وقت کا بھی یہی تقاضا ہے کہ ہم قابضین کی مسلط کردہ نظام کو مضبوط بنانے کے بجائے قومی سوچ کو وسعت دیں

وقت کا بھی یہی تقاضا ہے کہ ہم قابضین کی مسلط کردہ نظام کو مضبوط بنانے کے بجائے قومی سوچ کو وسعت دیں

2020-03-27 12:25:10
Share on

بلو چ قوم دوست رہنما حیربیار مری نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ نواب خیربخش مری جو مری قبائل کا سردار تھا وہ ایک قومی رہبر و رہنما تھا جنہوں نے سرداری بھی قومی مفادات کی تحفظ اور بلوچ قومی آزادی کی جدوجہد کو آگے لے جانے کے لیے کیا نواب مری ا پنی پوری زندگی بلو چ قوم اور مری قبائل کو قومی آزادی کا درس دیتا رہا جس کی وجہ سے مری قبائل نے بلوچستان کی جدوجہد آزادی میں باقی بلوچ قبائل کے ساتھ مل کرایک نمایاں کردار ادا کیا او ر آج بھی اسی ڈگر پرچل ر ہے ہیں
حیربیار مری نے کہا کہ نواب مری ہمیشہ روایتی سرداری نظام کے خلاف تھا اور اپنی پوری زندگی میں ایک قبائلی سردار کے بجائے قوم کے ایک رہشون کی حیثیت سے جدوجہد کیا اور قوم کی آزاد ی کی خاطر قید و بند اور صعوبتیں برداشت کیے اور قومی مفادات کی تحفظ کو اپنا اولین فریضہ اور قومی آزادی کو اپنا نصب العین بنایا ویسے بھی قومی آزادی کی جدوجہد کی بدولت بلوچ قوم میں اتنا شعور و آگہی آیاجس نے تمام روایتی سسٹم کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ڈھالا ہے اور بیرونی قابض قوتوں نے بلوچستان میں بلوچ قومی وسائل کو ہتھیانے کے لیے جو بھی نظام بشمول نوابی نظام متعارف کیے جس نے بلوچ قوم کو قبیلوں اور چھوٹے چھوٹے گروہوں میں تقسیم کیا اب بلوچ قومی آزادی کی جدوجہد کی و جہ سے بلوچ قوم انفرادیت اور گروہیت سے نکل کر اجتماعیت کی جانب گامزن ہورہے ہیں اور وقت کا بھی یہی تقاضا ہے کہ ہم قابضین کی مسلط کردہ نظام کو مضبوط بنانے کے بجائے قومی سوچ کو وسعت دیں اور روایتی سرداری نظام سے ہٹ کر دنیا کے تمام ترقی یافتہ اقوام کی طرح صرف رسمی اور علامتی سمبل کو برقرار رکھیں دنیا کے ترقی یافتہ اقوام نے اپنے رسم و روج کو برقرار رکھا ہے لیکن ان کے پاس سیاسی اور منصفی اختیارات نہیں ہیں جدید دور کے مطابق قومی فیصلے روایتی اور موروثی لوگوں کے بجائے سیاسی اور قوم کے چنے ہوئے لوگوں کے پاس ہوتا ہے جو ہمیشہ تبدیل ہوتے رہتے ہیں اور قوم کے سامنے اپنے ہر عمل کا جوابدہ بھی ہوتے ہیں
حیربیار مری نے کہا کہ نواب خیربخش مری کی وفات کے بعدچند لوگ جنگیز مری کی دستاربندی کی تیاری کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں ہم نے انہیں میرے بھائی حنزہ کے ذریعے پیغام بھیجا ہے کہ نہ ہم اس رسم کے خلاف ہیں اور نہ ہی آپ کے سردار ہونے کے خلاف ہیں لیکن بلوچ قومی جدوجہدکا اس وقت یہی تقاضا ہے کہ آپ ایک روایتی اور پاکستانی مفادات کو تحفظ دینے والے سردار کے بجائے بلوچ قومی مفادات کا تحفظ کریں جس کے لیے آپ کو اپنے سیاسی اور بڑے قبائلی فیصلے کرنے کے اختیارات بلوچ قومی مفادات کی تحفظ کرنے والے بلوچ قومی جہد کاروں کو سرینڈر کرنے پڑینگے لیکن وہ ابھی سے قابض پاکستان کی طاقت کے نشے میں نیوکاہان میں نواب خیربخش مری کے لیے فاتحہ میں بیٹھے مری بلوچوں کو فاتحہ سے اٹھانے اور فاتحہ کو ختم کرنے کے لیے لوگوں کو بھیج کر دھمکی دے رہے ہیں ہم ان پر واضع کردینا چاہتے ہیں کہ نیوکاہان میں نواب مری کے لیے فاتحہ 25 تاریخ تک جاری رہیگا اور اس کے بعد نواب مری کی ایصال ثواب کے لیے قرآن خوانی اور خیرات کی جائیگی۔ جس طرح بلوچ قوم نے نواب مری کے تدفین کے وقت یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بلوچ قومی رہبر کی جسد خاکی کو پاکستانی فوج اور جنگیز مری سے چھین کر نیوکاہان میں بلوچ قومی اعزاز کے ساتھ آسودہ خاک کیا اس وقت بھی ہم بلوچ قوم سے یہی امید رکھتے ہیں کہ وہ اپنے قومی رہبر کے لیے فاتحہ میں بیٹھے ان لوگوں کا ساتھ دیں گے جنہیں جنگیز مری ڈرانے دھمکانے اور زور زبردستی فاتحہ سے اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے ہمیں نواب مری نے بھی یہ سبق دیا کہ ظلم کے خلاف نہ کبھی جھکنا اور نہ ہی قومی مفادات پر دشمن سے سمجھوتہ کرنا اگر آج ہم جنگیز کے دھمکانے سے مرعوب ہوکر فاتحہ سے اٹھ گئے تو پھر ہمیں تاریخ کبھی معاف نہیں کریگا کہ نواب مری کے دنیا سے چلے جانے کے بعد ہم ان کی اس فکر اور سوچ کا تحفظ نہ کرسکے جس نے بلوچ قوم کو ظلم و زوراکی کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی تلقین کی ،حیربیار مری نے کہا کہ جنگیز نہ صرف اس فاتحہ کو اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے بلکہ وہ اس آزادی کی سوچ اور فکر کو ختم کرنے کے درپے ہے جس کے لے ہزاروں بلوچ نوجوانوں نے اپنی جانیں قربان کیں اور کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جس آزادی کی شمع کو روشن کرنے کے لیے بلوچ قوم نے قربانیاں دیں اور جس کے لیے خان محراب خان سے لے کر آغا عبدالکریم ، نواب نوروز خان ، نواب اکبر بگٹی ، بالاچ مری، ڈاکٹر خالد ، غلام محمد بلوچ سمیت ہزاروں بلوچ نوجوانوں اور قائدین نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیے اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور جس کے لیے نواب مری نے اپنی پوری زندگی وقف کردی اس سوچ اور فکر کو جنگیز سمیت پاکستان یا اس کا کوئی بھی خیمہ بردار ختم کرنے کی کوشش کرے تو بلوچ قوم ان کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بنیں گے
حیربیار نے کہا کہ دنیا میں کئی اقوام کے سامنے ایسے مشکل کٹھن اور فیصلہ کن مراحل آئے ہیں جنہوں نے ان حالات کا درست تجزیہ اور ادراک کر کے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے صحیح فیصلے لئے آج ان قوموں نے تاریکیوں سے نکل کر ترقی کے منازل طے کئے آج اس طرح کے حالات کا سامنا بلوچ قوم کو بھی ہے ، بلوچ قوم اس وقت ایسے دو راہے پر کھڑا ہے جس میں ایک تاریکی دائمی غلامی اور تباہی کی طرف جا رہا ہے جو جنگیز اور پاکستانی نواز سردارقوم کو اس جانب دھکیل رہے ہیں اور دوسرا راستہ بلوچ قومی جہدکاروں اور ان شہدا کا ہے جو قوم کو غلامی سے نجات دلانے او ر ترقی خوشحالی کی راہ پر لے جارہے ہیں آج قوم کو فیصلہ کرنا پڑے گا کہ وہ روایتی سرداری نظام کو بچا کر بلوچ قوم کو پاکستان اور ایران جیسے قابضین کی دائمی غلامی کی تاریکیوں میں ڈبو دیں گے یا کہ اس کی مخالفت کر کے بلوچ قوم کو ترقی یافتہ اقوام کے صف میں شامل کرنے کے لیے تاریخ رقم کریں گے
انہوں نے مزید کہا کہ اگر جنگیز مری اپنے سیاسی اور بڑے منصفی فیصلو ں کو بلوچ قومی جہدکاروں کے سامنے سرینڈر کرنے پر تیار نہیں ہوا تو پھر بلوچ قوم کی مفادات کو تحفظ دینے کے لیے ہم بلوچ قومی آزادی کی ایک جہد کار کی حیثیت سے یہ اعلان کرنے میں حق بجانب ہونگے کہ نواب خیر بخش مری قبائل کا آخری سردار ہوگا اس کے بعد مری قبائل میں بلوچ قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے کوئی سردار نہیں چنا جائیگا اور مری قبائل میں سرداری نظام کا خاتمہ ہوگا

Share on
Previous article

سوءِ استفاده اشغالگران از فاجعه زلزله در کوردستان

NEXT article

طرح توسعه سواحل مکران” پندلے په بلوچستـــان ءِ مدامی زوربرد کنگ ءَ – سرجمیں نبشتانک

LEAVE A REPLY

MUST READ

نوک نوکترین حال آوارانءِ زمین چنڈءِ رپورٹ

نوک نوکترین حال آوارانءِ زمین چنڈءِ رپورٹ

اقراء ریزیڈنشل اسکول اینڈ کالج مری میں تشدد شدہ بلوچ طالبعلم سے گفتگو

اقراء ریزیڈنشل اسکول اینڈ کالج مری میں تشدد شدہ بلوچ طالبعلم سے گفتگو

ماتی زبان – کارینا جهانی

ماتی زبان – کارینا جهانی

بلوچستانءَ پاکستانی آئیوکین گچین کاریانی بابتءَ گپ ءُ ترانے گون روچتاک انتخابءِ سرمستر واجہ انور ساجديءَ

بلوچستانءَ پاکستانی آئیوکین گچین کاریانی بابتءَ گپ ءُ ترانے گون روچتاک انتخابءِ سرمستر واجہ انور ساجديءَ

بلوچستانءَ انسانی حقانی لگتمالی ءُ زوراکیانی آماچ بوتگین بلوچانی فریات – دُومی بهر

بلوچستانءَ انسانی حقانی لگتمالی ءُ زوراکیانی آماچ بوتگین بلوچانی فریات – دُومی بهر

بلوچستان اِشغالی در چنگال خونینِ غارتگران – قسمت چهارم

بلوچستان اِشغالی در چنگال خونینِ غارتگران – قسمت چهارم

جنایت شنیع اشغالگرا ن در بلوچستان

جنایت شنیع اشغالگرا ن در بلوچستان

نمیرانی ءِ کشک شھید نور محمد ءِ نام ءَ

نمیرانی ءِ کشک شھید نور محمد ءِ نام ءَ

گپ و ترانے گون بی ایس او آزادءِ بنجاھی باسک لطیف جوھرءَ چآ کراچيءِ پریس کلبءِ دیمے شُدکَشی احتجاجی کیمپءَ

گپ و ترانے گون بی ایس او آزادءِ بنجاھی باسک لطیف جوھرءَ چآ کراچيءِ پریس کلبءِ دیمے شُدکَشی احتجاجی کیمپءَ

بيست و هفتم مارس روزی سياه در تاريخ بلوچستــان

بيست و هفتم مارس روزی سياه در تاريخ بلوچستــان

ایران کی جانب سے بلوچستان کے نام کی تبدیلی کی کوششوں کا پر زور الفاظ میں مذمت کرتاہوں۔ حیر بیار مری

ایران کی جانب سے بلوچستان کے نام کی تبدیلی کی کوششوں کا پر زور الفاظ میں مذمت کرتاہوں۔ حیر بیار مری

جئے سندھ متحدہ محاذ کے کارکن شهید سرویچ پیرزادہ کے والد لطف علی سے گفتگو

جئے سندھ متحدہ محاذ کے کارکن شهید سرویچ پیرزادہ کے والد لطف علی سے گفتگو

دکتر الله نظر راجی جنزءِ لائکیـں رهشــون

دکتر الله نظر راجی جنزءِ لائکیـں رهشــون

بولان سے بلوچ خواتین کی اغواء ، پاکستان بنگلہ دیش کی تاریخ دہرا رہا ہے: فرزانہ مجید بلوچ

بولان سے بلوچ خواتین کی اغواء ، پاکستان بنگلہ دیش کی تاریخ دہرا رہا ہے: فرزانہ مجید بلوچ

پِگــری گُلامـــی – چارمــی بهـــر

پِگــری گُلامـــی – چارمــی بهـــر