کراچی پر یس کلب کے سامنے بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کا احتجاجی مظاہرہ

کراچی پر یس کلب کے سامنے بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کا احتجاجی مظاہرہ

2020-03-26 15:26:46
Share on

Thursday, July 24, 2014
بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن نے آج کراچی پریس کلب کے سامنے بلوچستان میں جاری آپریشن کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے میں کثیر تعداد میں مرد خواتین اور بچے شامل تھے۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے جن پر بلوچستان میں ہونے والے انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں اور جاری آپریشن کے خلاف نعرے درج تھے۔ اس موقع پر مظاھرین نعرے بازی بھی کرتے رہے اور بلوچستان میں جاری آپریشن کے ساتھ ساتھ بلوچ خواتین پر تیزاب پھینکنے جیسے واقعات کے روک تھام کی اپیل بھی کرتے رہے ۔اس موقع پر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں فوجی آپریشنوں ، بلوچوں کے اغواءو قتل اور سول آبادیوں پر فضائی و زمینی حملوں کی شدت میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔صرف اس سال بلوچستان کے علاقے ڈیرہ بگٹی ، صحبت پور ، نصیر آباد ، بارکھان ، کوہلو ، کاہان ، کوئٹہ ، نیو کاہان ، مستونگ ، اسپلنجی ، قلات ، دشت گوران ، خضدار ، پنجگور ، پروم ، مشکے ، آواران ، جاو ، ڈنڈار ، پیدارک ، شاپک ، سامی ، ہیرونک ، تربت ، پسنی اور گوادر میں آپریشن کے دوران کئی نہتے معصوم شہری شہید اور درجنوں لاپتہ کیئے جاچکے ہیں ۔ اس دوران بستیوں کے بستی جلا کر خاکستر کرنے کے ساتھ ساتھ فضائی بمباری کے زد میں آکر غریب بلوچوں کے مال مویشی بھی ہلاک ہوچکے ہیں ، ڈیرہ بگٹی میں تو کھڑی فصلوں کو بھی آگ لگادیا گیا ہے ۔ گذشتہ دن خضدار میں سرچ آپریشنوں کے نام پر سات بلوچ فرزندوں کو اغواءکیا گیا ہے جن میں سے غضنفر بلوچ لاپتہ مشتاق بلوچ کا بھائی اور باقی شہید منیر بلوچ کے خاندان کے افراد شامل ہیں ۔معصوم لوگوں کے اٹھانے کا سلسلہ آج ہی خاران کے مین بازار سے تین بلوچ فرزندوں کو اٹھانے کی شکل میں جاری رہا انہیں فورسز نے اغواءکرکے اپنے ساتھ لے گئے۔ اسی طرح ظلم و ستم کا سلسلہ بلوچ خواتین پر بھی ڈھایا جارہا ہے کوئٹہ اور مستونگ میں دو مختلف واقعات کے دوران پانچ بلوچ خواتین کے چہروں پر تیزاب چھڑک کر انہیں جھلسا دیا گیا ، ان واقعات میں بھی ریاستی معاونت کے حامل مذہبی شدت پسند ملوث ہیں جو عرصہ دراز سے ڈیتھ اسکواڈز کے صورت میں بلوچ سیاسی کارکنوں کے قتل عام میں شریک جرم رہے ہیں ۔ مقررین نے مزید کہا کہ بلوچستان میں معصوم لوگوں کو ماورائے قانون و ماورائے عدالت گرفتار کرکے تشدد کا نشانہ بناکر قتل کرکے ان کی مسخ شدہ لاشیں پھینکنے اور آئے روز جنگی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے بلوچ آبادیوں پر بمباری کرنے جیسے واقعات اب معمول بن چکے ہیں ۔ اس دوران عالمی انسانی حقوق ، شہری حقوق اور جنگی قوانین کی بد ترین خلاف ورزی کی جاتی ہےں ، لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ اس موضوع پر نا کسی عالمی انسانی حقوق نے اور نا ہی میڈیا نے کبھی لب کشائی کی ہے ۔ بلوچستان کے اس سنجیدہ انسانی حقوق کے مسئلے کو اس طرح نظر انداز کرنا یقینا انہیں مزید موقع دینے کے مترادف ہے ۔ مقررین نے مزید کہا کہ ہم اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے تمام متعلقہ اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بلوچستان کے سنجیدہ انسانی مسئلہ پر خاموش ہونے کے بجائے اس کا نوٹس لیں اور مرتب شدہ عالمی قوانین کے رو سے عملی اقدامات اٹھائیں ۔ قوانین اور انسانی حقوق کے بلند بانگ دعوے تب تک بے معنی ہیں جب تک کے ان پر عمل کرکے عام لوگوں کو ان سے فائدہ نہیں پہنچایاجاتا ۔ بلوچستان میں عالمی اداروں کے 66 سالہ غفلت کی وجہ سے آج بلوچستان میں انسانی حقوق کا مسئلہ ایک سنگین شکل اختیار کرچکا ہے اب اگر مزید اس مسئلے کو نظر انداز کیا گیا تو یہ ایک شدید انسانی بحران کی شکل اختیار کرکے اس پورے خطے کو اپنے لپیٹ میں لے سکتا ہے پھر اس کے اثرات سے نا صرف ہمسایہ ممالک بلکہ یہ پورا خطہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے گا ۔
بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن

Share on
Previous article

ہم غلام ہیں،مسخ شدہ لاشیں ملنے کے ساتھ بلوچ عورتوں پر تیزاب پھینکنے کا سلسلہ پاکستانی فوج ایجنسیوں کی بوکھلاہٹ کا ثبوت ہیں بلوچ قوم دوست رہنما حیربیار مری

NEXT article

بلوچستان میں انسانی حقوقوں کی پائیمالی کے خلاف انڈیا سے بی جی پی کے ترجمان انیل بالونی صاحب سے گفتگو – ریڈیو حال

LEAVE A REPLY

MUST READ

ایران کی جانب سے بلوچستان کے نام کی تبدیلی کی کوششوں کا پر زور الفاظ میں مذمت کرتاہوں۔ حیر بیار مری

ایران کی جانب سے بلوچستان کے نام کی تبدیلی کی کوششوں کا پر زور الفاظ میں مذمت کرتاہوں۔ حیر بیار مری

بلــوچ هُـــژّار

بلــوچ هُـــژّار

راهی بجز دفاع از موجودیت ملی و آزادی بلوچستــان باقی نمانده است

راهی بجز دفاع از موجودیت ملی و آزادی بلوچستــان باقی نمانده است

راسیستی سیاست ءُ کارکِردءِ یک دَروَرے

راسیستی سیاست ءُ کارکِردءِ یک دَروَرے

واجہ شھید پروفیسر صبا دشیاريءِ 26 اگست 2009ءَ بلوچستان لیبریش چارٹر ءُ آھيءِ رھدربريءِ بابتءَ تران

واجہ شھید پروفیسر صبا دشیاريءِ 26 اگست 2009ءَ بلوچستان لیبریش چارٹر ءُ آھيءِ رھدربريءِ بابتءَ تران

Mr. Aziz Baloch coordinator of Voice for Baloch missing persons in canada talking about mass grave in balochistan with co-op Radio

Mr. Aziz Baloch coordinator of Voice for Baloch missing persons in canada talking about mass grave in balochistan with co-op Radio

واجه عبدالصمد امیریءِ تپاکیءِ پیغام پا بلوچ راجءَ

واجه عبدالصمد امیریءِ تپاکیءِ پیغام پا بلوچ راجءَ

هجوم لشکر تمدن ستیز خامنه ای و العبادی به کوردستان مستقل

هجوم لشکر تمدن ستیز خامنه ای و العبادی به کوردستان مستقل

بلوچ قوم دوست رھنما حیر بیار مری 15 مئی 2013 کو بلوچ کمیونٹی اوسلو نوروے کے استقبالیہ جلسہ سے خطاب

بلوچ قوم دوست رھنما حیر بیار مری 15 مئی 2013 کو بلوچ کمیونٹی اوسلو نوروے کے استقبالیہ جلسہ سے خطاب

کچھ کو ترجیج دینا اور دوسروں کو نظر انداز کرنا یو ین کے مقصد پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ حیربیار مری

کچھ کو ترجیج دینا اور دوسروں کو نظر انداز کرنا یو ین کے مقصد پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ حیربیار مری

شھید الیاس نزرءِ ماتءِ کلوّہ

شھید الیاس نزرءِ ماتءِ کلوّہ

بالاچ راجءِ دپتران مدام زندگ انت

بالاچ راجءِ دپتران مدام زندگ انت

گرامی باد خاطرهٔ قربانیان مذاکره با حکام مرکزی ایران

گرامی باد خاطرهٔ قربانیان مذاکره با حکام مرکزی ایران

یو این کو دنیا بھر میں کہیں بھی ناانصافی کے خلاف خاموش نہیں ہونا چاہیے۔ حیربیار مری

یو این کو دنیا بھر میں کہیں بھی ناانصافی کے خلاف خاموش نہیں ہونا چاہیے۔ حیربیار مری

گپ و تران گون وائس فار بلوچ میسنگ پرسنزءِ وائس چیرمین واجہ قدیر بلوچءَ

گپ و تران گون وائس فار بلوچ میسنگ پرسنزءِ وائس چیرمین واجہ قدیر بلوچءَ