مارچ1948 ؁ کا قضیہ . کردگار بلوچ

MUST READ

جنون کودک کشی اشغالگران در بلوچستان

جنون کودک کشی اشغالگران در بلوچستان

قتل یک جوان بلوچ توسط بسیج عشایری

قتل یک جوان بلوچ توسط بسیج عشایری

سفر روحانی به بلوچستان و انتظارات مردم بلوچ – عبدالستار دوشوکی

سفر روحانی به بلوچستان و انتظارات مردم بلوچ – عبدالستار دوشوکی

کمبر چاکر- گوانک ٹیم

کمبر چاکر- گوانک ٹیم

راجدوستیں بلوچاں تپاک بیگی انت

راجدوستیں بلوچاں تپاک بیگی انت

ماتی زبان – گوس بھاربلوچ

ماتی زبان – گوس بھاربلوچ

Independence Movement of Balochistan-

Independence Movement of Balochistan-

هجوم وحشيانه قشـون پارس و اشغال بلوچستان در سـال ۱۳۰۷ هجـری شمسـی

هجوم وحشيانه قشـون پارس و اشغال بلوچستان در سـال ۱۳۰۷ هجـری شمسـی

En Interview with Kurdish political activist Mr. Dovan about situation of Kobani Kurdistan

En Interview with Kurdish political activist Mr. Dovan about situation of Kobani Kurdistan

بلوچ ورنایانی راجی بیداری

بلوچ ورنایانی راجی بیداری

نژاد پرستی در ایران

نژاد پرستی در ایران

کسان سالیں بلوچ دُهتگان بی بی صورت ، سکینہ ءُ سمینہ انگت شکارپور سندهءَ قید انت – گپءُ ترانے گون یکے چا بیگواهیں بلوچ دُهتگانی ماتءَ

کسان سالیں بلوچ دُهتگان بی بی صورت ، سکینہ ءُ سمینہ انگت شکارپور سندهءَ قید انت – گپءُ ترانے گون یکے چا بیگواهیں بلوچ دُهتگانی ماتءَ

شاعر ءُ ارواه – نمیرانیں واجہ عبدالصمد امیری

شاعر ءُ ارواه – نمیرانیں واجہ عبدالصمد امیری

بلوچستانءِ نوکترین – ریڈیو حال

بلوچستانءِ نوکترین – ریڈیو حال

بیگواه بوتگین دین محمد بلوچءِ دحتگ سمّی بلوچ

بیگواه بوتگین دین محمد بلوچءِ دحتگ سمّی بلوچ

مارچ1948 ؁ کا قضیہ . کردگار بلوچ

2020-03-31 15:39:04
Share on

یوں تو تاریخ میں کئی ایسے حیثیت کے حامل شخصیات ہیں جن کو اُن کی شکست خوردنی اور مفقود الحالی کے دوراں بلوچوں نے پناہ دی باؤٹ رکھا اور اُن کے لئے کٹے مرے اور اُن کی شکست کو فتح میں تبدیل کیا اور جب اُن کو طاقت اور قوت ہاتھ آئی تو انہوں نے بلوچ قوم اور بلوچ سرزمین کے ساتھ بجائے دوستی اور احسان مندی کے دشمنی اور احسان فراموشی کی ۔مگر تاریخ میں دو شخصیات ایسے ہیں جن کی احسان فراموشی اور بے وفائی آج تک بلوچ قوم کے قصے کہانیوں میں یاد کیے جاتے ہیں۔اِن میں ایک شخصیت شاہ افغانستان شاہ شجاع الملک تھے جب اُن کی نا اہلی اور عیاش طبیعت نے افغانستان میں خانہ جنگی سی کیفیت پیدا کردی اور اُن کی جان کے لالے پڑ گئے تو وہ اپنے اہل و عیال کے ساتھ افغانستان سے بھاگ کر قلات میں بلوچ خان میر محراب خان کی باؤٹ اور پناہ میں گئے۔اور جب افغانستان کے نئے حکمران سردار احمد خان محمد زئی نے اُن کی گرفتاری کے لئے قلات کا رخ کیا اور خان محراب خان سے اسے حوالے کرنے کو کہا تو میر محراب خان نے شاہ شجاع الملک کو اُن کے حوالے کرنے کو بلوچ روایات کے منافی قرار دے کر سردار احمد خان سے جنگ کرنے کو ترجیح دی۔جنگ کے بعد شجاع الملک کی خواہش پر اُن کو برطانوی حکومت کے حوالے کر دیا گیا۔مگر جب یہ احسان فراموش شخص برطانوی ھند میں وائسرائے ھند کے نزدیک ہوئے تو انہوں نے بجائے احسان کا بدلہ چکانے کے انگریزی سرکار کو بلوچ قوم کی اندرونی چپقلش اور نا اتفاقی کا فائدہ اٹھانے اور بلوچ مرکز کا شیرازہ بکھیر نے کا مشورہ دیا۔

اسی طرح دوسرا شخص ھندوستان کے ایک ماہر ، شاطراور ایکٹر وکیل محمد علی جناح تھے ۔(واضح رہے کہ محمد علی جناح نے کسی زمانے میں لندن میں شیکسپئر تھیٹر کمپنی میں اسٹیج فنکار کی حیثیت سے ملازمت کی ہے ، روزنامہ جنگ کالم مولوی محمد علی جناح ،تحریر یاسر پیرزادہ )اُن سے خان بلوچ کی پہلی ملاقات1936 ؁ میں ہوئی تھی اور یہی وہ منحوس سال ہے جس نے آگے چل کر 27مارچ1948 ؁ کا روپ دھارا،چونکہ اس ملاقات میں ایک طرف محمد علی جناح جیسے انتہائی زیرک اور چالاک وکیل تھے تو دوسری طرف ایک سیدھا سادہ سا بلوچ جو ایک طرف یہ امید دل میں بسائے ہوئے تھے کہ وہ اس وکیل کے حوالے سے برطانوی سرکار سے اپنے وطن کے اُن حصوں کو جو 1876 ؁ کے ایک معائدے کے تحت حکومت برطانیہ کے حوالے کئے گئے تھے دوبارہ واگزار کریں گے تو دوسری طرف اسلام کی محبت سے سرشار اپنے وطن میں اسلامی شریعت کی نفاذ کا ارمان لیے ہوئے تھے۔اور پھر اِن ہی امیدوں کے بل بوتے پر خان بلوچ نے اپنے ریوڑ کو بھیڑیا کے حوالے کردیا یعنی محمد علی جناح کو بلوچستان کا قانونی مشیر بنایا گیا۔اور اسی سال سے محمد علی جناح کا خان بلوچ کے ہاں آنا جانا اور پھر کئی کئی مہینوں تک قیام کرنے کا سلسلہ شروع ہوا اور خان بلوچ اپنے امیدوں کے حصول کی خاطر اُن کو کسی ریاست کے حکمران سا پروٹول دیا کرتے تھے اور اُن کی سہولت اور آسایش کی خاطر بیرون ملک سے نت نئی سہولیات کے اسباب و اشیاءء منگوائی جاتی تھی اور پھر جاتے وقت اُن کو قیمتی تحفے تحائف بھی دیا کرتے تھے۔

اسی طرح جب برطانوی وزیر اعظم سر ونسٹن چرچل نے سر سکندر حیات کو جو اُن دنوں پنجاب کے وزیر اعظم تھے قاصد بنا کر محمد علی جناح کے پاس بھیجا کہ وہ (چرچل) چاہتے ہیں کہ ہندووں کو اپنی انگریز دشمنی کا سبق سکھائیں اور اُن کی ملک کو تقسیم کر دیں اور یہ کہ تم محمد علی جناح مسلمانوں کے لئے ایک الگ صوبہ کے بجائے ایک الگ ملک کا مطالبہ کرو۔اس بات کا ذکر 14جولائی1987 ؁ کے روزنامہ جنگ میں یوں درج ہے ’’۔۔۔۔۔جی ایم سید نے تحریک پاکستان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے اس وقت کے وزیر اعظم سر سکندر حیات خان 1940 ؁ کے اختتام پر قائرہ گئے تھے جبکہ سر ونسٹن چرچل اُن دنوں مصر کے دورے پر تھے، اس موقع پر چرچل نے سر سکندر حیات کو بتایا کہ وہ کانگریس کو پسند نہیں کرتے اور انگریزوں کو مسٹر گاندھی کے بڑھتے ہوئے اثرات کی وجہ سے بھارت چھوڑکر جانا پڑے گا انہوں نے سر سکندر کو مشورہ دیا کہ مسلمانوں کو بھی اپنے لئے ایک آزاد وطن کا مطالبہ کرنا چاہیے ،چرچل نے سر سکندر سے کہا کہ وہ اِن کا پیغام قائد اعظم تک پہنچا دیں اور وہ دہلی میں وائسرائے سے رابطہ قائم کرے۔۔۔۔۔‘‘
اس وقت پاکستان مسلم لیگ کی مالی پوزیشن انتہائی خراب تھی، مسلمان عالم دین محمد علی جناح سے اس بات پر ناراج تھے کہ انہوں نے مسلمان ہونے سے انکار کرتے ہوئے ایک آتش پرست لڑکی رتن بہائی سے شادی کی تھی اور پھر بریلوی علمائے دین نے اس کو نہ صرف کافر اور مرتدقرار دیا تھا بلکہ اس کو کافر اور مرتد نہ ماننے والا بھی کافر اور مرتد ہوگا(ان علمائے کرام کا یہ فتویٰ کتاب تجانب اھل السنہ عن اھل الفتنہ کے صفحہ نمبر 122میں یوں درج ہے’’۔۔۔۔بحکم شریعت مسٹر جینا اپنے عقائد،کفریہ،قطعیہ،یقینیہ کی بِنا پر قطعاً مرتد اور خارج اسلام ہے اور جو شخص اس کے ان کفروں پر مطلع ہونے کے بعد اس کو مسلمان جانے یا کافر نہ مانے یا اس کے کافر،مرتد ہونے میں شک رکھے یا اس کو کافر کہنے میں توقف کرے وہ بھی کافر،مرتد اور خارج از اسلام ہے اور بے توبہ مرا تو مستحق لعنت عزیز علام۔۔۔‘‘ صرف یہی نہیں بلکہ ’’۔۔۔۔۔۔۔ہندوستان کے مذہبی علاء کی اکثریت مسلم لیگ اور پاکستان کے خلاف تھی جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا حسین احمد مدنی نے اکتوبر1945 ؁ میں انتخابات کے موقع پر ایک فتویٰ کہ مسلم لیگ میں شامل ہونا حرام ہے ۔مجلس احرار نے پاکستان کی سخت مخالفت کی ،احرار کے لیڈر مولانا مظہر علی نے قائد اعظم کو اپنے ایک شعر میں کافر اعظم قرار دیا ،جماعت اسلامی نے بھی قیام پاکستان کی مخالفت کی مولانا مودودی نے تحریر کیا کہ مسلم لیگ کے قائد اعظم سے لے کر ایک عام کارکن تک اسلام کے بارے میں کچھ نہیں جانتا اُن کو یہ بھی معلوم نہیں کہ مسلمان کا مطلب اور اہمیت کیا ہے ۔۔۔۔‘‘( کالم مولوی محمد علی جناح ،تحریر یاسر پیرزادہ )واضح رہے کہ اسی طرح قادیانی مذہب کے پیشوا اور میرزا غلام محمد قادیانی کے بیٹے میرزا بشیر الدین قادیانی نے بھی ان کو کافر کہا مگر انہوں نے اسلام کی دوستی میں ایسا نہیں کیا بلکہ اس طرح وہ محمد علی کو Blackmailکرتے رہے اور اس بلیک میلنگ میں بلوچستان کو قادیانی صوبہ بنانے کا شرط اولین تھا۔

بریلوی علمائے دین کے اس فتوی کے بعد مسلمان لوگ آل انڈیا مسلم لیگ سے کنارہ کشی اختیار کئے ہوئے تھے جبکہ دوسری طرف سر چرچل کے احکامات وائسرائے ھند کو پہنچ چکے تھے جو محمد علی جناح کو سنائے گئے تھے۔ اس لئے وہ 1945 ؁ کے ستمبر کے مہینے میں اپنی بہن فاطمہ جناح کے ساتھ بمبئی(آج کا ممبئی) بلوچستان چلے آئے اور خان بلوچ سے آل انڈیا مسلم لیگ کی مالی پوزیشن کا تذکرہ کیا اور ایک مسلمان ملک کی وجود آنے کا مژدہ سنایا جس پر خان بلوچ نے ’’۔۔۔۔۔۔۔قائد اعظم اور مس جناح کو پہلے چاندی اور پھر سونے میں تولا دونوں کے وزن کے برابر چاندی اور پھر دونوں کے وزن کے برابر سونا ان کی نذر کیا اس وقت محمد علی جناح کا وزن علی الترتیب 124 پونڈ اور104پونڈ تھا اور جب وہ رخصت ہونے لگے تو مذید ایک سونے کا ھار مس جناح کو سونے چاندی کے علاوہ پیش کیا اس پر دونوں نے حیرت کا اظہار کیا تو خان صاحب نے کہا کہ یہ ہماری بلوچی دستور ہے۔۔۔۔۔‘‘(کتا ب مختصر تاریخ،قوم بلوچ و خوانین بلوچ)ُصرف یہی نہیں بلکہ اُن دنوں جب محمد علی جناح پر خاکسار تحریک کے کارکنوں نے قاتلانہ حملہ کیا تو خان قلات نے بلوچ باڈی گارڈ انُ کی حفاظت کی خاطر اُن کے حوالے کئے ۔ ایک یادگار مکالمہ کے عنوان سے خان بلوچ محمد علی جناح کا احسان مندی کا ذکر یوں کرتے ہیں کہ ’’۔۔۔۔۔۔خان قلات پاکستان کا دست راست ہے اور حقیقت یہی ہے کہ یہ بلوچستان ہی ہے جو پاکستان کو وجود میں لانے کا باعث بنا ہے۔۔۔۔‘‘(کتاب مختصر تاریخ بلوچ و خوانین بلوچ)۔یعنی ازما است کہ برما است۔

جب 3جون 1947 ؁کو وائسرائے ھند ماؤنٹ بیٹن نے ھندوستان کی آزادی اور اس کے بتن سے ایک نئی مسلمان ملک بنانے کا اعلان کیاجس میں واضح طور پر یہ بھی کہا گیا تھا کہ ھندوستان میں جس قدر Princely Statesہیں وہ اپنی مرضی سے جس ملک میں چاہیں شامل ہوں یا اپنی آزاد حیثیت کو برقرار رکھیں۔ تو اس وقت محمد علی جناح نے خان قلات کو بحیثیت قانونی مشیر یہ پیغام بھیجا’’۔۔۔۔چونکہ ریاست قلات کا معاملہ ہندوستانی ریاستوں سے مختلف ہے اس لئے اس کے مستقبل کی حیثیت کی تعین اور مستجار علاقوں کی واپسی سے متعلق معاملات طے کرنے کے لئے اپنا خصوصی نمائندہ وائسرائے ھند کے پاس دہلی بھیج دے۔۔۔‘‘ (کتاب مختصر تاریخ) جس کے بعد 4اگست1947 ؁ کو ایک گول میز کانفرنس کا انعقاد ہوا جس میں خان بلوچ،وائسرائے ھند سر ماؤنٹ بیٹن، محمد علی جناح،مسٹر لیاقت علی خان،چیف منسٹر قلات اور سلطان احمد مشیر قانون قلات نے شرکت کی تھی ۔اس گول میز کانفرنس میں پانچ نکات پر مشتمل ایک معا ئدہ منظور ہوا جن کا اعلان 11اگست کو ایک اعلامیہ کی صورت میں کیا گیا۔جن میں یہ نکتے بھی شامل تھے کہ ’’۔۔۔(۱) حکومت پاکستان قلات کو ایک آزاد اور خود مختار ریاست کی حیثیت سے جس کے معاہداتی تعلقات حکومت برطانیہ سے ہیں اور جس کا منصب و مرتبہ ھندوستان کی دیگر ریاستوں سے مختلف ہے تسلیم کرتی ہے۔اور(2)اس امر کے لئے قانونی رائے حاصل کی جائے گی کہ آیا وہ معاہدات و اجارات جو برطانوی حکومت اور قلات اسٹیٹ کے درمیان ہیں حکومت پاکستان کو ورثے میں مل سکتے ہیں یا نہیں۔۔۔۔۔‘‘

لیکن جب پاکستان بنا اور محمد علی جناح اس کے پہلے گورنر جنرل بنے تو اسے بلوچوں کے احسانات کا بدلہ ضرور چکانا تھا اور انہوں نے اکتوبر1947 ؁ کو خان بلوچ کو کراچی بلایا اور ان احسانات کا بدلہ اِن الفاظ میں چکایا ’’۔۔۔۔۔۔میں ایک بزرگ اور دوست کی حیثیت سے آپ کو مشورہ دوں گا کہ آپ پاکستان کے ساتھ الحاق کرلیں اس سے قلات اور پاکستان دونوں کو فائدہ ہوگاجہاں تک ریاست قلات کے مطالبات اور مسائل کا تعلق ہے وہ دوستانہ طور پر باہمی گفت وشنید کے ذریعے طے کر لیے جائیں گے۔۔۔۔‘‘اور خان بلوچ کہتے ہیں کہ محمد علی کے اس قیمتی مشورے کے جواب میں میں نے یوں کہا ’’۔۔۔۔۔۔آپ کو معلوم ہے کہ بلوچستان کی سرزمین روایات کی سرزمین ہے میری حیثیت بلوچ اقوام کی سربراہ کی ہے چار صدیوں سے یہی روایت ہمارے ہاں کارفرما ہے کہ خان بلوچ ہر اہم فیصلہ اپنے قبائل سے مشاورت اور آمادگی کے بعد کرتا ہے اگر بلوچستان کے مزاج اور بلوچوں کی روایات سے ہٹ کر میں نے ذاتی حیثیت سے کسی فیصلے پر دستخط کر دیے تو اس امر کی ضمانت نہیں ہوگی کہ کل کو بلوچ قبائل اس فیصلے پر کاربند رہیں گے بھی یا نہیں۔۔۔‘‘
اور پھر کراچی سے آکر خان قلات بلوچ ریاست کے دونوں ایوانوں(دارالعوام اور دارالامراء) کے اجلاس طلب کرتے ہیں اور کراچی میں محمد علی جناح کے ساتھ ہونے والی گفتگو اور اُن کے قیمتی مشورے کو ان ایوانوں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔مگر ان ایوانوں کے معزز اراکین کے فیصلے محمد علی جناح کے قیمتی مشورے کے خلاف آتی ہیں جن کا خان قلات نے ان الفاظ سے بیان کیا ہے ’’۔۔۔۔دونوں ایوانہائے کے ممبراں نے مفصل بحث و تمحیص کے بعد متفقہ طور پر یہ فیصلہ دیا کہ’’چونکہ الحاق کی تجویز ریاست قلات اور بلوچوں کی گذشتہ روایات اور مورخہ 4اگست1947 ؁ء کے معائدہ جاریہ مابین پاکستان اور قلات اور انڈی پینڈینس ایکٹ 1947 ؁ء کے سراسر منافی ہے اس لئے حکومت پاکستان کے ساتھ مذید گفت شنید معاہداتی تعلقات کی بنیاد پر ہونا زیادہ مفید و مناسب ہے۔۔۔۔‘‘اور اس فیصلے سے پاکستان کو آگاہ کردیا گیا۔
جب محمد علی جناح کو اس فیصلے کی خبر ہوئی اور اسے پتہ چل گیا کہ ریاست قلات کے دونوں ایوانوں نے ان کے قیمتی مشورے کو ردی کی ٹھوکری میں ڈال کرمٹی میں ملادیا ہے تو وہ غصے کے عالم میں کراچی سے سبی چلا آتا ہے اور خان بلوچ کو صاف لفظوں میں کہتا ہے کہ ’’۔۔۔۔۔میں(خان قلات) ذاتی حیثیت سے دوسرے والیاں کی طرح الحاق نامہ پر دستخط کردوں۔۔۔۔‘‘گو خان قلات نے محمد علی کی ناراضگی کا کہیں ذکر نہیں کیا مگر اُن کی کتاب کے اِن جملوں سے ہی ظاہر ہوتی ہے کہ محمد علی ان سے کتنے ناراض ہوئے تھے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’۔۔۔۔۔۔میرا کیمپ اُن دنوں ڈھاڈر میں تھا ملاقات کے دوسرے روز میں اچانک علالت کے سبب انہیں نہ مل سکا تعلقات بگاڑنے والے اور شکوک پیدا کرنے والے لوگ ان دنوں وہاں جمع ہو گئے تھے جو محمد علی جناح کے دائیں بائیں قریبی لوگوں کوالگ پٹیاں پڑھاتے تھے اور میرے ہمراہیوں کے کان الگ بھرتے تھے۔۔۔۔پھر آگے چل کر لکھتے ہیں اب محمد علی جناح آخری عمر کی ضعیفی اور مسلسل کام کرنے کی تھکن کے سبب مجھ سے براہ راست تعلق قائم نہ رکھ سکے۔۔۔۔(کتاب مختصر تاریخ بلوچ قوم اور خوانین قلات)
جب محمد علی جناح ناراض ہوکر سبی سے کراچی چلے گئے (اُن دنوں پاکستان کا دارالخلافہ کراچی تھا) تو انہوں نے کابینہ کو صورت حال سے آگاہ کیا اور گمان یہی ہے اسی کابینہ کی میٹنگ میں بلوچستان پر فوج کشی کا فیصلہ کیا گیا تھا اس بات کو جناب ڈاکٹر بلوچ عبدالرحمن براہوئی صاحب اپنی کتاب’’ بلوچستان اور پاکستان الحاق کی کہانی حقائق کی زبانی ‘‘میں یوں بیان کرتے ہیں’’۔۔۔۔۔ نو آموز کابینہ نے محمد علی جناح کی علالت کا فائدہ اٹھا کرلیفٹیننٹ کرنل گلزار احمد( مرزائی تھے،راقم)کمانڈنگ آفیسر7بلوچ رجمنٹ کوئٹہ(واضح رہے کہ یہ رجمنٹ برائے نام بلوچ تھا اور آج بھی برائے نام بلوچ رجمنٹ ہے اور اس رجمنٹ میں ایک بھی بلوچ نہیں تھا اور نہیں ہے،راقم)جو بعد میں بریگیڈئر بنائے گئے، حکم دیا گیا کہ وہ قلات کے خلاف کارروائی کے لئے تیار رہے اور دوسری طرف پاکستان کا بحری بیڑہ پسنی اور جیونی پہنچ گیا۔ اور یوں 27مارچ1948 ؁ کو پاکستان نے بلوچستان پر بزور قوت قبضہ کر لیا۔

قارئین آپ کو یاد ہوگا کہ ہم نے کالم کے شروع میں قادیانی کا ذکر کیا تھا اور بتایا تھا کہ محمد علی جناح نے درپردہ بلوچستان کو قادیانی صوبہ بنانے کا وعدہ میرزا بشیر الدین محمود قادیانی سے کیا تھا اسی لئے جب بلوچستان پر پاکستان کا قبضہ ہوگیا تو ’’۔۔۔۔ بلوچستان کے جبری الحاق یا قبضہ کے صرف تقریباً ایک مہینہ بعد ہی23جولائی1948 ؁ کو،بلوچستان کو میرزا بشیرالدین محمود نے قادیانی یا احمدی صوبہ بنانے کا اعلان کردیا۔انہوں نے اعلان کیا کہ اب بلوچستان ہمارے ہاتھوں سے نہیں نکل سکتا یہ ہماری شکارگاہ ہوگا دنیا کی ساری قومیں مل کر بھی ہم سے یہ علاقہ چھین نہیں سکتیں۔۔۔۔‘‘(کتاب تحریک ختم نبوت،تحریر شورش کاشمیری)۔
جب میرزا بشیر الدین احمد، بلوچستان کو قادیانی صوبہ بنانے کے اعلان کے بعد فوراً اسی سال 1948 ؁ ہی میں بلوچستان کے دارالخلافہ کوئٹہ آئے اور یہاں اپنی تبلیغ اور بلوچستان کو قادیانی صوبے کے حق میں رائے ہموار کرنے کی کوششوں میں لگے رہے جنہیں برابر حکومت پاکستان کی درپردہ معاونت حاصل تھی۔۔۔۔۔۔۔‘‘(کتاب تحریک ختم نبوت،آغا شورش کاشمیری)
لیکن جب میرزا بشیر احمد کو بلوچستان میں قادیانی صوبہ بنانے کے سلسلے میں بلوچ عوام کا تعاون نہیں ملا تو انہوں نے بلوچوں کے خلاف انتقامی کارروائی کا فیصلہ کیا۔اب چونکہ پاکستان کے اہم محکمہ جات قادیانیوں کے پاس تھیں(عین ممکن ہے کہ اب بھی ہوں)’’۔۔۔۔میرزائیوں نے غلام محمد سے لے کر یحییٰ خان کے دور تک اپنی فصل کو ثمرآور کرنے کے لئے جو کچھ کیا اس کا خلاصہ یہ ہے(1) حکومت کی بنیادی محکمے مثلاً فوج،مالیات،نشریات وغیرہ میں یہ لطائف الحیل قدم جمانا شروع کیے(2) عرب ریاستوں میں اسرائیل کے معتمد اہلکار ہوکر خفیہ خدمات کا بیڑا اٹھایا(3)سرحد،بلوچستان، سندھ اور مشرقی پاکستان کی پنجاب سے ناراضگی کو آب و دانہ مہیا کیا۔(4)جن صوبوں کو مرکزی حکومت سے شکایتیں رہیں اُن صوبوں میں فوجی کارروائی کا ’’جزولاینفک‘‘ ہوکر انہیں پاکستان کی تقسیم کے لئے تیار کیا۔
جب ہم 27مارچ1946 ؁ کے قضیہ کو دیکھتے ہیں تو اس میں دشمنوں کی دشمنی اپنی جگہ خود ہمارے خان بلوچ کی احمقانہ حد تک سادگی زیادہ دکھائی دیتی ہے۔ہمارے خان صاحب دنیا کے واحد سربراہ مملکت ہوں گے جن کو اپنی ریاست کی نسبت کسی دوسری ریاست کے مفادات زیادہ عزیز ہوں۔اُن کی سادگی کا یہ حال تھا کہ جب سکندر میرزا پاکستان کے صدر ہوئے تو انہوں نے بھی خان صاحب کے جیب میں ہاتھ ڈالا قصہ اُن ہی کی زبانی سنیے’’۔۔۔۔۔چنانچہ صدر(سکندرمیرزا)مجھے اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی اور کہا کہ مجھے انتخابات کے لیے پچاس لاکھ روپے کی ضرورت ہے ۔ریاست قلات کی بحالی کے لئے آپ کا کیس بہت وزنی اور جاندار ہے ،آپ کے عوام بحالی کے لئے متحدہ جدوجہد کر رہے ہیں جبکہ بھاولپور اور خیرپور کے عوام ریاستوں کے بحالی کے حق میں نہیں ہیں آپ کی کیس کی بنیاد پر آپ کی ریاست بحال کردوں گا۔۔۔۔۔‘‘( کتاب مختصر تاریخ، بلوچ و خوانین بلوچ)اور پھر یہ بھی پڑھیے گا جو سکندر نے مشورے کے طور پر خان بلوچ کو دیے ’’۔۔۔۔کہ چونکہ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے اس لیے بلوچ عوام کا ایک ریفرنڈم کرایا جائے کہ وہ ریاست قلات کی دوبارہ بحالی کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں،اس طرح ریاست قلات کی سابقہ پوزیشن میں بحالی قانونی اور جمہوری تصور ہوگی۔۔۔۔‘‘(کتاب مختصر تاریخ۔۔)
بہر حال پاکستان بننے سے لے کر آج تک جس قدر بلوچ بچے،بوڑھے،جوا ن مرد اور عورتیں ظلم و بربریت کے ہتھے چڑھے ہیں ان کی خون ناحق میں کسی نہ کسی طرح ہمارے خان صاحب کی سادہ پنی اور حد سے زیادہ اغیار دوستی کا بڑے پیمانے پر ہاتھ ہے۔ اب حیرانگی کی بات یہ ہے کہ خان سلیمان داؤد جو یہ کہہ کر بلوچستان سے لندن گئے تھے کہ وہ جناح اور دیگر پاکستانی وانگریزی حکام کے ساتھ ریاست قلات کے معائدے ہوئے اُن معائدات کی روشنی میں وہ بلوچستان کا مقدمہ عالمی عدالت میں دائر کریں گے مگرآج تک ہمیں یہ مژدہ سنائی یا پڑھائی نہیں گئی ہے۔یہ جملہ میں اس لئے لکھ رہا ہوں کہ جنگ اور محبت میں سب کچھ جائز ہے اور تمام حربے جس سے بلوچ قومی تحریک آزادی کو تقویت ملے آزمائی جانی چاہئیں۔

کردگار بلوچ

Share on
Previous article

پنجگور کے علاقے تپس ہائی اسکول کے قریب سے فورسز نے اکرم ولداسمائیل کو اِن کے گھر کے سامنے سے اغوا کرلیا

NEXT article

ایرانی بلوچستان کیلئے راہداری۔۔۔ صدیق بلوچ

LEAVE A REPLY