پُرامن افغانستان کی راہ میں پاکستان بڑی رکاوٹ ہے : حیربیار

پُرامن افغانستان کی راہ میں پاکستان بڑی رکاوٹ ہے : حیربیار

2020-03-26 10:26:48
Share on

 بلوچ قوم دوست رہنما حیربیار مری نے بلوچ پشتون یکجہتی کے حوالے سے کابل میں منعقدہ پروکرام میں اپنے پیغام میں کہا کہ بلوچ اور افغان ہمیشہ سے پر امن طور پررہے اور ضرورت کے وقت ایک دوسرے کی مدد کرتے رہے ہیں بلوچ اور افغان کی پر امن اور برادارانہ تاریخ نوری نصیرخان اور احمد شاہ ابدالی کے دور سے شروع ہوتی ہے ۔اس وقت ایک مختصر لڑائی کے بعد بلوچ افغان کے درمیان معاہدے قلات طے پا گیا جسے نان انٹفیرنس یا عدم مداخلت کی ٹریٹی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ اس ٹریٹی کے مطابق بلوچ اور افغان ایک دوسرے کے داخلی معاملات میں مداخلت نہیں کرینگے۔ اس وقت سے بلوچ افغان ایک دوسرے کے ساتھ مختلف جنگوں میں تعاون کرتے آرہے ہیں۔ بلوچ ہیرو نوری نصیر خان نے ایرانیوں کو شکست دینے کے لیے خراسان 1759 کی جنگ میں افغان کی مدد کی انہوں نے پانی پت 1761کی تیسری جنگ میں احمد شاہ کی معاونت کی ۔

وہ بھی بلوچ قوم ہی تھی جس نے 1839 برطانوی فوجوں کو افغانستان پر حملے کے لیے محفوظ راستہ فراہم کرنے سے انکار کیا۔ لہذا برطانیہ نے 13اکتوبر 1839 میں پہلے بلوچستان پر حملہ کیا اور بلوچ حکمران میر محراب خان کو اور اس کے متعدد ساتھیوں کو شہید کیا پھر برطانیہ نے بلوچستان کو تین حصوں میں تقسیم کیا۔ بلوچ قوم نے بھی ڈیورنڈ لائن کو قبول نہیں کیا جو بلوچستان اور افغانستان دونوں ملکوں کو تقیسم کرتا ہے۔ آج بلوچ اور افغان شمال میں پشتوں پاکستانی توسیع پسندی کی وجہ سےاپنی مرضی کے بغیر زبردستی سے اس مصنوعی پاکستان کا حصہ بنائے گیے ہیں ۔پاکستان بلوچ اور پشتون دونوں کودہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر بے دردی سے قتل کر رہا ہے ۔لیکن حققیت میں بلوچ اور پشتونوں کی اپنی الگ شناخت، کلچر اور الگ سر زمین ہے ہمیں دشمن کی شیطانی عزائم کو مٹی میں ملانے کے لیے متحد ہونا ہوگا اور اس غلامی سے چھٹکارہ حاصل کرنا ہوگا۔ پر امن افغانستان کی راہ میں پاکستان سب سے بڑی رکاوٹ ہے افغان سرزمیں پر حالیہ تباہ کاریاں ہو ں یا خیبر پختونخواہ میں ملٹری آپریشنز وہ پشتوں قوم کو غلام بنانے پاکستان شیطانی عزائم کی روشن مثالیں ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے کبھی بھی حقیقی طور پر افغانستان کو ایک آزاد ملک تسلیم نہیں کیا اِسی لئے پاکستان اپنے مذموم عزائم کی تکیمل کے لیے افغانستان میں خون خرابہ ،داخلی معاملات میں مداخلت کو اپنا حق سمجھ رہا ہے۔ میں نے اپنے حالیہ ایک اخباری بیان میں بھی اس کا اظہار کیا تھا یہاں بلوچ اور پشتوں یکجہتی کے دن اِسے مناسب موقع سمجھ کر پھر دہرا ناچاہتا ہوں کہ افغانستان اور اس خطے میں امن کی کنجی آزاد بلوچستان ہے ۔پاکستان نے بلوچستان کو بندوق کی نوک پر قبضہ کیا اور ابھی بلوچ قومی وسائل کو لوٹ کر اپنی دہشت گرد فوج کو مضبوط کر رہا ہے بلوچستان کے دفاعی اہمیت کے پیش نظر پاکستان بلوچ قوم کی تاریخی اتحادی افغانستان اور اس کے خطے کے دوسرے ممالک کے لیے خطرہ بنتا جا رہا ہے ۔ آج بلوچ اور افغان اتحاد کی اشد ضرورت ہے تاکہ وہ پاکستان کی بلوچستان اور افغانستان کے خلاف سازشوں کو ناکام بنا سکیں ۔ اگر افغانوں کو پرامن اور خوشحال افغانستان چاہیے تو انہیں بلوچ قومی تحریک آزادی کی حمایت کریں کیونکہ آزاد بلوچستان کبھی بھی پنجاب سے دہشت گردوں کو افغانستان کے اندر مداخلت اور امن کو تباہ کر نے کی اجازت اور راستہ نہیں دے گا۔ آزاد بلوچستان اور پرامن افغانستان اس خطے میں امن اور استحکام کے لیے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں اور بین الاقوامی برادری کا عالمی دہشت گردی کے خلاف اہم اور مضبوط اتحادی ہوسکتے ہیں۔ اس مشکل گھڑی میں بلوچ اور افغان عوام کو ایک دوسرے کی حمایت اور ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہنا ہوگا۔

بلوچ پشتوں دوستی زندہ باد
افغانستان اور بلوچستان زندہ باد

 

Share on
Previous article

بلوچ نوجوانوں کی تحریک میں جوق در جوق شمولیت حوصلہ افزاء عمل ہے : بشیر زیب بلوچ

NEXT article

پاکستان جہادی کلچر ودہشت گردی کا مرکز و فیکٹری ہے : حیربیار

LEAVE A REPLY

MUST READ

بلوچستان ءِ پلین شهیدان ءَ هزاران سلام

بلوچستان ءِ پلین شهیدان ءَ هزاران سلام

حربه های ضدبشری فاشيسم تماميت خواه پارس در بلوچستان اشغالی

حربه های ضدبشری فاشيسم تماميت خواه پارس در بلوچستان اشغالی

ایرانی قابض حکومت کا بلوچوں کو اقلیت میں تبدیل کرنے کا منصوبہ

ایرانی قابض حکومت کا بلوچوں کو اقلیت میں تبدیل کرنے کا منصوبہ

بلوچ ری پبلکن پارٹی کی جانب سے شاہ شہیداں نواب اکبر بگٹی کی دسویں برسی کی مناسبت سے 26 اگست کو بلوچستان بھر میں شٹر ڈاون اور پہیہ جام ہڑتال کی کال

بلوچ ری پبلکن پارٹی کی جانب سے شاہ شہیداں نواب اکبر بگٹی کی دسویں برسی کی مناسبت سے 26 اگست کو بلوچستان بھر میں شٹر ڈاون اور پہیہ جام ہڑتال کی کال

زمیں کا الَم – نوشین قمبرانی

زمیں کا الَم – نوشین قمبرانی

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے مرکزی چیئرمین زاہد بلوچ(بلوچ خان) اغواء

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے مرکزی چیئرمین زاہد بلوچ(بلوچ خان) اغواء

حادثے میں لانگ مارچ میں شریک دو افراد زخمی

حادثے میں لانگ مارچ میں شریک دو افراد زخمی

بيست و هفتم مارس روزی سياه در تاريــخ بلوچستــــان

بيست و هفتم مارس روزی سياه در تاريــخ بلوچستــــان

مروچی زرینہ مری ءُ مراد مریءَ پرین 3798 روچ انت کہ بیگواہ انت

مروچی زرینہ مری ءُ مراد مریءَ پرین 3798 روچ انت کہ بیگواہ انت

 ایرانءِ بلـوچ دژمنیں “استراتجی” ماں رودراتکی بلوچستانءَ

 ایرانءِ بلـوچ دژمنیں “استراتجی” ماں رودراتکی بلوچستانءَ

گپ و ترانے گون بلوچ جرنلیسٹ واجہ صدیق بلوچ

گپ و ترانے گون بلوچ جرنلیسٹ واجہ صدیق بلوچ

هم اور نوید بلوچ جیسے هزاروں بلوچ خود پاکستانی ریاستی دهشتگری کا شکار هیں – وحید بلوچ برلن جرمنی

هم اور نوید بلوچ جیسے هزاروں بلوچ خود پاکستانی ریاستی دهشتگری کا شکار هیں – وحید بلوچ برلن جرمنی

بر دانش آموزان بلوچ چه می گذرد؟

بر دانش آموزان بلوچ چه می گذرد؟

پرچہ! بلوچستانءِ وانگجاہ آس دیگ بنت؟ گپ و ترانےگون بلوچ احوالکار کیاّ بلوچءَ

پرچہ! بلوچستانءِ وانگجاہ آس دیگ بنت؟ گپ و ترانےگون بلوچ احوالکار کیاّ بلوچءَ

بلوچستان اِشغالی در چنگال خونینِ غارتگران

بلوچستان اِشغالی در چنگال خونینِ غارتگران