نواب اکبر خان بگٹی کے قتل کا معمہ اورانصاف کی تاخیر ۔۔۔۔۔ ارشاد مستوئی

نواب اکبر خان بگٹی کے قتل کا معمہ اورانصاف کی تاخیر ۔۔۔۔۔ ارشاد مستوئی

2020-03-26 15:17:58
Share on

26اگست 2006ء کوڈیرہ بگٹی و کوہلو کے سرحدی علاقے تراتانی میں پرویزی آمریت کے دور میں پیران سال بلوچ قوم پرست رہنماء نواب محمد اکبر خان بگٹی کی فوج کے شب خون مارنے کے نتیجے میں پراسرار حالات میں شہادت کے چھ روز بعد لاش کو تابوت میں چین کے بنے ہوئے تالوں سے بند کر کے دفنا دیا گیا پاکستان کے مطلق العنان فوجی حکمران نے بھی اپنے پیش رو حکمرانوں کی طرح سوچا ہوگا کہ انہوں نے بھی پاکستان کی سالمیت کو درپیش اہم ترین مسئلہ کو کامیابی سے حل کر دیاپاکستان کے حکمرانوں خصوصاً فوجی بادشاہوں کا المیہ ہی یہی ہے کہ انسانوں، سوچوں، اخبارات اور لاشوں کو بند کر کے یا لوگوں کو ماورائے آئین و قانون گرفتار و لاپتہ کرنے کے بعد انہیں عقوبت خانوں میں غیر انسانی ظلم و تشدد کا نشانہ بناکر گولیوں سے چھلنی مسخ شدہ لاشیں پھینک کر سمجھتے ہیں کہ مسئلہ حل ہوگیا ایوبی دور میں بلوچستان کے حقیقی سرداروں کی جگہ خود ساختہ سرداروں کی نامزدگی اور نواب نوروز خان کو کلام الہی کا واسطہ دے کر دھوکے سے پہاڑوں سے اتارنے ساٹھ کی دہائی میں جنم لینے والی بے چینی اور اٹھنے والی شورش کو کچلا تو نہیں جا سکا اسی طرح ستر کی دہائی میں مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمان کو قید کرکے مغربی پاکستان لا نے سے مسئلہ تو حل نہیں ہوا بنگالی زبان کے روز نامہ اتفاق کی عمارت کو ٹینک سے زمین بوس کرنے سے بھی جنرل یحٰی خان مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش میں تبدیل ہونے سے نہیں روک سکے۔ جنرل ٹکا خان کی خواہش تھی کہ زمین رہے ، لوگ رہیں یا نہ رہیں لوگ تو رہے لیکن زمین کی ہی نہیں رہی آمر حاکم جنرل ضیاء الحق ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دلا کر جلد بازی کے ساتھ ان کی تدفین کرانے کے باوجود 1979 سے 1988 میں اپنی موت تک سکون کے ساتھ حکمرانی تو نہیں کر سکے ۔ اسی طرح پرویز مشرف دور میں عسکری کارروائی کے دوران شہید کئے جانے والے نواب محمد اکبر خان بگٹی کی بندوق برداروں کی موجودگی میں پر جب عام لوگ ہی اعتبار کرنے پر تیار نہیں تو ان کے حقیقی اور ان سے زیادہ سیاسی ورثاء کیونکر یہ مان لیں کہ ڈیرہ بگٹی میں دفنائے جانے والے مقفل تابوت میں لاش نواب اکبر بگٹی کی ہے لیکن نواب بگٹی کے صاحبزادے نوابزادہ جمیل اکبر بگٹی کا پہلے دن سے یہ مطالبہ رہا کہ لاش ان کے حوالے کی جائے وہ ڈی این اے ٹیسٹ کرائیں تاکہ انہیں اس کی تسلی ہو کہ لاش ان کے والد کی ہے وہ یہ بھی تسلی کرنا چاہتے ہیں عسکری کارروائی کے دوران کس طرح کے کیمیاوی ہتھیار استعمال کئے گئے گو کہ مشرف دور میں یہ کہا گیا کہ لاش کی حالت خستہ ہو گئی تھی اس لئے ورثاء کے حوالے نہیں کی گئی حاکموں کو خدشہ تھا کہ تعفن اٹھتا ہے، اس لئے اپنی دانست میں انہوں نے لاش ان کے حوالے کی اور نہ ہی چہرہ دیکھنے کا موقع فراہم کیاکہا گیا کہ ڈیرہ بگٹی کے مولوی ملوک نے لاش کی شناخت کی تھی بھٹو کی لاش کی شناخت مولوی محمود نے نہ صرف کر لی تھی بلکہ مولوی ملوک کی طرح مولوی محمود نے بھی نماز جنازہ پڑھائی تھی۔ لوگ ایک طویل عرصے تک گڑھی خدا بخش کے قبرستان کے گرد مختلف کہانیاں سنتے اور سناتے ہی پائے جاتے تھے۔ پھر مولوی ملوک نے تو معاملہ لگے ہاتھوں نمٹا دیاجب ڈیرہ بگٹی پہنچنے والے صحافیوں نے پہلی بار مولوی ملوک سے معلوم کیا کہ آپ نے بگٹی کی لاش کی شناخت کی، تو مولوی ملوک نے جواب دیا کہ ڈی سی او ( ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن آفیسر عبد الصمد لاسی) سے معلوم کر لو۔ ان کے اس مبہم جواب سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ اس وقت بھی سرکاری گواہ بننے پر آمادہ نہیں تھے۔کپڑوں کی شناخت کرانا، چشمہ، گھڑی اور انگوٹھی کی نمائش کراکے حاکم وقت کے کارندے ڈیرہ بگٹی کے ڈسٹرکٹ کوآرڈی نیشن آفیسر نے بھی سمجھ لیا کہ شاید انہوں نے چہرہ دکھانے کی کارروائی انجام دے دی ہے بے چارہ لاسی یہ نہ کرتا تو اور کیا کرتا اگر وہ یہ نہ کرتے تو انہیں بگٹی کی تدفین والے روز ہی ترقی کیوں کر ملتی ان کی گراں قدر کارکردگی اور خدمات کے اعتراف میں جام یوسف کی حکومت فوری طور پر تو یہی کر سکتی تھی لیکن اس کے بعدبلوچستان میں جو تعفن اٹھا اور کہرام مچا سارا معاشرہ پریشان و بے زار ہے واقعات کی رفتار اور خونریزی میں شدت آگئی عام لوگوں کا خیال ہے کہ جنرل پرویز مشرف نے تابوت میں بگٹی کی لاش بند کرائی ہو یا نہیں، لیکن انہوں نے بلوچستان اور وفاق پاکستان کے رشتے کو، عوام کے فوج پر پہلے سے ہی کمزور اعتماد اور فوج سے خوف کھانے والی کیفیت کو اس تابوت میں ضرور دفن کردیا ڈیرہ بگٹی کے قبرستان میں فورسز کے پہرے میں دفنایا جانے والا تابوت بلوچستان میں مزاحمت کی نئی علامت بن گیا گو کہ آج بگٹی قلعہ کے صحن کے سامنے اور قبرستان کے درمیان والی جگہ فرنٹیئر کور کا بسیرا ہے نواب بگٹی کی قبر کے قریب جانے کی اجازت کسی کو نہیں قبر کی حالت ایک لاوارث قبر جیسی بتائی جاتی ہے اور بارش کی وجہ سے قبر کے اوپر والی ریت بیٹھ اور بکھر چکی ہے اور قبر کے اوپر جھاڑیاں اْگ چکی ہیں جنرل پرویز مشرف نے بلوچ شدت پسندوں کی کاروائیوں پر انتباہ کرتے ہوئے ایک بار کہا تھا کہ یہ انیس سو ستر کی دہائی نہیں کہ عسکریت پسند بلوچ پہاڑوں میں چھپ جائیں اور یہ کہ اس بار انہیں پتہ بھی نہیں چلے گا کہ کہاں سے کیا چیز آ کر ان کو لگی۔ نواب اکبر بگٹی کے ساتھ کیا ہوا، اِسے صیغہ راز میں رکھنے کے لئے اْن کے تابوت کو بھی کیل لگا کر بند کر دیا گیا۔ اْن کے عزیز و اقارب اور حتیٰ کہ اہل خانہ کو بھی اس بات کی اجازت نہیں دی گئی کہ وہ اکبربگٹی کے جسد خاکی کو دیکھ سکیں اور نہ ہی اْن کا آخری دیدار کر سکیں، صورتحال شاید اب بھی ویسے کی ویسی ہی ہے کہ بگٹی کے اہل خانہ کو ان کی قبر پر حاضری دینے کی بھی اجازت نہیں اور ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ تابوت میں بند کر کے کسے سپرد خاک کیا گیا تھا۔ نواب اکبر بگٹی اور اْن کے اہل خانہ سے جس رویئے کا اظہار کیا گیا، اْس کی مذمت نہ صرف بلوچستان میں بلکہ ملک گیر سطح پر بھی ہوئی۔ صدر مشرف اور ان کی حکومت میں شامل کرداروں نے ایک دانستہ پالیسی کے تحت بلوچوں کو دیوار سے لگائے رکھنے کی پالیسی پر عمل درآمد کیا، جس سے بلوچوں میں پائے جانے والے احساس محرومی میں اضافہ ہوتا چلا گیانواب محمد اکبر خان بگٹی کی اسی سالہ زندگی میں بہت سارے اتار چڑھاؤ بھی آئے لیکن بظاہر جیت ان کی رہی لیکن جنرل پرویز مشرف سے ٹکراؤ کے دوران ان کے تمام تر تجربات کے باوجود بھی ایسا لگا کہ وہ حالات کا شاید درست اندازہ نہیں کرسکے اور اس ٹکراؤ کا نتیجہ ان کی موت کی صورت میں سامنے آیاکئی بلوچ قوم پرست رہنماؤں کا خیال ہے کہ زندگی میں نواب اکبر خان بگٹی چاہے جتنے بھی متنازعہ شخصیت رہے ہوں لیکن جن حالات میں ان کی موت واقع ہوئی اس سے بلوچوں کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ ہوا ۔جبکہ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اکبر خان بگٹی کی موت پاکستان کی سیاسی صورتحال پر اثر انداز ہوئی ہے اور پرویز مشرف کے لئے مشکلات بھی پیدا ہوئیں بلوچستان و وفاق کے مابین اختلافات کی خلیج بھی وسیع ہوئی نواب اکبر بگٹی کی زندگی ایک نہایت ہی رنگا رنگ، خوفناک، خونی، ڈرامائی، شاعرانہ، دلچسپ، مہم جو، بھرپور، پرانتقام، ضدی، انقلابی اور جاگیردارانہ اور ان کی موت موجودہ پاکستان اور ایران کی تمام تاریخ میں عمر رسیدہ سردار چاکر خان اور عمر رسیدہ نوروز خان (جنہیں ان کے بھائی اور بیٹوں کے ساتھ ایوب خان کی حکومت نے انیس سو ساٹھ کی دہائی میں پھانسی دی تھی) کے بعد لیجنڈری کہلائی پاکستان میں شاید یہ بھٹو کے بعد ایک لیجنڈری موت بنی بلوچستان کے سیاسی افق پرچمکنے والے عظیم ستارے بلوچستان کے ٹائیگر نواب اکبرخان بکٹی ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔انہوں نے سارے بلوچستان میں اپنی ایک حیثیت منوائی ہوئی تھی جو بلوچوں کی تاریخ میں اتنے گہرے نقوش چھوڑ کر گئے ہیں کہ جن کو پرویز مشرف جیسے ہزار بد طنیت بھی تاریخ سے کھرچنا چاہیں گے توکھرچ نہ سکیں گے۔ یہ قد آور بلوچ رہنما نواب محراب خان بکٹی کے ہاں 1927 میں بلوچستان کے علاقے ڈیرہ بگٹی میں پیدا ہوئے۔ جو آکسفورڈ یونیورسٹی لندن سے اعلیٰ تعلیم کی ڈگری لیکر وطن لوٹے تھے۔ لاہور کے ایچی سن کالج میں بھی اچھے طالبعلم کی حیثیت سے وقت گذارا ۔ تعلیم سے فراغت کے بعد سول سروسز کا امتحان امتیازی حیثیت سے پاس کیا۔ مگر بیورو کریسی میں ملازمت نہ کی۔ مزاج میں بلوچی انداز کی سختی موجود تھی مگر قانون کی عملداری پر یقین رکھتے تھے لیکن مملکت اللہ داد میں اکبر خان بگٹی کو بالکل حق نہیں تھا کہ وہ ذاتی عقوبت خانوں میں اپنے قبائلی مخالفین کو ڈال کر بھول جائے یا انہیں غائب کروادے یا ان پر تشدد کرے۔ یہ استحقاق تو صرف پولیس کے کچھ ایس ایچ اوز یا خفیہ اداروں کے لیئے مخصوص ہے۔ نواب بگٹی کے پاس اس بات کا کوئی جواز نہیں تھا کہ وہ اپنے علاقے میں کام کرنے والی معدنی وسائل کی کمپنیوں یا سرکاری اداروں سے بھتہ وصول کرے یا ان اداروں میں اپنے قبیلے کے لوگوں کو جبراً بھرتی کرانے کے لیئے دھونس، دھاندلی اور بلیک میلنگ کے حربے استعمال کرے۔ یہ حق صرف حکومتِ وقت میں شامل بعض منظورِ نظر شخصیات اور سیاسی گروہوں ہی کا ہے۔اکبر بگٹی کی یہ ضد بھی غیر ضروری تھی کہ وہ اپنے فیصلے مروجہ ملکی قوانین کے تحت نہیں بلکہ قبائلی رسم و رواج کے تحت جرگے کے ذریعے کریں گے اور اپنے حامیوں کو غیر مسلح نہیں کریں گے۔اس طرح کی چھوٹ اور مراعت حاصل کرنے کے لیئے ضروری تھا کہ نواب بگٹی حکومت کی اطاعت میں رہتے جیسا کہ وہ ایک عرصے تک رہے بھی۔ سرتابی کے بعد انہوں نے دیکھا کہ جن لوگوں نے تابعداری اور اطاعت کی شرط پوری کی انکی نہ صرف سرکار نے صدقِ دل سے مدد کی بلکہ انہیں فوج کے تحفظ میں جرگہ منعقد کرنے اور نواب بگٹی کی سرداری چھیننے کے اعلان کا بھی موقع فراہم کیا گیاجب نواب اکبرخان بگٹی وفاقی وزیرِ مملکت برائے داخلہ کے منصب پرفائز ہوئے یا بلوچستان کے گورنر اور پھر وزیرِ اعلی بنے یا صوبائی و قومی اسمبلی کے رکن رہے اور ان تمام حیثیتوں میں وفاقِ پاکستان سے وفاداری اور سالمیت کے تحفظ اور آئین کی مکمل پاسداری کا حلف اٹھاتے رہے۔ تب بھی ان کے قبیلے میں سچائی کے دعویدار ملزم کو اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیئے سرخ کوئلوں پرچلنا پڑتا تھا۔ان کے قبیلے کے لوگ زبردستی پاکستان پٹرولیم کی تنصیبات پر کام کررہے تھے اور ان کی تنخواہیں بگٹی صاحب کی جیب میں جارہی تھیں۔گیس کی کروڑوں روپے کی رائلٹی کا حساب کتاب لینے والا کوئی نہیں تھا۔اسوقت بھی وہ اپنے علاقے میں اور علاقے سے باہر جرگوں میں مدعو ہوتے تھے۔اس وقت بھی وہ ظالمانہ سرداری نظام کے اہم ستون تھے۔ لیکن انہیں وزیرِ مملکت برائے داخلہ یا گورنر یا وزیرِ اعلی بناتے ہوئے یا پارلیمانی رکنیت کا حلف دلاتے ہوئے کسی نے یہ عیب نہیں گنوائے۔کسی نے ان کی تقرری پر اعتراض نہیں کیا۔ نہ جی ایچ کیو نے، نہ ایوانِ صدر نے اور نہ ایوانِ وزیرِ اعظم نے۔ کسی نے بھی نہیں۔ نواب اکبر خان کی ملک دشمنی، شرپسندی اور دہشت گردی کا انکشاف اس دن سے ہونا شروع ہوا جب انہوں نے ڈاکٹر شازیہ ریپ کیس میں کسی کیپٹن حماد کا نام لیا اور صدرِ ملکت کی اس بات پر بھی اعتبار نہیں کیا کہ کیپٹن بے گناہ ہے۔ اور پھر نواب بگٹی کے مطالبات بڑھتے ہی چلے گئے اور وہ اسٹیبلشمنٹ کا دردِ سر بنتے ہی چلے گئے۔صدر پرویز مشرف کے بقول بلوچستان میں سوائے تین سرداروں کی شرپسندی کے کوئی بڑا مسئلہ نہیں چھبیس اگست کو روپوش نواب اکبر خان بگٹی کے پہاڑی غار کی چھت گرنے سے بلوچستان کا 33 فیصد مسئلہ تو حل ہوگیا باقی چھیاسٹھ فیصد مسئلہ تاحال حل نہیں ہوسکا پرویزی آمریت کے خاتمہ کے بعد 2008ء کے عام انتخابات کے نتیجے میں سیاسی و جمہوری جماعت برسر اقتدار آئی تو جمہوری حکومت نے نواب محمد اکبر خان بگٹی کے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا اعلان کیا لیکن اس کو اس سے مشروط کیا گیا کہ ورثاء میں سے کوئی ایف آئی آر درج کرائے تو قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا حکومتی سطح پر ہونے والے دعوؤں کی قلعی کھولنے کیلئے نواب محمد اکبر خان بگٹی کے صاحبزادے نوابزادہ جمیل اکبر بگٹی نے 13اکتوبر 2009ء کو ڈیرہ بگٹی میں ایف آئی آر درج کرائی پرویز مشرف ،شوکت عزیز ،آفتاب شیر پاؤ ،جام یوسف ،اویس احمد غنی ،شعیب نوشیروانی ،عبدالصمد لاسی و دیگر کو نامزد کیا لیکن ایک طویل عرصہ گذرنے کے باوجود کوئی پیش رفت نہ ہوئی تو جمیل اکبر بگٹی نے اپنے وکلاء ہادی شکیل احمد و سہیل احمد راجپوت ایڈووکیٹ کے توسط سے بلوچستان ہائیکورٹ سے رجوع کیا بلوچستان ہائیکورٹ میں ایک طویل عرصہ تک درخواست کی سماعت ہوتی رہی قانون نافذ کرنے والے اداروں ،حکومتی اور تفتیشی اداروں کی کارکردگی کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کارکردگی کو مایوس کن قرار دیا اوریکم نومبر 2011ء کو احکامات جاری کئے کہ پرویز مشرف ،شوکت عزیز،جام یوسف ،آفتاب شیرپاؤ ،اویس احمد غنی ،شعیب نوشیروانی جام یوسف کے وارنٹ گرفتاری جاری کئے اور ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے جس کے بعد کرائم برانچ کوئٹہ نے انسداد دہشت گردی کی عدالت سبی میں چالان جمع کرایا لیکن اس دوران جام یوسف کو بلوچستان ہائیکورٹ نے ضمانت دیدی ہے جبکہ آفتاب شیرپاؤ نے بھی حفاظتی ضمانت لے لی ہے مقدمہ انسداد دہشت گردی عدالت سبی سے کوئٹہ منتقل ہوا پیپلز پارٹی کا دور ختم ہو گیا لیکن معاملہ آج بھی وہیں پر اٹکا ہوا ہے جہاں پہلے روز تھا پاکستان مسلم لیگ (ن) نے بھی بلوچستان میں اپنی مقبولیت کے جھنڈے گاڑنے کیلئے نواب بگٹی کے کارڈ کا خوب استعمال کیا نیشنل پارٹی نے تو نواب بگٹی کے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے سیاسی دعوے کو انتخابی منشور کا حصہ بنایا لیکن یہ کوئی نئی بات تو نہیں رئیسانی سرکار نے پہلی قرار داد اسمبلی میں پیش کرتے ہوئے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا دعویٰ کیا اور ماضی کے حکمرانوں کو ذمہ دار ٹھہرایا حالانکہ مسلم لیگ (قٌ اور جمعیت علماء اسلام اس کے اتحادی رہے جن ہوں نے بلوچستان میں آپریشن کی منظوری دی تھی آج بھی وہی لوگ نیشنل پارٹی کے اتحادی ہیں نواب محمد اکبر خان بگٹی نہ صرف بلوچستان میں مزاحمت کا استعارہ ہیں بلکہ ڈیرہ بگٹی میں ان کے نام پر مدفن تابوت مزاحمتی جدوجہد کی ایک نئی علامت بھی بنا وہیں نواب بگٹی بلوچستان میں جس وسیع پیمانے پر غربت اور افلاس کا عفریت آبادی کی خوشیوں کو نگلتا جا رہا ہے اس پر قابو پانے کے لیے ملکی قیادت کو قیل و قال کے جھمیلوں سے نکل کر آتش فشاں کی حدت محسوس کرنے اور ان سر چشموں کو بند کرنے کی تدبیر کرنی چاہیے جہاں سے لاوا پک رہا ہے اور ہر لحظہ درجہ حرارت بلند ہوتا جا رہا ہے محرومیوں اور ناانصافیوں کا کرب سمند ر کی طرح اتنا گہرا اور وسیع ہے اور اس کی لہریں اتنی منہ زور اور طاقت ور ہیں کہ آغاز حقوق بلوچستان پیکج ۔کمیٹیوں کی تشکیل ،ملازمتیں دینے کے دعوے اور ماضی میں ہونے والی زیادتیوں اور نا انصافیوں پر معافیوں کے اعلانات شبنم کے چند قطروں کی طرح ہیں جو ان کا مداوا نہ کر سکے نواب محمد اکبر خان بگٹی کی شہادت کو آٹھ سال گذر گئے لیکن اس درد سے بلوچستان آج بھی کراہتا ہے زخموں سے لہو ٹپک رہا ہے گولیوں سے چھلنی مسخ شدہ لاشوں کے ملنے میں گوکہ بہت حد تک کمی آئی ہے لیکن یہ سلسلہ تاحال بند نہیں بلوچستان میں پسماندگی کی وجہ سے محرومیوں اور شکایتوں کا لاوا شروع سے اْبل رہا ہے۔ رقبے کے اعتبار سے سب سے بڑے اور آزادی و خود مختاری کے اعتبار سے محدود بلوچستان کا مسئلہ شاید اتنا بڑا نہیں جتنا کہ بنا دیا گیا ہے۔ وفاقی حکومت اور بلوچ قوم پرستوں کی سوئی بظاہر وہیں اٹکی ہوئی ہے جہاں شاید بلوچستان کو صوبے کا درجہ دینے یا اس کو پاکستان میں شامل کرنے کے وقت تھی۔کوئی بھی اپنے موقف سے ٹس سے مس ہونے کی کوشش نہیں کر رہا بلوچستان میں پہلے پرتشدد واقعات ہوتے ہیں پھر بات مذاکرات تک پہنچتی ہے ہر آنے والا حاکم جانے والوں کی نا انصافیوں زیادتیوں پر معافی مانگتا ہے کمیٹیاں تشکیل دی جاتی ہیں اور پھر کچھ نہیں ہوتاگیارہ مئی کے عام انتخابات کے بعد بر سر اقتدار آنے والے بلوچستان میں متوسط طبے کی سرکار کو بھی گوکہ اسلام آباد میں کل جماعتی کانفرنس کے دوران مینڈیٹ تو دیا گیا ہے لیکن ڈیڑھ سال گذرنے کے باوجود کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں ہوسکی سنجیدہ حلقوں کا خیال ہے کہ نواب اکبر بگٹی کے قتل کے ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لاکر ہی بلوچستان میں لگی آگ کو ٹھنڈا کیا جاسکتا اور انصاف میں تاخیر شاید آگ کو مزید بھڑکانے کا سبب بنی رہے ۔

وقتِ اشاعت: اگست 26, 2014

Share on
Previous article

زگری پہلے بلوچ ہیں اور سرزمین بلوچستان کے وارث ہیں – حاجی ایوب سربازی

NEXT article

بلــوچ هُـــژّار

LEAVE A REPLY

MUST READ

لالچ ءُ پاکستان: پت ءُ چُک یا چُک ءُ پت؟

لالچ ءُ پاکستان: پت ءُ چُک یا چُک ءُ پت؟

برطانیہ خان قلات کے ساتھ اپنے76 18 کی توسیع شدہ معاہدے کی پابندی کریں ۔ حیر بیار مری

برطانیہ خان قلات کے ساتھ اپنے76 18 کی توسیع شدہ معاہدے کی پابندی کریں ۔ حیر بیار مری

گلزمیـن ءِ هَنــد ءُ دمَگانــی هالَه ئیــں نـام

گلزمیـن ءِ هَنــد ءُ دمَگانــی هالَه ئیــں نـام

پِگــری گُلامــی – محمد کريم بلــوچ

پِگــری گُلامــی – محمد کريم بلــوچ

دو دانک ” شورای دمکراسی خواهان ایران” ءِ باروا

دو دانک ” شورای دمکراسی خواهان ایران” ءِ باروا

گپ و ترانے گون بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشنءِ سروک بانک بی بی گلءَ بلوچستانءَ پاکستانی فوجی آپریشنءِ بابتءَ

گپ و ترانے گون بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشنءِ سروک بانک بی بی گلءَ بلوچستانءَ پاکستانی فوجی آپریشنءِ بابتءَ

بیست ءُ یک فروری ماتی زبانانی میان اُستمانی روچءِ بابتءَ گپ وترانے گون پروفیسرعبدالواحد بزدارءَ

بیست ءُ یک فروری ماتی زبانانی میان اُستمانی روچءِ بابتءَ گپ وترانے گون پروفیسرعبدالواحد بزدارءَ

خاطره شهدای دِزَّک و هُشَّک جاودان خواهد ماند

خاطره شهدای دِزَّک و هُشَّک جاودان خواهد ماند

گپ ءُ ترانے گون ڈاکٹر غلام رضا حسین برءَ چا لندنءَ مغربی بلوچستانءِ بھر ءُ بانگ کنگءِ پندلانی سرا

گپ ءُ ترانے گون ڈاکٹر غلام رضا حسین برءَ چا لندنءَ مغربی بلوچستانءِ بھر ءُ بانگ کنگءِ پندلانی سرا

بلوچ ورنایانی راجی بیداری

بلوچ ورنایانی راجی بیداری

شاعر ءُ ارواه – نمیرانیں واجہ عبدالصمد امیری

شاعر ءُ ارواه – نمیرانیں واجہ عبدالصمد امیری

پادآتکگیں بلوچ ورنایانی نامءَ

پادآتکگیں بلوچ ورنایانی نامءَ

گپ وتران گون شہید محمد اکبر خان بگٹی ء 20060402 گون ریڈیو بلوچی ایف ایم

گپ وتران گون شہید محمد اکبر خان بگٹی ء 20060402 گون ریڈیو بلوچی ایف ایم

An interviw with Smruti S. Pattanik Institute for Defence Studies and Analyses

An interviw with Smruti S. Pattanik Institute for Defence Studies and Analyses

بلوچ ایں ما بلوچ ایں – خطاب به نظام استبدادی جهموری اسلامی

بلوچ ایں ما بلوچ ایں – خطاب به نظام استبدادی جهموری اسلامی