پُرامن افغانستان کی راہ میں پاکستان بڑی رکاوٹ ہے : حیربیار

MUST READ

اقوام متحده کی انسانی حقوق کونسل کے 33 ویں اجلاس میں بهارت کا بلوچستان میں انسانی حقوق کی پائیمالی پر پاکستان کو ذمه دار پر بی جے پی کے ترجمان انیل بالونی سے گفتگو

اقوام متحده کی انسانی حقوق کونسل کے 33 ویں اجلاس میں بهارت کا بلوچستان میں انسانی حقوق کی پائیمالی پر پاکستان کو ذمه دار پر بی جے پی کے ترجمان انیل بالونی سے گفتگو

ہندوستان کھل کر بلوچوں کی سیاسی ،سفارتی اور اخلاقی مدد کریں۔ حیر بیار مری

ہندوستان کھل کر بلوچوں کی سیاسی ،سفارتی اور اخلاقی مدد کریں۔ حیر بیار مری

کوئٹہ میں ھزارہ کمونیٹی پر خودکش بم دھماکہ کے سانحہ پر ریڈیو گوانک کی خصوصی گفتگو ھزارہ دموکرااٹیک پاڑٹی کے عبدالخالق کے ساتھ

کوئٹہ میں ھزارہ کمونیٹی پر خودکش بم دھماکہ کے سانحہ پر ریڈیو گوانک کی خصوصی گفتگو ھزارہ دموکرااٹیک پاڑٹی کے عبدالخالق کے ساتھ

بلوچستان کے علاقے تمپ گومازی میں سیکورٹی فورسز کا فوجی آپریشن آغاز – بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن

بلوچستان کے علاقے تمپ گومازی میں سیکورٹی فورسز کا فوجی آپریشن آغاز – بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن

هر کار په بود ءُ هِمّت انت

هر کار په بود ءُ هِمّت انت

پِگــری گُلامـــی – دومی بهر

پِگــری گُلامـــی – دومی بهر

جعلی قوم پرست، سرکاری شریک کار مردم شماری کو اپنے ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرینگے – ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ

جعلی قوم پرست، سرکاری شریک کار مردم شماری کو اپنے ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرینگے – ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ

گپ وتران گون شہید محمد اکبر خان بگٹی ء 20060402 گون ریڈیو بلوچی ایف ایم

گپ وتران گون شہید محمد اکبر خان بگٹی ء 20060402 گون ریڈیو بلوچی ایف ایم

بلــوچ ءِ راجی سرمایہ ءُ مالانی پُل ءُ پانـچ

بلــوچ ءِ راجی سرمایہ ءُ مالانی پُل ءُ پانـچ

Balochistan’s Man in Makran: Optimist, Freedom Fighter, Canary in the Coal Mine

Balochistan’s Man in Makran: Optimist, Freedom Fighter, Canary in the Coal Mine

سپاهِ قُـدس ءُ آی۰ اِس۰ آی ءِ « مذاکـرات » ءِ پنـــدل

سپاهِ قُـدس ءُ آی۰ اِس۰ آی ءِ « مذاکـرات » ءِ پنـــدل

حالیہ نصیرآباد میں بلوچ خواتین اور بچوں کی پاکستانی فوج کی جانب سے اغواه کی شدید مذمت کرتا هوں بے – جی پی کے ترجمان انیل بالونی صاحب

حالیہ نصیرآباد میں بلوچ خواتین اور بچوں کی پاکستانی فوج کی جانب سے اغواه کی شدید مذمت کرتا هوں بے – جی پی کے ترجمان انیل بالونی صاحب

بلوچستان ضرور آزاد ھوگا شکست ظالم فوج کے مقدر میں لکھی ھے بلوچ قائد حیربیارمری

بلوچستان ضرور آزاد ھوگا شکست ظالم فوج کے مقدر میں لکھی ھے بلوچ قائد حیربیارمری

اقوام متحدہ، عالمی طاقتوں کی خاموشی بلوچ قوم کی لسانی اور ثقافتی نسل کشی کا باعث بن رہی ہے – ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ

اقوام متحدہ، عالمی طاقتوں کی خاموشی بلوچ قوم کی لسانی اور ثقافتی نسل کشی کا باعث بن رہی ہے – ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ

قومی آزادی پر مذاکرات کوئی فرد یا ایک جماعت نہیں کر سکتا ہے بلکہ تمام آزادی پسند قوتیں قوم کو اعتماد میں لے کر ہی فیصلہ کرسکیں گے- حیر بیار مری

قومی آزادی پر مذاکرات کوئی فرد یا ایک جماعت نہیں کر سکتا ہے بلکہ تمام آزادی پسند قوتیں قوم کو اعتماد میں لے کر ہی فیصلہ کرسکیں گے- حیر بیار مری

پُرامن افغانستان کی راہ میں پاکستان بڑی رکاوٹ ہے : حیربیار

2020-03-26 10:26:48
Share on

 بلوچ قوم دوست رہنما حیربیار مری نے بلوچ پشتون یکجہتی کے حوالے سے کابل میں منعقدہ پروکرام میں اپنے پیغام میں کہا کہ بلوچ اور افغان ہمیشہ سے پر امن طور پررہے اور ضرورت کے وقت ایک دوسرے کی مدد کرتے رہے ہیں بلوچ اور افغان کی پر امن اور برادارانہ تاریخ نوری نصیرخان اور احمد شاہ ابدالی کے دور سے شروع ہوتی ہے ۔اس وقت ایک مختصر لڑائی کے بعد بلوچ افغان کے درمیان معاہدے قلات طے پا گیا جسے نان انٹفیرنس یا عدم مداخلت کی ٹریٹی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ اس ٹریٹی کے مطابق بلوچ اور افغان ایک دوسرے کے داخلی معاملات میں مداخلت نہیں کرینگے۔ اس وقت سے بلوچ افغان ایک دوسرے کے ساتھ مختلف جنگوں میں تعاون کرتے آرہے ہیں۔ بلوچ ہیرو نوری نصیر خان نے ایرانیوں کو شکست دینے کے لیے خراسان 1759 کی جنگ میں افغان کی مدد کی انہوں نے پانی پت 1761کی تیسری جنگ میں احمد شاہ کی معاونت کی ۔

وہ بھی بلوچ قوم ہی تھی جس نے 1839 برطانوی فوجوں کو افغانستان پر حملے کے لیے محفوظ راستہ فراہم کرنے سے انکار کیا۔ لہذا برطانیہ نے 13اکتوبر 1839 میں پہلے بلوچستان پر حملہ کیا اور بلوچ حکمران میر محراب خان کو اور اس کے متعدد ساتھیوں کو شہید کیا پھر برطانیہ نے بلوچستان کو تین حصوں میں تقسیم کیا۔ بلوچ قوم نے بھی ڈیورنڈ لائن کو قبول نہیں کیا جو بلوچستان اور افغانستان دونوں ملکوں کو تقیسم کرتا ہے۔ آج بلوچ اور افغان شمال میں پشتوں پاکستانی توسیع پسندی کی وجہ سےاپنی مرضی کے بغیر زبردستی سے اس مصنوعی پاکستان کا حصہ بنائے گیے ہیں ۔پاکستان بلوچ اور پشتون دونوں کودہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر بے دردی سے قتل کر رہا ہے ۔لیکن حققیت میں بلوچ اور پشتونوں کی اپنی الگ شناخت، کلچر اور الگ سر زمین ہے ہمیں دشمن کی شیطانی عزائم کو مٹی میں ملانے کے لیے متحد ہونا ہوگا اور اس غلامی سے چھٹکارہ حاصل کرنا ہوگا۔ پر امن افغانستان کی راہ میں پاکستان سب سے بڑی رکاوٹ ہے افغان سرزمیں پر حالیہ تباہ کاریاں ہو ں یا خیبر پختونخواہ میں ملٹری آپریشنز وہ پشتوں قوم کو غلام بنانے پاکستان شیطانی عزائم کی روشن مثالیں ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے کبھی بھی حقیقی طور پر افغانستان کو ایک آزاد ملک تسلیم نہیں کیا اِسی لئے پاکستان اپنے مذموم عزائم کی تکیمل کے لیے افغانستان میں خون خرابہ ،داخلی معاملات میں مداخلت کو اپنا حق سمجھ رہا ہے۔ میں نے اپنے حالیہ ایک اخباری بیان میں بھی اس کا اظہار کیا تھا یہاں بلوچ اور پشتوں یکجہتی کے دن اِسے مناسب موقع سمجھ کر پھر دہرا ناچاہتا ہوں کہ افغانستان اور اس خطے میں امن کی کنجی آزاد بلوچستان ہے ۔پاکستان نے بلوچستان کو بندوق کی نوک پر قبضہ کیا اور ابھی بلوچ قومی وسائل کو لوٹ کر اپنی دہشت گرد فوج کو مضبوط کر رہا ہے بلوچستان کے دفاعی اہمیت کے پیش نظر پاکستان بلوچ قوم کی تاریخی اتحادی افغانستان اور اس کے خطے کے دوسرے ممالک کے لیے خطرہ بنتا جا رہا ہے ۔ آج بلوچ اور افغان اتحاد کی اشد ضرورت ہے تاکہ وہ پاکستان کی بلوچستان اور افغانستان کے خلاف سازشوں کو ناکام بنا سکیں ۔ اگر افغانوں کو پرامن اور خوشحال افغانستان چاہیے تو انہیں بلوچ قومی تحریک آزادی کی حمایت کریں کیونکہ آزاد بلوچستان کبھی بھی پنجاب سے دہشت گردوں کو افغانستان کے اندر مداخلت اور امن کو تباہ کر نے کی اجازت اور راستہ نہیں دے گا۔ آزاد بلوچستان اور پرامن افغانستان اس خطے میں امن اور استحکام کے لیے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں اور بین الاقوامی برادری کا عالمی دہشت گردی کے خلاف اہم اور مضبوط اتحادی ہوسکتے ہیں۔ اس مشکل گھڑی میں بلوچ اور افغان عوام کو ایک دوسرے کی حمایت اور ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہنا ہوگا۔

بلوچ پشتوں دوستی زندہ باد
افغانستان اور بلوچستان زندہ باد

 

Share on
Previous article

بلوچ نوجوانوں کی تحریک میں جوق در جوق شمولیت حوصلہ افزاء عمل ہے : بشیر زیب بلوچ

NEXT article

پاکستان جہادی کلچر ودہشت گردی کا مرکز و فیکٹری ہے : حیربیار

LEAVE A REPLY