پاکستان بلوچستان میں بنگلہ دیش کی تاریخ دہرا رہا ہے : فیض بلوچ

MUST READ

دنیا کو بلوچستان میں قتل عام و جبری گمشدگیوں پر خاموشی توڑنی چاہیے – ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ

دنیا کو بلوچستان میں قتل عام و جبری گمشدگیوں پر خاموشی توڑنی چاہیے – ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ

گلگدارے گون قائد اعظمم یونیورسٹیءِ نودربر شهداد بلوچءَ

گلگدارے گون قائد اعظمم یونیورسٹیءِ نودربر شهداد بلوچءَ

اعمال شکنجه های قـرون وسطايی بر وجــود و هستــی بلـــوچ

اعمال شکنجه های قـرون وسطايی بر وجــود و هستــی بلـــوچ

گیبن کیچءَ 13 اپریلءَ 2015 پاکستانی فوجی آپریشنءِ حقیقت

گیبن کیچءَ 13 اپریلءَ 2015 پاکستانی فوجی آپریشنءِ حقیقت

پاکستان پنجابیوں کے مفادات کی تحفظ کے لئے بنایا گیا ہے: حیر بیار مری

پاکستان پنجابیوں کے مفادات کی تحفظ کے لئے بنایا گیا ہے: حیر بیار مری

پاکستان بلوچ اورافغانوں کا مشترکہ دشمن ہے : حیر بیار مری

پاکستان بلوچ اورافغانوں کا مشترکہ دشمن ہے : حیر بیار مری

ںوکین حال

ںوکین حال

اَلاَحـوازالعــربی پاد آتکگ

اَلاَحـوازالعــربی پاد آتکگ

بلوچستان لبریشن چارٹرءِ بنگیجی دیوانءَ واجہ حیر بیار مريءِ تران لندن 1 مارچ 2014

بلوچستان لبریشن چارٹرءِ بنگیجی دیوانءَ واجہ حیر بیار مريءِ تران لندن 1 مارچ 2014

ویروس کرونا اسلحہ علی خامنئی ای علیہ میلون ھا انسان!

ویروس کرونا اسلحہ علی خامنئی ای علیہ میلون ھا انسان!

بلوچستان سمینار اسٹوکھولم سویڈنءَ بلوچ دانشور واجہ شبیر بلوچءِ تران

بلوچستان سمینار اسٹوکھولم سویڈنءَ بلوچ دانشور واجہ شبیر بلوچءِ تران

منی غیر بلوچیں معلمءَ منا هر وهد توهین کت ءُ جہل جت و کوشیشت کرت کہ من وانگءَ هلاس به کنان . سامان ریگی

منی غیر بلوچیں معلمءَ منا هر وهد توهین کت ءُ جہل جت و کوشیشت کرت کہ من وانگءَ هلاس به کنان . سامان ریگی

بر دانش آموزان بلــوچ چه می گـذرد؟ بخش سوم

بر دانش آموزان بلــوچ چه می گـذرد؟ بخش سوم

هجوم وحشيانه قشـون پارس و اشغال بلوچستان در سـال ۱۳۰۷ هجـری شمسـی

هجوم وحشيانه قشـون پارس و اشغال بلوچستان در سـال ۱۳۰۷ هجـری شمسـی

ماتی زبان – کارینا جهانی

ماتی زبان – کارینا جهانی

پاکستان بلوچستان میں بنگلہ دیش کی تاریخ دہرا رہا ہے : فیض بلوچ

2020-03-30 15:28:03
Share on

 لندن / بلوچ انسانی حقوق کے کارکن اور صحافی فیض بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں سب سے بڑا ڈیٹھ اسکواڈ خود پاکستان کی آرمی اور اس کے خفیہ ادارے ہیں جو بلاتفریق بلوچوں کی اغواء ، تشدد اور قتل عام میں ملوث ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار فیض بلوچ نے لندن کے دی آئیڈیا سٹور میں بنگلہ دیشی مصنف تسنیم خلیل کی کتاب (Jallad ) کی تقریب رونمائی کیلئے منعقدہ پروگرام ’’ پینل آن ساوتھ ایشین ڈیٹھ اسکواڈز اینڈ ڈرٹی وارز ‘‘ میں کیا ، پروگرام میں تامل ہیومین رائٹس ایکٹوسٹ ڈاکٹر شیکامی راجمنوہارن اور بنگلہ دیشی مصنف تسنیم خلیل نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ، تقریب سے فیض بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان آرمی اور اس کے خفیہ ادارے بلا تفریق بلوچ عوام کے مختلف مکتبہ فکر کے لوگوں جن طالب علم ، اساتذہ، پروفیسر ، آرٹسٹ، وکیل، گلوکار، خواتین و بچوں اور بوڑھے و نوجوانوں اور سیاسی کارکنوں سمیت کو اغواء کرکے تشدد کا نشانہ بنا کر ان کی قتل عام کررہا ہے ،اور جس طرح پاکستان نے ستر کی دہائی میں بنگلہ دیش میں عام عوام کا قتل عام کیا بالکل اسی طرح پاکستان وہی تاریخ بلوچستان میں دہرا رہا ہے ، پاکستان آرمی اور خوفیا اداروں کی سربراہی میں الشمس و البدر کی طرز کے ڈیٹھ اسکواڈ تشکیل دے کر بڑے پیمانے پہ بلوچ عوام کی قتل عام کررہا ہے ، ایک سوال کے جواب میں فیض بلوچ نے کہا کہ چین بھی بلوچستان میں وہی کچھ کررہا ہے جو پاکستان آرمی بلوچ قوم کے خلاف کررہا ہے ، ترقی کے نام پہ چین بلوچستان میں داخل ہوا ہے لیکن گوارد میں بلوچوں کو ان کی روزگار، زمین اور گھروں سے بے دخل کیا جارہا ہے اس لیے بلوچ عوام چین کو بلوچ قوم پرپاکستانی مظالم میں برابر کے شریک سمجھتی ہے ، تامل ہیومین رائٹس ایکٹوسٹ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تامل عوام کیخلاف سری لنکن حکومت اور اس کی آرمی کی جانب سے اب بھی ظلم و زیادتی کا بازار گرم ہے ، اور ان تمام مظالم کے باوجود تامل عوام میں آزادی کی حصول کا جذبہ اب بھی موجود ہے ، انہوں نے کہا کہ سری لنکا کی حکومت اور اس کی آرمی بڑے پیمانے پہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں لیکن عالمی سطح پہ ابھی تک ان کے خلاف کوئی بھی ایکشن نہیں لیا جارہا ہے ، انہوں نے مزید کہا کہ تامل تحریک کے خلاف بھی چین نے سری لنکا کی کمک کی ہے اور اقوام متحدہ جب کچھ ممالک نے تامل نسل کشی کے خلاف قرارداد لانے کی کوشش کی تو چین نے پنے ھمفکر ریاستوں کے ساتھ مل کر ان قراردادوں کا راستہ روکا ۔ کتاب کے مصنف تسنیم خلیل نے اپنے شائع شدہ کتاب کے بارے کہا کہ اس کتاب میں ساوتھ ایشیاء کے عوام کے کیس کا مطائعہ موجود ہے جن میں بنگلہ دیش ، نیپال ، سری لنکا اور پاکستان شامل ہیں اور ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اس کتاب میں یہ بھی شامل ہے کہ ریاستی دہشت گردی اور ڈیتھ اسکواڈز کو کس طرح عوام کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے ، انہوں نے مزید کہا کہ آج کے منعقدہ پینل کا مقصد یہ ہے جس طرح ریاستیں آپس میں روابط رکھتے ہیں اور ایک دوسرے کی مدد وکمک کرتے ہیں لہذا یہ لازمی ہے کہ ریاستی دہشت گردی سے متاثرہ عوام بھی ایک دوسرے سے روابط میں رہیں اور نزدیکی پیدا کریں ۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ یہ حیران کن عمل ہے کہ بنگلہ دیش کی عوام بلوچستان میں ہونے والے مظالم پہ خاموشی اختیار کئے ہوئیں ہیں۔ جلاد کتاب کے مصنف تسنیم خلیل کو ۲۰۰۷ میں بنگلادیشی حکومت نے گرفتار کرکے تشدد کر نشانہ بنایا تھا اور بعد میں امنسٹی انٹرنیشنل نے اسے ضمیر کے قیدی کا لقب بھی دیا تھا۔ خلیل نے اب بنگلادیش چھوڑ کر سویڈن میں رہائش اختیا کی ہے۔ –

Share on
Previous article

آزادی پسند قوتوں کے سا تھ دو بنیادی شرائط پر اصولی اشتراک عمل کیلئے ہمہ وقت تیار ہو ں ۔ حیربیار مری

NEXT article

بیست ءُ یک فروری ماتی زبانانی میان اُستمانی روچءِ بابتءَ گپ وترانے گون پروفیسرصبوربلوچءَ

LEAVE A REPLY