پاکستان بلوچستان میں بنگلہ دیش کی تاریخ دہرا رہا ہے : فیض بلوچ

MUST READ

بلوچ راجی مزن جهدکار واجہ عبدالصمد امیریءِ زندتاک، دیوانے گون واجہ اسماعیل امیریءَ – دومی بهر

بلوچ راجی مزن جهدکار واجہ عبدالصمد امیریءِ زندتاک، دیوانے گون واجہ اسماعیل امیریءَ – دومی بهر

داغ ننگی بر پیشانیِ خامنه ایِ خون آشام

داغ ننگی بر پیشانیِ خامنه ایِ خون آشام

مشکے میں فوجی آپریشن

مشکے میں فوجی آپریشن

نواب بگٹیءُ بلوچی شان

نواب بگٹیءُ بلوچی شان

گپ و ترانے چا مغربی بلوچستانءَ گون جیش العدلءِ ترجمان محمد سعید ترکمن زهیءَ

گپ و ترانے چا مغربی بلوچستانءَ گون جیش العدلءِ ترجمان محمد سعید ترکمن زهیءَ

خصومتِ دولتِ ایران با زبان بلوچـی و دلایلِ آن

خصومتِ دولتِ ایران با زبان بلوچـی و دلایلِ آن

استقلال کوردستان مبارک باد

استقلال کوردستان مبارک باد

آوارجتگیں بلوچستان ءِ نگیگیں جاوراں ماں گوستگیں سال

آوارجتگیں بلوچستان ءِ نگیگیں جاوراں ماں گوستگیں سال

هر کار په بود ءُ هِمّت انت

هر کار په بود ءُ هِمّت انت

ھَشر ءُ کمک کاری گرانبھائیں بلوچی دود اَنت

ھَشر ءُ کمک کاری گرانبھائیں بلوچی دود اَنت

نامه محمد صابر ملک رئیسی پس از برخورد های تبعیض آمیز دوباره

نامه محمد صابر ملک رئیسی پس از برخورد های تبعیض آمیز دوباره

سید ھاشمی ریفرس کتابجاہ لس دیوانءِ نوکین گچین کاری 20 جنوريءَ بنت

سید ھاشمی ریفرس کتابجاہ لس دیوانءِ نوکین گچین کاری 20 جنوريءَ بنت

مقبوضہ سندھ میں پولیس کے اختیارات رینجرزنامی آرمی کے ایک شاخ کے ہاتھوں میں ہیں – چیئرمین خلیل بلوچ

مقبوضہ سندھ میں پولیس کے اختیارات رینجرزنامی آرمی کے ایک شاخ کے ہاتھوں میں ہیں – چیئرمین خلیل بلوچ

دیـزل ( گازوئیـل ) ءِ مافیـایی سوداگِـری

دیـزل ( گازوئیـل ) ءِ مافیـایی سوداگِـری

Mr. Aziz Baloch coordinator of Voice for Baloch missing persons in canada talking about mass grave in balochistan with co-op Radio

Mr. Aziz Baloch coordinator of Voice for Baloch missing persons in canada talking about mass grave in balochistan with co-op Radio

پاکستان بلوچستان میں بنگلہ دیش کی تاریخ دہرا رہا ہے : فیض بلوچ

2020-03-26 09:25:01
Share on

 لندن / بلوچ انسانی حقوق کے کارکن اور صحافی فیض بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں سب سے بڑا ڈیٹھ اسکواڈ خود پاکستان کی آرمی اور اس کے خفیہ ادارے ہیں جو بلاتفریق بلوچوں کی اغواء ، تشدد اور قتل عام میں ملوث ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار فیض بلوچ نے لندن کے دی آئیڈیا سٹور میں بنگلہ دیشی مصنف تسنیم خلیل کی کتاب (Jallad ) کی تقریب رونمائی کیلئے منعقدہ پروگرام ’’ پینل آن ساوتھ ایشین ڈیٹھ اسکواڈز اینڈ ڈرٹی وارز ‘‘ میں کیا ، پروگرام میں تامل ہیومین رائٹس ایکٹوسٹ ڈاکٹر شیکامی راجمنوہارن اور بنگلہ دیشی مصنف تسنیم خلیل نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ، تقریب سے فیض بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان آرمی اور اس کے خفیہ ادارے بلا تفریق بلوچ عوام کے مختلف مکتبہ فکر کے لوگوں جن طالب علم ، اساتذہ، پروفیسر ، آرٹسٹ، وکیل، گلوکار، خواتین و بچوں اور بوڑھے و نوجوانوں اور سیاسی کارکنوں سمیت کو اغواء کرکے تشدد کا نشانہ بنا کر ان کی قتل عام کررہا ہے ،اور جس طرح پاکستان نے ستر کی دہائی میں بنگلہ دیش میں عام عوام کا قتل عام کیا بالکل اسی طرح پاکستان وہی تاریخ بلوچستان میں دہرا رہا ہے ، پاکستان آرمی اور خوفیا اداروں کی سربراہی میں الشمس و البدر کی طرز کے ڈیٹھ اسکواڈ تشکیل دے کر بڑے پیمانے پہ بلوچ عوام کی قتل عام کررہا ہے ، ایک سوال کے جواب میں فیض بلوچ نے کہا کہ چین بھی بلوچستان میں وہی کچھ کررہا ہے جو پاکستان آرمی بلوچ قوم کے خلاف کررہا ہے ، ترقی کے نام پہ چین بلوچستان میں داخل ہوا ہے لیکن گوارد میں بلوچوں کو ان کی روزگار، زمین اور گھروں سے بے دخل کیا جارہا ہے اس لیے بلوچ عوام چین کو بلوچ قوم پرپاکستانی مظالم میں برابر کے شریک سمجھتی ہے ، تامل ہیومین رائٹس ایکٹوسٹ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تامل عوام کیخلاف سری لنکن حکومت اور اس کی آرمی کی جانب سے اب بھی ظلم و زیادتی کا بازار گرم ہے ، اور ان تمام مظالم کے باوجود تامل عوام میں آزادی کی حصول کا جذبہ اب بھی موجود ہے ، انہوں نے کہا کہ سری لنکا کی حکومت اور اس کی آرمی بڑے پیمانے پہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں لیکن عالمی سطح پہ ابھی تک ان کے خلاف کوئی بھی ایکشن نہیں لیا جارہا ہے ، انہوں نے مزید کہا کہ تامل تحریک کے خلاف بھی چین نے سری لنکا کی کمک کی ہے اور اقوام متحدہ جب کچھ ممالک نے تامل نسل کشی کے خلاف قرارداد لانے کی کوشش کی تو چین نے پنے ھمفکر ریاستوں کے ساتھ مل کر ان قراردادوں کا راستہ روکا ۔ کتاب کے مصنف تسنیم خلیل نے اپنے شائع شدہ کتاب کے بارے کہا کہ اس کتاب میں ساوتھ ایشیاء کے عوام کے کیس کا مطائعہ موجود ہے جن میں بنگلہ دیش ، نیپال ، سری لنکا اور پاکستان شامل ہیں اور ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اس کتاب میں یہ بھی شامل ہے کہ ریاستی دہشت گردی اور ڈیتھ اسکواڈز کو کس طرح عوام کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے ، انہوں نے مزید کہا کہ آج کے منعقدہ پینل کا مقصد یہ ہے جس طرح ریاستیں آپس میں روابط رکھتے ہیں اور ایک دوسرے کی مدد وکمک کرتے ہیں لہذا یہ لازمی ہے کہ ریاستی دہشت گردی سے متاثرہ عوام بھی ایک دوسرے سے روابط میں رہیں اور نزدیکی پیدا کریں ۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ یہ حیران کن عمل ہے کہ بنگلہ دیش کی عوام بلوچستان میں ہونے والے مظالم پہ خاموشی اختیار کئے ہوئیں ہیں۔ جلاد کتاب کے مصنف تسنیم خلیل کو ۲۰۰۷ میں بنگلادیشی حکومت نے گرفتار کرکے تشدد کر نشانہ بنایا تھا اور بعد میں امنسٹی انٹرنیشنل نے اسے ضمیر کے قیدی کا لقب بھی دیا تھا۔ خلیل نے اب بنگلادیش چھوڑ کر سویڈن میں رہائش اختیا کی ہے۔ –

Share on
Previous article

آزادی پسند قوتوں کے سا تھ دو بنیادی شرائط پر اصولی اشتراک عمل کیلئے ہمہ وقت تیار ہو ں ۔ حیربیار مری

NEXT article

ڈاکٹر منان بلوچ 5 ساتھیوں سمیت شہید

LEAVE A REPLY