پاکستان وایران کا بلوچ قومی جہد کے خلاف ہمیشہ سے ایک قریبی تعاون رہا ہے:حیربیارمری

MUST READ

جنگ روانی استاندار اشغالگران در بلوچستان

جنگ روانی استاندار اشغالگران در بلوچستان

زبانهای بلوچی، کوردی، تورکمنی، تورکی و عربی زنده هستند

زبانهای بلوچی، کوردی، تورکمنی، تورکی و عربی زنده هستند

رهبری خیزش کنونی غیرمتمرکز و در دست مردم بپاخاسته است

رهبری خیزش کنونی غیرمتمرکز و در دست مردم بپاخاسته است

من ءُ تو همراہ نہ ایں – حفیظ روف

من ءُ تو همراہ نہ ایں – حفیظ روف

بر دانش آموزان بلــوچ چه می گـذرد؟ بخش دوم

بر دانش آموزان بلــوچ چه می گـذرد؟ بخش دوم

مروچی زرینہ مری ءُ مراد مریءَ پرین 3138 روچ انت کہ بیگواہ انت

مروچی زرینہ مری ءُ مراد مریءَ پرین 3138 روچ انت کہ بیگواہ انت

پاکستان چین کی مفادات کی خاطر بلوچوں کا بے رحمی سے قتل عام کررہا ہے: حیر بیار مری

پاکستان چین کی مفادات کی خاطر بلوچوں کا بے رحمی سے قتل عام کررہا ہے: حیر بیار مری

به رسميـت شناختـن استقــلال کوردستــان درسـال ۱۹۲۰ ميـلادی – معاهــده ســِور

به رسميـت شناختـن استقــلال کوردستــان درسـال ۱۹۲۰ ميـلادی – معاهــده ســِور

هجوم لشکر تمدن ستیز خامنه ای و العبادی به کوردستان مستقل

هجوم لشکر تمدن ستیز خامنه ای و العبادی به کوردستان مستقل

مشکے میں فوجی آپریشن

مشکے میں فوجی آپریشن

بهر شکل ممکن ازهویت ملی و سرزمین مان بلوچستان دفاع کنیم

بهر شکل ممکن ازهویت ملی و سرزمین مان بلوچستان دفاع کنیم

تجاربی خونین از مذاکرات با اشغالگران

تجاربی خونین از مذاکرات با اشغالگران

بيست و هفتم مارس  روزی سياه در تاريــخ بلوچستــــان

بيست و هفتم مارس روزی سياه در تاريــخ بلوچستــــان

پِگــری گُلامـــی – چارمــی بهـــر

پِگــری گُلامـــی – چارمــی بهـــر

حال – بلوچستانءَ بیگواهی ءُ کشت ءُ کوش انگت سرجم انت

حال – بلوچستانءَ بیگواهی ءُ کشت ءُ کوش انگت سرجم انت

پاکستان وایران کا بلوچ قومی جہد کے خلاف ہمیشہ سے ایک قریبی تعاون رہا ہے:حیربیارمری

2020-03-25 14:24:34
Share on

لندن / بلوچ رہنما حیربیار مری نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بلوچ سرزمین پہ قابض ریاستوں پاکستان اور ایران کا بلوچ قومی جہد کے خلاف ہمیشہ سے ایک قریبی تعاون رہا ہے تاکہ بلوچ تحریک آزادی کو بزور طاقت ختم کیا جاسکے۔بلوچ سرزمین پر قبضہ سے لے کر بلوچ عوام کے خلاف انسانیت سوز جرائم تک دونوں قابض ریاستیں یکساں طور پہ ملوث رہی ہیں اور ماضی میں دونوں ریاستوں نے بلوچ قوم کے خلاف مشترکہ فوجی جارحیت کی لیکن حالیہ عرصے میں ایران اور پاکستان کے درمیان خطے میں مذہبی ،سیاسی اورمعاشی عزائم کو لیکر جو رسہ کشی شروع ہوئی ہے اس کے نتیجے میں دونوں قابض ریاستوں کے تعلقات میں وقتی طور پر بگاڑ اور کشیدگی کا تاثر ابھرا ہے ۔ اس کشیدگی کے نتیجے میں دونوں قابض ریاستیں بلوچ قومی جہد کو لے کر ایک نئی اور زیادہ خطرناک پالیسی پہ عمل پیرا ہیں۔ دونوں قابض ریاستیں اپنے بدنام زمانہ خفیہ ایجنسیوں کے ذریعے دونوں ا طراف میں موجود بلوچ تنظیموں کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جہاں کہیں انہیں کامیابی حاصل ہوئی ہے اور کہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
پاکستان کے خلاف برسرپیکار بلوچ ہوں یا ایران کے خلاف جہد کرنے والے کارکن، اگر ان میں سے کوئی بھی ایک قابض ریاست سے کمک لیکر دوسرے قابض ریاست کے خلاف جد وجہد کرنے والے بلوچ کے خلاف استعمال ہوتو یہ ہمارے نذدیک اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے جسم کے حصے کاٹنے کے مترادف ہے۔ آپسی جنگ سے نقصان بلوچ قوم کا ہوگا اور تاریخ میں اس کی مثال عراقی کردستان کی خانہ جنگی ہے جہاں پر کے ڈی پی اور پی یو کے نے ہمسایہ ممالک کی پراکسی بن کر کردوں کے ہاتھوں سے کرد قتل کروائے جس سے تین سال کے عرصے کے دورا ن آٹھ ہزار سے زائد کرد شہید ہوئے اور بہت سے لوگ آج تک لاپتہ ہیں ۔
بلوچ رہنما حیربیار مری نے اپنے بیان میں کہا کہ بلوچستان بلوچ قوم کی سرزمین ہے ، بلوچ قوم مسلمان ، غیر مسلم، سیکولر ، مذہبی افراد ، سوشلسٹ اور اعتدال پسند سمیت مختلف نظریات اور سوچ رکھنے والے افراد پر مشتمل ہے اور یہ تمام افراد مختلف نظریات اور سوچ رکھنے کے باوجود اپنے وطن کی آزادی کے لیے کردار ادا کرسکتے ہیں، کسی بھی بلوچ کی آزادی کے لیے جہد کو الگ نظریات اور سوچ کی بنا پر رد کرنا ہماری نادانی ہوگی ، بلا یہ کس طرح ممکن ہے کہ کروڑوں افراد پر مشتمل قوم فقط ایک ہی نظریہ یا سوچ کے پیروکار ہوں؟
انہوں نے مزید کہا کہ سامراجی طاقتوں نے بلوچستان کو مختلف حصوں میں بانٹ کر علاقوں میں تقسیم کیا اور اب بلوچ قوم میں موجود چند تنظیمیں اپنی محدود سوچ کے ذریعے بلوچستان اور بلوچ قوم کو نظریاتی بنیادوں پر مستقل طور پر تقسیم کرنا چاہتے ہیں کہ جس طرح جرمن اور کورین قوم کو صرف نظریات کی بنیاد دپر تقسیم کیا گیا۔ اگر یہی سیاسی رویہ رہا تو ایک آزاد بلوچستان کو کل نظریاتی اور علاقائی بنیادوں پر تقسیم کیا جائے گا جہاں پر مذہبی افراد ، سوشلسٹ، لادین اور قبائلی افراد آزاد بلوچستان کی آئین اور ووٹ کے ذریعے سیاسی طاقت حاصل کرنے کے بجائے اپنی سوچ کو ایک دوسرے پر مسلط کرنے کے لیے آزاد ریاست اور قوم کی تقسیم در تقسیم سے اجتناب نہیں کریں گے۔
حیربیار مری نے کہا کہ بلوچستان پر سامراجی طاقتوں کی طرف سے کھینچی گئی گولڈسمڈ جیسے لکیر کو بلوچوں نے نہ کبھی تسلیم کیا ہے نہ ہی کریں گے ۔دونوں قابض ریاستوں سے برسر پیکار جہد کار پناہ کیلئے بلوچستان کے کسی بھی حصے میں جا سکتے ہیں ، ایران کے خلاف لڑنے والے جہد کار اگر پاکستانی مقبوضہ بلوچستان میں پناہ لیں یا پاکستان کے خلاف لڑنے والے سرمچار ایرانی مقبوضہ بلوچستان میں پناہ لیں تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ بلوچستان ایک ہے، یہ ہم سب کا مشترکہ وطن ہے درحقیقت قومی مفادات کو نقصان حکمت عملی کے تحت پناہ لینے سے نہیں بلکہ بلوچستان کو تقسیم کرنے والی مصنوعی لکیروں کی چوکی داری اور قابض ریاستوں کے مفادات کے لیے مرسنری وکرائے کا سپاہی بن کر بلوچ کے خلاف استعمال ہونے سے ہے۔
اگر ان حالات میں دونوں طرف کے جہد کار اپنے ازلی دشمنوں کی پروکسی بن کر آپس میں دست و گریبان ہوئے تو اس سے بلوچ آزادی کی جدوجہد کو ناقابل تلافی نقصاں پہنچے گا۔ پہلے یہ دونوں ریاستیں بلوچ جہدکاروں کو استعمال کریں گی اور اس کے بعد تعلقات میں معمولی بہتری کے بعد یہ قابض ریاستیں پھر ایک ہو کر بارگیننگ چپ کے طور پر بلوچ جہدکاروں کا سودا کریں گی ۔ حیربیار مری نے آخر میں کہا کہ بلوچستان کے کسی بھی حصے کی آزادی متحدہ بلوچستان کی آزادی کی نوید ہوگی اسی لیے دونوں ریاستوں کے خلاف برسرپیکار بلوچ اپنی تمام توانائیاں قابض ریاستوں کے خلاف استعمال کریں

 

Share on
Previous article

از تفرقه افکنی و جنگ داخلی بین نیروهای بلوچ باید جلوگیری کنیم – آقای حیربیار مری رهبر استقلال طلب بلوچستان

NEXT article

بلوچ دژمنیں “سپاه قدس” بلوچ جُهدکاراں میڑینگ انت

LEAVE A REPLY