لاپتہ بلوچ اسیران ،شہدا کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1543ءدن گذر گئے

لاپتہ بلوچ اسیران ،شہدا کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1543ءدن گذر گئے

2020-03-31 15:26:24
Share on

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز
31-03-2014

لاپتہ بلوچ اسیران ،شہدا کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1543ءدن گذر گئے۔بھوک ہڑتالی کیمپ میں اظہار یکجہتی کرنے والوں میں جسقم اور جسمم کا ایک وفد لاپتہ بلوچ ،مسخ شدہ لاشوں کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کی اور بھر پور تعاون کااظہار کیا اور اُنہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کے داعی حلقے حکمرانوں کے دعووں پر یقین کرتے ہوئے نظر نہیں آتے۔بلوچستان اور سندھ میں سیاسی رہنماﺅں کو کارکنوں سمیت مختلف شعبہ ہانے زندگی سے تعلق رکھنے والے بلوچوں اور سندھیوں کے اغواءگمشدگیوں اور قتل کر کے جلا دیتے ہیں ۔یا ویرانوں میں پھینکنے کا مسئلہ اب دنیا بھر کی نظروں میں آچکا ہے ۔اور بین الاقوامی سطح پر امریکہ کی جانب سے اپنی جاری کردہ سالانہ رپورٹ میں بھی بلوچستان اور سندھ میں انسانی حقوق کی پامالی کا تذکرہ کرتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا گیا ہے ۔وفد سے ماما قدیر بلوچ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ عالم شاہد ہے کہ طاقت کے زور پر آج تک کوئی سیاسی ،اقتصادی مسئلہ حل نہیں ہوا ہے اس لئے بلوچستان میں طاقت کا استحال جلتی پر تیل چھڑکنے کے مترادف ثابت ہورہا ہے ۔حکمران بھی اس ٹھوس حقیقت سے کلی طور پر آگاہ ہیں ۔مگر چونکہ وہ بلوچ مسئلہ کے حل کو بلوچستان میں پیوست اپنے مفادات کے لئے زہر قاتل سمجھتے ہیں ۔اس لئے انہیں یہ پالیسی اختیار کرنی پڑتی ہے۔پاکستان میں جموریت ہو یا آمیریت اس کے بلوچستان پر اثرات کیساں رہے ہیں۔اگر چہ انتخابی جمہوری ادوار میں بلوچ سیاسی رہنماوں و کارکنوں کی گرفتاریوں اغواءاور مبینہ ماورائے عدالت قتل اور فورسز کی کاروائیوں کے واقعات کو قرار دیا جاتا ہے ۔جبکہ یہ تاثر عام ہے کہ آمریت سے ذیادہ پی پی پی کے پہلے جمہوری دور میں کئے گئے وسیع فوجی آپریشن اور بڑے پیمانے پر بلوچوں کے جانی زیاں میں دیکھا جا سکتا ہے کہا جا تا ہے اس طرح مشرف کی آمریت میں بلوچستان میں فوجی آپریشن اور اغواء،گمشدگیوں کا آغاز ہوا لیکن پی پی پی کی جمہوری حکومت میں جبرو استبداد کی انسانیت سوز مثالیں سابقہ آمرانہ دور سے بھی بڑھتی ہوئی نظر آتی ہیں۔پہلے مشرف دور میں سیاسی رہنماﺅں و کارکنوں کو اغواءکر کے صرف لاپتہ کیا جاتا تھا ۔اب ان کی تشدد زدہ اور گولیوں سے چھلنی مسخ شدہ لاشیں ویرانوں میں پڑی ملتی ہیں ۔جبکہ اغواءاور گمشدگیوں میں بھی اضافہ ہو گیا ہے ۔یہ کیفیت ظاہر کرتی ہے کہ بلوچستان کے بارے میں آمراور جمہوریت کے داعی حکمرانوں کے رویے میں کوئی تفاد نہیں ہے ۔اس رویے کا آج کے بلوچستان میں نمایاں اظہار مختلف واقعات ،سانحات کی صورت میں دیکھا جاسکتا ہے ۔خاص طور پر لاپتہ بلوچوں کی مسخ شدہ لاشوں کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا۔پر اغواءلاش اور کاروئی کے بعد بلوچ قوم میں حکمرانوں کے خلاف نفرت ،انتقام کی فصل مزید بلند ہو رہی ہے ۔لاپتہ افراد کا مسئلہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید طوالت اور سنگینی اختیار کرتا جا رہا ہے ۔جس سے متاثرہ لواحقین کے کرب اور غم میں بے پناہ اضافہ ہوگیا ہے ۔خاص طور پراغواءکر کے لاپتہ کیئے جانے والے مسخ شدہ لاشوں کی صورت میں بازیابی نے لواحقین کر مزید سکون اور وسوسوں کا شکار کر دیا ہے۔
ما ما قدیر بلوچ وائس چیئر مین مسنگ پرسنز

 


Share on
Previous article

بلوچستان ءِ پلین شهیدان ءَ هزاران سلام

NEXT article

شماری ازترفنـدهای اشغالگـران برای حفظ خط مرزی ژنرال ” گـُلد سميـت “

LEAVE A REPLY

MUST READ

شهيد ناصر ڈگارزھي

شهيد ناصر ڈگارزھي

لیسـتِ شمـاری ازمعـادنِ فعـالِ غیر فلـزی در بلوچستـان اشغالـی

لیسـتِ شمـاری ازمعـادنِ فعـالِ غیر فلـزی در بلوچستـان اشغالـی

Baloch geographical importance and internal complexities

Baloch geographical importance and internal complexities

بلوچ کمانڈر کیساتھ انٹرویو: بلوچستان میں چین کی موجودگی بھارت کو غیر مستحکم کرے گا انٹرویو: وکی ننجپّا

بلوچ کمانڈر کیساتھ انٹرویو: بلوچستان میں چین کی موجودگی بھارت کو غیر مستحکم کرے گا انٹرویو: وکی ننجپّا

سفر روحانی به بلوچستان و انتظارات مردم بلوچ – عبدالستار دوشوکی

سفر روحانی به بلوچستان و انتظارات مردم بلوچ – عبدالستار دوشوکی

تجاربی خونین از مذاکرات با اشغالگران

تجاربی خونین از مذاکرات با اشغالگران

آزادی پسند قوتوں کے سا تھ دو بنیادی شرائط پر اصولی اشتراک عمل کیلئے ہمہ وقت تیار ہو ں ۔ حیربیار مری

آزادی پسند قوتوں کے سا تھ دو بنیادی شرائط پر اصولی اشتراک عمل کیلئے ہمہ وقت تیار ہو ں ۔ حیربیار مری

کسان سالیں بلوچ دُهتگان بی بی صورت ، سکینہ ءُ سمینہ انگت شکارپور سندهءَ قید انت – گپءُ ترانے گون یکے چا بیگواهیں بلوچ دُهتگانی ماتءَ

کسان سالیں بلوچ دُهتگان بی بی صورت ، سکینہ ءُ سمینہ انگت شکارپور سندهءَ قید انت – گپءُ ترانے گون یکے چا بیگواهیں بلوچ دُهتگانی ماتءَ

کچھ کو ترجیج دینا اور دوسروں کو نظر انداز کرنا یو ین کے مقصد پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ حیربیار مری

کچھ کو ترجیج دینا اور دوسروں کو نظر انداز کرنا یو ین کے مقصد پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ حیربیار مری

روز شهــدای بلوچستـان گرامـی باد

روز شهــدای بلوچستـان گرامـی باد

کچھ کو ترجیج دینا اور دوسروں کو نظر انداز کرنا یو ین کے مقصد پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ حیربیار مری

کچھ کو ترجیج دینا اور دوسروں کو نظر انداز کرنا یو ین کے مقصد پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ حیربیار مری

چرا کمبود آب “مسئله امنیتی” شــد؟

چرا کمبود آب “مسئله امنیتی” شــد؟

آج تک ٹی ويءِ گپ ترانے گون بلوچ قوم دوست رھنما واجہ حیربیار مريءً

آج تک ٹی ويءِ گپ ترانے گون بلوچ قوم دوست رھنما واجہ حیربیار مريءً

تجاربی خونین از مذاکرات با اشغالگران

تجاربی خونین از مذاکرات با اشغالگران

بلوچستانءَ پاکستانی آئیوکین گچین کاریانی بابتءَ گپ ءُ ترانے گون روچتاک انتخابءِ سرمستر واجہ انور ساجديءَ

بلوچستانءَ پاکستانی آئیوکین گچین کاریانی بابتءَ گپ ءُ ترانے گون روچتاک انتخابءِ سرمستر واجہ انور ساجديءَ