیع فوجی آپریشن اور بڑے پیمانے پر بلوچوں کے جانی زیاں میں دیکھا جا سکتا ہے کہا جا تا ہے اس طرح مشرف کی آمریت میں بلوچستان میں فوجی آپریشن اور اغواء،گمشدگیوں کا آغاز ہوا لیکن پی پی پی کی جمہوری حکومت میں جبرو استبداد کی انسانیت سوز مثالیں سابقہ آمرانہ دور سے بھی بڑھتی ہوئی نظر آتی ہیں۔پہلے مشرف دور میں سیاسی رہنماﺅں و کارکنوں کو اغواءکر کے صرف لاپتہ کیا جاتا تھا ۔اب ان کی تشدد زدہ اور گولیوں سے چھلنی مسخ شدہ لاشیں ویرانوں میں پڑی ملتی ہیں ۔جبکہ اغواءاور گمشدگیوں میں بھی اضافہ ہو گیا ہے ۔یہ کیفیت ظاہر کرتی ہے کہ بلوچستان کے بارے میں آمراور جمہوریت کے داعی حکمرانوں کے رویے میں کوئی تفاد نہیں ہے ۔اس رویے کا آج کے بلوچستان میں نمایاں اظہار مختلف واقعات ،سانحات کی صورت میں دیکھا جاسکتا ہے ۔خاص طور پر لاپتہ بلوچوں کی مسخ شدہ لاشوں کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا۔پر اغواءلاش اور کاروئی کے بعد بلوچ قوم میں حکمرانوں کے خلاف نفرت ،انتقام کی فصل مزید بلند ہو رہی ہے ۔لاپتہ افراد کا مسئلہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید طوالت اور سنگینی اختیار کرتا جا رہا ہے ۔جس سے متاثرہ لواحقین کے کرب اور غم میں بے پناہ اضافہ ہوگیا ہے ۔خاص طور پراغواءکر کے لاپتہ کیئے جانے والے مسخ شدہ لاشوں کی صورت میں بازیابی نے لواحقین کر مزید سکون اور وسوسوں کا شکار کر دیا ہے۔
ما ما قدیر بلوچ وائس چیئر مین مسنگ پرسنز

 


Share on
Previous article

بلوچستان ءِ پلین شهیدان ءَ هزاران سلام

NEXT article

شماری ازترفنـدهای اشغالگـران برای حفظ خط مرزی ژنرال ” گـُلد سميـت “

LEAVE A REPLY