پاکستان بلوچ اورافغانوں کا مشترکہ دشمن ہے : حیر بیار مری

پاکستان بلوچ اورافغانوں کا مشترکہ دشمن ہے : حیر بیار مری

2020-03-26 12:29:51
Share on

کابل میں افغان ریسرچ سینٹر افغانستان نوین اور فری بلوچستان موومنٹ کے کارکنوں کی طرف سے بلوچستان کے یوم سیاہ کے سلسلے میں ایک پروقار تقریب منقعدکیا گیاجس میں سیاسی وسماجی اہم شخصیات اوردانشور وں کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔تقریب میں فری بلوچستان موومنٹ کے سربراہ اور بلوچ آزادی پسند رہنما حیربیار مری کا خصوصی پیغام بلوچ دانشور حفیظ حسن آبادی نے پڑھ کر سنایا ۔پیغام میں کہاگیا تھا کہ بلوچ قوم ایک آزاد ریاست کے مالک تھے جسے پاکستان نے اسی دن یعنی 27 مارچ 1948 کو بزور قبضہ کیا اُس دن سے آج تک بلوچ اس دن کو ملک کے اندر اور باہر یوم سیاہ کے طور پرمناتے ہیں۔بلوچ قوم نے روز اول سے اس تسط کو قبول نہیں کیا ہے اور اس طوق غلامی سے نجات کیلئے مسلسل لڑتے اور قربانیاں دیتے رہے ہیں جسکی بدولت آج بلوچ قومی مسلہ بارے آگاہی پوری دنیا میں پیدا ہو رہی ہے ۔ہماری یہ بات آج ایک مسلم حقیقت بن گئی ہے کہ پاکستان نہ صرف ایک خود ساختہ اور غیر فطری ریاست ہے بلکہ دہشتگرد پیداکرنے کا مرکز بنا ہوا ہے پیغام میں اس بات پر خاص زور دیا گیا تھا کہ بلوچ اور افغانوں کا دشمن مشترک ہے لہذااُنھیں متحد ہوکر لڑنا چائیے بلوچستان کی آزادی کے بعد ہماری سرزمین افغانوں کے خلاف کسی بھی پاکستانی سازش میں استعمال نہیں ہو گی اور ہم اپنے افغان بھائیوں کیساتھ تمام حل طلب معاملات افہام و تفہیم سے حل کریں گے اور جو معاہدات ہمارے بزرگوں نے ایک دوسرے کی خودمختاری کو ملحوظ خاطر رکھ کر کئے ہیں ہم اُن کی موجودہ حالات کے تقاضوں اور ایک دوسرے کے قومی مفادات کا خیال رکھتے ہوئے تجدید کریں گے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے افغان نوین ریسرچ سینٹرکے سربراہ اور صوبہ غور کے سابق گورنر عبداللہ ھیواد نے کہا کہ بلوچستان اس وقت آگ کی لپیٹ میں ہے اور بلوچ ریاستی دہشتگردی کا شکار ہیں لیکن ہمسایہ اور عالمی قوتیں مجرمانہ چھپ کا روزہ رکھے ہوئے ہیں ۔بطور افغان ہم بلوچوں کو اپنا بھائی کہتے اور سمجھتے ہیں مگر کیا وجہ ہے کہ ہم بلوچوں کو اپنے عمل سے یہ باور کرانے کامیاب نہیں ہورہے ہیں ۔پاکستان ہمارا اور بلوچوں کا مشترک دشمن ہے جو بلوچوں کے وطن پرجبری قبضہ کرکے بیٹھا ہے جبکہ یہاں ہمارے وطن کو کھنڈر میں تبدیل کرنے کوئی کسر باقی نہیں چھوڑا ہے ۔بلوچ قوم آج نہ صرف اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے بلکہ وہ ہماری خوشحالی اور امن کی بھی جنگ لڑ رہی ہے مگر ہم نے اُنھیں بڑے ظالم دشمن کے سامنے بالکل تن تنہا چھوڑا ہے ۔اُنھوں نے کہا کہ ہم ڈیورنڈ لائن کو نہیں مانتے بلوچ بھی اس کو تسلیم نہیں کرتے لیکن ہم افغان خاموشی سے دیکھ رہے ہیں اور پاکستان کسی مزاحمت کے بغیر خاردار باڑ لگاکر ہمیں ہماری سرزمین سے بے دخلی کا عملی اظہار کررہا ہے جبکہ بلوچ اس فرضی لکیر ڈیورنڈکیخلاف عملی طور پر نبردآزما ہے اُنھوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ افغانستان میں امن و خوشحالی آزاد بلوچستان و آزاد پشتونستان سے مربوط ہے لہذا ہماری حکومت بلوچ قومی جہد آزادی بارے سنجیدگی سے غور کرکے اُنھیں ہر شبعہ میں عملی طور پر اپنی وابستگی کا یقین دلائے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے افغانستان میں بلوچ شوری کے نائب صدر ستار پُردلی نے کہا کہ بلوچ قوم نے نہ ڈیورنڈ لائن کو تسلیم کیا ہے جس نے بلوچوں کو ٹکڑوں میں تقسیم کیا ہے اور نہ ہی 27 مارچ 1948 کے پاکستانی جبری قبضے کو مانا ہے بلوچ قوم اس وقت حالت جنگ میں اور وہ اپنے افغان بھائیوں سے یہ بجاتوقع رکھتے ہیں کہ اُنھیں سفارتی اور اخلاقی مدد کریں اُنھوں نے کہا کہ افسوس کیساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے حکمرانوں اور میڈیا کو دنیا کے ہر کونے میں ظلم نظر آتا ہے اور اُس کے خلاف اظہار خیال بھی کرتے رہتے ہیں لیکن اُن کے پہلو میں اُن کا بھائی و ہمسایہ بلوچ بلاامتیاز پاکستانی فورسز کے ہاتھوں قتل ہورہا اُن کے بچے ،بوڑھے، خواتین اور عام لوگ اُٹھائے اور قتل کئے جاتے ہیں کسی کو کچھ نظر نہیں آتا جو ایک قابل تشویش امر ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے غزنی کے سابق گورنر و افغانستان نوین کے سینئر فیلو شیر خوستی نے کہا کہ بلوچ ایک سیکولر و وسیع القب قوم ہے اور اُن کا وطن بلوچستان کی آزادی اس منطقہ کیلئے اکسیجن کی طرح لازم ہے اُنھوں کہا کہ اب وقت آن پہنچا ہے کہ بلوچوں کاجائز مطالبہ آزادی کا مکمل حمایت کیا جائے اور اُن کے جدوجہد کو اس تناظر میں دیکھا جائے کہ وہ دنیا میں دہشتگردی پھیلانے والے قوت سے دنیا کی حمایت کے بغیر لڑرہاہے۔تقریب سے دیگر معتبر مقررین نے خطاب کیا اور استاد خیرالاحد غوری نے بلوچستان کی تحریک آزادی اور بلوچستان کی سیاسی ،جغرافیائی واسٹراٹیجی اہمیت پر تفصلی بریفنگ دیا.

Share on
Previous article

سپاهِ قُـدس ءُ آی۰ اِس۰ آی ءِ « مذاکـرات » ءِ پنـــدل

NEXT article

خاطره شهدای دِزَّک و هُشَّک جاودان خواهد ماند

LEAVE A REPLY

MUST READ

طرح توسعه سواحل مکران – پندلے په بلوچستـــان ءِ مدامی زوربرد کنگ ءَ – اولی بهـر

طرح توسعه سواحل مکران – پندلے په بلوچستـــان ءِ مدامی زوربرد کنگ ءَ – اولی بهـر

مغربی بلوچستان میں بلوچ مسلح دستوں کے ھاتھوں ایرانی ڈرون طیارہ نشانہ بنایا گیا۔ دوسری جانب ایرانی فورسسز مشرقی بلوچستان میں داخل ھونے کے لئے پاکستانی حکام سے رابطے میں ھیں۔

مغربی بلوچستان میں بلوچ مسلح دستوں کے ھاتھوں ایرانی ڈرون طیارہ نشانہ بنایا گیا۔ دوسری جانب ایرانی فورسسز مشرقی بلوچستان میں داخل ھونے کے لئے پاکستانی حکام سے رابطے میں ھیں۔

گپ و ترانے گون بی ایس او آزادءِ بنجاھی باسک لطیف جوھرءَ چآ کراچيءِ پریس کلبءِ دیمے شُدکَشی احتجاجی کیمپءَ

گپ و ترانے گون بی ایس او آزادءِ بنجاھی باسک لطیف جوھرءَ چآ کراچيءِ پریس کلبءِ دیمے شُدکَشی احتجاجی کیمپءَ

نوکترین حال

نوکترین حال

انڈیا سے بی جی پی کے ترجمان انیل بالونی صاحب سے گفتگو – ریڈیو حال

انڈیا سے بی جی پی کے ترجمان انیل بالونی صاحب سے گفتگو – ریڈیو حال

پاکستانی قبضے کے خلاف یورپ سمیت دیگر ممالک میں آگاہی مہم چلائیں گے : حیربیارمری

پاکستانی قبضے کے خلاف یورپ سمیت دیگر ممالک میں آگاہی مہم چلائیں گے : حیربیارمری

بر دانش آموزان بلوچ چه می گذرد؟

بر دانش آموزان بلوچ چه می گذرد؟

شهید فدا احمدءِ تران

شهید فدا احمدءِ تران

بر دانش آموزان بلـوچ چه می گـذرد؟ بخش پنجـم

بر دانش آموزان بلـوچ چه می گـذرد؟ بخش پنجـم

فاجعه آفرینی باندهای تبهکارزابلی در بلوچستـــان اشغالی

فاجعه آفرینی باندهای تبهکارزابلی در بلوچستـــان اشغالی

پاکستانی الیکشن بلوچ سرزمینءِ سرا

پاکستانی الیکشن بلوچ سرزمینءِ سرا

فارغ التحصيـلان بلــوچ در خارج متشـــکل شويــد

فارغ التحصيـلان بلــوچ در خارج متشـــکل شويــد

بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف برطانیہ اور یورپی ممالک میں2 ماہی آگاہی مہم چلانے کا فیصلہ۔

بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف برطانیہ اور یورپی ممالک میں2 ماہی آگاہی مہم چلانے کا فیصلہ۔

حربه های ضدبشری فاشيسم تماميت خواه پارس در بلوچستان اشغالی

حربه های ضدبشری فاشيسم تماميت خواه پارس در بلوچستان اشغالی

بلوچستان میں خواتین کی جبری گمشدگی وہلاکت افسوسناک و قابلِ مذمت ہیں:بی ایچ آر او

بلوچستان میں خواتین کی جبری گمشدگی وہلاکت افسوسناک و قابلِ مذمت ہیں:بی ایچ آر او