پاکستان کشمیر کیلئے حق خود ارادیت کا مطالبہ کرتا ہے لیکن خود بلوچستان پر قابض ہے : حیربیار مری

پاکستان کشمیر کیلئے حق خود ارادیت کا مطالبہ کرتا ہے لیکن خود بلوچستان پر قابض ہے : حیربیار مری

2020-03-26 15:20:27
Share on

جیسا کے آپ کو پتہ ہے کہ بلوچستان میں بہت سے بلوچ ایسے ہیں ، جو یقین رکھتے ہیں کہ ان پر بزورِ بندوق قبضہ جمایا گیا ہے اور اب بلوچستان بندوق کے نال سے نکلے گولی سے ہی آزاد ہوگا ، یہ بات بلوچ قوم پرست رہنما نواب خیر بخش مری کے فرزند حیربیار مری نے ریڈیو مشعل کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کی جنہیں اس وقت بلوچ قومی تحریک کے ترجمان کے حیثیت سے جانا جاتا ہے ۔

آپ کی نظر میں اس وقت بلوچستان کا مسئلہ کیا ہے ؟
حیربیار مری :11 اگست1947 کو جب بلوچستان نے برطانیہ سے آزادی حاصل کی اور نو مہینے تک آزاد رہا تو اس وقت پاکستان کے بانی محمد علی جناح نے خان آف قلات پر دباو ڈالا کے وہ پاکستان کے ساتھ الحاق کردے ۔ خان نے اس مدعے کو بلوچستان کے پارلیمنٹ میں پیش کیا ۔ اس وقت بلوچستان کے پارلیمنٹ کے دونوں ایوان دالامرا اور دارالعوام نے پاکستان سے الحاق کی مخالفت کی ، پارلیمنٹ نے یہ موقف اختیار کیا کہ ایک آزاد ملک اور جداگانہ شناخت ، تہذیب اور ثقافت رکھنے کی وجہ سے پاکستان کے ساتھ الحاق نہیں کرنا چاہئے ، بلوچ ایک الگ قوم ہے صرف مذہب کے بنیاد پر پاکستان سے الحاق نہیں ہوسکتی ۔ لیکن 27 مارچ 1948 کو پاکستان نے بلوچستان پر حملہ کرکے اس پر قبضہ کرلیا اور خان سے زبردستی الحاق کے کا غذات پر دستخط کروائے جسے بلوچوں نے پہلے دن سے ہی مسترد کردیا ۔ اس کے بعد سے ابتک پاکستان اپنے اس ناجائز قبضہ کو تشدد کے ذریعے تحفظ اور دوام بخش رہا ہے ۔ ہم بلوچ پہلے دن سے ہی اس جبری الحاق کو ماننے سے انکاری ہیں ، ہم یقین رکھتے ہیں کہ ہم پاکستان کا حصہ نہیں بلکہ مقبوضہ ہیں ۔ ہم پاکستان کو ایک قابض سمجھتے ہیں ۔ ہم چاہتے ہیں کہ دنیا جان لے کہ بلوچوں پر ناجائز قبضہ ہوا ہے ، ہم چاہتے ہیں کہ عالمی برادری ہماری اس طرح مدد کرے جس طرح انہوں نے عراقی قبضہ گیریت کے خلاف کویت کی مدد کی۔
آج بلوچستان میں بلوچ سیاسی کارکنوں کا اغواء اور قتل معمول بن چکا ہے ، ہزاروں کے تعداد میں بلوچ اس وقت یا تو لاپتہ ہیں یا پھر انہیں قتل کیا گیا ہے ۔ پچھلے 66 سالوں سے بلوچستان میں ماورائے عدالت ریاستی قتل و غارت جاری ہے ۔ کوئی بھی ان نسل کش کاروائیوں کا نوٹس نہیں لے رہا ، یقیناًیہ ایک انتہائی افسوسناک بات ہے۔ کوسوو پر سربیا کے قبضے اور مظالم کے خلاف یورپی یونین اور پوری دنیا مدد کو پہنچ گئی ، کوسوو کے حفاظت کیلئے پوری ایک آرمی کو تعینات کردیا گیا ، اسی طرح ایسٹ تیمور کی انڈونیشیاء سے حفاظت کیلئے آسٹریلوی فوج پہنچ گئی لیکن بلوچستان کو یکسر نظر انداز کیا جارہا ہے ۔ آج پاکستان اپنے مذہبی جنونی گروہوں کے توسط سے بلوچوں کے ساتھ ساتھ پوری دنیا کو بلیک میل کررہا ہے تاکہ ان گروہوں سے خوفزدہ ہوکر عالمی برادری کبھی بلوچوں کی حمایت نہیں کرے ۔

ٓآخر آپ لوگوں کے مطالبات کیا ہیں؟
حیربیار مری :میں آزاد بلوچستان کیلئے جدوجہد کررہا ہوں ، یہ دنیا میں بسے ہر فرد و قوم کا بنیادی حق ہے کہ وہ آزادی کے ساتھ اپنی زندگی بسر کرے ۔ بلوچ ایک آزاد و خودمختیار قوم کی حیثیت سے رہ رہے تھے ، بلوچستان ایک خود مختار ریاست تھی لیکن پاکستان نے ہم پر قبضہ کرلیا ۔ ہم اب نا کوئی رائے شماری چاہتے ہیں اور نا ہی حق خود ارادیت بلکہ ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ پاکستان بلوچستان سے غیر مشروط طور پر نکل جائے۔اتفاق کی بات یہ ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر کشمیرکی حق خود ارادیت کی بات کرتا ہے لیکن خود بلوچوں پر قابض ہے ۔

اگر علیحدگی پسندوں کو نکال کر دیکھا جائے ، تو زیادہ تر بلوچ پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں ، اس بارے میں آپ کی رائے کیا ہے ؟
حیربیار مری :پچھلے سال بلوچ قوم پرستوں نے پاکستان کے نام نہاد عام انتخابات کا بائیکاٹ کیا ہوا تھا ، اب آپ ٹرن آوٹ دیکھیں یہ زیادہ سے زیادہ 5 تا 7 فیصد ہی ہوگی ، 90 فیصد سے زائد بلوچوں نے ان انتخابات میں شرکت ہی نہیں کی ۔ یہ خود میں ہی آزادی کے حق میں اپنا ووٹ ڈالنے کے مترادف ہے ۔

کیا آپ کی نظر میں بلوچستان کا موجودہ اسمبلی جائز ہے ؟
حیربیار مری : بالکل بھی نہیں ، پہلی بات یہ کہ بلوچستان کا یہ اسمبلی قابض کی پیداوار ہے ، دوسری بات موجودہ اسمبلی بلوچوں کی طرف سے منتخب شدہ نہیں ہے اس لیئے یہ قطعی طور پر ناجائز ہے ۔ قابض نے انہیں بلوچستان پر تھونپا ہوا ہے ۔ کچھ ممبر اسمبلی تو 400 سے 600 ووٹوں کی بھیک مانگتے وہاں پہنچے ہیں بات مختصر یہ کہ وہ وہ جائز نمائیندے نہیں ہیں ، اگر واقعی میں وہ بلوچوں کے نمائیندے ہوتے تو وہ اس وقت بلوچوں کی آزادی کی بات کررہے ہوتے لیکن وہ تو پاکستان کے غلام ہیں ۔

ٓآپ کے بھائی بھی تو اسی اسمبلی کے ممبر ہیں ؟
حیربیار مری : ہاں یہ حقیقت ہے ، میں ہر بلوچ کو اپنا بھائی سمجھتا ہوں ،لیکن جو بھی پاکستانی غلامی تسلیم کرے چاہے جو بھی ہو ، میرا بھائی نہیں ہوسکتا ۔

مجھے امید ہے کہ آپ کو یاد ہوگا کہ آپ خود اسی اسمبلی کے کبھی رکن تھے ؟
حیربیار مری :یہ ایک حقیقت ہے ، ایک حقیقت پسند انسان وہ ہوتا جو ایک بار غلطی کرنے کے بعد اسے دہراتا نہیں ، اسے آپ تجربہ بھی کہہ سکتے ہیں ۔ مجھے اس وقت یہ احساس ہوگیا کہ بلوچستان اسمبلی صرف بلوچ رہنماوں کو رشوت کا ایک ذریعہ ہے تاکہ وہ خاموش رہ سکیں ۔ ہمیں وہاں بلوچستان کے آزادی کے بارے میں بات تک کرنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی ۔ ہمیں وہاں مجبور کیا جاتا تھا کہ ہم اجتماعی کے بجائے اپنے انفرادی مفادات کے بارے میں سوچیں ۔ جب مجھے احساس ہوا کہ میں وہاں بلوچستان کیلئے جدوجہد نہیں کرسکتا تو میں نے اسکا بائیکاٹ کردیا ، میں تب سے دوسروں کو بھی اپنے تجربات کے بارے میں بتارہا ہوں ۔

کیا آپ سے سرزد ہونے والی وہ ایک غلطی تھی ؟
حیربیار مری :ہمارے بزرگوں نے بھی اسی اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لیکر رکن اسمبلی بنے تھے ، انہوں نے بھی ہمیں یہ مشورہ دیا تھا کہ اس سے دور رہا جائے ، لیکن اب اسے آپ بلوچوں کی فراخدلی کہیں یا کچھ اور کہ ہم نے قابض کو بھی ایک موقع دیا کیونکہ وہ اسلامی بھائی چارے کے آڑ میں یہ سب کررہا تھا ، لیکن یہ سب اسکا ایک چال تھا ۔
انہوں نے بنگالیوں کی نسل کشی کی جس میں تیس لاکھ سے زائد بنگالیوں کو بے دردی سے قتل کیا گیا تھا، لاکھوں بنگالی عورتوں کے ساتھ زنا بالجبر کیا گیا ، ایک قوم کی حیثیت سے دیکھیں یا ایک فوج کے، پاکستان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ، انکی ذہنیت ان کے توسیع پسندانہ عزائم کا اظہار ہے ، وہ ہر طاقت کے سامنے سر بسجود ہوجاتے ہیں اور کمزوروں پر حاوی ہونے کی کوشش کرتے ہیں ۔ یہ پاکستانی بھائی چارگی کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے ۔

کیا آپ جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں ؟
یقینا، میں جمہوریت پر کامل یقین رکھتا ہوں ۔

اگر آپ جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں تو پھر آخر کیوں بلوچستان میں رہنے انتخابات میں حصے لینے اور اپنے لوگوں کی نمائیندگی کرنے کے بجائے ، آپ باہر جلاوطنی کی زندگی گذار رہے ہیں ؟
حیربیار مری : جہاں تک پاکستانی جمہوریت کی بات ہے تو یہ جمہوریت نہیں صرف دھوکہ دہی ہے ۔ میں آزاد بلوچستان میں ایک حقیقی جمہوری نظام چاہتا ہوں ۔ میں نہیں چاہتا کہ بلوچستان میں خلیجی شیخ حکومتوں کی طرح کا کوئی بادشاہت ہو ۔ میں وہ جمہوریت چاہتا ہوں جس میں ایک شخص ایک ووٹ کا نظام ہو ، جہاں ایک غریب چرواہے کا بیٹا بھی ووٹ ڈالنے اور نمائیندگی کا حق رکھتا ہو ، سب کے پاس مساوی حقوق ہوں ۔ میں جمہوریت میں برابری کا قائل ہوں ۔

اگر ممکن ہے ،تو کیا آپ ہمیں بتا سکتے ہیں کہ اس وقت بلوچ کتنے محاذوں سے لڑ رہے ہیں ؟
حیربیار مری : ایک محاذ جلاوطن بلوچوں پر مشتمل ہے ، یہاں جلاوطنی کے دوران میں اور میرے ساتھی بلوچوں کے مصائب بیان کرتے ہیں اور دنیا کی توجہ انکی جانب مبذول کرانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ہم دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ اسلام کا دعویدار پاکستان ایک مسلمان ملک بلوچستان پر قابض ہے ۔ دوسری جانب بلوچستان خود ایک محاذ ہے ، جہاں بہت سے بلوچ ایک پر امن جدوجہد کررہے ہیں ۔ مثال کے طور پر جیسے شہید غلام محمد نے ایک پر امن جماعت کی داغ بیل ڈالی لیکن پھر بھی اسے شہید کیا گیا ، لالا منیر ایک اور مثال ہیں ۔ بلوچستان میں قابض اس وقت پر امن جدوجہد اور مسلح جدوجہد کرنے والوں میں کوئی امتیاز نہیں رکھتا ۔ جو بھی بلوچستان کی آزادی کا بات کرتا ہے اسے ماورائے عدالت قتل کیا جاتا ہے ۔ پاکستان بلوچستان میں ایک غیر اسلامی اور غیر انسانی پالیسی پر کاربند ہے ۔

مسلح تنظیموں کے بارے میں آپ کیا کہیں گے ،وہ کون اور کتنے ہیں ؟
حیربیار مری :جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ بلوچستان میں بہت سے لوگ مسلح جدوجہد کررہے ہیں ، جو اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ بلوچستان پر بزورِ بندوق قبضہ جمایا گیا ہے اور اب بلوچستان کی آزادی بندوق کے نال سے نکلے گولی سے ہی ممکن ہوگا ۔

آپ کو کیا لگتا ہے کہ کونسا راستہ زیادہ موزوں ہیں ، وہ جس پر آپ گامزن ہیں یا وہ جس پر مسلح تنظیمیں گامزن ہیں ؟
حیربیار مری :سب اپنے گردو پیش کے حالات کے مطابق حکمت عملیاں اپنائے ہوئے ہیں ۔ ہم جلاوطنی میں بلوچ کاز کی تشہیر کرتے ہیں تاکہ دنیا ہمارے مصائب و آلام سے آشنا ہوسکے اور جو اس وقت بلوچستان میں موجود ہیں وہ اپنے طریقہ کار کا تعین خود ہی بہتر طریقے سے کرسکتے ہیں ۔ یقیناًاس بات کو جاننے کے بعد کہ پاکستان میں مذاکرات سے کچھ حاصل نہیں ہوتا انہوں نے بندوق اٹھائی ہوئی ہے ۔

مری صاحب ، جس طرح آپ بلوچستان کے آزادی کیلئے جدوجہد کررہے ہیں اسی طرح اللہ نظر بلوچ بھی ہیں ، لیکن آپ لندن میں بیٹھے ہیں اور وہ بلوچستان کے پہاڑوں میں ہیں ، آپ دونوں بالکل مختلف قسم کی زندگی گذار رہے ہیں ؟
حیربیار مری :آپ صحیح کہہ رہے ہیں، ہم دونوں مختلف زندگی گذار رہے ہیں ، انکی زندگی بہت مشکل ہے ، وہاں انہیں روزانہ کی زندگی میں بہت سے مصائب کا سامنا ہے ۔ ان کی زندگی خطرات کے بیچ میں ہے اور ہم یہاں حفاظت سے رہ رہے ہیں ،لیکن جدوجہد کے تقاضوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے، ہمیں دوستوں کی طرف سے کہا گیا کہ ہم یہاں بلوچ مسئلے کو عالمی سطح پر متعارف کرائیں ۔ ہم سب ایک ہی وقت میں ایک جگہ نہیں ہوسکتے، آج بلوچستان کے نمائیندے ہر جگہ موجود ہیں لیکن ہم جو کچھ کر رہے ہیں وہ دوستوں کے مشاورت سے ہی کرتے ہیں۔
کیا آپ کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ لوگ ایک دوسرے سے مشاورت کررہے ہیں ؟
حیربیار مری :میں یہ نہیں کہہ رہا کہ میں سب کچھ ڈاکٹر اللہ نظر کے مشاورت سے کررہا ہوں ، لیکن ہمارے کچھ دوست ہیں جو بلوچستان میں موجود ہیں، ان کے مشورے کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی میں آج لندن میں ہوں ۔
(حیربیار مری کا یہ انٹرویوبوریوال کاکڑ نے 2013 اکتوبر میں ریڈیو مشل کی جانب سے لیا )

 

Share on
Previous article

ﺑﻠﻮﭼﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﺀِ ﻧﺎﻣﺪﺍﺭﯾﮟ ﺷﺎﺋﺮ ﺀُ ﮐﻮﺍﺱ ﺟﯽ۔ ﺁﺭ۔ ﻣُﻼ ﺑﯿﺮﺍﻥ ﺑﯿﺘﮓ

NEXT article

گپ وتران گون شہید محمد اکبر خان بگٹی ء 20060402 گون ریڈیو بلوچی ایف ایم

LEAVE A REPLY

MUST READ

Baloch National poet Qazi Mubarak visits Voice for Baloch Missing Persons protest camp

Baloch National poet Qazi Mubarak visits Voice for Baloch Missing Persons protest camp

بلوچ قوم دوست رھنما واجہ حیربیار مريءِ کلو پا 27 مارچءِ بابتءَ

بلوچ قوم دوست رھنما واجہ حیربیار مريءِ کلو پا 27 مارچءِ بابتءَ

بلوچستان میں خواتین کی جبری گمشدگی وہلاکت افسوسناک و قابلِ مذمت ہیں:بی ایچ آر او

بلوچستان میں خواتین کی جبری گمشدگی وہلاکت افسوسناک و قابلِ مذمت ہیں:بی ایچ آر او

شهزانــــتیں صبا دشتیاری نمیران انت

شهزانــــتیں صبا دشتیاری نمیران انت

پادآتکگیں بلوچ ورنایانی نامءَ

پادآتکگیں بلوچ ورنایانی نامءَ

بیست ءُ یک فروری ماتی زبانانی میان اُستمانی روچءِ بابتءَ گپ وترانے گون پروفیسرعبدالواحد بزدارءَ

بیست ءُ یک فروری ماتی زبانانی میان اُستمانی روچءِ بابتءَ گپ وترانے گون پروفیسرعبدالواحد بزدارءَ

آج تک ٹی ويءِ گپ ترانے گون بلوچ قوم دوست رھنما واجہ حیربیار مريءً

آج تک ٹی ويءِ گپ ترانے گون بلوچ قوم دوست رھنما واجہ حیربیار مريءً

گپ و ترانے گون بی ایس او آزادءِ بنجاھی باسک لطیف جوھرءَ چآ کراچيءِ پریس کلبءِ دیمے شُدکَشی احتجاجی کیمپءَ

گپ و ترانے گون بی ایس او آزادءِ بنجاھی باسک لطیف جوھرءَ چآ کراچيءِ پریس کلبءِ دیمے شُدکَشی احتجاجی کیمپءَ

ایرانی قابض حکومت کا بلوچوں کو اقلیت میں تبدیل کرنے کا منصوبہ

ایرانی قابض حکومت کا بلوچوں کو اقلیت میں تبدیل کرنے کا منصوبہ

شهید غلام محمد بلوچ، شهید میرلالہ منیر ءُ شهید شیرمحمد بلوچءِ تربتءَ بیگواهیءِ حال روچ 3 اپریل 2009 ءَ چا گوانک ٹیمءِ حالکار شهید کمبر چاکرءَ

شهید غلام محمد بلوچ، شهید میرلالہ منیر ءُ شهید شیرمحمد بلوچءِ تربتءَ بیگواهیءِ حال روچ 3 اپریل 2009 ءَ چا گوانک ٹیمءِ حالکار شهید کمبر چاکرءَ

بلــــوچ گلزميــــن ءِ انــــداز ءُ سيمســـــراں

بلــــوچ گلزميــــن ءِ انــــداز ءُ سيمســـــراں

کسان سالیں بلوچ دُهتگان بی بی صورت ، سکینہ ءُ سمینہ انگت شکارپور سندهءَ قید انت – گپءُ ترانے گون یکے چا بیگواهیں بلوچ دُهتگانی ماتءَ

کسان سالیں بلوچ دُهتگان بی بی صورت ، سکینہ ءُ سمینہ انگت شکارپور سندهءَ قید انت – گپءُ ترانے گون یکے چا بیگواهیں بلوچ دُهتگانی ماتءَ

بابائے بلوچ نواب خیر بخش مری کا نمازہ جنازہ نیو کاهان میں ادا کردیا گیا

بابائے بلوچ نواب خیر بخش مری کا نمازہ جنازہ نیو کاهان میں ادا کردیا گیا

نمیرانی ءِ کشک شھید نور محمد ءِ نام ءَ

نمیرانی ءِ کشک شھید نور محمد ءِ نام ءَ

پِگــری گُلامــی – محمد کريم بلــوچ

پِگــری گُلامــی – محمد کريم بلــوچ