مقبوضہ سندھ میں پولیس کے اختیارات رینجرزنامی آرمی کے ایک شاخ کے ہاتھوں میں ہیں – چیئرمین خلیل بلوچ

مقبوضہ سندھ میں پولیس کے اختیارات رینجرزنامی آرمی کے ایک شاخ کے ہاتھوں میں ہیں – چیئرمین خلیل بلوچ

2020-03-30 15:20:25
Share on

کوئٹہ  / جی ایم سید کی 21 ویں برسی کے موقع پر 25اپریل کو بی این ایم کے چیئرمین خلیل بلوچ کا آڈیو پیغام , محترم ساتھیو،اس پُروقار وپُرعزم مجلس میں شریک سندھودیش کے غیرتمندباسیو۔!بلوچستان ،سندھودیش اوردنیا بھرمیں قومی آزادیو ں کے لئے قربان ہونے والے شہداء کو سرخ سلام ۔مجھے خوشی ہے کہ آج آپ سے مخاطب ہونے کاشرف مجھے ملِا۔ مجھے اورزیادہ خوشی ہوتااگرمیں اس اہم تقریب میں آپ کے درمیان موجودہو تا،آزادی اورجدوجہدکیلئے آپ کے عزم،جوش اورولولے کواپنی آنکھوں سے دیکھتا لیکن ایساممکن نہ ہوسکامگرپھربھی میں یہ سب محسوس کرسکتاہوں۔میں چاہتے ہوئے بھی اس تقریب میں شریک نہ ہوسکا۔اسلئے نہیں کہ فاصلہ زیادہ تھابلکہ قابض ریاست اوراسکے وحشی فوج وخفیہ اداروں نے ظلم،جبر،وحشت وسفاکیت کی جوفصیلیں کھڑی کی ہوئی ہے ،اُن کی وجہ سے میں آپ کے درمیان حاضرنہ ہوسکا۔کیونکہ غیر فطری ریاست پاکستان اوراس کے غیرجمہوری حکمران آزادی وسماجی انصاف کیلئے جمہوری جدوجہدسے بہت زیادہ خوفزدہ رہتے ہیں۔اس لئے وہ ظلم وجبراورآمرانہ ہتھکنڈوں کے ذریعے ہمیں قومی آزادی کی جدوجہدسے روکنے کی بھونڈی پالیسی پرعمل پیراہیں ۔بلوچ نیشنل موومنٹ کے بانی چیئرمین شہید غلام محمدبلوچ اوربلوچ نیشنل موومنٹ کے موجودہ مرکزی سیکریٹری جنرل شہید ڈاکٹرمنان صاحب سمیت درجنوں بلوچ سیاسی رہنماؤں،سینکڑوں سیاسی کیڈرزودانشوروں اورہزاروں سیاسی کارکنوں اوران کے ہمدردوں کی شہادتیں وجبری گمشدگیاں ہوں یاشہیدبشیرخان قریشی ،شہید مظفربھٹواورراجہ داہرسمیت سینکڑوں آزادی پسند سندھی سیاسی رہنماؤں،کارکنوں اوردانشوروں کی شہادت کے واقعات ہوں، یہ سب اس تلخ حقیقت کاثبوت ہیں کہ قابض ریاست پاکستان بلوچ اورسندھی عوام کواپنی اپنی قومی آزادی کیلئے جمہوری جدوجہدکے مسلمہ حق سے محروم رکھناچاہتی ہے ۔کیونکہ پاکستان نہ صرف ایک غیرفطری ریاست ہے بلکہ یہ ایک غیرجمہوری ملک ہے۔ آمریت اس کے خون میں رچی بسی ہے۔ پاکستان کی 70سالہ عمرکاآدھے سے زیادہ عرصہ فوجی آمریت رہی ہے اوربقیہ آدھے عمرکے نام نہاد جمہوری ادوارمیں بھی اصل اختیارات فوج ہی کے پاس رہے ہیں۔ جیساکہ آج بھی داخلہ وخارجہ امور پاکستان کافوج ہی چلارہاہے ۔مقبوضہ بلوچستان میں پولیس ولیویزکے اختیارات آرمی کے ایک اہم بازو wing ایف سی کے پاس ہیں جبکہ آرمی وخفیہ ادارے توکسی کے سامنے جوابدہ نہیں ہیں۔ اسی طرح مقبوضہ سندھ میں پولیس کے اختیارات رینجرزنامی آرمی کے ایک شاخ کے ہاتھوں میں ہیں۔ اب توعدالتیں بھی فوج چلارہی ہے۔ پارلیمنٹ،سویلین انتظامیہ ،عدلیہ اورمیڈیاجیسے ریاستی ستون فوج کے آلہ کارکے طورپرکام کررہے ہیں۔ یہ نام نہادریاستی ستون عملاً فوج کی بالادستی قبول کرچکے ہیں۔یہ سارے ادارے اوران کے سربراہ کرپشن وناجائز معاشی مفادات کے عوض ریاستی امورمیں فوج کیلئے سہولت کارکے طورپرکام کررہے ہیں۔ اسلئے ریاستی امورمیں جنرل ہی ڈرائیونگ سیٹ پربراجمان نظرآتاہے ۔ظاہرہے فوج سے سیاسی آزادیوں اورجمہوری حقوق کے احترام کی توقع تونہیں کی جاسکتی۔
آج مقبوضہ بلوچستان اورسندھ میں قومی آزادی کیلئے جومسلح جدوجہدہورہی ہے ،یہ کوئی انتہاپسندی نہیں اورنہ یہ مسلح تحریکیں بلاجوازہیں بلکہ وقت وحالات اورپاکستان کے آمرانہ فطرت وپالیسی کے تناظر میں یہ مسلح تحریکیں عین فطری ،جائزاورقدرے زیادہ موثرہیں کیونکہ قابض ریاست پاکستان کے آمرحکمران یہی زبان سمجھتے ہیں دوستو:آج مقبوضہ بلوچستان میں نہتے بلوچ عوام کے خلاف پاکستانی فوج کی دہشتگردی اپنے عروج پرہے۔ گذشتہ سال کے اختتام پر مقبوضہ بلوچستان کے ہوم سیکریٹری اکبردرانی نے میڈیاکو بتایاتھاکہ 2015میں آرمی ودیگرسکیورٹی فورسزنے 1973آپریشنزکئے۔ جن کے دوران 9400کے لگ بھگ افرادگرفتاراور204کو شہید کیا گیا ۔ یہ اعدادوشمارتوریاستی اداروں نے دی ہے۔ اصل صورتحال تو اس سے کئی گنا ہولناک اورگھمبیرہے ۔حالت یہ ہے کہ فوج،ایف سی اورخفیہ ادارے ہلہ بول کر بمباری،لوٹ ماراور نذرآتش کرنے کے ذریعے کسی بھی ہستی بستی گاؤں کوصفحہ ہستی مٹاتے ہیں۔ پھراس گاؤں کوکسی مسلح تنظیم کاکیمپ ظاہرکرتے ہیں۔ فوجی کارروائیوں کے دوران نہتے یا پھرپہلے سے گرفتارجبری گمشدہ بلوچ فرزندوں کوشہیدکرکے فوج ان کوشدت پسنداوراپنے سفاکیت کومقابلہ ظاہرکرتاہے۔ اس طرح کے جعلی مقابلوں کے ذریعے بلوچ دیہاتوں کوصفحہ ہستی سے مٹانااورجبری لاپتہ کئے گئے بلوچ فرزندوں کوقتل کرنافوج اورخفیہ اداروں کی پالیسی بن گئی ہے۔ اسی طرح چائناپاکستان اقتصادی کوریڈورCPECشاہراہ کی تعمیراورترقی کے نام پرایک بڑانوآبادیاتی منصوبہ شروع کیاگیاہے۔ جس کی حفاظت کیلئے دس ہزارفوجیوں پرمشتمل ایک بریگیڈتشکیل دی گئی ہے۔ جسے جدیدہیلی کاپٹروں اوردیگرسہولتیں دی گئی ہیں۔ یہ بریگیڈاُس سامراجی سڑک سے نذدیک آبادبستیوں کومختلف حیلہ وبہانہ سے بلڈوزکرکے بلوچ عوام کوہجرت پرمجبورکررہاہے۔ اب تک درجنوں گاؤں اس سامراجی روڈکابھینٹ چڑھ چکے ہیں ۔بلوچ تحریک آزادی کوکچلنے کیلئے ’’ضربِ عضب‘‘ کے نام سے مقبوضہ بلوچستان کے کونے کونے میں فوجی کارروائیاں عروج پرہیں۔قومی آزادی کے حوالے سے جمہوری سیاسی سرگرمیوں پرمکمل پابندی ہے۔ بلوچ نیشنل موومنٹ جیسے قومی پارٹی کی قیادت اورکارکنوں کوچُن چُن کرشہیدکیاجارہاہے۔ حال ہی میں بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی سیکریٹری جنرل ڈاکٹرمنان بلوچ کوایک فوجی کارروائی کے دوران چارساتھیوں سمیت شہیدکرکے ان کو بلوچستان لبریشن فرنٹ کاکمانڈرظاہرکیاگیا۔ایسی فوجی کارروائیاں بلوچ نسل کشی کی ریاستی پالیسی کوظاہرکرتے ہیں۔ اس طرح کی ریاستی دہشتگردی کوبے نقاب کرنامیڈیااورانسانی حقوق کیلئے سرگرم تنظیموں کی ذمہ داری ہے، مگر مقبوضہ بلوچستان میں میڈیاناپیداورشجرِممنوعہ ہے ،جبکہ انسانی حقوق کے نام لیواتنظیموں کاکرداراوردلچسپی محض واجبی سی رہ گئی ہے۔ لگتاتویہ ہے کہ یہ سب ادارے یاتوفوج وخفیہ اداروں سے بہت زیادہ خوفزدہ ہیں یا پھربلوچ نسل کشی میں اُن کے خاموش معاونین ہیں۔
سندھی دوستو:مقبوضہ بلوچستان میں ہماری آبادی منتشرہے ۔آمدورفت اورابلاغ کے ذرائع نہیں ہیں۔بڑے شہربھی نہیں ہیں ۔ہمارااپناکوئی میڈیابھی نہیں ہے ،جسکی وجہ سے قومی آزادی کیلئے جمہوری عمل میں ہمیں مشکلات درپیش ہیں مگرآپ کی آبادی بڑی ہے اورآپ کے پاس بڑے بڑے شہرہیں۔ آمدورفت اور ابلاغ کے ذرائع آپ کو دستیاب ہیں، آپ کااپنامیڈیابھی ہے، آپ کی تحریک اگرمنظم ہوتوآپ کی جدوجہددشمن کاکمرتوڑسکتی ہے دوستو: بلوچ اورسندھی اقوام کادشمن مشترک ہے، اسلئے بلوچ اورسندھی قومی تحاریک آزادی کومشترکہ دشمن کے خلاف مشترکہ جدوجہدکی صورتیں ڈھونڈنی چاہئیں۔ تاکہ آپس میں تعاون کے ذریعے اپنی طاقت کوبڑھاکرہم دشمن کوشکست دے کرقومی آزادی کی عظیم منزل کوپاسکیں،ہماری قومیں بھی دنیاکے آزاداقوام کے صفوں میں شامل ہوں۔
بلوچ قوم آجو بات سندھی قومی تحریک آزادی سوب مند بات ، بلوچستان سبز بات ، سندھودیش سبز بات

 

Share on
Previous article

نمیرانیں شهید فدا احمد

NEXT article

پاکستان چین کی مفادات کی خاطر بلوچوں کا بے رحمی سے قتل عام کررہا ہے: حیر بیار مری

LEAVE A REPLY

MUST READ

منی غیر بلوچیں معلمءَ منا هر وهد توهین کت ءُ جہل جت و کوشیشت کرت کہ من وانگءَ هلاس به کنان . سامان ریگی

منی غیر بلوچیں معلمءَ منا هر وهد توهین کت ءُ جہل جت و کوشیشت کرت کہ من وانگءَ هلاس به کنان . سامان ریگی

رهبری خیزش کنونی غیرمتمرکز و در دست مردم بپاخاسته است

رهبری خیزش کنونی غیرمتمرکز و در دست مردم بپاخاسته است

بلوچستــــانءِ هیروشیمـــا

بلوچستــــانءِ هیروشیمـــا

اول ما بلوچیں، پیش چا ایشیءَ مسلمان ببئیں – حافظ عبدالغفار نقشبندی

اول ما بلوچیں، پیش چا ایشیءَ مسلمان ببئیں – حافظ عبدالغفار نقشبندی

راجدوستیں بلوچاں تپاک بیگی انت

راجدوستیں بلوچاں تپاک بیگی انت

طرح توسعه سواحل مکران –  پندلے په بلوچستـــان ءِ مدامی زوربرد کنگ ءَ

طرح توسعه سواحل مکران – پندلے په بلوچستـــان ءِ مدامی زوربرد کنگ ءَ

گپ و ترانے گون بیگواهین محمد اقبال بلوچءِ برات محمد انور بلوچءَ1اگست

گپ و ترانے گون بیگواهین محمد اقبال بلوچءِ برات محمد انور بلوچءَ1اگست

جالک ءُ کلَّگاں ڈیہ ءِ پَھرءُ شان اَنت

جالک ءُ کلَّگاں ڈیہ ءِ پَھرءُ شان اَنت

توهین، فحاشی و پرخاشگری بخشی از فرهنگ و زبان پارسی است

توهین، فحاشی و پرخاشگری بخشی از فرهنگ و زبان پارسی است

ڈیره بگٹی ءُ پنجگورءَ 7 بلوچ ورنا بیگواه کنگ بوت انت – ریڈیو حال

ڈیره بگٹی ءُ پنجگورءَ 7 بلوچ ورنا بیگواه کنگ بوت انت – ریڈیو حال

حسیـن معروفـی کیست؟

حسیـن معروفـی کیست؟

رهبری خیزش کنونی غیرمتمرکز و در دست مردم بپاخاسته است

رهبری خیزش کنونی غیرمتمرکز و در دست مردم بپاخاسته است

بلوچ راجی مزن جهدکار واجہ عبدالصمد امیریءِ زندتاک، دیوانے گون واجہ اسماعیل امیریءَ – سیمی بهر

بلوچ راجی مزن جهدکار واجہ عبدالصمد امیریءِ زندتاک، دیوانے گون واجہ اسماعیل امیریءَ – سیمی بهر

گیبن کیچءَ 13 اپریلءَ 2015 پاکستانی فوجی آپریشنءِ حقیقت

گیبن کیچءَ 13 اپریلءَ 2015 پاکستانی فوجی آپریشنءِ حقیقت

ریڈیو گوانکءِ گپ و ترانے گون شهید غلام محمد بلوچءَ چا تربتءِ تهانہءَ 25ستمبر 2007 ءَ رند چا آئیءِ بیگواهیءَ تربتءَ تهانہءِ یآرگ بوت هما درگت ما آئیءِ بیگواهیءِ حال چا آئیءَ جست کت

ریڈیو گوانکءِ گپ و ترانے گون شهید غلام محمد بلوچءَ چا تربتءِ تهانہءَ 25ستمبر 2007 ءَ رند چا آئیءِ بیگواهیءَ تربتءَ تهانہءِ یآرگ بوت هما درگت ما آئیءِ بیگواهیءِ حال چا آئیءَ جست کت