ماہِ اپریل میں آپریشن دوران 120 سے زائد افراد لاپتہ، 24قتل کئے گئے، بی بی گل بلوچ

MUST READ

بلوچ ری پبلکن پارٹی کی جانب سے شاہ شہیداں نواب اکبر بگٹی کی دسویں برسی کی مناسبت سے 26 اگست کو بلوچستان بھر میں شٹر ڈاون اور پہیہ جام ہڑتال کی کال

بلوچ ری پبلکن پارٹی کی جانب سے شاہ شہیداں نواب اکبر بگٹی کی دسویں برسی کی مناسبت سے 26 اگست کو بلوچستان بھر میں شٹر ڈاون اور پہیہ جام ہڑتال کی کال

بيگواهی

بيگواهی

بلوچستـان ءِ پليـں شهيـدان ءَ هـــزاراں ســـلام

بلوچستـان ءِ پليـں شهيـدان ءَ هـــزاراں ســـلام

بر دانش آموزان بلوچ چه می گذرد؟

بر دانش آموزان بلوچ چه می گذرد؟

تجاربی خونین از مذاکرات با اشغالگران

تجاربی خونین از مذاکرات با اشغالگران

پاکستان پنجابیوں کے مفادات کی تحفظ کے لئے بنایا گیا ہے: حیر بیار مری

پاکستان پنجابیوں کے مفادات کی تحفظ کے لئے بنایا گیا ہے: حیر بیار مری

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے مرکزی چیئرمین زاہد بلوچ(بلوچ خان) اغواء

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے مرکزی چیئرمین زاہد بلوچ(بلوچ خان) اغواء

انڈیا میں بلوچستان پر سیمینار بلوچ رہنما حیربیار مری کا پیغام

انڈیا میں بلوچستان پر سیمینار بلوچ رہنما حیربیار مری کا پیغام

بيست و هفتم مارس روزی سياه در تاريخ بلوچستــان – محمــد کـريــم بلــوچ

بيست و هفتم مارس روزی سياه در تاريخ بلوچستــان – محمــد کـريــم بلــوچ

پاکستان بلوچستان میں بنگلہ دیش کی تاریخ دہرا رہا ہے : فیض بلوچ

پاکستان بلوچستان میں بنگلہ دیش کی تاریخ دہرا رہا ہے : فیض بلوچ

گزشته مہنے نومبر کو ردیگ مند ایرانی سرحد پر دو جگه بارودی سرنگ پٹنهے سے 8 بلوچوں کں موت واقع هوئی هے

گزشته مہنے نومبر کو ردیگ مند ایرانی سرحد پر دو جگه بارودی سرنگ پٹنهے سے 8 بلوچوں کں موت واقع هوئی هے

شکست ایران بعنوان یک واحد سیاسی – جغرافیایی

شکست ایران بعنوان یک واحد سیاسی – جغرافیایی

طرح تقسیم بلوچستان خیانتی است بزرگ به ملت بلوچ

طرح تقسیم بلوچستان خیانتی است بزرگ به ملت بلوچ

مروچی تربتءِ ریلیءَ من چہ دیست

مروچی تربتءِ ریلیءَ من چہ دیست

پِگــری گُلامـــی – دومی بهر

پِگــری گُلامـــی – دومی بهر

ماہِ اپریل میں آپریشن دوران 120 سے زائد افراد لاپتہ، 24قتل کئے گئے، بی بی گل بلوچ

2020-03-27 16:35:50
Share on

کوئٹہ / بلوچ ہیومین رائٹس آرگنائزیشن کی چیئرپرسن بی بی گل بلوچ نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران بلوچستان میں ہونے والے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے واقعات کی ماہانہ رپورٹ میڈیا کو جاری کردی۔ بی بی گل بلوچ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی مجموعی صورت حال انسانی حقوق کے حوالے سے انتہائی خراب ہوچکی ہے ۔تسلسل کے ساتھ رونما ہونے والے واقعات کی وجہ سے آج صورت حال اس نہج تک پہنچ گئی ہے کہ مغوی لوگوں کے لواحقین شدید ذہنی اذیت کا شکار ہیں، وہ اس بے یقینی کی کیفیت کا شکار ہیں کہ کہیں اگلی مسخ شدہ لاش ان کے کسی پیارے کا نہ ہو۔ یہ ایک پریشان کردینے والی صورت حال ہے جس سے بلوچستان کے لوگ گزر رہے ہیں، لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان سارے واقعات کے خلاف کہیں سے بھی کوئی آواز بلند نہیں ہورہی ہے۔ انسانی حقوق کے ادارے اور سول سوسائٹی کی تنظیمیں میڈیا پر پابندی کی اعتراف کے باوجود بھی صرف الیکٹرانک میڈیا اور فورسز کی یکطرفہ بیانات پر اکتفا کرکے صورت حال کا تجزیہ کرتے ہیں جو کہ اصل مسئلے سے شعوری طور پر خود کو لاعلم رکھنے کی کوشش ہے۔ بی ایچ آر او کا رابطہ بلوچستان کے تمام علاقوں میں ہے، ہمیں جو رپورٹ موصول ہوتے ہیں ان کے مطابق اس وقت بلوچستان کے مسائل کی اگر درجہ بندی کی جائے تو سب سے بڑا مسئلہ انسانی جان و مال کی عدم حفاظت کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کے اغواء کی خبریں اگر میڈیا کا حصہ نہیں بن پاتی ہیں تو اس خاموشی کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وہاں سب کچھ اچھا چل رہا ہے۔ اپریل کے مہینے میں بلوچ ہیومین رائٹس آرگنائزیشن کو گمشدگی کی 120 کیسز موصول ہوئی ہیں، ان میں سے بیشتر لوگ دورانِ آپریشن اپنے گھروں سے ہی اٹھا کر لاپتہ کیے جا چکے ہیں۔ لیکن اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے، کیونکہ گمشدگیوں کے بہت سے کیسز ہمیں باقاعدہ رپورٹ نہیں کیے جاتے ہیں۔ اپریل کے مہینے کی مختلف کاروائیوں میں متعدد خواتین بھی فورسز نے اغواء کیے، جن میں یکم اپریل کو ڈیرہ بگٹی سے اغواء ہونے والے 17خواتین بھی شامل ہیں۔ معروف بلوچی فلم اداکارولید ناصربھی گمشدگان کی اس فہرست میں شامل ہے جسے 26اپریل کو کراچی سے اٹھا کر لاپتہ کردیا گیا۔ اپریل کے مہینے میں مختلف واقعات کے دوران 24 افراد قتل کردئیے گئے۔جن میں 11افراد فورسز نے ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے یا دورانِ حراست قتل کرکے لاشیں پھینک دیں۔ حراست میں قتل کیے جانے والوں میں ماسٹر بیت اللہ بھی شامل ہیں۔ جو تحصیل تمپ میں ایک ٹیچر تھے جسے 17جون 2015کو فورسز نے درجنوں لوگوں کے سامنے سے اغواء کرلیا۔ اس کے علاوہ پسنی کے رہائشی حبیب اللہ نامی فٹ بالر جو گزشتہ چار سالوں سے فورسز کی تحویل میں تھے۔ اس کی لاش30اپریل کو پسنی کے علاقے چکلی سے برآمد ہوگئی۔27 اپریل کو ماسٹر بیت اللہ کے ساتھ دیگر چار لاپتہ بلوچوں کی لاشیں بھی فورسز نے مند کے علاقے میں پھینک دیں، ان میں4جنوری 2017کو اغواء ہونے والے18سالہ جاسم ولدرحیم،16نومبر 2016کو اغواء ہونے والے صابر ولد غلام حسین،2فروری 2017کو اغواء ہونے والے 22سالہ مجید اور یکم دسمبر 2016کو اغواء ہونے والے آصف ولد انور علی شامل ہیں۔ یہ تمام افراد مہینوں و سالوں سے فو رسز کی تحویل میں موجود تھے۔ اپریل کے مہینے میں 8افراد نامعلوم افراد کی فائرنگ سے قتل ہو گئے جب کہ ذاتی دشمنی کی وجہ سے 4افراد قتل ہو گئے۔بی ایچ آر او کواپریل کے مہینے میں 29افراد کی بازیابی کی رپورٹ موصول ہوئی ہے ۔ بازیاب ہونے والوں میں 16وہ لوگ بھی شامل ہیں ہیں جو 16اپریل کو ہوشاب سے گرفتار ی کے چند گھنٹوں بعد رہا کردئیے گئے، جبکہ باقی بیشتر گزشتہ مہینوں مختلف علاقوں سے اغواء ہوئے تھے جو اپریل کو رہا ہوگئے۔ بی بی گل بلوچ نے کہا کہ واقعات کے تسلسل کا برقرار رہنا اس بات کو ثابت کررہا ہے کہ فورسز بلوچستان میں طاقت کے استعمال کی پالیسی کو ابھی تک جاری رکھے ہوئے ہیں، مسخ شدہ لاشیں پھینکنے کا جو سلسلہ سالوں پہلے شروع ہوا تھا وہ ابھی تک جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ سے لوگوں کو اعتماد اٹھ چکا ہے، ہزاروں کیسز ایسے ہیں جن کی ایف آئی آر پولیس نے درج نہیں کی ہے اور لوگوں نے عدلیہ سے رجوع تک نہیں کیا، متعدد کیسز کی ییروی لواحقین نے چھوڑ دی ہے اور متعدد ایسے واقعات بھی ہوئے ہیں کہ کیس کی سماعت کے دوران لاپتہ شخص کی مسخ شدہ لاش برآمد ہوئی ہے۔ یہ تمام صورت حال بلوچستان کے لوگوں کے لئے انتہائی پریشان کن ہیں، اس صورت حال سے لوگوں کو نکالنے کے لئے تمام زمہ دار اداروں کو فوری کردار ادا کرنا چاہیے۔

 

Share on
Previous article

اِویــن” ءِ نوک ورنائیــں بندیـگ” – محمد کريم بلــوچ

NEXT article

پِگــری گُلامــی – محمد کريم بلــوچ

LEAVE A REPLY