گروہی سوچ اور منتشر بلوچ قوت – اداریہ

MUST READ

آزادی پسند تنظیموں کی اتحاد

آزادی پسند تنظیموں کی اتحاد

مساحــت بلوچستــــان اشغالــــی

مساحــت بلوچستــــان اشغالــــی

آزاد بلوچستان کی جنگ سب بلوچوں کو ملکر لڑنی هونگی – بی جے پی کے ترجمان انیل بالونی

آزاد بلوچستان کی جنگ سب بلوچوں کو ملکر لڑنی هونگی – بی جے پی کے ترجمان انیل بالونی

هجوم وحشيانه قشـون پارس و اشغال بلوچستان در سـال ۱۳۰۷ هجـری شمسـی

هجوم وحشيانه قشـون پارس و اشغال بلوچستان در سـال ۱۳۰۷ هجـری شمسـی

بولانءَ پاکستانی فوجءِ آپریشن انگت برجم انت – ریڈیو حال

بولانءَ پاکستانی فوجءِ آپریشن انگت برجم انت – ریڈیو حال

سلگتا بلوچستان اور اقوام متحدہ کی خاموشی ؟……ڈاکٹر منان بلوچ

سلگتا بلوچستان اور اقوام متحدہ کی خاموشی ؟……ڈاکٹر منان بلوچ

گزشته مہنے نومبر کو ردیگ مند ایرانی سرحد پر دو جگه بارودی سرنگ پٹنهے سے 8 بلوچوں کں موت واقع هوئی هے

گزشته مہنے نومبر کو ردیگ مند ایرانی سرحد پر دو جگه بارودی سرنگ پٹنهے سے 8 بلوچوں کں موت واقع هوئی هے

ماتی زبان – کارینا جهانی

ماتی زبان – کارینا جهانی

روز شهــدای بلوچستـان گرامـی باد

روز شهــدای بلوچستـان گرامـی باد

پِگــری گُلامــی – محمد کريم بلــوچ

پِگــری گُلامــی – محمد کريم بلــوچ

دو دانک ” شورای دمکراسی خواهان ایران” ءِ باروا

دو دانک ” شورای دمکراسی خواهان ایران” ءِ باروا

زوراکیانی-آماچ-یعقوب-مھر-نہاد

زوراکیانی-آماچ-یعقوب-مھر-نہاد

‫عبد الرئوف ریگی ترورشد

‫عبد الرئوف ریگی ترورشد

بلوچستان کی آذادی کے علاوہ کسی اور نقطے پر پاکستان سے کسی قسم کے مزاکرات نہیں ہوسکتے۔ نوابزادہ حیر بیار مری

بلوچستان کی آذادی کے علاوہ کسی اور نقطے پر پاکستان سے کسی قسم کے مزاکرات نہیں ہوسکتے۔ نوابزادہ حیر بیار مری

پاکستان وایران کا بلوچ قومی جہد کے خلاف ہمیشہ سے ایک قریبی تعاون رہا ہے:حیربیارمری

پاکستان وایران کا بلوچ قومی جہد کے خلاف ہمیشہ سے ایک قریبی تعاون رہا ہے:حیربیارمری

گروہی سوچ اور منتشر بلوچ قوت – اداریہ

2020-03-24 11:37:57
Share on

Thursday, May 07, 2015

کراچی یونیورسٹی میں بلوچستان کے بابت ایک سیمینار منعقد ہوا جس میں ماما قدیر بلوچ اور فرزانہ مجید سمیت محمد علی تالپور کو بھی مدعو کیا گیا تھا ، یہ سیمینار اس لیئے ایک خاص اہمیت کا حامل تھا کہ اس سے پہلے لاہور کے LUMS یونیورسٹی میں اسی طرز کے سیمینار کو پاکستانی خفیہ ادارے آئ ایس آئ کے دھمکیوں کے بعد ملتوی کردیا گیا تھا اور کراچی میں T2F کے پلیٹ فارم سے انسانی حقوق کی ایک متحرک کارکن سبین محمود نے بلوچستان پر سیمینار منعقد کیا تو اسکے پاداش میں آئ ایس آئی نے انہیں ابدی نیند سلادیا اور کراچی یونیورسٹی میں منعقد اس سیمینار سے پہلے خوف کی فضاء قائم رکھنے کیلئے اسی یونیورسٹی کے ایک روشن فکر پروفیسر کو آئ ایس آئی اہلکاروں نے فائرنگ کرکے ہلاک کردیا تھا ، سیمینار کے دن بھی یونیورسٹی ایڈمن نے اس سیمینار کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کی اور مذکورہ دن کراچی یونیورسٹی کے گیٹ پر فورسز بِٹھا کر غیر متعلقہ اشخاص کے اندر آنے پر پابندی لگادی گئ تھی بہرحال کسی طور یہ سیمینار کراچی یونیورسٹی کے احاطے میں منعقد کی گئ لیکن اسی سیمینار میں آئ ایس آئ کے بنائے گئے ڈیتھ اسکواڈ کے بدنام زمانہ کارندے ذکریا محمد حسنی عرف ذکو خازگی بھی دیکھا گیا ، حیرت کی بات یہ ہے کہ جب غیر متعلقہ اشخاص کا آنا یونیورسٹی میں منع تھا پھر آئ ایس آئ کا یہ پیشہ ور قاتل کیسے اس سیمینار میں داخل ہوگیا۔

ذکریا محمد حسنی خضدار میں پاکستانی ڈیتھ اسکواڈ کے ایک کارندے ہیں اور کئ بلوچ سیاسی کارکنوں کے قتل و اغواء میں ملوث ہے ، اب اس بات کا قوی امکان ہے کہ اسکو یوں کھلم کھلا سیمیناروں میں بھیج کر پاکستانی خفیہ ادارے ماما قدیر بلوچ اور فرزانہ مجید بلوچ سمیت دوسرے بلوچستان کے ہمدرد انسانی حقوق کے کارکنوں کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں ، ابھی سے ہی اس بات کا شبہہ ظاھر کیا جارہا ہے کہ سبین محمود کا قاتل بھی یہی شخص ہے ۔

ان عوامل سے کچھ سوال اٹھتے ہیں کہ آج بلوچ قوت آخر کہاں اور کیسے معدوم و منتشر ہے کہ ایسے معمولی کرایے کے قاتل دن دھاڑے ماما قدیر و فرزانہ مجید کو دھمکانے سیمیناروں میں گھستے ہیں ، حقیقت یہ ہے کہ گروہی سوچ نے اب ہمارے مشترکہ مسئلوں کو بانٹ دیا ہے ، اگر کوئی ماما قدیر کو آکر دھمکی دیتا ہے تو یہ ماما قدیر کا مسئلہ ہے بی ایس او کا مسئلہ نہیں کیونکہ بی ایس او کا اب مسئلہ یہ ہے کہ جتنے سیمیناروں میں ماما قدیر شرکت کرتا ہے انہیں اس سے زیادہ سیمیناروں میں شرکت کرنا ہے ، ہر ایک نے اپنے لیئے گروہ تخلیق کردیئے ہیں حتیٰ کے دو آدمیوں پر مشتمل جماعتوں کے بھی اپنے لابی ہیں ، اور ہر ایک اپنے گروہ و لابی کو مضبوط کرنے کے درپے ہے جنهیں باقی ماندہ مشترکہ بلوچ مسئلوں سے سروکار نہیں ۔

حتیٰ کے اب جلسے جلوس بھی دشمن کے خلاف نہیں بلکہ ایک دوسرے کو اپنی طاقت دِکھانے کیلئے ہوتے ہیں ، مثال کے طور پر حال هی میں هونے والے جلسوں دیکھا جاسکتا هے هم دشمن کو آنکھیں دِکھانے کے بجائے اپنے آزادی پسند دوستوں کو نیچا دِکھانے کی کوشش کرتے ہیں ، یہی وہ مقام ہے جہاں سے ہماری قوت منتشر ہوکر خاک ہورہی ہے اور دشمن کے حوصلے اس سے بلند ہورہے ہیں ، یہی وجوہات ہیں کہ مقصد و منزل ایک ہونے کے باوجود ہماری گروہی سوچ ہمارے مسائل کو مختلف کڑہی ہے اور ہم ایک دوسرے کو اس مقابلہ آرائ کے دوڑ میں دوست و ہمرکاب کے بجائے حریف سمجھ رہے ہیں ۔ دوسری جانب می خاص طور پر سوشل میڈیا پر حمایتیوں کے ایک دوسرے پر ناشئستگی کلمات کے بیانات قابلِ دید ہیں
جب تک ہم اپنے اس پارٹی بازی ، لابی بازی ، گروہی سوچ سے چھٹکارہ حاصل کرکے اپنا مطمع نظر ایک مشترکہ قومی سوچ نہیں بنائیں گے اس وقت تک ہمارے تحریک کے ستون یونیہی کمزور هوتے جائیں گے اور دشمن کے حوصلے اتنے بلند ہونگے کہ وہ ہمارے صفوں میں گھس کر ہمیں چیلنج کرتا رہے گا ۔

Share on
Previous article

وه جو روشنی کی کوشان میں تاریک راتوں میں مارے گئے – ک ب فراق

NEXT article

Independence Movement of Balochistan-

LEAVE A REPLY