پاکستان بلوچ اورافغانوں کا مشترکہ دشمن ہے : حیر بیار مری

MUST READ

هجوم وحشيانه قشـون پارس و اشغال بلوچستان در سـال ۱۳۰۷ هجـری شمسـی

هجوم وحشيانه قشـون پارس و اشغال بلوچستان در سـال ۱۳۰۷ هجـری شمسـی

بلوچ عوام دشمن کے عزائم خاک میں ملانے میں کامیاب ہوئے ، اس موقع پر بلوچ عوام کا شکر گزار ہوں۔تمام بلوچ پارٹیوں اور تنظیموں کو اپنے گروہی و انفرادی مقاصد کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے ایک اصولی یکجہتی اور ہم آہنگی کیلئے آگے بڑھنا چاہئے ۔بلوچ قوم دوست رہنما حیربیار مری

بلوچ عوام دشمن کے عزائم خاک میں ملانے میں کامیاب ہوئے ، اس موقع پر بلوچ عوام کا شکر گزار ہوں۔تمام بلوچ پارٹیوں اور تنظیموں کو اپنے گروہی و انفرادی مقاصد کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے ایک اصولی یکجہتی اور ہم آہنگی کیلئے آگے بڑھنا چاہئے ۔بلوچ قوم دوست رہنما حیربیار مری

جیش العدل کا آسکان سراوان میں پاسداران کے کیمپ پر حملہ، 10 پاسدار ھلاک ، 2 ٹینک اور کیمپ تباہ

جیش العدل کا آسکان سراوان میں پاسداران کے کیمپ پر حملہ، 10 پاسدار ھلاک ، 2 ٹینک اور کیمپ تباہ

بلوچستــــانءِ هیروشیمـــا

بلوچستــــانءِ هیروشیمـــا

بیست ءُ یک فروری ماتی زبانانی میان اُستمانی روچءِ بابتءَ گپ وترانے گون پروفیسرعبدالواحد بزدارءَ

بیست ءُ یک فروری ماتی زبانانی میان اُستمانی روچءِ بابتءَ گپ وترانے گون پروفیسرعبدالواحد بزدارءَ

اقوام متحدہ، عالمی طاقتوں کی خاموشی بلوچ قوم کی لسانی اور ثقافتی نسل کشی کا باعث بن رہی ہے – ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ

اقوام متحدہ، عالمی طاقتوں کی خاموشی بلوچ قوم کی لسانی اور ثقافتی نسل کشی کا باعث بن رہی ہے – ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ

پاکستان جہادی کلچر ودہشت گردی کا مرکز و فیکٹری ہے : حیربیار

پاکستان جہادی کلچر ودہشت گردی کا مرکز و فیکٹری ہے : حیربیار

الوطن نیوز عربی کا جیش العدل کے رہنما صلاح دین فاروقی بلوچ سے خصوصی انٹرویو

الوطن نیوز عربی کا جیش العدل کے رہنما صلاح دین فاروقی بلوچ سے خصوصی انٹرویو

بیست ءُ یک فروری ماتی زبانانی میان اُستمانی روچءِ بابتءَ گپ وترانے گون پروفیسرعبدالواحد بزدارءَ

بیست ءُ یک فروری ماتی زبانانی میان اُستمانی روچءِ بابتءَ گپ وترانے گون پروفیسرعبدالواحد بزدارءَ

An interview with Anayat Hussian from Dhaka on December 16, Freedom Day in Bangladesh

An interview with Anayat Hussian from Dhaka on December 16, Freedom Day in Bangladesh

گیبن کیچءَ 13 اپریلءَ 2015 پاکستانی فوجی آپریشنءِ حقیقت

گیبن کیچءَ 13 اپریلءَ 2015 پاکستانی فوجی آپریشنءِ حقیقت

پاکستان جہادی کلچر ودہشت گردی کا مرکز و فیکٹری ہے : حیربیار

پاکستان جہادی کلچر ودہشت گردی کا مرکز و فیکٹری ہے : حیربیار

اُوَیس سمبل انگیزه یادگیری است

اُوَیس سمبل انگیزه یادگیری است

بلوچستان اِشغالی در چنگال خونینِ غارتگران

بلوچستان اِشغالی در چنگال خونینِ غارتگران

ایران کیوں بلوچ لیبریشن چارٹر کی مخالفت کرتا هے اور کس طرح بلوچ آزادی پسندوں میں اختلاف اور منشترکو پروان چڑایا

ایران کیوں بلوچ لیبریشن چارٹر کی مخالفت کرتا هے اور کس طرح بلوچ آزادی پسندوں میں اختلاف اور منشترکو پروان چڑایا

پاکستان بلوچ اورافغانوں کا مشترکہ دشمن ہے : حیر بیار مری

2020-03-25 18:26:21
Share on

  کابل /

کابل میں افغان ریسرچ سینٹر افغانستان نوین اور فری بلوچستان موومنٹ کے کارکنوں کی طرف سے بلوچستان کے یوم سیاہ کے سلسلے میں ایک پروقار تقریب منقعدکیا گیاجس میں سیاسی وسماجی اہم شخصیات اوردانشور وں کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔تقریب میں فری بلوچستان موومنٹ کے سربراہ اور بلوچ آزادی پسند رہنما حیربیار مری کا خصوصی پیغام بلوچ دانشور حفیظ حسن آبادی نے پڑھ کر سنایا ۔پیغام میں کہاگیا تھا کہ بلوچ قوم ایک آزاد ریاست کے مالک تھے جسے پاکستان نے اسی دن یعنی 27 مارچ 1948 کو بزور قبضہ کیا اُس دن سے آج تک بلوچ اس دن کو ملک کے اندر اور باہر یوم سیاہ کے طور پرمناتے ہیں۔بلوچ قوم نے روز اول سے اس تسط کو قبول نہیں کیا ہے اور اس طوق غلامی سے نجات کیلئے مسلسل لڑتے اور قربانیاں دیتے رہے ہیں جسکی بدولت آج بلوچ قومی مسلہ بارے آگاہی پوری دنیا میں پیدا ہو رہی ہے ۔ہماری یہ بات آج ایک مسلم حقیقت بن گئی ہے کہ پاکستان نہ صرف ایک خود ساختہ اور غیر فطری ریاست ہے بلکہ دہشتگرد پیداکرنے کا مرکز بنا ہوا ہے پیغام میں اس بات پر خاص زور دیا گیا تھا کہ بلوچ اور افغانوں کا دشمن مشترک ہے لہذااُنھیں متحد ہوکر لڑنا چائیے بلوچستان کی آزادی کے بعد ہماری سرزمین افغانوں کے خلاف کسی بھی پاکستانی سازش میں استعمال نہیں ہو گی اور ہم اپنے افغان بھائیوں کیساتھ تمام حل طلب معاملات افہام و تفہیم سے حل کریں گے اور جو معاہدات ہمارے بزرگوں نے ایک دوسرے کی خودمختاری کو ملحوظ خاطر رکھ کر کئے ہیں ہم اُن کی موجودہ حالات کے تقاضوں اور ایک دوسرے کے قومی مفادات کا خیال رکھتے ہوئے تجدید کریں گے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے افغان نوین ریسرچ سینٹرکے سربراہ اور صوبہ غور کے سابق گورنر عبداللہ ھیواد نے کہا کہ بلوچستان اس وقت آگ کی لپیٹ میں ہے اور بلوچ ریاستی دہشتگردی کا شکار ہیں لیکن ہمسایہ اور عالمی قوتیں مجرمانہ چھپ کا روزہ رکھے ہوئے ہیں ۔بطور افغان ہم بلوچوں کو اپنا بھائی کہتے اور سمجھتے ہیں مگر کیا وجہ ہے کہ ہم بلوچوں کو اپنے عمل سے یہ باور کرانے کامیاب نہیں ہورہے ہیں ۔پاکستان ہمارا اور بلوچوں کا مشترک دشمن ہے جو بلوچوں کے وطن پرجبری قبضہ کرکے بیٹھا ہے جبکہ یہاں ہمارے وطن کو کھنڈر میں تبدیل کرنے کوئی کسر باقی نہیں چھوڑا ہے ۔بلوچ قوم آج نہ صرف اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے بلکہ وہ ہماری خوشحالی اور امن کی بھی جنگ لڑ رہی ہے مگر ہم نے اُنھیں بڑے ظالم دشمن کے سامنے بالکل تن تنہا چھوڑا ہے ۔اُنھوں نے کہا کہ ہم ڈیورنڈ لائن کو نہیں مانتے بلوچ بھی اس کو تسلیم نہیں کرتے لیکن ہم افغان خاموشی سے دیکھ رہے ہیں اور پاکستان کسی مزاحمت کے بغیر خاردار باڑ لگاکر ہمیں ہماری سرزمین سے بے دخلی کا عملی اظہار کررہا ہے جبکہ بلوچ اس فرضی لکیر ڈیورنڈکیخلاف عملی طور پر نبردآزما ہے اُنھوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ افغانستان میں امن و خوشحالی آزاد بلوچستان و آزاد پشتونستان سے مربوط ہے لہذا ہماری حکومت بلوچ قومی جہد آزادی بارے سنجیدگی سے غور کرکے اُنھیں ہر شبعہ میں عملی طور پر اپنی وابستگی کا یقین دلائے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے افغانستان میں بلوچ شوری کے نائب صدر ستار پُردلی نے کہا کہ بلوچ قوم نے نہ ڈیورنڈ لائن کو تسلیم کیا ہے جس نے بلوچوں کو ٹکڑوں میں تقسیم کیا ہے اور نہ ہی 27 مارچ 1948 کے پاکستانی جبری قبضے کو مانا ہے بلوچ قوم اس وقت حالت جنگ میں اور وہ اپنے افغان بھائیوں سے یہ بجاتوقع رکھتے ہیں کہ اُنھیں سفارتی اور اخلاقی مدد کریں اُنھوں نے کہا کہ افسوس کیساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے حکمرانوں اور میڈیا کو دنیا کے ہر کونے میں ظلم نظر آتا ہے اور اُس کے خلاف اظہار خیال بھی کرتے رہتے ہیں لیکن اُن کے پہلو میں اُن کا بھائی و ہمسایہ بلوچ بلاامتیاز پاکستانی فورسز کے ہاتھوں قتل ہورہا اُن کے بچے ،بوڑھے، خواتین اور عام لوگ اُٹھائے اور قتل کئے جاتے ہیں کسی کو کچھ نظر نہیں آتا جو ایک قابل تشویش امر ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے غزنی کے سابق گورنر و افغانستان نوین کے سینئر فیلو شیر خوستی نے کہا کہ بلوچ ایک سیکولر و وسیع القب قوم ہے اور اُن کا وطن بلوچستان کی آزادی اس منطقہ کیلئے اکسیجن کی طرح لازم ہے اُنھوں کہا کہ اب وقت آن پہنچا ہے کہ بلوچوں کاجائز مطالبہ آزادی کا مکمل حمایت کیا جائے اور اُن کے جدوجہد کو اس تناظر میں دیکھا جائے کہ وہ دنیا میں دہشتگردی پھیلانے والے قوت سے دنیا کی حمایت کے بغیر لڑرہاہے۔تقریب سے دیگر معتبر مقررین نے خطاب کیا اور استاد خیرالاحد غوری نے بلوچستان کی تحریک آزادی اور بلوچستان کی سیاسی ،جغرافیائی واسٹراٹیجی اہمیت پر تفصلی بریفنگ دیا.

Share on
Previous article

جیش العدل کے کمانڈر ایوب بلوچ سے گفتگو

NEXT article

از تفرقه افکنی و جنگ داخلی بین نیروهای بلوچ باید جلوگیری کنیم – آقای حیربیار مری رهبر استقلال طلب بلوچستان

LEAVE A REPLY