نہ چاہتے ہوئے بھی – کردگار بلوچ

MUST READ

بلوچستانءَ انسانی حقانی لگتمالی ءُ زوراکیانی آماچ بوتگین بلوچانی فریات – دُومی بهر

بلوچستانءَ انسانی حقانی لگتمالی ءُ زوراکیانی آماچ بوتگین بلوچانی فریات – دُومی بهر

زمیں کا الَم – نوشین قمبرانی

زمیں کا الَم – نوشین قمبرانی

آوارجتگیں بلوچستان ءِ نگیگیں جاوراں ماں گوستگیں سال

آوارجتگیں بلوچستان ءِ نگیگیں جاوراں ماں گوستگیں سال

بلوچ راجی مزن جهدکار واجہ عبدالصمد امیریءِ زندتاک، دیوانے گون واجہ اسماعیل امیریءَ – دومی بهر

بلوچ راجی مزن جهدکار واجہ عبدالصمد امیریءِ زندتاک، دیوانے گون واجہ اسماعیل امیریءَ – دومی بهر

گپے گـوں ناشریں امینی فـرد

گپے گـوں ناشریں امینی فـرد

جنگریز مری وگزین مری،فکری کاروان میں شامل نہیں تھے:حیربیار مری

جنگریز مری وگزین مری،فکری کاروان میں شامل نہیں تھے:حیربیار مری

ایک آزاد سیکولر اورجمہوری ریاست بلوچستان خطےکے امن و ترقی ودنیا میں دہشتگردی کےخاتمے کیلئے لالزمی ہوچکا ہے – بی جی پی کےترجمان انیل بالونی

ایک آزاد سیکولر اورجمہوری ریاست بلوچستان خطےکے امن و ترقی ودنیا میں دہشتگردی کےخاتمے کیلئے لالزمی ہوچکا ہے – بی جی پی کےترجمان انیل بالونی

بلوچ وطن دوست رہنما حیربیار مری کا خصوصی انٹرویو

بلوچ وطن دوست رہنما حیربیار مری کا خصوصی انٹرویو

دَرانڈیھیں بلوچانی انسانی اُگدَہ

دَرانڈیھیں بلوچانی انسانی اُگدَہ

بيست و هفتم مارس روزی سياه در تاريــخ بلوچستــــان

بيست و هفتم مارس روزی سياه در تاريــخ بلوچستــــان

بلوچستان سمینار اسٹوکھولم سویڈنءَ پروفیسر ڈاکٹر مصطفےءِ تران

بلوچستان سمینار اسٹوکھولم سویڈنءَ پروفیسر ڈاکٹر مصطفےءِ تران

استقــلالِ بلوچستــان حتمــی اســت – بخش آخر

استقــلالِ بلوچستــان حتمــی اســت – بخش آخر

پاکستان عالمی قوانین کی خلاف ورزیوں کا مرتکب ہورہا ہے

پاکستان عالمی قوانین کی خلاف ورزیوں کا مرتکب ہورہا ہے

بابائے بلوچ نواب خیر بخش مری کا نمازہ جنازہ نیو کاهان میں ادا کردیا گیا

بابائے بلوچ نواب خیر بخش مری کا نمازہ جنازہ نیو کاهان میں ادا کردیا گیا

نوکین حال

نوکین حال

نہ چاہتے ہوئے بھی – کردگار بلوچ

2020-03-24 12:42:01
Share on

ویسے جب اس ریاست نے بلوچ قوم کی شہری حقوق ختم کرکے اسے تمام انسانی بنیادی حقوق سے محروم کر دیا تب سے ہم نے بھی ایک بلوچ ہونے کے ناطے اپنی فکری ، سیاسی ، سماجی رشتے اس ریاست سے توڑ دیے۔اور تب سے ایسی کسی بات کے بارے میں سوچنا اور لکھنا تک چھوڑ دیا جس میں اس ریاست کی سیاسی،سماجی یا فکری وابستگی ہو،مگر کل ہمارے ایک مہربان قاری جو نہ صرف ہمارے کالم غور سے پڑھ لیا کرتے ہیں بلکہ پڑھنے کے بعد اس کے بارے میں ہمیں اپنے تاثرات سے آگاہی بھی دیتے رہتے ہیں نے ایک ’’ایمیل‘‘ کے ذریعے ہم سے استدعا کی کہ ہم پاکستانی سیاست کے حوالے سے عمران خان کی ’’آزادی مارچ‘‘ اور ڈاکٹر طاہرالقادری کی ’’انقلاب مارچ‘‘ کے بارے میں اپنے خیالات سے آگاہ کریں۔
یہ ’’ایمیل ‘‘پڑھ کر یقین جانیے کہ مجھے ہنسی آئی اپنے اس پڑھے لکھے مگر سادہ بلوچ کی سادگی پر۔آپ اس بات سے ہم بلوچوں کی سادگی ملاحظہ کیجیے کہ کوئی ستاسٹھ سالوں کی غلامی میں رہ کر بھی اب تک ہم اپنے آقاؤں کی شاطرانہ مزاج سے نابلد ہیں ۔لیکن اب چونکہ مجھے اپنے اس پیارے قاری کے حکم کی تعمیل کرنا ہے اس لئے ایک چھوٹی سی کالم کے ذریعے اس کی تعمیل کرنے کی جسارت کر رہا ہوں تاکہ دوسرے سادہ لوح بلوچ بھائی بھی جو اس سوال کو خیال میں رکھے ہوئے ہیں ان کو بھی اس کا جواب مل سکے۔
مجھے یقین ہے کہ میرے قارئین اسلام آباد اور راولپنڈی کے بارے میں بہت کچھ جانتے ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ اسلام آباد شہر کو ایک فوجی آمر ایوب خان نے سندھ کو پاکستان کے حق میں قرارداد پاس کرنے کی جرم کی سزا دینے کے لئے پاکستان کے دارالخلافہ کو کراچی سے اٹھاکر اپنے ھیڈ کوارٹر کے نذدیک رکھنے کی خاطر راولپنڈی کے کھوکھ سے نکالاہے اور آج کی نئی اصطلاح میں ان دونوں شہروں کو’’ جڑوان شہر‘‘ کہتے ہیں جو ایک دوسرے سے صرف سولہ کلومیٹر کی دوری پر واقع ہیں اور یقیناً میرے قارئین یہ بھی جانتے ہیں کہ جڑواں بھائی یا جڑواں بہنوں کا رشتہ کس قدر گہرہ اور کس طرح مضبوط ہوتا ہے۔اسی طرح ان دونوں شہروں کا رشتہ بھی باھم اسی طرح مضبوط اور گہرہ ہے۔لیکن راولپنڈی کی پہچان پاکستان کے فوج کے جنرل ھیڈ کوارٹر یعنی ’’GHQ‘‘ سے ہے اور اسلام آباد کی پہچان پاکستان کی برائے نام سب سے بڑی ادارہ ’’پارلیمنٹ‘‘ کی وجہ ہے۔لیکن جس طرح اسلام آباد کو ایک فوجی آمر نے تعمیر کیا ہے اسی طرح اس میں تعمیر ہونے والی پارلیمنٹ بھی راولپنڈی کے آمروں کی تعمیر کردہ ہے اور اس میں بیٹھنے والے سیاسی قائدین بھی راولپنڈی کے آمروں کی آشیر واد سے رکھے یا نکالے جاتے ہیں۔ بلکہ زیادہ سچی بات یہ ہے کہ پاکستان کے قابل اقتدار سیاسی پارٹیاں ہی راولپنڈی کی تشکیل کردہ ہیں۔لیکن اس گہری اور والہانہ محبت کے باوجود راولپنڈی کے GHQاور اسلام آباد کی پارلیمنٹ کے مفادات الگ تھلگ ہیں اور بسا اوقات باھم متصادم بھی رہتے ہیں۔اسی مفادات نے ان دونوں جڑواں بھائی یا بہنوں میں اس قدر دوری پیدا کردی ہے کہ راولپنڈی اسلام آباد کو Bloody Civilianسمجھتی ہے اور اسلام آباد راولپنڈی کو Dictatorکے نام سے پکارتی ہے۔اور پھر اسلام آباد بھی دو الگ جڑوان بھائیوں کی ملکیت ہے جن میں ایک کو سرمایہ دار اور دوسرے کو جاگیردار کہتے ہیں اور خدا کی قدرت دیکھئے کہ ان دونوں جڑواں بھائیوں کی بھی مفادات الگ الگ اور باھم متصادم ہیں۔
1970 ؁ سے پہلے ان دونوں شہروں کو عملاً راولپنڈی میں واقع GHQہی کنٹرول کیا کرتی تھی مگر جب باامر مجبوری1970 ؁ میں راولپنڈی کے ایک آمر نے One man One Voteکا انتخابی طریقہ اپنایا تو اس انتخابات کے نتائج راولپنڈی کی توقعات کے بر خلاف نکلے۔ اس کے نتائج کو اپنی مرضی اور منشاء کے مطابق ڈالتے ہوئے محمد علی جناح کی پاکستان کو ذوالفقار علی بٹھو کی پاکستان بنانا پڑاتھا اور پھر راولپندی کے کوئی ترانوے ہزار اہلکار بھی بھارت دشمن کی قیدی بنے تھے۔
تب سے راولپنڈی نے اسلام آبادکو ایک بار پھر اپنے ہاتھوں میں رکھنا چاہا اس کے لئے سندھی جاگیردار ذوالفقار علی بھٹو کو ان کی تمام تر احسانات کے باوجود دودھ مین پڑی مکھی کی طرح نکال باہر کیا ۔مگر چونکہ بین الاقوامی سطح پر کسی بھی ملک میں تواتر کے ساتھ آمریت کو پسندگی کی نگاہ سے نہیں دیکھی جاتی ہے اس لئے راولپنڈی کو اس ملک میں اپنی آمریت کو جمہوریت کا لبادہ اوڑھنا پڑا۔ اور اس کا طریقہ واردات یہ رکھا ہے کہ برائے نام انتخابات ہوں اور نتائج وہ اپنی مرضی کے نکال لیں تاکہ ان کی پسند کے لوگ اس ملک کے برائے نام کے اقتدار کی کرسی پر بیٹھ جائیں۔
لیکن چونکہ اسلام آباد میں سرمایہ دار اور جاگیردار نام کے دونوں جڑواں بھائیوں کے مفادات الگ ہونے کی وجہ سے ہر کوئی اسلام آباد کی پارلیمنٹ پر براجمان ہونے کی کوشش کرتی ہے اور ان کا بھی طریقہ واردات یہی ہے کہ وہ جب اقتدار میں آتے ہیں تو الیکشن کم

Share on
Previous article

گپ وتران گون شہید محمد اکبر خان بگٹی ء 20060402 گون ریڈیو بلوچی ایف ایم

NEXT article

پدا مئے بچ بالاچ انت – طلاءُ سنجگءُ ساچین – بشیربیدار

LEAVE A REPLY