کراچی پر یس کلب کے سامنے بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کا احتجاجی مظاہرہ

MUST READ

ملت پارس به آفت نژاد پرستی مبتلاست

ملت پارس به آفت نژاد پرستی مبتلاست

بر دانش آموزان بلـوچ چه می گـذرد؟ بخش پنجـم

بر دانش آموزان بلـوچ چه می گـذرد؟ بخش پنجـم

سپاهِ قُـدس ءُ آی۰ اِس۰ آی ءِ « مذاکـرات » ءِ پنـــدل

سپاهِ قُـدس ءُ آی۰ اِس۰ آی ءِ « مذاکـرات » ءِ پنـــدل

بلـــوچ گلزميــــن ءِ انــــداز ءُ سيمســـراں

بلـــوچ گلزميــــن ءِ انــــداز ءُ سيمســـراں

گپ و ترانے گون بلوچ اسٹوڈنس ایکشن کمیٹیءِ سروک ڈاکٹر ابابگر بلوچءَ بلوچستانءِ وانگی جیڑاهانی سرا

گپ و ترانے گون بلوچ اسٹوڈنس ایکشن کمیٹیءِ سروک ڈاکٹر ابابگر بلوچءَ بلوچستانءِ وانگی جیڑاهانی سرا

تلاش غربی ها برای جلوگیری از فروپاشی ایران

تلاش غربی ها برای جلوگیری از فروپاشی ایران

سفارت کاری ، بلوچ تحریک کی اہم ضرورت – کریمہ بلوچ

سفارت کاری ، بلوچ تحریک کی اہم ضرورت – کریمہ بلوچ

درماندگی فاشیسم تمامیت خواه پارس

درماندگی فاشیسم تمامیت خواه پارس

بيست و هفتم مارس روزی سياه در تاريخ بلوچستــان – محمــد کـريــم بلــوچ

بيست و هفتم مارس روزی سياه در تاريخ بلوچستــان – محمــد کـريــم بلــوچ

بلوچستان کی آزادی سے ہمسایہ ممالک میں پاکستانی دخل اندازی کم ہوگا: حیربیار مری

بلوچستان کی آزادی سے ہمسایہ ممالک میں پاکستانی دخل اندازی کم ہوگا: حیربیار مری

وه جو روشنی کی کوشان میں تاریک راتوں میں مارے گئے – ک ب فراق

وه جو روشنی کی کوشان میں تاریک راتوں میں مارے گئے – ک ب فراق

درماندگی فاشیسم تمامیت خواه پارس

درماندگی فاشیسم تمامیت خواه پارس

آزادی پسند تنظیموں کی اتحاد

آزادی پسند تنظیموں کی اتحاد

شاهرودی مسئول اعدام صدها بلوچ است

شاهرودی مسئول اعدام صدها بلوچ است

ڈاکٹرحنیف شریف

ڈاکٹرحنیف شریف

کراچی پر یس کلب کے سامنے بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کا احتجاجی مظاہرہ

2020-03-27 12:20:34
Share on

Thursday, July 24, 2014
بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن نے آج کراچی پریس کلب کے سامنے بلوچستان میں جاری آپریشن کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے میں کثیر تعداد میں مرد خواتین اور بچے شامل تھے۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے جن پر بلوچستان میں ہونے والے انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں اور جاری آپریشن کے خلاف نعرے درج تھے۔ اس موقع پر مظاھرین نعرے بازی بھی کرتے رہے اور بلوچستان میں جاری آپریشن کے ساتھ ساتھ بلوچ خواتین پر تیزاب پھینکنے جیسے واقعات کے روک تھام کی اپیل بھی کرتے رہے ۔اس موقع پر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں فوجی آپریشنوں ، بلوچوں کے اغواءو قتل اور سول آبادیوں پر فضائی و زمینی حملوں کی شدت میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔صرف اس سال بلوچستان کے علاقے ڈیرہ بگٹی ، صحبت پور ، نصیر آباد ، بارکھان ، کوہلو ، کاہان ، کوئٹہ ، نیو کاہان ، مستونگ ، اسپلنجی ، قلات ، دشت گوران ، خضدار ، پنجگور ، پروم ، مشکے ، آواران ، جاو ، ڈنڈار ، پیدارک ، شاپک ، سامی ، ہیرونک ، تربت ، پسنی اور گوادر میں آپریشن کے دوران کئی نہتے معصوم شہری شہید اور درجنوں لاپتہ کیئے جاچکے ہیں ۔ اس دوران بستیوں کے بستی جلا کر خاکستر کرنے کے ساتھ ساتھ فضائی بمباری کے زد میں آکر غریب بلوچوں کے مال مویشی بھی ہلاک ہوچکے ہیں ، ڈیرہ بگٹی میں تو کھڑی فصلوں کو بھی آگ لگادیا گیا ہے ۔ گذشتہ دن خضدار میں سرچ آپریشنوں کے نام پر سات بلوچ فرزندوں کو اغواءکیا گیا ہے جن میں سے غضنفر بلوچ لاپتہ مشتاق بلوچ کا بھائی اور باقی شہید منیر بلوچ کے خاندان کے افراد شامل ہیں ۔معصوم لوگوں کے اٹھانے کا سلسلہ آج ہی خاران کے مین بازار سے تین بلوچ فرزندوں کو اٹھانے کی شکل میں جاری رہا انہیں فورسز نے اغواءکرکے اپنے ساتھ لے گئے۔ اسی طرح ظلم و ستم کا سلسلہ بلوچ خواتین پر بھی ڈھایا جارہا ہے کوئٹہ اور مستونگ میں دو مختلف واقعات کے دوران پانچ بلوچ خواتین کے چہروں پر تیزاب چھڑک کر انہیں جھلسا دیا گیا ، ان واقعات میں بھی ریاستی معاونت کے حامل مذہبی شدت پسند ملوث ہیں جو عرصہ دراز سے ڈیتھ اسکواڈز کے صورت میں بلوچ سیاسی کارکنوں کے قتل عام میں شریک جرم رہے ہیں ۔ مقررین نے مزید کہا کہ بلوچستان میں معصوم لوگوں کو ماورائے قانون و ماورائے عدالت گرفتار کرکے تشدد کا نشانہ بناکر قتل کرکے ان کی مسخ شدہ لاشیں پھینکنے اور آئے روز جنگی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے بلوچ آبادیوں پر بمباری کرنے جیسے واقعات اب معمول بن چکے ہیں ۔ اس دوران عالمی انسانی حقوق ، شہری حقوق اور جنگی قوانین کی بد ترین خلاف ورزی کی جاتی ہےں ، لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ اس موضوع پر نا کسی عالمی انسانی حقوق نے اور نا ہی میڈیا نے کبھی لب کشائی کی ہے ۔ بلوچستان کے اس سنجیدہ انسانی حقوق کے مسئلے کو اس طرح نظر انداز کرنا یقینا انہیں مزید موقع دینے کے مترادف ہے ۔ مقررین نے مزید کہا کہ ہم اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے تمام متعلقہ اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بلوچستان کے سنجیدہ انسانی مسئلہ پر خاموش ہونے کے بجائے اس کا نوٹس لیں اور مرتب شدہ عالمی قوانین کے رو سے عملی اقدامات اٹھائیں ۔ قوانین اور انسانی حقوق کے بلند بانگ دعوے تب تک بے معنی ہیں جب تک کے ان پر عمل کرکے عام لوگوں کو ان سے فائدہ نہیں پہنچایاجاتا ۔ بلوچستان میں عالمی اداروں کے 66 سالہ غفلت کی وجہ سے آج بلوچستان میں انسانی حقوق کا مسئلہ ایک سنگین شکل اختیار کرچکا ہے اب اگر مزید اس مسئلے کو نظر انداز کیا گیا تو یہ ایک شدید انسانی بحران کی شکل اختیار کرکے اس پورے خطے کو اپنے لپیٹ میں لے سکتا ہے پھر اس کے اثرات سے نا صرف ہمسایہ ممالک بلکہ یہ پورا خطہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے گا ۔
بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن


Share on
Previous article

ہم غلام ہیں،مسخ شدہ لاشیں ملنے کے ساتھ بلوچ عورتوں پر تیزاب پھینکنے کا سلسلہ پاکستانی فوج ایجنسیوں کی بوکھلاہٹ کا ثبوت ہیں بلوچ قوم دوست رہنما حیربیار مری

NEXT article

دو دانک ” شورای دمکراسی خواهان ایران” ءِ باروا

LEAVE A REPLY