کراچی کے بلوچ پاکستانی سیاست کی فریب سے خود کو آزاد کریں :حیربیار مری

کراچی کے بلوچ پاکستانی سیاست کی فریب سے خود کو آزاد کریں :حیربیار مری

2020-03-30 13:24:38
Share on

لندن / بلوچ قوم دوست رہنما حیربیار مری نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ 68 سالوں سےبلوچ قوم پاکستانی ظلم جبر اور زیادتی کا شکار ہے ،بلوچ قوم کے خلاف جابر اور غیر مہذب پاکستانی فوج بڑے پیمانہ پر جنگی جہاز اور اپنی فضائیہ استعمال کررہا ہے ،بلوچ ہر جگہ پاکستانی وحشت اور بربریت کا نشانہ بنے ہوئے ہیں ،ویسے ہی کراچی میں رہنے والے بلوچ بھی پاکستانی ظلم جبر اور زوراکی سے محفوظ نہیں ہیں جہاں انھیں پیپلز پارٹی اور پاکستانی سیاست دانوں نے قابض کے ایجنڈے کے تحت بلوچ جدوجہد آزادی ، تعلیم ،صحت اور کھیل سے دور کرکے منشیات کا عادی بنانے کے ساتھ ساتھ ،گینگ وار میں جھونک دیا اور پاکستانی فوج کی ہدایت پر گینگ وار کے نام پر کراچی میں قومی جدوجہد آزادی سے منسلک اور کراچی میں بلوچوں کے آواز بن کر ابھرنے والے تمام قوم دوست ،تعلیم یافتہ لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ برطانوی سامراج نے جب بلوچ علاقوں پر قبضہ کرنا شروع کیا تب کراچی کے بلوچ سپوتوں نے اپنی آزادی کو برقرار رکھنے کے لیے مزاحمت کا راستہ اپنایا اس کی واضع مثال چاکر نوتک کی جدوجہد ہے جس کو بلوچ سرزمین کی دفاع کے جرم میں کراچی میں پھانسی دی گئی۔ حیربیار مری نے مزید کہا کہ پاکستانی میڈیا کراچی میں مقیم بلوچ عوام کو ہمیشہ غیر مہذب اور اپنے پیدا کردہ گینگ وار سے جوڑ کر بلوچ تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کرتی ہے۔کراچی کے مقامی بلوچوں کی تہذیب ، طاقت اور ترقی کی تاریخ آج بھی چوکنڈی کے قبرستان سے جھلکتی ہے جسے آسانی سے مسخ کرنا ممکن نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی اپنے الیکشن اور ووٹ کی خاطر غلط طریقہ سے بلوچوں کو استعمال کرتے ہوئے بلوچی قاعدے اور اقدار تبدیل کرنے پر تلہ ہوا ہے ، کراچی کے بلوچوں کا حقیقی راستہ وہی ہے جس پر صبا دشتیاری ، ستار بلوچ ،شفع بلوچ،سمیت بہت سے دوسرے بلوچ گامزن تھے۔ کراچی کے یہ بلوچ آج بلوچ قومی آزادی کے علامت بن چکے ہیں جو پاکستانی قبضہ کے خلاف آخری دم تک ڈٹے رہے اور قومی آزادی کا پرچار کرتے رہے ۔ حیربیار مری نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں بلوچ کارکنوں اور رہنماوں کو شہید کرنے کے لیے مارو اور پھینک دو پالیسی اختیار کی گئی جس کے ذریعے چن چن کر بلوچ نوجوانوں کو قتل کیا گیا ۔وہی تسلسل ابھی تک جاری ہے ، بلوچ نوجوانوں کو اٹھا کر غائب کیا جار ہا ہے ان کی مسخ لاشیں پھینکی جارہی ہے ۔ اب تو پاکستانی فوج نے بلوچ عزت و آبرو پر ہاتھ ڈالنا شروع کیا ۔ پاکستانی فوج بلوچستان کے کونے کونے سے بلوچ خواتین کو اغوا کر رہی ہے جس کی تازہ مثال بولان میں پاکستانی فوج کے ہاتھوں بلوچ خواتین کی اغوا ہے۔

بلوچ قوم نے اگر پاکستانی فوج کے اس عمل کا راستہ نہیں روکا تو کل بلوچستان میں کسی کا بھی عزت و آبرو محفوظ نہیں ہوگا۔ بلوچ رہنما نے کہا کراچی کے بلوچ پیپلز پارٹی اور پاکستانی سیاست دانوں کے فریب سے خود کو آزاد کرکے اپنی قومی شناخت، الگ پہچان کی خاطر قومی جدوجہد آزادی کے کارواں کا ساتھی بنیں اور اپنی طاقت قوت اور صلاحتیں پیپلزپارٹی کے بجائے بلوچ قومی جدوجہد کی کامیابی کی خاطر صرف کریں کیونکہ بلوچ قوم کی سربلندی اور کامیابی میں تمام بلوچوں کی کامیابی ہے وہ پیپلز پارٹی کس طرح بلوچوں کا ہمدرد بن سکتا ہے کہ جس کے بانی نے 1973-1978میں بلوچستان میں فوجی آپریشن کیا اور ہزاروں بلوچ فرزندوں کو قتل کروایا۔ کراچی میں بلوچوں کے ساتھ ہمیشہ سے تیسرے درجے کی شہری کا سلوک کیا جاتا ہے ۔ اس لیے اب کراچی کے بلوچ عوام حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے خود کو پیپلز پارٹی کے اثرو رسوخ سے نکال کر اپنی قومی شناخت کی خاطر بلوچ قومی جدوجہد کا زیادہ سے زیادہ حصہ بنیں تاکہ بلوچ قوم کو قومی غلامی ،غربت،بھوک وافلاس اور بے تعلیمی جیسے قابض کی طرف سے پھیلائی گئی مہلک امراض سے شفا اور نجات مل سکے اور وہ اپنی قومی شناخت کو بچاسکیں۔

Share on
Previous article

کوردستـــان ءِ پلیـــں شهیـــدان ءَ هـــزاراں ســـــلام

NEXT article

شگرد انتخاباتی روحانی و اهداف پشت پرده آن

LEAVE A REPLY

MUST READ

بلوچ قوم دوست رہنما حیربیار مری نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ آوارن میں بلوچ فرزندوں پر پاکستانی فورسز کی جانب سے حملہ اور اسے مذہبی رنگ دینا بلوچستان میں پاکستانی فوج کی شکست اور بوکھلاہٹ کو ظا ہر کرتا ہے ان میں اتنا غیرت بھی نہیں ہے

بلوچ قوم دوست رہنما حیربیار مری نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ آوارن میں بلوچ فرزندوں پر پاکستانی فورسز کی جانب سے حملہ اور اسے مذہبی رنگ دینا بلوچستان میں پاکستانی فوج کی شکست اور بوکھلاہٹ کو ظا ہر کرتا ہے ان میں اتنا غیرت بھی نہیں ہے

نوکترین حال

نوکترین حال

حمايـت از بزرگمـرد بلوچستــان آقای قديـربلـوچ وکاروان آزادی

حمايـت از بزرگمـرد بلوچستــان آقای قديـربلـوچ وکاروان آزادی

سویڈن میں 1998 کو بلوچستان میں چاغی کے پہاڑوں میں جوہری ہتھیاروں کا تجربہ کے خلاف آگاہی مہم

سویڈن میں 1998 کو بلوچستان میں چاغی کے پہاڑوں میں جوہری ہتھیاروں کا تجربہ کے خلاف آگاہی مہم

گلزمين ءِ راجی کماش واجه خيربخش مری نميران بوت

گلزمين ءِ راجی کماش واجه خيربخش مری نميران بوت

بلوچستان میں انسانی حقوقوں کی پائیمالی کے خلاف انڈیا سے بی جی پی کے ترجمان انیل بالونی صاحب سے گفتگو – ریڈیو حال

بلوچستان میں انسانی حقوقوں کی پائیمالی کے خلاف انڈیا سے بی جی پی کے ترجمان انیل بالونی صاحب سے گفتگو – ریڈیو حال

دہشت گردی کا مرکز پاکستان جیسے انتہا پسند ممالک ہیں : حیر بیار مری

دہشت گردی کا مرکز پاکستان جیسے انتہا پسند ممالک ہیں : حیر بیار مری

آزات ءُ آباد بات گنجيــں بلوچستــان

آزات ءُ آباد بات گنجيــں بلوچستــان

ایک آزاد سیکولر اورجمہوری ریاست بلوچستان خطےکے امن و ترقی ودنیا میں دہشتگردی کےخاتمے کیلئے لالزمی ہوچکا ہے – بی جی پی کےترجمان انیل بالونی

ایک آزاد سیکولر اورجمہوری ریاست بلوچستان خطےکے امن و ترقی ودنیا میں دہشتگردی کےخاتمے کیلئے لالزمی ہوچکا ہے – بی جی پی کےترجمان انیل بالونی

واکنش مسئولانه مردمی به درگیری بین بی۰ ال۰ اف و جیش العدل

واکنش مسئولانه مردمی به درگیری بین بی۰ ال۰ اف و جیش العدل

شهید ڈاکٹر منانءَ سلح بندین جهدءِ کمانڈر گواشگ سرفراز بگثیءِ نازانتی انت – حمل حیدر

شهید ڈاکٹر منانءَ سلح بندین جهدءِ کمانڈر گواشگ سرفراز بگثیءِ نازانتی انت – حمل حیدر

وه جو روشنی کی کوشان میں تاریک راتوں میں مارے گئے – ک ب فراق

وه جو روشنی کی کوشان میں تاریک راتوں میں مارے گئے – ک ب فراق

واگذاری کنترل بخشی ازمرز سراوان به نيروی تروريستی قدس

واگذاری کنترل بخشی ازمرز سراوان به نيروی تروريستی قدس

اگربلوچ قیادت منتشر رہی توقومی تحریک آزادی دنیاکے توجہ سے محروم رہے گی:عبدالستار پُردلی

اگربلوچ قیادت منتشر رہی توقومی تحریک آزادی دنیاکے توجہ سے محروم رہے گی:عبدالستار پُردلی

هجوم وحشيانه قشـون پارس و اشغال بلوچستان در سـال ۱۳۰۷ هجـری شمسـی

هجوم وحشيانه قشـون پارس و اشغال بلوچستان در سـال ۱۳۰۷ هجـری شمسـی