مقبوضہ سندھ میں پولیس کے اختیارات رینجرزنامی آرمی کے ایک شاخ کے ہاتھوں میں ہیں – چیئرمین خلیل بلوچ

MUST READ

واجہ غلام رضا حسین برءِ کلو پا بلوچ راجءَ

واجہ غلام رضا حسین برءِ کلو پا بلوچ راجءَ

کھنیں دپتر— — گپ و ترانے گون شھید نواب محمد اکبر بگٹيءَ گون ریڈیو بلوچيءِ

کھنیں دپتر— — گپ و ترانے گون شھید نواب محمد اکبر بگٹيءَ گون ریڈیو بلوچيءِ

اسداللہ چہ ارش ءَ رکّ اِتگ ءُ پنجگور ءَ ناشناسیں مردمانی تیرگواری ءَ سب انجنیئر بیران بوتگ

اسداللہ چہ ارش ءَ رکّ اِتگ ءُ پنجگور ءَ ناشناسیں مردمانی تیرگواری ءَ سب انجنیئر بیران بوتگ

بلوچستان میں ریفرینڈم نہیں چاہتے: حیر بیار مری

بلوچستان میں ریفرینڈم نہیں چاہتے: حیر بیار مری

  صحبت از تقسیم و تجزیه بلوچستان بمعنی میدان دهی به دشمن است ـ محمود بلوچ

صحبت از تقسیم و تجزیه بلوچستان بمعنی میدان دهی به دشمن است ـ محمود بلوچ

نامه محمد صابر ملک رئیسی پس از برخورد های تبعیض آمیز دوباره

نامه محمد صابر ملک رئیسی پس از برخورد های تبعیض آمیز دوباره

بلوچ رہنما ڈاکٹر اللہ نذر کاپیغام تمام عالمی و انسانی حقوق کے تنظیموں کے نام

بلوچ رہنما ڈاکٹر اللہ نذر کاپیغام تمام عالمی و انسانی حقوق کے تنظیموں کے نام

بيست و هفتم مارس  روزی سياه در تاريــخ بلوچستــــان

بيست و هفتم مارس روزی سياه در تاريــخ بلوچستــــان

اول ما بلوچیں، پیش چا ایشیءَ مسلمان ببئیں – حافظ عبدالغفار نقشبندی

اول ما بلوچیں، پیش چا ایشیءَ مسلمان ببئیں – حافظ عبدالغفار نقشبندی

بر دانش آموزان بلـوچ چه می گـذرد؟ – بخش آخـر

بر دانش آموزان بلـوچ چه می گـذرد؟ – بخش آخـر

بر دانش آموزان بلـوچ چه می گـذرد؟ – بخش چهـارم

بر دانش آموزان بلـوچ چه می گـذرد؟ – بخش چهـارم

گرامی باد خاطرهٔ قربانیان مذاکره با حکام مرکزی ایران

گرامی باد خاطرهٔ قربانیان مذاکره با حکام مرکزی ایران

استقــلالِ بلوچستــان حتمــی اســت – بخش آخر

استقــلالِ بلوچستــان حتمــی اســت – بخش آخر

بلوچ راجی مزن جهدکار واجہ عبدالصمد امیریءِ زندتاک، دیوانے گون واجہ اسماعیل امیریءَ اوّلی بهر

بلوچ راجی مزن جهدکار واجہ عبدالصمد امیریءِ زندتاک، دیوانے گون واجہ اسماعیل امیریءَ اوّلی بهر

کیچ مکران دشتءَ پاکستانی فوجی آپریشن – ریڈیو حال

کیچ مکران دشتءَ پاکستانی فوجی آپریشن – ریڈیو حال

مقبوضہ سندھ میں پولیس کے اختیارات رینجرزنامی آرمی کے ایک شاخ کے ہاتھوں میں ہیں – چیئرمین خلیل بلوچ

2020-03-26 09:19:09
Share on

کوئٹہ  / جی ایم سید کی 21 ویں برسی کے موقع پر 25اپریل کو بی این ایم کے چیئرمین خلیل بلوچ کا آڈیو پیغام , محترم ساتھیو،اس پُروقار وپُرعزم مجلس میں شریک سندھودیش کے غیرتمندباسیو۔!بلوچستان ،سندھودیش اوردنیا بھرمیں قومی آزادیو ں کے لئے قربان ہونے والے شہداء کو سرخ سلام ۔مجھے خوشی ہے کہ آج آپ سے مخاطب ہونے کاشرف مجھے ملِا۔ مجھے اورزیادہ خوشی ہوتااگرمیں اس اہم تقریب میں آپ کے درمیان موجودہو تا،آزادی اورجدوجہدکیلئے آپ کے عزم،جوش اورولولے کواپنی آنکھوں سے دیکھتا لیکن ایساممکن نہ ہوسکامگرپھربھی میں یہ سب محسوس کرسکتاہوں۔میں چاہتے ہوئے بھی اس تقریب میں شریک نہ ہوسکا۔اسلئے نہیں کہ فاصلہ زیادہ تھابلکہ قابض ریاست اوراسکے وحشی فوج وخفیہ اداروں نے ظلم،جبر،وحشت وسفاکیت کی جوفصیلیں کھڑی کی ہوئی ہے ،اُن کی وجہ سے میں آپ کے درمیان حاضرنہ ہوسکا۔کیونکہ غیر فطری ریاست پاکستان اوراس کے غیرجمہوری حکمران آزادی وسماجی انصاف کیلئے جمہوری جدوجہدسے بہت زیادہ خوفزدہ رہتے ہیں۔اس لئے وہ ظلم وجبراورآمرانہ ہتھکنڈوں کے ذریعے ہمیں قومی آزادی کی جدوجہدسے روکنے کی بھونڈی پالیسی پرعمل پیراہیں ۔بلوچ نیشنل موومنٹ کے بانی چیئرمین شہید غلام محمدبلوچ اوربلوچ نیشنل موومنٹ کے موجودہ مرکزی سیکریٹری جنرل شہید ڈاکٹرمنان صاحب سمیت درجنوں بلوچ سیاسی رہنماؤں،سینکڑوں سیاسی کیڈرزودانشوروں اورہزاروں سیاسی کارکنوں اوران کے ہمدردوں کی شہادتیں وجبری گمشدگیاں ہوں یاشہیدبشیرخان قریشی ،شہید مظفربھٹواورراجہ داہرسمیت سینکڑوں آزادی پسند سندھی سیاسی رہنماؤں،کارکنوں اوردانشوروں کی شہادت کے واقعات ہوں، یہ سب اس تلخ حقیقت کاثبوت ہیں کہ قابض ریاست پاکستان بلوچ اورسندھی عوام کواپنی اپنی قومی آزادی کیلئے جمہوری جدوجہدکے مسلمہ حق سے محروم رکھناچاہتی ہے ۔کیونکہ پاکستان نہ صرف ایک غیرفطری ریاست ہے بلکہ یہ ایک غیرجمہوری ملک ہے۔ آمریت اس کے خون میں رچی بسی ہے۔ پاکستان کی 70سالہ عمرکاآدھے سے زیادہ عرصہ فوجی آمریت رہی ہے اوربقیہ آدھے عمرکے نام نہاد جمہوری ادوارمیں بھی اصل اختیارات فوج ہی کے پاس رہے ہیں۔ جیساکہ آج بھی داخلہ وخارجہ امور پاکستان کافوج ہی چلارہاہے ۔مقبوضہ بلوچستان میں پولیس ولیویزکے اختیارات آرمی کے ایک اہم بازو wing ایف سی کے پاس ہیں جبکہ آرمی وخفیہ ادارے توکسی کے سامنے جوابدہ نہیں ہیں۔ اسی طرح مقبوضہ سندھ میں پولیس کے اختیارات رینجرزنامی آرمی کے ایک شاخ کے ہاتھوں میں ہیں۔ اب توعدالتیں بھی فوج چلارہی ہے۔ پارلیمنٹ،سویلین انتظامیہ ،عدلیہ اورمیڈیاجیسے ریاستی ستون فوج کے آلہ کارکے طورپرکام کررہے ہیں۔ یہ نام نہادریاستی ستون عملاً فوج کی بالادستی قبول کرچکے ہیں۔یہ سارے ادارے اوران کے سربراہ کرپشن وناجائز معاشی مفادات کے عوض ریاستی امورمیں فوج کیلئے سہولت کارکے طورپرکام کررہے ہیں۔ اسلئے ریاستی امورمیں جنرل ہی ڈرائیونگ سیٹ پربراجمان نظرآتاہے ۔ظاہرہے فوج سے سیاسی آزادیوں اورجمہوری حقوق کے احترام کی توقع تونہیں کی جاسکتی۔
آج مقبوضہ بلوچستان اورسندھ میں قومی آزادی کیلئے جومسلح جدوجہدہورہی ہے ،یہ کوئی انتہاپسندی نہیں اورنہ یہ مسلح تحریکیں بلاجوازہیں بلکہ وقت وحالات اورپاکستان کے آمرانہ فطرت وپالیسی کے تناظر میں یہ مسلح تحریکیں عین فطری ،جائزاورقدرے زیادہ موثرہیں کیونکہ قابض ریاست پاکستان کے آمرحکمران یہی زبان سمجھتے ہیں دوستو:آج مقبوضہ بلوچستان میں نہتے بلوچ عوام کے خلاف پاکستانی فوج کی دہشتگردی اپنے عروج پرہے۔ گذشتہ سال کے اختتام پر مقبوضہ بلوچستان کے ہوم سیکریٹری اکبردرانی نے میڈیاکو بتایاتھاکہ 2015میں آرمی ودیگرسکیورٹی فورسزنے 1973آپریشنزکئے۔ جن کے دوران 9400کے لگ بھگ افرادگرفتاراور204کو شہید کیا گیا ۔ یہ اعدادوشمارتوریاستی اداروں نے دی ہے۔ اصل صورتحال تو اس سے کئی گنا ہولناک اورگھمبیرہے ۔حالت یہ ہے کہ فوج،ایف سی اورخفیہ ادارے ہلہ بول کر بمباری،لوٹ ماراور نذرآتش کرنے کے ذریعے کسی بھی ہستی بستی گاؤں کوصفحہ ہستی مٹاتے ہیں۔ پھراس گاؤں کوکسی مسلح تنظیم کاکیمپ ظاہرکرتے ہیں۔ فوجی کارروائیوں کے دوران نہتے یا پھرپہلے سے گرفتارجبری گمشدہ بلوچ فرزندوں کوشہیدکرکے فوج ان کوشدت پسنداوراپنے سفاکیت کومقابلہ ظاہرکرتاہے۔ اس طرح کے جعلی مقابلوں کے ذریعے بلوچ دیہاتوں کوصفحہ ہستی سے مٹانااورجبری لاپتہ کئے گئے بلوچ فرزندوں کوقتل کرنافوج اورخفیہ اداروں کی پالیسی بن گئی ہے۔ اسی طرح چائناپاکستان اقتصادی کوریڈورCPECشاہراہ کی تعمیراورترقی کے نام پرایک بڑانوآبادیاتی منصوبہ شروع کیاگیاہے۔ جس کی حفاظت کیلئے دس ہزارفوجیوں پرمشتمل ایک بریگیڈتشکیل دی گئی ہے۔ جسے جدیدہیلی کاپٹروں اوردیگرسہولتیں دی گئی ہیں۔ یہ بریگیڈاُس سامراجی سڑک سے نذدیک آبادبستیوں کومختلف حیلہ وبہانہ سے بلڈوزکرکے بلوچ عوام کوہجرت پرمجبورکررہاہے۔ اب تک درجنوں گاؤں اس سامراجی روڈکابھینٹ چڑھ چکے ہیں ۔بلوچ تحریک آزادی کوکچلنے کیلئے ’’ضربِ عضب‘‘ کے نام سے مقبوضہ بلوچستان کے کونے کونے میں فوجی کارروائیاں عروج پرہیں۔قومی آزادی کے حوالے سے جمہوری سیاسی سرگرمیوں پرمکمل پابندی ہے۔ بلوچ نیشنل موومنٹ جیسے قومی پارٹی کی قیادت اورکارکنوں کوچُن چُن کرشہیدکیاجارہاہے۔ حال ہی میں بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی سیکریٹری جنرل ڈاکٹرمنان بلوچ کوایک فوجی کارروائی کے دوران چارساتھیوں سمیت شہیدکرکے ان کو بلوچستان لبریشن فرنٹ کاکمانڈرظاہرکیاگیا۔ایسی فوجی کارروائیاں بلوچ نسل کشی کی ریاستی پالیسی کوظاہرکرتے ہیں۔ اس طرح کی ریاستی دہشتگردی کوبے نقاب کرنامیڈیااورانسانی حقوق کیلئے سرگرم تنظیموں کی ذمہ داری ہے، مگر مقبوضہ بلوچستان میں میڈیاناپیداورشجرِممنوعہ ہے ،جبکہ انسانی حقوق کے نام لیواتنظیموں کاکرداراوردلچسپی محض واجبی سی رہ گئی ہے۔ لگتاتویہ ہے کہ یہ سب ادارے یاتوفوج وخفیہ اداروں سے بہت زیادہ خوفزدہ ہیں یا پھربلوچ نسل کشی میں اُن کے خاموش معاونین ہیں۔
سندھی دوستو:مقبوضہ بلوچستان میں ہماری آبادی منتشرہے ۔آمدورفت اورابلاغ کے ذرائع نہیں ہیں۔بڑے شہربھی نہیں ہیں ۔ہمارااپناکوئی میڈیابھی نہیں ہے ،جسکی وجہ سے قومی آزادی کیلئے جمہوری عمل میں ہمیں مشکلات درپیش ہیں مگرآپ کی آبادی بڑی ہے اورآپ کے پاس بڑے بڑے شہرہیں۔ آمدورفت اور ابلاغ کے ذرائع آپ کو دستیاب ہیں، آپ کااپنامیڈیابھی ہے، آپ کی تحریک اگرمنظم ہوتوآپ کی جدوجہددشمن کاکمرتوڑسکتی ہے دوستو: بلوچ اورسندھی اقوام کادشمن مشترک ہے، اسلئے بلوچ اورسندھی قومی تحاریک آزادی کومشترکہ دشمن کے خلاف مشترکہ جدوجہدکی صورتیں ڈھونڈنی چاہئیں۔ تاکہ آپس میں تعاون کے ذریعے اپنی طاقت کوبڑھاکرہم دشمن کوشکست دے کرقومی آزادی کی عظیم منزل کوپاسکیں،ہماری قومیں بھی دنیاکے آزاداقوام کے صفوں میں شامل ہوں۔
بلوچ قوم آجو بات سندھی قومی تحریک آزادی سوب مند بات ، بلوچستان سبز بات ، سندھودیش سبز بات

 

Share on
Previous article

نمیرانیں شهید فدا احمد

NEXT article

پاکستان چین کی مفادات کی خاطر بلوچوں کا بے رحمی سے قتل عام کررہا ہے: حیر بیار مری

LEAVE A REPLY